Pakistn Film Magazine in Urdu/Punjabi


A Tribute To The Legendary Playback Singer Masood Rana

Masood Rana - مسعودرانا


اکبر علی اکو

اکبر علی اکو
اکبر علی اکو

قیام پاکستان کے کافی عرصہ بعد تک بھارت سے کئی ایک مسلمان فنکار پاکستان آتے رہے ہیں۔ جن فنکاروں کو وہاں کامیابی ملی ، وہ تو وہیں رہے لیکن ناکام رہنے والوں نے قسمت آزمائی کے لیے پاکستان ہجرت کی ، کچھ کامیاب ہوئے ، باقی گمنام رہے۔۔!

الہلال (1958)
اکبرعلی اکو کی بھارتی فلم الہلال (1958)

ہدایتکار اکبرعلی اکو کا شمار بھی ایسے ہی فنکاروں میں ہوتا تھا جنھیں بھارت میں پچاس اور ساٹھ کے عشروں میں دو درجن کے قریب فلمیں بنانے کا موقع ملا۔

بھارت میں وہ "Akkoo" کے نام سے جانے جاتے تھے اور ان کی اپنی فلم کمپنی 'اکو پروڈکشنز' بھی تھی۔ وہ ہدایتکار کے علاوہ ایک آدھ فلموں میں فلمساز اور تدوین کار بھی تھے۔ زیادہ تر کاسٹیوم ، ایکشن ، جادوئی ، مذہبی اور تاریخی نوعیت کی فلمیں بناتے تھے۔

اکبر علی اکو کی بھارتی فلمیں

دستیاب معلومات کے مطابق ، ان کی بھارتی فلموں کی فہرست کچھ اس طرح سے تھی: سمبا (1951) ، باما (1952) ، گوریلا (1953) ، ستمگر (1954) ، آدم خور (1955) ، حسن بانو ، نوریمن یا حاتم طائی کا بیٹا (1956) ، جہازی لٹیرا (1957) ، الہلال یا اللہ کا انصاف ، بھولا شکار (1958) ، بہرام ڈاکو (1959) ، پیدرو ، بلیک ٹائیگر ، عبداللہ (1960) ، جپسی گرل (1961) ، دکن کوئین ، میڈم زورو ، جادو محل (1962) ، خفیہ محل (1964) ، چھپا رستم , شاہی لٹیرا (1965) ، پیاسی شام (1969)۔ ان فلموں پر ایک نظر ڈالتے ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ وہ بی اور سی کلاس فلمیں تھیں جن کی وجہ سے وہ کسی خاطرخواہ کامیابی سے محروم رہے تھے۔

ہمیں تو لوٹ لیا مل کے حسن والوں نے

عادل (1966)
فلم عادل (1966) ، بھارتی فلم الہلال (1958) کار چربہ تھی

پاکستان آمد کے بعد ان کی پہلی فلم عادل (1966) تھی جو اصل میں ان کی اپنی ایک فلم الہلال (1958) کا ری میک تھی۔ بلاشبہ نقل ، اصل سے ہر شعبے میں بہتر تھی۔ فلم الہلال (1958) کی خاص بات ایک مشہورزمانہ قوالی تھی "ہمیں تو لوٹ لیا ، مل کے حسن والوں نے ، کالے کالے بالوں نے ، گورے گورے گالوں نے۔۔" موسیقار بولوسی رانی کی دھن میں یہ قوالی اسمعٰیل آزاد اور ساتھیوں نے گائی تھی۔ شیون رضوی کے بول تھے جنھوں نے اس فلم کی کہانی ، مکالمے اور منظرنامہ بھی لکھا تھا اور شاید اکو صاحب کے ساتھ ہی پاکستان چلے آئے تھے۔ شکیلا ، ماہی پل ، شیخ اور رام کمار بوہرا جیسے گمنام اداکار تھے۔

الہلال کی نقل فلم عادل (1966)

