A Tribute To The Legendary Playback Singer Masood Rana

Masood Rana - مسعودرانا Masood Rana sang 1034 songs in 648 films

مسعودرانا اور ریاض شاہد

ریاض شاہد
اعلیٰ تعلیم یافتہ ، ترقی پسند اور روشن خیال لکھاری تھے جن کا ہاتھ فلم بینوں کی نبض پر ہوتا تھا
پاکستان کی فلمی تاریخ میں ریاض شاہد ، مکالمہ نگاری میں ایک نئے اسلوب کے موجد تھے۔ کاٹ دار جملوں ، الفاظ کے چناؤ اور ڈرامہ لکھنے میں ایک انفرادیت رکھتے تھے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ ، ترقی پسند اور روشن خیال لکھاری تھے جن کا ہاتھ فلم بینوں کی نبض پر ہوتا تھا۔ 50 سے زائد فلموں کے مصنف تھے جن میں سے آدھی فلموں کی مکمل کہانیاں ، مکالمے اور منظرنامے لکھے تھے۔ چار فلموں ، سسرال (1962) ، زرقا (1969) ، غرناطہ اور یہ امن (1971) کے ہدایتکار تھے جن میں فلم غرناطہ(1971) کے سوا باقی تینوں فلموں کے فلمساز بھی تھے۔ بطور نغمہ نگار ، چار فلموں میں آٹھ گیت لکھے جن میں سے تین مقبول بھی ہوئے۔ بطور اداکار بھی ایک فلم میں نظر آئے اور ان پر مسعودرانا کا گایا ہوا ایک گیت فلمایا گیا تھا۔ انہیں ، پاکستان کی پہلی ڈائمنڈ جوبلی فلم بنانے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ پاکستان کی سپرسٹار اداکارہ نیلو کے خاوند اور سپرسٹار اداکار شان کے والد گرامی بھی تھے۔

ہدایتکار جعفر شاہ بخاری کی فلم بھروسہ (1958) ، ریاض شاہد کی پہلی فلم تھی جس کے وہ مکمل مصنف تھے یعنی فلم کی کہانی ، مکالمے اور منظرنامہ بھی لکھا تھا۔ یہ فلم ایک بڑے بولڈ موضوع یعنی جنسی بے راہروی پر بنائی گئی ایک متاثرکن فلم تھی جسے سولہ سال بعد فلم سماج (1974) کے نام سے دوبارہ بنایا گیا تھا۔ یاسمین ، علاؤالدین اور یوسف خان کے کردار بالترتیب نشو ، محمدعلی اور ندیم نے کئے تھے۔

1959ء میں ریاض شاہد کی چار فلمیں منظرعام پر آئیں جن میں نغمہ بار فلم نیند (1959) کی کہانی اور مکالمے لکھے لیکن منظرنامہ ہدایتکارحسن طارق نے خود لکھا تھا۔ اس فلم کی کہانی بھی ایک مزدور لڑکی کے گرد گھومتی ہے جو ایک سرمایہ دار کے ہاتھوں اپنی عزت گنوا کر اس کے ایک ناجائز بچے کی ماں بن جاتی ہے۔ فلم راز (1959) میں وہ سلیم احمد کے معاون مکالمہ نگار تھے۔ فلم گلشن (1959) کے بھی صرف مکالمے ہی لکھے تھے۔ اسی سال ان کی پہلی پنجابی فلم جائیداد (1959) بھی ریلیز ہوئی تھی جس کی کہانی ابراہیم جلیس نے لکھی اور ریاض شاہد نے صرف مکالمے لکھے تھے۔ اس فلم کی خاص بات یہ تھی کہ اردو فلموں کی ممتاز اداکارہ شمیم آرا نے پہلی بار کسی پنجابی فلم میں سائیڈ ہیروئن کے طور پر کام کیا تھا۔ وہ اپنے عروج کے دور میں اپنی رقیب زیبا کی طرح ، صرف ایک ہی پنجابی فلم میں نظر آئی تھی۔

