A Tribute To The Legendary Playback Singer Masood Rana

Masood Rana - مسعودرانا Masood Rana sang 1036 songs in 646 films

مسعودرانا اور سیف الدین سیف

سیف الدین سیف ، بنیادی طور پر ایک شاعر تھے لیکن فلمساز ، ہدایتکار اور مصنف کے طور پر فلم کرتارسنگھ (1959) بنا کر انہوں نے فلمی تاریخ میں اپنا نام سنہرے حروف سے لکھوا لیا تھا۔۔!

سیف الدین سیف نے اپنے فلمی سفر کا آغاز بطور نغمہ نگار ، ہدایتکار داؤد چاند کی اردو فلم تیری یاد سے کیا تھا جو عیدالفطر کے مبارک دن ، 7 اگست 1948ء کو لاہور کے میکلورڈروڈ پر واقع پربھات (صنوبر/ایمپائر) سینما میں ریلیز ہونے والی پہلی پاکستانی فیچر فلم تھی۔ اس فلم میں انہوں نے چار گیت لکھے تھے جو موسیقار عنایت علی ناتھ کی دھنوں میں فلم کی ہیروئن آشا پوسلے نے گائے تھے۔ ساٹھ سے زائد فلموں میں دو سو سے زائد گیت سیف صاحب کے کھاتے میں ہیں۔ پہلا سپرہٹ گیت فلم گمنام (1954) میں اقبال بانو نے گایا تھا "پائل میں گیت ہیں چھم چھم کے ، تو لاکھ چلے رہ گوری تھم تھم کے۔۔" موسیقار ماسٹر عنایت حسین تھے۔ اس دور کے ایک معروف گلوکار فضل حسین نے اپنے فلمی کیرئر کا سب سے ہٹ گیت فلم طوفان (1955) میں گایا تھا "آج یہ کس کو نظر کے سامنے پاتا ہوں میں۔۔" بابا چشتی کی دھن میں اس گیت کے لکھاری بھی سیف صاحب ہی تھے۔

سیف الدین سیف کے لکھے ہوئے ہدایتکار ڈبلیو زیڈ احمد کی اردو فلم وعدہ (1957) کے شاہکار گیت "تیری رسوائیوں سے ڈرتا ہوں ، جب تیرے شہر سے گزرتا ہوں۔۔" نے مقبولیت کے نئے ریکارڈز قائم کئے تھے۔ یہ سدابہار گیت رشید عطرے کی موسیقی میں ایک شوقیہ گلوکار شرافت علی نے گایا تھا۔ اپنی اس اکلوتی فلم میں انہوں نے چار گیت گائے تھے جن میں کوثرپروین کے ساتھ یہ کلاسیکل دوگانا بھی بڑا مقبول ہوا تھا "بار بار برسیں مورے نین ، مورے نیناں۔۔" اتفاق دیکھئے کہ موسیقار رشید عطرے ہی کے رویہ سے دلبرداشتہ ہو کر شرافت علی ، فلمی دنیا کو خیرآباد کہہ کر مستقل طور پر کراچی چلے گئے تھے جہاں انہوں نے دوائیوں کا کاروبار کیا اور پارٹ ٹائم ریڈیو پاکستان کراچی میں غزلیں اور گیت گاتے رہے۔ 1991ء میں انتقال ہوا تھا۔

سیف الدین سیف نے لفظ 'شہر' پر دو مقبول گیت اور بھی لکھے تھے۔ ہدایتکار حسن طارق کی اردو فلم شمع اور پروانہ (1970) میں "میں تیرا 'شہر' چھوڑ جاؤں گا۔۔" اور "میں تیرے اجنبی 'شہر' میں ، ڈھونڈتا پھر رہا ہوں تجھے۔۔" یہ دونوں گیت مجیب عالم کی آواز میں تھے جنہیں اس فلم میں پہلی اور آخری بار چھ گیت گانے کا موقع ملا تھا۔ مجیب عالم کا فلمی کیرئر بڑا مختصر تھا اور صرف سو کے قریب فلمی گیت گا سکے تھے ، 2004ء میں انتقال کر گئے تھے۔ مجیب عالم کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے "میں تیرا شہر چھوڑ جاؤں گا۔۔" جیسا گیت گا کر موسیقار نثار بزمی کی خوشنودی حاصل کی تھی جو یہ گیت پہلے مہدی حسن سے گوا چکے تھے لیکن ان کی گائیکی سے مطمئن نہیں ہو پائے تھے۔