ہدایتکار اکبرعلی اکو کی پاکستان میں پہلی فلم عادل (1966) اکو پروڈکشنز کے بینر تلے ریلیز ہوئی تھی۔ اداکار محمدعلی نے پہلی بار کسی فلم کے لیے سرمایہ کاری کی تھی جو اس فلم کا ٹائٹل رول بھی کررہے تھے۔ سلونی ، صابرہ سلطانہ ، ادیب ، ایم اسماعیل ، ماسٹرمراد اور نذر دیگر اہم کردار تھے۔

اس فلم کی خاص بات اس کی موسیقی تھی۔ موسیقار نثاربزمی نے چند سپرہٹ دھنیں تخلیق کی تھیں۔ مالا کا کورس گیت "شمع کا شعلہ بھڑک رہا ہے ، دل پروانہ دھڑک رہا ہے۔۔" ، مالا اور ناہیدنیازی کا دوگانا "بچ نہ سکو گے میری جان ، بانکی اداؤں کے وار سے۔۔" اور مہدی حسن کا گیت "راہی بھٹکنے والے ، پڑھ لاالہ کے اجالے ، دل کا دیا جلا لے۔۔" اہم گیت تھے۔ ان کے علاوہ فلم کا تھیم سانگ "پیاری ماں ، کرو دعا ، میں جلد بڑا ہو جاؤں۔۔" چائلڈ سٹار مراد پر فلمایا گیا تھا جو ناہیدنیازی کی آواز میں تھا۔ ایسا ہی ایک گیت بھارتی فلم الہلال (1958) میں بھی تھا "اماں ، میں بڑا ہو کے بہت کام کروں گا ، اللہ کے بندوں میں بڑا نام کروں گا۔۔" ثمن کلیان پور کی آواز تھی۔

اکبر علی اکو کا مسعودرانا کے ساتھ ساتھ

حاتم طائی (1967)
فلم حاتم طائی (1967) بھی ایک بھارتی فلم کی نقل تھی

اکبرعلی اکو کی دوسری فلم حاتم طائی (1967) تھی جو ایک اوسط درجہ کی فلم تھی۔ محمدعلی نے ٹائٹل رول کیا تھا۔ ساتھی فنکار سلونی ، رخسانہ ، یوسف خان ، ادیب ، سلطان راہی اور رنگیلا تھے۔

نثاربزمی کی موسیقی تھی لیکن اس فلم کے گیت اتنے ہٹ نہیں ہوئے تھے سوائے تھیم سانگ کے جو مسعودرانا کی آواز میں تھا "مشکل میں سب نے تجھ کو پکارا ، پروردگارا ، پروردگارا۔۔" گو اسے تنویر نقوی نے لکھا تھا لیکن اصل بول ایک بھارتی فلم حاتم (1956) میں اختررومانی کے لکھے ہوئے تھے جو محمدرفیع نے گائے تھے اور جنھیں ردوبدل کر کے ایک نئی حمد کی شکل دی گئی تھی۔

نثاربزمی صاحب اپنے ایک انٹرویو میں اس گیت کا پس منظر کچھ اس طرح سے بیان کرتے تھے کہ فلمساز ان کے پاس اس فلم کی کہانی لے کر آیا اور فرمائش کی کہ جیسی حمد ، محمدرفیع نے بھارتی فلم حاتم (1956) میں گائی تھی ، بالکل ویسی ہی گوا دیں یا کاپی کر دیں۔ نثاربزمی نے صاف انکار کر دیا تھا اور فلمساز کو یہ گارنٹی دی تھی کہ وہ اس سے بہتر حمد بنا کر دکھائیں گے۔ پھر ایسا ہی ہوا ، محمدرفیع کی دھیمی سروں میں گائی ہوئی حمد کو مسعودرانا سے اونچی سروں میں گوایا گیا تھا۔ اس حمد کے دو ورژن تھے ، ایک گراموفون ریکارڈ پر ہے جس میں دو انترے ہیں جبکہ فلم میں تیسرے انترے کا اضافہ کیا گیا تھا جو فلم کی صورتحال کے مطابق تھا۔ مسعودرانا اور محمدرفیع کی گائی ہوئیں حمدیں لفظ بہ لفظ لکھی جارہی ہیں جو ایک مذہبی تاریخ بیان کر رہی ہیں۔۔