1960ء میں ریاض شاہد کی صرف دو فلمیں منظرعام پر آئیں۔ پہلی فلم ڈاکو کی لڑکی (1960) کے صرف مکالمے لکھے تھے۔ دوسری فلم کلرک (1960) میں ان کا ساتھ پہلی بار ہدایتکار خلیل قیصر سے ہوا تھا جو اس فلم میں پہلی اور آخری بار ہیرو بھی تھے اور ہیروئن مسرت نذیر تھی۔ یہ ایک بڑی متاثرکن فلم تھی جس میں کم تنخواہ پانے والے اہلکاروں کی مالی مجبوریوں کو ہائی لائٹ کیا گیا تھا۔ اس فلم کی کہانی یونس راہی کی تھی اور منظرنامہ اور مکالمے ریاض شاہد کے تھے۔ اس فلم میں معروف نغمہ نگار خواجہ پرویز بطور اداکار نظر آئے تھے۔

1961ء میں ریاض شاہد کی صرف ایک فلم فرشتہ ریلیز ہوئی تھی جس میں وہ تنویر نقوی کے ساتھ معاون مکالمہ نگار تھے۔ فلم کی کہانی ایک روسی ناول سے ماخوذ تھی جس کا ترجمہ مشہور زمانہ پی ٹی وی ڈرامہ الف نون فیم کمال احمدرضوی نے کیا تھا اور منظرنامہ علی سفیان آفاقی نے لکھا تھا۔ ہدایتکار لقمان کی یہ بڑی متاثرکن فلم تھی جس میں یاسمین ، اعجاز اور طالش کی کردارنگاری بڑی زبردست تھی۔

1962ء میں ریاض شاہد کو شاہکار فلم شہید سے بریک تھرو ملا اور وہ صف اول کے مصنف بن گئے تھے۔ ہدایتکار خلیل قیصر کے ساتھ یہ ان کی پہلی سپرہٹ فلم تھی۔ معاشرے کی دھتکاری ہوئی ایک بدنام زمانہ رقاصہ اپنے وطن کے لئے اپنی جان دے کر شہادت کا رتبہ حاصل کرتی ہے۔ اس فلم کے سبھی گیت بڑے زبردست تھے۔ رشید عطرے کی دھن میں فیض احمدفیض کے لکھے اور منیرحسین کے گائے ہوئے اس گیت "نثار میں تیری گلیوں پہ اے وطن کے جہاں۔۔" کا اگلا مصرعہ "چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے۔۔" سنسر کی نظر ہوگیا تھا اور اس گیت کو دوبارہ اس مصرعہ کے بغیر ریکارڈ کروانا پڑا تھا۔
ریاض شاہد ، اسی سال کی فلم دوشیزہ (1962) کے بھی مکمل مصنف تھے جو ایک بڑی عجیب و غریب فلم تھی ، نیلو کا ٹائٹل رول تھا۔ فلم برسات میں (1962) کے صرف مکالمے لکھے تھے ، کہانی ، فلم کے ہدایتکار دلجیت مرزا کی اپنی تھی۔

Susral (1962)
ریاض شاہد کی بطور فلمساز اور ہدایتکار
پہلی فلم سسرال (1962) ان کے ناول
'ہزار داستان' پر بنائی گئی تھی
1962ء ہی میں ریاض شاہد کی بطور فلمساز ، ہدایتکار اور مصنف ، پہلی فلم سسرال (1962) ریلیز ہوئی تھی۔ اس فلم کی کہانی ان کے اپنے ناول 'ہزار داستان' سے ماخوذ تھی اور یہ فلم اندرون لاہور اصل مقامات پر فلمائی گئی تھی۔ معذور لڑکیوں کی شادی کے موضوع پر بنائی گئی یہ ایک بڑی متاثرکن فلم تھی لیکن باکس آفس پر ناکام رہی تھی۔ اسی فلم سے شہنشاہ غزل خانصاحب مہدی حسن کو طویل جدوجہد کے بعد پہلا مقبول فلمی گیت گانے کا موقع ملا تھا "جس نے میرے دل کو درد دیا ، اس شکل کو میں نے بھلایا نہیں۔۔" معروف ہدایتکار ایس اے بخاری (دلاں دے سودے ، آنسو فیم) اس فلم میں ریاض شاہد کے معاون ہدایتکار تھے۔

1963ء میں ریاض شاہد کی تین فلمیں سامنے آئیں۔ فلم قانون (1963) کی کہانی ، مکالمے اور منظرنامہ ان کا لکھا ہوا تھا۔ فلم شکوہ (1963) کی کہانی علی سفیان آفاقی کی تھی اور مکالمے ریاض شاہد نے لکھے تھے۔ فلم دھوپ چھاؤں (1963) کی کہانی سلیم احمد کی تھی جبکہ ریاض شاہد ، یونس راہی کے ساتھ مکالمہ نگار تھے۔