سیف الدین سیف ، ڈیڑھ درجن فلموں کے اکلوتے گیت نگار تھے۔ ایسی فلموں میں پہلی بڑی فلم سات لاکھ (1957) تھی جس کے بیشتر گیت سپرہٹ ہوئے تھے۔ دلچسپ بات ہے کہ رشید عطرے کی موسیقی میں اس فلم میں گائے ہوئے تین گیت اس وقت کے تینوں بڑے گلوکاروں کی پہچان بنے۔ زبیدہ خانم کا سب سے مقبول ترین اردو گیت "آئے موسم رنگیلے سہانے ، جیا نہ ہی مانے ، تو چھٹی لے کے آجا بالما۔۔" تھا جو اداکارہ نیلو کے لئے بھی بریک تھرو ثابت ہوا تھا۔ سلیم رضا کا گایا ہوا گیت "یارو ، مجھے معاف رکھو ، میں نشے میں ہوں۔۔" اور منیرحسین کا گیت "قرار لوٹنے والے ، تو قرار کو ترسے۔۔" سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کوثر پروین کا گیت "ستم گر مجھے بے وفا جانتا ہے ، میرے دل کی حالت خدا جانتا ہے۔۔" کے علاوہ زبیدہ خانم کا گیت "گھونگھٹ اٹھا لوں کہ گھونگھٹ نکالوں ، سیاں جی کہنا میں مانوں کہ ٹالوں۔۔" بھی بڑے مقبول گیت تھے۔ ہدایتکار جعفرملک کی اس سپرہٹ فلم کے فلمساز اور کہانی نویس بھی سیف الدین سیف تھے۔ وقت کی مقبول رومانوی جوڑی صبیحہ اور سنتوش مرکزی کرداروں میں تھے جبکہ طالش کو بھی اس فلم سے بریک تھرو ملا تھا۔ فلم سات لاکھ (1957) کے علاوہ فلم امراؤ جان ادا (1972) ، دیدار (1974) اور ثریا بھوپالی (1976) کے علاوہ فلم آن (1973) کے سبھی گیت بھی سیف صاحب نے لکھے تھے جن میں یہ انقلابی کورس گیت ناقابل فراموش تھا "سب ٹر گئے خان وڈیرے ، تیرا میرا دور آگیا۔۔" اے حمید کی موسیقی میں اس گیت کو رونالیلیٰ ، منیرحسین ، مسعودرانا اور ساتھیوں نے گایا تھا۔ سیف الدین سیف کا سب سے مقبول گیت جو مسعودرانا کی آواز میں تھا ، وہ حسن طارق کی اردو فلم ضرورت (1976) میں تھا "ہم بچھڑ جائیں گے سدا کے لئے ، اب تو کچھ یاد کر خدا کے لئے۔۔"

شاعری کے بعد سیف الدین سیف کی بطور مصنف (کہانی ، مکالمے اور منظرنامہ) 14 فلموں کا ذکر ملتا ہے۔ ہچکولے (1949) پہلی فلم تھی۔سات لاکھ (1957) ، کرتارسنگھ (1959) ، سوال ، مادروطن (1966) ، امراؤ جان ادا (1972) ، لیلیٰ مجنوں (1974) اور ضرورت (1976) دیگر اہم فلمیں تھیں۔ اک سی ڈاکو (1987) آخری فلم تھی جس کے نغمہ نگار اور مصنف بھی تھے۔ بطور فلمساز انہوں نے سات فلمیں بنائی تھیں جن میں فلم رات کی بات (1954) پہلی فلم تھی جبکہ کالو (1977) آخری فلم تھی۔

سیف الدین سیف کے کریڈٹ پر بطور ہدایتکار چار فلمیں تھیں جن میں سے پہلی فلم کرتارسنگھ (1959) ان کے فلمی کیرئر کی سب سے بڑی اور یادگار فلم تھی۔ یہ پہلی فلم تھی جس کے وہ ، فلمساز ، ہدایتکار ، مصنف اور شریک نغمہ نگار بھی تھے۔ یہ ایک سپرہٹ فلم تھی جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اس نے بھارتی پنجاب میں بھی ریکارڈ بزنس کیا تھا۔