1964ء میں ریاض شاہد کی تین فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں دو بہت بڑی فلمیں تھیں۔ فلم خاموش رہو (1964) کی کہانی عصمت فروشی جیسے ناجائز دھندے کے بارے میں ایک سبق آموز فلم تھی۔ ریاض شاہد کے مکالموں اور محمدعلی کی جذباتی اداکاری نے سونے پر سہاگے کا کام کیا تھا اور ایک یادگار فلم تخلیق ہوئی تھی۔ اس فلم میں حبیب جالب کی مشہور زمانہ نظم "میں نہیں مانتا۔۔" احمدرشدی کی آواز میں فلم کی ہائی لائٹ تھی۔
اسی سال کی بزنس کے لحاظ سے سب سے بڑی فلم فرنگی (1964) کے مکمل مصنف بھی ریاض شاہد تھے۔ طالش نے ٹائٹل رول کیا تھا۔ خلیل قیصر کی اس یادگار نغماتی فلم سے مہدی حسن کو بریک تھرو ملا تھا اور ان کی غزل "گلوں میں رنگ بھرے۔۔" ان کے فلمی کیرئر کی سب سے یادگار غزل ثابت ہوئی تھی۔ تیسری فلم اندھی محبت (1964) کی کہانی عرش لکھنوی کی تھی اور ریاض شاہد نے صرف مکالمے لکھے تھے۔

1965ء میں بھی ریاض شاہد کی تین فلمیں دیکھی گئیں۔ ان میں سب سے یادگار فلم مجاہد (1965) تھی جو مسعودرانا ، شوکت علی اور ساتھیوں کے گائے ہوئے لازوال ترانے "ساتھیو ، مجاہدو ، جاگ اٹھا ہے سارا وطن۔۔" کی وجہ سے ایک یادگار فلم ہے۔ پاک بھارت جنگ 1965ء کے دوران ریلیز ہونے والی اس فلم کا یہ کورس گانا ، ایک قومی ترانہ بن گیا تھا۔ فلم رواج (1965) کی کہانی اس فلم کے فلمساز اور ہدایتکار دلجیت مرزا نے خود لکھی تھی جبکہ مکالمے لکھنے میں ریاض شاہد کی معاونت خواجہ پرویز نے کی تھی جن کی بطور نغمہ نگار یہ پہلی فلم تھی۔ فلم ساز و آواز (1965) کی کہانی اکبر بنگلوری کی لکھی ہوئی تھی اور منظرنامہ اور مکالمے ریاض شاہد نے لکھے تھے۔

Riaz Shahed and Neelo
14 اکتوبر 1966ء کو نیلو اور ریاض شاہد کی شادی ہوئی
1966ء کا سال ، ریاض شاہد کے انتہائی عروج کا سال تھا جس میں پہلی بار ان کی آٹھ فلمیں ریلیز ہوئیں۔ اس سال کی سب سے بڑی فلم بدنام (1966) تھی جس کی کہانی سعادت حسن منٹو کے افسانہ 'جھمکے' سے ماخوذ تھی اور منظرنامہ اور مکالمے ریاض شاہد کے زور قلم کا نتیجہ تھے۔ اور کیا مکالمے تھے ، آج تک کسی اردو فلم کا کوئی مکالمہ اتنا مقبول نہیں ہوا ، جتنا اس فلم کا ہوا "کہاں سے آئے ہیں یہ جھمکے۔۔" علاؤالدین نے کردارنگاری میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا تھا۔ ان پر فلمایا ہوا مسعودرانا کا یہ تھیم سانگ ایک سپرہٹ گیت تھا "کوئی ساتھ دے کے نہ ساتھ دے ، یہ سفر اکیلے ہی کاٹ لے۔۔"
اسی سال کی ایک فلم آگ کا دریا (1966) نے محمدعلی کو سپرسٹار بنا دیا تھا۔ یہ فلم مسعودرانا کے ایک اور ملی ترانے "اے وطن ، ہم ہیں تیری شمع کے پروانوں میں۔۔" کی وجہ سے یادگار ہے جسے جوش ملیح آبادی نے لکھا تھا۔ اس فلم کی کہانی آغا نذیر کاوش نے لکھی تھی ، مکالمے اور منظرنامہ ریاض شاہد کا تھا۔
اس سال کی ایک اور یادگار میوزیکل فلم سوال (1966) تھی جس کی کہانی سیف الدین سیف نے لکھی تھی ، ریاض شاہد نے علی سفیان آفاقی کے ساتھ مل کر مکالمے لکھے تھے۔ اس فلم میں اعجاز نے پہلی بار ولن اور سلونی نے ایک ویمپ کا رول کیا تھا۔ پاکستان کی پہلی کامیاب فلمی جوڑی سورن لتا اور نذیر کے علاوہ صبیحہ اور سنتوش کی لیجنڈ جوڑی کی یہ آخری سپرہٹ فلم تھی۔
فلم باغی سردار (1966) کے مکمل مصنف بھی ریاض شاہد تھے جبکہ فلم تقدیر (1966) کی کہانی رابرٹ ملک کی تھی اور مکالمے ریاض شاہد نے علی سفیان آفاقی کے ساتھ مل کر لکھے تھے۔ فلم کوہ نور (1966) میں بھی ان کے صرف ڈائیلاگ ہی تھے۔
Riaz Shahed and Neelo
ریاض شاہد پر بطور اداکار
فلم نظام لوہار (1966) میں
مسعودرانا کا ایک گیت فلمایا گیا تھا
1966ء میں پہلی بار ریاض شاہد کی تین پنجابی فلمیں منظرعام پر آئی تھیں۔ ان میں سب سے یادگار اور اعلیٰ پائے کی فلم نظام لوہار (1966) تھی جس کے فلمساز ان کے بھائی فیاض شیخ تھے۔ فلم کا ٹائٹل رول علاؤالدین نے کیا تھا۔ فلم کی کہانی عشق و محبت کی ایک تکون پر مشتمل ہوتی ہے۔ گاؤں کا ایک لوہار نظام (علاؤالدین) ، ایک ماچھن (یاسمین) کے عشق میں مبتلا ہے لیکن وہ ان دیکھے نظام ڈاکو سے محبت کرتی ہے جبکہ نیلو ، نظام لوہار کی محبت میں دیوانی ہے۔ ریاض شاہد نے بڑی ٹھیٹھ پنجابی زبان میں مکالمے لکھے تھے ، خاص طور پر جب فلم کے آخر میں نیلو ، علاؤالدین کو بددعا دیتی ہے کہ "موت پینا" یعنی تجھے موت آئے ، ایسا جملہ میں نے کبھی کسی فلم میں نہیں سنا۔ اسی فلم میں پہلی اور آخری بار ریاض شاہد نے اداکاری بھی کی تھی اور ان پر مسعودرانا کا گایا ہوا ایک سپرہٹ گیت "پیار کسے نال پاویں نہ ، کئی روپاں وچ پھرن بہروپی ، روپ دا دھوکہ کھاویں نہ۔۔" فلمایا گیا تھا۔
مسٹراللہ دتہ (1966) ، ریاض شاہد کی بطور مصنف ، اس سال کی دوسری پنجابی فلم تھی جس کا ٹائٹل رول بھی علاؤالدین نے کیا تھا جو ساٹھ کے عشرہ کے مقبول ترین اداکار تھے۔ اس فلم میں مسعودرانا کا یہ گیت بڑا پسند کیا گیا تھا "کوئی حال مست ، کوئی چال مست ، سانوں کردے ربا ، مال مست۔۔" فلم ماجھے دی جٹی (1966) ان کی تیسری پنجابی فلم تھی جس کی کہانی تو وارث لدھیانوی کی تھی لیکن منظرنامہ اور مکالمے ریاض شاہد کے تھے۔ اس فلم کی ہیروئن نیلو تھی جس کے ساتھ اسی سال ریاض شاہد نے شادی کر لی تھی۔

1967ء میں ریاض شاہد کی چار فلموں کا حوالہ ملتا ہے جن میں فلم گناہگار (1967) کے نہ صرف مکمل مصنف تھے بلکہ پہلی بار اس فلم کے تین گیت بھی لکھے تھے۔ دو گیت بڑے مقبول ہوئے تھے "مجھے تصویر بنانی ہے ، ذرا ناز اٹھا ، کوئی انداز دکھا۔۔" منیرحسین کا اس گیت کے علاوہ ایک اور گیت "ہم نے تو پیار کیا ہے ، اک دلربا سے ، اک بے وفا سے ، لوگو ، سن لو۔۔" بھی تھا جو مالا نے بھی گایا تھا۔ قومی جذبہ پر بنائی گئی اس فلم میں حبیب نے ایک بھارتی جاسوس کا رول کیا تھا۔ اس سال کی دیگر دو فلموں ماں باپ اور شعلہ اور شبنم (1967) کے صرف مکالمے لکھے تھے جبکہ آخری فلم لہو پکارے گا (1967) کی کہانی سردار ادیب کی تھی اور منظرنامہ اور مکالمے ریاض شاہد کے تھے۔