Kartar Singh (1959)
جب سیاسی قیادت یہ فیصلہ کرتی ہے
کہ ملک تقسیم ہونا ہے اور ہمیں الگ الگ رہنا ہے
تو یہ کام بڑی خوش اسلوبی سے بھی ہو سکتا تھا
آخر سگے بھائی بھی تو الگ الگ ہوتے ہیں
فلم کرتارسنگھ (1959) ، نسیم بیگم کے گائے ہوئے ، وارث لدھیانوی کے لکھے ہوئے ، موسیقار سلیم اقبال کے کمپوز کئے ہوئے اور اداکارہ لیلیٰ پر فلمائے ہوئے لازوال گیت "ویر میرا گھوڑی چڑھیا۔۔" کی وجہ سے یاد رکھی جاتی ہے لیکن حقیقت میں یہ فلم خود ایک تاریخ ہے۔ ہمارے ہاں عام طور پر تاریخی فلمیں زیادہ تر مبالغہ آرائی پر مبنی ہوتی ہیں۔ فلم بینوں کے جذبات سے فائدہ اٹھا کر بڑے بڑے من گھڑت واقعات دکھائے جاتے ہیں۔ اس فلم میں ایسا نہیں ہوا اور بڑی حقیقت پسندی کا مظاہرہ کیا گیا تھا۔ فلم کرتارسنگھ (1959) میں ایک ایسے گاؤں کا نقشہ کھینچا گیا تھا کہ جہاں ہندو ، مسلم اور سکھ ، ایک خاندان کی طرح مل جل کر رہتے ہیں اور ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے ہیں۔ جب سیاسی قیادت یہ فیصلہ کرتی ہے کہ ملک تقسیم ہونا ہے اور ہمیں الگ الگ رہنا ہے تو یہ کام بڑی خوش اسلوبی سے بھی ہو سکتا تھا ، آخر سگے بھائی بھی تو الگ الگ ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے اس موقع پر سماج دشمن ، مفادپرست ، جرائم پیشہ اور انتہا پسند عناصر حالات کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور دنگافساد ، قتل و غارت اور لوٹ مار کرکے عوام الناس کے جان و مال سے کھیلتے ہیں۔ وقتی طور پر تو وہ کامیاب رہتے ہیں لیکن انسان ، انسان ہے اور انسان ، انسانیت کو شکست نہیں دے سکتا ، چاہے جتنا بھی وحشی بن جائے۔ فلم کرتارسنگھ (1959) کا مرکزی خیال یہی تھا۔ ٹائٹل رول علاؤالدین جیسے لیجنڈ نے کیا تھا اور اپنے رول میں حقیقت کا رنگ بھر دیا تھا۔ ہماری فلموں میں عام طور ہندو کرداروں کو بڑے منفی رنگ میں پیش کیا جاتا رہا ہے جو انتہائی قابل مذمت ہے۔ شاید یہ واحد فلم تھی کہ جس میں ظریف نے ایک ہندو حکیم کا مثبت رول کچھ اس کمال کا کیا تھا کہ پاکستان کے کسی مزاحیہ اداکار نے ایسا لاجواب سنجیدہ کردار کبھی نہیں کیا۔ میں ذاتی طور پر ظریف کی کامیڈی سے اتنا متاثر نہیں ہوا جتنا ان کے اس لافانی کردار سے ہوا تھا۔ پاکستانی فلموں کے پہلے سپرسٹار ہیرو سدھیر نے ایک باوقار مسلمان جوان کے رول میں ایک ذمہ دار شہری کا کردار بڑی خوبی سے کیا تھا۔ اجمل کا ایک غیور اور بہادر سکھ ، فضل حق ایک ایماندار مسلمان اور عنایت حسین بھٹی کا ایک فقیر کا رول بھی زبردست تھا۔ مسرت نذیر ، بہار اور لیلیٰ کی معصومیت اور سادگی ہی ان کا حسن تھا۔

فلم کرتارسنگھ (1959) کی موسیقی بھی بڑے اعلیٰ پائے کی تھی۔ مقبول ترین گیت کا اوپر ذکر ہوچکا ہے۔ اس فلم میں زبیدہ خانم کا یہ رومانٹک گیت "گوری گوری چاننی دی ٹھنڈی ٹھنڈی چھاں نی ، جی کرے چن دا میں ، مونہہ چم لاں نی۔۔" سیف صاحب کا لکھا ہوا تھا۔ انہوں نے سرزمین پاکستان پر آنے والے پہلے قافلے کے جذبات کی ترجمانی اس گیت کی صورت میں کی تھی "اج مک گئی اے غماں والی شام ، تینوں ساڈا پہلا سلام۔۔" سلیم رضا اور عنایت حسین بھٹی کا گایا ہوا یہ اکلوتا دوگانا ہے۔ مجھے یہ بات بہت کھٹکی تھی کہ اس فلم میں سلیم رضا کی گائی ہوئی ہیر وارث شاہؒ ، اداکار عنایت حسین بھٹی پر فلمائی گئی تھی جو خود ایک پیشہ ور گلوکار تھے لیکن زوال پذیر تھے اور اس دور میں پاکستانی مردانہ فلمی گائیکی پر سلیم رضا کی مکمل اجارہ داری ہوتی تھی۔