1968ء میں بھی ریاض شاہد کی چار ہی فلموں کا ذکر ملتا ہے۔ ان میں فلم کرشمہ (1968) واحد فلم تھی جس کے وہ مکمل مصنف تھے جبکہ دیگر تینوں فلموں جنگ آزادی ، ناہید اور دوسری شادی (1968) کے مکالمے لکھنے میں معاونت کی تھی۔

1969ء میں ریاض شاہد کی صرف ایک ہی فلم زرقا ریلیز ہوئی تھی جو کامیابی میں ان کی دیگر سبھی فلموں پر بھاری تھی۔ وہ ، اس فلم کے فلمساز ، ہدایتکار ، مصنف اور نغمہ نگار بھی تھے جبکہ ان کی بیگم اداکارہ نیلو مرکزی کردار میں تھی۔ یہ فلم 1948ء میں بننے والی ایک العاصفہ نامی فلسطینی گوریلا تنظیم کے بارے میں تھی جو اسرائیل کے خلاف زیرزمین سرگرمیوں میں ملوث تھی۔ 1967ء کی چھ روزہ عرب اسرائیل جنگ میں جہاں عربوں کو تاریخ کی ایک شرمناک ترین فوجی شکست ہوئی وہاں اسرائیل نے اپنے مجموعی رقبہ سے کہیں زیادہ عرب علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا جو ماسوائے صحرائے سینا کے اب تک برقرار ہے۔ اس جنگ کے دوران اسرائیل نے پورے بیت المقدس پر بھی قبضہ کرلیا تھا جس کی وجہ سے پورے عالم اسلام میں سخت غم و غصہ پایا جاتا تھا۔ مسلمانوں کے قبلہ اول پر یہودیوں کے قبضہ پر اہل پاکستان شدید کرب اور بے بسی کی کیفیت میں مبتلا تھے اور ان حالات میں یہ فلم بنی تھی۔ اس فلم کو ملک بھر زبردست پذیرائی ملی تھی حالانکہ اس کے چند مناظر کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں تھے۔ مثلاً تنظیم کے سربراہ کی خواہش پر ایک ممبر مسلمان جوان اپنی منگیتر کو وطن کی آزادی کی خاطر ایک قحبہ خانے میں ناچنے پر مجبور کرتا ہے اور وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے محبوب کی خواہش کا احترام کرتی ہے۔ یقیناً کسی عام مسلمان کے لئے بھی یہ قابل قبول نہیں ہو سکتا کہ اس کی بہو بیٹیاں سرعام ناچیں ، چاہے وہ وطن یا آزادی ہی کے لئے کیوں نہ ہو۔ ایک قحبہ خانہ جہاں ہر وقت ناچ گانا اور پینا پلانا ہوتا ہے ، اس تنظیم کا مرکز ہوتا ہے ، جو بلا شبہ اکثریت کے لئے ایک ناپسندیدہ ماحول تھا۔ فلم کے آخر میں جس طرح علاؤالدین کو زمین میں گاڑا جاتا ہے ، وہ بھی انتہائی مضحکہ خیز تھا۔ مجھے یاد ہے کہ اس دور میں فلموں کے رنگین کیلنڈرز ہاتھوں ہاتھ بکتے تھے جو مختلف پبلک مقامات پر دیکھنے کو ملتے تھے۔ اس فلم کا آخری سین جس میں ایک انتہائی پرفضا مقام پر ایک بہتے ہوئے چشمے کے کنارے علاؤالدین کا دھڑ پتھروں میں دھنسا ہوا اور سر باہر ہے جبکہ طالش دیگر فوجیوں کے ساتھ اردگرد موجود ہیں ، ایسا ایک کیلنڈر بڑا مقبول ہوا تھا جو آج بھی میرے ذہن میں موجود ہے۔ ان تمام اعتراضات کے باوجود اس فلم نے ملک بھر میں زبردست بزنس کیا تھا اور کراچی میں سو ہفتے چلنے والی پہلی فلم ثابت ہوئی تھی۔ اس فلم میں حبیب جالب کا لکھا ہوا اور فلم کے ہیرو اعجاز پر فلمایا ہوا گیت "رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے۔۔" مہدی حسن کی آواز میں ایک سپرہٹ اور یادگار گیت تھا جس کی دھن وجاہت عطرے نے بنائی تھی جو اپنے والد محترم رشید عطرے کی موت کے بعد اس فلم کی موسیقی ترتیب دے رہے تھے۔ طالش نے اس فلم میں ایک یہودی 'میجر ڈیوڈ' کے کردار میں حقیقت کا رنگ بھر دیا تھا جبکہ علاؤالدین کا 'شعبان لطفی' کا کردار بھی بڑا مقبول ہوا تھا۔ فلم زرقا (1969) کا ٹائٹل رول کرنے والی اداکارہ نیلو کی اپنے پہلے دور میں یہ آخری فلم تھی۔ 1972ء میں اپنے خاوند کے انتقال کے بعد اسے پھر سے فلمی دنیا میں آنا پڑا تھا اور 1990ء میں اپنے بیٹے شان کے ہیرو بننے تک فلموں میں کام کرتی رہی تھی۔

1970ء میں ریاض شاہد کی کوئی فلم نہیں ملتی لیکن 1971ء میں تین فلمیں سامنے آئیں۔ ان میں پہلی فلم غرناطہ (1971) تھی جس کے وہ ہدایتکار بھی تھے۔ اس فلم کی کہانی معروف ناول نگار نسیم حجازی کے ایک ناول سے ماخوذ تھی جسے فلمی قالب میں ریاض شاہد نے ڈھالا تھا یعنی اس کا منظرنامہ اور مکالمے لکھے تھے۔ 1492ء میں سپین پر مسلمانوں کے سات سو سالہ دور حکومت کے خاتمہ پر بنائی گئی یہ ایک بڑی کمزور اور ناکام فلم تھی۔ فلم خاک اور خون (1971) کے مکمل مصنف کے طور پر بھی ریاض شاہد کا نام ملتا ہے۔
اسی سال ریاض شاہد کی بطور فلمساز اور ہدایتکار آخری فلم یہ امن (1971) ریلیز ہوئی جو کشمیر کے موضوع پر بنائی گئی تھی۔ وادی جنت نظیر کے حسین مناظر میں فلمائی گئی یہ ایک اعلیٰ معیار کی فلم ہونے کے باوجود ایک ناکام فلم تھی۔ فلم کی کہانی مجاہدین کشمیر کے بارے میں تھی جن کی گوریلا کاروائیوں کی وجہ سے ان پر ڈوگرہ فوج کے ظلم و ستم کو دکھایا گیا تھا۔ طالش ، ایک بار پھر ایک ہندو برہمن کے کردار میں بازی لے گئے تھے۔ اے حمید کی موسیقی بڑے کمال کی تھی اور میڈم نورجہاں اور مہدی حسن کا الگ الگ گایا ہوا اور حبیب جالب کا لکھا ہوا گیت "ظلم رہے اور امن بھی ہو ، کیا ممکن ہے تم ہی کہو۔۔" ایک ضرب المثل بن گیا تھا۔ اس گیت کا ایک انترہ کیا کمال کا تھا "اپنے ہونٹ سیئے ہیں تم نے ، میری زبان کو مت روکو ، تم کو اگر توفیق نہیں تو ، مجھ کو ہی سچ کہنے دو۔۔" مہدی حسن کا گیت سن کر جو چیز زیادہ محسوس ہوتی ہے ، وہ ان کا ہر بول کے بعد سانس لینا ہے ، جو ان دنوں وہ کئی گیتوں میں لیتے تھے اور وہ بڑا عجیب سا لگتا تھا۔
فلم یہ امن ، 20 نومبر 1971ء کو عیدالفطر کے دن ریلیز ہوئی تھی جو بدقسمتی سے متحدہ پاکستان کی آخری عید تھی۔ اس کے اگلے ڈیڑھ ماہ تک کوئی فلم ریلیز نہیں ہوئی تھی بلکہ عیدالاضحیٰ تک صرف دو فلمیں ریلیز ہوئی تھیں۔ اس کی بڑی وجہ وہ سانحہ عظیم تھا جسے ہم 'سقوط ڈھاکہ' کہتے ہیں۔ 26 مارچ 1971ء سے جاری خانہ جنگی ، جسے بنگالی 'بنگلہ دیش کی جنگ آزادی' کا نام دیتے ہیں ، اپنے انجام کی طرف بڑھ رہی تھی۔ 22 نومبر 1971ء کو بھارت نے مشرقی پاکستان پر باقاعدہ حملہ کردیا تھا جس سے مغربی پاکستان میں لوگ مکمل طور پر بے خبر تھے کہ دوسری طرف کیا قیامت برپا ہو رہی ہے۔ 3 دسمبر 1971ء کو جب مغربی پاکستان سے بھارت پر حملہ کیا گیا تو بہت دیر ہو چکی تھی ، صرف تیرہ دن بعد ڈھاکہ پر بھارتی فوج کا قبضہ ہوگیا تھا۔ نوے ہزار پاکستانی فوجیوں نے ہتھیار ڈالے اور 16 دسمبر 1971ء کے منحوس دن مشرقی پاکستان ، بنگلہ دیش بن گیا تھا۔ مجھے وہ جنگ اچھی طرح سے یاد ہے۔ ہم نے اپنے بڑے سے صحن میں ایک L شکل کا مورچہ کھودا تھا جو آج تک میرے ذہن میں کھدا ہوا ہے۔ جب فضائی حملے کا سائرن بجتا تھا تو ہم ، مورچے میں دبکنے کے بجائے مکان کی چھت پر چڑھ جاتے تھے اور چھوٹے چھوٹے پتھروں سے دشمن کے طیاروں کو مار گرانے کی کوشش کرتے تھے۔ صرف ایک بار ایک فضائی حملے میں فضا میں چند طیارے دیکھنے کا موقع ملا تھا جو ذہن پر آج بھی نقش ہے۔