فلم کرتارسنگھ (1959) میں سیف الدین سیف نے ایک سکھ شاعرہ امرتا پریتم سنگھ کی یہ المیہ نظم "اج آکھاں وارث شاہ نوں ، کدرے قبراں وچوں بول۔۔" شامل کی تھی جو زبیدہ خانم اور عنایت حسین بھٹی کی دلسوز آوازوں میں مسرت نذیر اور خود بھٹی صاحب پر فلمائی گئی تھی۔ اصل میں یہ پنجاب کی تقسیم اور فسادات پر یہ ایک 'ہاڑا' یا نوحہ تھا جو ایک بہت بڑا المیہ تھا اور صرف حساس دلوں کو ہی محسوس ہوتا تھا۔

فلم دروازہ (1962) کے بعد فلم مادروطن (1966) جیسی حب الوطنی پر مبنی فلم بھی سیف صاحب نے بنائی تھی جس میں انہوں نے جنگ ستمبر 1965ء کے دوران مشیرکاظمی کے لکھے ہوئے اور نسیم بیگم کے گائے ہوئے مشہورزمانہ ملی ترانے "اے راہ حق کے شہیدو ، وفا کی تصویرو ، تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں۔۔" کو بھی شامل کیا تھا۔ بطور فلمساز ، ہدایتکار ، مصنف اور شریک نغمہ نگار کے ان کی چوتھی اور آخری فلم لٹ دا مال (1967) تھی۔ یہ ایک اشارتی فلم تھی جس میں مقتدر حلقوں کی بدعنوانیوں کا ذکر کیا گیا تھا کہ کس طرح وہ اس ملک کو اپنے باپ کا مال سمجھتے ہیں۔ یہ ایوبی آمریت کے عروج کا دور تھا اور کرپشن اپنی انتہا پر تھی۔ پورے پاکستان اور بنگلہ دیش کی دولت کے ساٹھ سے اسی فیصد حصے پر چند خاندان قابض تھے اور غریب عوام کا بھرپور استحصال ہورہا تھا۔ اس فلم کے مکالمے وارث لدھیانوی نے لکھے تھے جن کی لکھی ہوئی ایک قوالی "عاشقاں دی ریت ایخو ، رہندے چپ کر کے۔۔" شوکت علی ، مسعودرانا ، نسیم بیگم اور ساتھیوں نے گائی تھی۔ دلچسپ اتفاق ہے بطور ہدایتکار ، سیف صاحب کی چاروں فلموں کے موسیقار سلیم اقبال ہی تھے۔

سیف الدین سیف ، 1922ء میں امرتسر میں پیدا ہوئے تھے اور 1993ء میں انتقال ہوا تھا۔ ان کے لکھے ہوئے خاص خاص گیتوں کی ایک فہرست کچھ اس طرح سے تھی:

مسعودرانا اور سیف الدین سیف کے 9 فلمی گیت

6 اردو گیت ... 3 پنجابی گیت
1
فلم ... آن ... پنجابی ... (1973) ... گلوکار: منیر حسین ، رونا لیلیٰ ، مسعود رانا مع ساتھی ... موسیقی: اے حمید ... شاعر: سیف الدین سیف ... اداکار: حبیب ، عالیہ ، اقبال حسن مع ساتھی
2
فلم ... لیلی مجنوں ... اردو ... (1974) ... گلوکار: منیر حسین ، مسعود رانا ، اخلاق احمد مع ساتھی ... موسیقی: نثار بزمی ... شاعر: سیف الدین سیف ... اداکار: امداد حسین ، وحید مراد مع ساتھی
3
فلم ... دیدار ... اردو ... (1974) ... گلوکار: مسعود رانا ، نورجہاں مع ساتھی ... موسیقی: ناشاد ... شاعر: سیف الدین سیف ... اداکار: وحید مراد ، رانی ، ممتاز مع ساتھی
4
فلم ... پروفیسر ... اردو ... (1975) ... گلوکار: مسعود رانا ، مالا ... موسیقی: اے حمید ... شاعر: سیف الدین سیف ... اداکار: محمد علی ، صوفیہ بانو
5
فلم ... سوہنی مہینوال ... پنجابی ... (1976) ... گلوکار: مسعود رانا ، منیر حسین ... موسیقی: اے حمید ... شاعر: سیف الدین سیف ... اداکار: (پس پردہ ، یوسف خان)
6
فلم ... سوہنی مہینوال ... پنجابی ... (1976) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: اے حمید ... شاعر: سیف الدین سیف ... اداکار: (پس پردہ)
7
فلم ... ضرورت ... اردو ... (1976) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: اے حمید ... شاعر: سیف الدین سیف ... اداکار: شاہد
8
فلم ... موت میری زندگی ... اردو ... (1979) ... گلوکار: مہناز ، مسعود رانا ... موسیقی: اے حمید ... شاعر: سیف الدین سیف ... اداکار: نیلو ، آصف خان
9
فلم ... لو ان لندن ... اردو ... (1987) ... گلوکار: مسعود رانا ، شوکت علی ، اے نیئر ... موسیقی: اے حمید ... شاعر: سیف الدین سیف ... اداکار: رنگیلا ، عابد کشمیری ، اسماعیل تارا

مسعودرانا اور سیف الدین سیف کے 6 اردو گیت

1تیرے جلوؤں سے آباد ہیں چار سو، ذرے ذرے کے دل میں تیری جستجو ، اللہ ہو، اللہ ہو ... (فلم ... لیلی مجنوں ... 1974)
2حرف آئے نہ دوستی پہ کہیں ، کر دیا اپنا حق ادا ہم نے ... (فلم ... دیدار ... 1974)
3تیرے سوا میں کسی اور پر نگاہ کروں ... (فلم ... پروفیسر ... 1975)
4ہم بچھڑ جائیں گے سدا کے لئے ، اب تو کچھ یاد کر خدا کے لئے ... (فلم ... ضرورت ... 1976)
5جدا کرے نہ کوئی ، تیرے آستانے سے ... (فلم ... موت میری زندگی ... 1979)
6اللہ مہربان تو زمانہ مہربان ہے ... (فلم ... لو ان لندن ... 1987)

مسعودرانا اور سیف الدین سیف کے 3 پنجابی گیت

1سب ٹر گئے خان وڈیرے ، تیرا میرا دور آ گیا ... (فلم ... آن ... 1973)
2آس سانوں دلدار دی گھڑیا ، اوہ دسدی کلی یار دی گھڑیا ... (فلم ... سوہنی مہینوال ... 1976)
3کیوں ڈولی چڑھ گئی ایں ... (فلم ... سوہنی مہینوال ... 1976)

مسعودرانا اور سیف الدین سیف کے 2سولو گیت

1کیوں ڈولی چڑھ گئی ایں ... (فلم ... سوہنی مہینوال ... 1976)
2ہم بچھڑ جائیں گے سدا کے لئے ، اب تو کچھ یاد کر خدا کے لئے ... (فلم ... ضرورت ... 1976)

مسعودرانا اور سیف الدین سیف کے 3دو گانے

1تیرے سوا میں کسی اور پر نگاہ کروں ... (فلم ... پروفیسر ... 1975)
2آس سانوں دلدار دی گھڑیا ، اوہ دسدی کلی یار دی گھڑیا ... (فلم ... سوہنی مہینوال ... 1976)
3جدا کرے نہ کوئی ، تیرے آستانے سے ... (فلم ... موت میری زندگی ... 1979)

مسعودرانا اور سیف الدین سیف کے 4کورس گیت

1سب ٹر گئے خان وڈیرے ، تیرا میرا دور آ گیا ... (فلم ... آن ... 1973)
2تیرے جلوؤں سے آباد ہیں چار سو، ذرے ذرے کے دل میں تیری جستجو ، اللہ ہو، اللہ ہو ... (فلم ... لیلی مجنوں ... 1974)
3حرف آئے نہ دوستی پہ کہیں ، کر دیا اپنا حق ادا ہم نے ... (فلم ... دیدار ... 1974)
4اللہ مہربان تو زمانہ مہربان ہے ... (فلم ... لو ان لندن ... 1987)

Masood Rana & Saifuddin Saif: Latest Online film

Behan Bhai

(Urdu - Black & White - Friday, 24 May 1968)


Masood Rana & Saifuddin Saif: Film posters
Lut Da MaalBehan BhaiWehshiLaila Majnu2 TasvirenProfessorSohni MehinwalZarooratKhamosh
Masood Rana & Saifuddin Saif:

4 joint Online films

(2 Urdu and 2 Punjabi films)
1.1968: Behan Bhai
(Urdu)
2.1974: Laila Majnu
(Urdu)
3.1976: Sohni Mehinwal
(Punjabi)
4.1977: Khamosh
(Punjabi)
Masood Rana & Saifuddin Saif:

Total 12 joint films

(8 Urdu, 4 Punjabi films)
1.1967: Lut Da Maal
(Punjabi)
2.1968: Behan Bhai
(Urdu)
3.1971: Wehshi
(Urdu)
4.1973: Aan
(Punjabi)
5.1974: Laila Majnu
(Urdu)
6.1974: Deedar
(Urdu)
7.1974: 2 Tasviren
(Urdu)
8.1975: Professor
(Urdu)
9.1976: Sohni Mehinwal
(Punjabi)
10.1976: Zaroorat
(Urdu)
11.1977: Khamosh
(Punjabi)
12.1979: Mout Meri Zindagi
(Urdu)


Masood Rana & Saifuddin Saif: 9 songs

(6 Urdu and 3 Punjabi songs)

1.
Punjabi film
Aan
from Tuesday, 16 January 1973
Singer(s): Munir Hussain, Runa Laila, Masood Rana & Co., Music: A. Hameed, Poet: , Actor(s): Iqbal Hassan, Aliya, Habib & Co.
2.
Urdu film
Laila Majnu
from Friday, 18 October 1974
Singer(s): Munir Hussain, Akhlaq Ahmad, Masood Rana, Music: Nisar Bazmi, Poet: , Actor(s): Imdad Hussain, Waheed Murad & Co.
3.
Urdu film
Deedar
from Friday, 15 November 1974
Singer(s): Masood Rana, Noorjahan & Co., Music: Nashad, Poet: , Actor(s): Waheed Murad, Rani, Mumtaz
4.
Urdu film
Professor
from Friday, 8 August 1975
Singer(s): Masood Rana, Mala, Music: A. Hameed, Poet: , Actor(s): Mohammad Ali, Sufia Bano
5.
Punjabi film
Sohni Mehinwal
from Friday, 4 June 1976
Singer(s): Masood Rana, Munir Hussain, Music: A. Hameed, Poet: , Actor(s): (Playback), Yousuf Khan
6.
Punjabi film
Sohni Mehinwal
from Friday, 4 June 1976
Singer(s): Masood Rana, Music: A. Hameed, Poet: , Actor(s): (Playback)
7.
Urdu film
Zaroorat
from Friday, 26 November 1976
Singer(s): Masood Rana, Music: A. Hameed, Poet: , Actor(s): Shahid
8.
Urdu film
Mout Meri Zindagi
from Friday, 28 September 1979
Singer(s): Mehnaz, Masood Rana, Music: A. Hameed, Poet: , Actor(s): Neelo, Asif Khan
9.
Urdu film
Love in London
from Friday, 27 November 1987
Singer(s): Masood Rana, Shoukat Ali, A. Nayyar, Music: A. Hameed, Poet: , Actor(s): Rangeela, Abid Kashmiri, Ismael Tara


Pakistan Film Magazine

The first and largest website on Pakistani films, music and artists.



پاکستان فلم میگزین ۔۔۔ سنہری فلمی یادوں کا امین

پاکستان فلم میگزین ، پاکستانی فلموں ، فلمی گیتوں اور فلمی فنکاروں پر اولین ، منفرد اور ایک بے مثل معلوماتی اور تفریحی ویب سائٹ ہے جو 3 مئی 2000ء سے مسلسل اپ ڈیٹ ہورہی ہے۔ یہ ایک انفرادی کاوش ہے جو فارغ اوقات کا ایک بہترین مشغلہ بھی ہے۔ یہ تاریخ ساز ویب سائٹ کبھی نہ بن پاتی ، اگر پاکستانی فلموں میں میرے آئیڈیل گلوکار جناب مسعودرانا صاحب کے گیت نہ ہوتے۔ اس عظیم گلوکار کو ایک منفرد خراج تحسین پیش کرنے کے لئے اس کے گائے ہوئے ایک ہزار سے زائد گیتوں کا پہلا اردو ڈیٹابیس بنایا گیا ہے جس میں ریکارڈ محفوظ رکھنے کے علاوہ دیگر ساتھی فنکاروں پر تفصیلی مضامین بھی شائع کئے جارہے ہیں۔