1972ء کا سال ریاض شاہد کی زندگی کا آخری سال تھا۔ اس سال ان کی صرف ایک فلم ایک رات (1972) تھی جو ان کے انتقال یعنی یکم اکتوبر سے صرف دو دن پہلے ریلیز ہوئی تھی۔ اس نغماتی فلم میں انہوں نے صرف مکالمے لکھے تھے۔

1973ء میں ریاض شاہد کی تین فلموں کا حوالہ ملتا ہے جن میں فلم زخمی (1973) اور ڈاکو تے انسان (1973) کے وہ مکمل مصنف تھے جبکہ فلم شیرو (1973) میں احمدراہی کے ساتھ مل کر کہانی ، مکالمے اور منظرنامہ لکھا تھا۔

1974ء میں بھی ریاض شاہد کی تین فلمیں ملتی ہیں جن میں فلم بہشت (1974) میں کہانی نویسی کے علاوہ ان کا لکھا ہوا ایک گیت مہدی حسن کی آواز میں بڑا مشہور ہوا تھا "کیوں پوچھتے ہو ، کیا تم سے کہوں ، میں کس لئے جیتا ہوں۔۔" اصل میں یہ گیت تنویر نقوی کے ایک گیت "تم پوچھتے ہو ، کیا تم سے کہوں ، میں کس لئے پیتا ہوں۔۔" کی نقل تھا جو فلم آزاد (1964) میں سلیم رضا کی آواز میں گایا گیا تھا۔ دونوں گیتوں کے موسیقار رشید عطرے تھے۔ فلم سماج (1974) ، ریاض شاہد کی پہلی فلم بھروسہ (1958) کا ری میک تھی جبکہ فلم جواب دو (1974) میں انور بٹالوی کی کہانی کو ریاض شاہد نے فلمی رنگ دیا تھا۔

ریاض شاہد کے انتقال کے چھ سال بعد ریلیز ہونے والی آخری تاریخی فلم حیدرعلی (1978) تھی جس کے وہ صرف کہانی نویس تھے۔ مکالمے ریاض ارشد اور رشید ساجد کے تحریر کردہ تھے۔ ہدایتکار مسعودپرویز اور موسیقار خواجہ خورشیدانور کے ساتھ بطور مصنف یہ ان کی اکلوتی فلم تھی۔ اس کے علاوہ ان کی ایک غیرریلیز شدہ فلم آدھی رات بھی تھی جس کی کہانی ، مکالمے اور منظرنامہ لکھا تھا۔ ان کے علاوہ بطور گیت نگار ایک فلم میں زندہ ہوں (1968) بھی تھی جس میں ان کے دو گیت مالا نے گائے تھے۔ چند فلموں کے وہ پیش کار بھی تھے جن میں فلم شیر دی بچی (1964) ایک یادگار فلم تھی جس کا ٹائٹل رول نیلو نے کیا تھا۔ اردو فلموں کے سپرسٹار محمدعلی کی مکمل ہیرو کے طور پر یہ واحد پنجابی فلم تھی۔

ریاض شاہد ، جن کا اصل نام شیخ ریاض تھا ، 1927ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ صحافت اور ناول نگاری کے بعد فلمی دنیا کا رخ کیا۔ اپنے وقت کی سپرسٹار اداکارہ نیلو کے شوہر اور اداکار شان کے والد تھے۔ ان کا انتقال کینسر کی وجہ سے یکم اکتوبر 1972ء کو لاہور میں ہوا تھا۔

مسعودرانا اور ریاض شاہد کے 1 فلمی گیت

(0 اردو گیت ... 1 پنجابی گیت )
1
فلم ... نظام لوہار ... پنجابی ... (1966) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: بخشی وزیر ... شاعر: تنویر نقوی ... اداکار: ریاض شاہد

مسعودرانا اور ریاض شاہد کے 0 اردو گیت


مسعودرانا اور ریاض شاہد کے 1 پنجابی گیت

1پیار کسے نال پاویں نہ ، کئی رپاں وچ پھرن بہروپی ، روپ دا دھوکہ کھاویں نہ ... (فلم ... نظام لوہار ... 1966)

مسعودرانا اور ریاض شاہد کے 1سولو گیت

1پیار کسے نال پاویں نہ ، کئی رپاں وچ پھرن بہروپی ، روپ دا دھوکہ کھاویں نہ ... (فلم ... نظام لوہار ... 1966)

مسعودرانا اور ریاض شاہد کے 0دوگانے


مسعودرانا اور ریاض شاہد کے 0کورس گیت



Masood Rana & Riaz Shahed: Latest Online film

Nizam Lohar

(Punjabi - Black & White - Friday, 9 September 1966)


Masood Rana & Riaz Shahed: Film posters
Nizam Lohar
Masood Rana & Riaz Shahed:

1 joint Online films

(0 Urdu and 1 Punjabi films)

1.1966: Nizam Lohar
(Punjabi)
Masood Rana & Riaz Shahed:

Total 1 joint films

(0 Urdu and 1 Punjabi films)

1.1966: Nizam Lohar
(Punjabi)


Masood Rana & Riaz Shahed: 1 songs

(0 Urdu and 1 Punjabi songs)

1.
Punjabi film
Nizam Lohar
from Friday, 9 September 1966
Singer(s): Masood Rana, Music: Bakhshi Wazir, Poet: Tanvir Naqvi, Actor(s): Riaz Shahed


پاکستان فلم میگزین ۔۔۔ سنہری فلمی یادوں کا امین

پاکستان فلم میگزین ، پاکستانی فلموں ، فلمی گیتوں اور فلمی فنکاروں پر اولین ، منفرد اور ایک بے مثل معلوماتی اور تفریحی ویب سائٹ ہے جو 3 مئی 2000ء سے مسلسل اپ ڈیٹ ہورہی ہے۔ یہ ایک انفرادی کاوش ہے جو فارغ اوقات کا ایک بہترین مشغلہ بھی ہے۔ یہ تاریخ ساز ویب سائٹ کبھی نہ بن پاتی ، اگر پاکستانی فلموں میں میرے آئیڈیل گلوکار جناب مسعودرانا صاحب کے گیت نہ ہوتے۔ اس عظیم گلوکار کو ایک منفرد خراج تحسین پیش کرنے کے لئے اس کے گائے ہوئے ایک ہزار سے زائد گیتوں کا پہلا اردو ڈیٹابیس بنایا گیا ہے جس میں ریکارڈ محفوظ رکھنے کے علاوہ دیگر ساتھی فنکاروں پر تفصیلی مضامین بھی شائع کئے جارہے ہیں۔

Pakistan Film Database

Detailed informations on released films, music, artists, history,

box office reports, videos, images etc..


Sachai
Sachai
(1949)
Maa Beti
Maa Beti
(1963)


Pakistan Film Magazine presents huge data on Pakistani films, music and artists..



Artists database

Useful information's with detailed film records, milestones, videos, images etc..


Click on any category from the menu below and read more information's..