مسعودرانا ، فلم حاتم طائی (1967)

مسعودرانا
مسعودرانا
    یونسؑ کو بطن ماہی میں ، یوسفؑ کو چاہ میں ، رکھا تھا تو نے اپنے کرم کی پناہ میں
    مشکل میں سب نے تجھ کو پکارا ، پروردگارا ، پروردگارا۔۔!
    نبیوںؑ کے بیڑے تو نے بچائے ، آتش کدوں میں گلشن کھلائے
    تو نے بنائیں طوفاں میں راہیں ، سب کے لیے ہیں تیری پناہیں
    تو ہے بھروسہ ، تو ہے سہارا ، پروردگارا ، پروردگارا۔۔!
    موسیٰؑ نبی کا سارا قبیلہ ، تیرے کرم سے دریا سے گزرا
    یعقوبؑ کو دی غم سے رہائی ، بچھڑے پسر کی صورت دکھائی
    تو چارہ گر ہے ، کر کوئی چارہ ، پروردگارا ، پروردگارا۔۔!
    سنتا ہے تو ہی فریاد سب کی ، کرتا ہے تو ہی امداد سب کی
    یہ بھی تو آخر بندے ہیں تیرے ، ان کے جہاں میں کیوں ہیں اندھیرے
    قدرت کا یہ بھی کر لیں نظارا ، پروردگارا ، پروردگارا۔۔!

محمدرفیع ، فلم حاتم (1956)

محمدرفیع
محمدرفیع
    پروردگارِ عالم ، تیرا ہی ہے سہارا ، تیرے سوا جہاں میں کوئی نہیں ہمارا
    نوحؑ کا سفینہ تو نے طوفان سے بچایا ، دنیا میں تو ہمیشہ بندوں کے کام آیا
    مانگی خلیلؑ نے جب تجھ سے دعا خدایا ، آتش کو تو نے فوراً اک گلستاں بنایا
    ہر التجا نے تیری رحمت کو ہے ابھارا ، پروردگارِعالم۔۔
    یونسؑ کو تو نے مچھلی کے پیٹ سے نکالا ، تو نے ہی مشکلوں میں ایوبؑ کو سنبھالا
    الیاسؑ پر کرم کا تو نے کیا اجالا ، ہے دو جہاں میں یارب ، تیرا ہی بول بالا
    تو نے سدا الہٰی ، بگڑی کو ہے سنوارا ، پروردگارِعالم۔۔
    یوسفؑ کو تو نے مولا دی قید سے رہائی ، یعقوبؑ کو دوبارہ شکل پسر دکھائی
    بہتی ہوئی ندی میں موسیٰؑ کی راہ بنائی ، تو نے صلیب پر بھی عیسیٰؑ کی جان بچائی
    داتا تیرے کرم کا ، کوئی نہیں کنارا ، پروردگارِ عالم۔۔

ان دونوں حمدیہ کلام کے موازنے سے یہ بات محسوس ہوتی ہے کہ رفیع صاحب کے گیت میں تفصیلی مضمون ہے جبکہ مسعودرانا کا گیت ایک خلاصہ ہے۔ بھارتی فلموں میں پاکستانی فلموں کے مقابلے میں حمدیں ، نعتیں اور قوالیاں زیادہ ملتی ہیں جس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ ہر اقلیت کو اپنے دین و ایمان اور تہذیب و تمدن کے تحفظ کی فکر زیادہ ہوتی ہے جبکہ اکثریت ان معاملات میں قدرے لاپرواہ ہوتی ہے۔

اکبر علی اکو کی دیگر فلمیں

لو ان جنگل (1970)
لو ان جنگل (1970)
سوداگر (1972)
سوداگر (1972)
آزادی (1972)
آزادی (1972)

اکبرعلی اکو کی تیسری فلم لوان جنگل (1970) تھی۔ یہ فلم مغربی پاکستان میں اردو اور مشرقی پاکستان میں بنگالی میں ریلیز کی گئی تھی۔ اس فلم کے بارے میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا یہ پاکستان کی پہلی جنگل فلم تھی جو درست نہیں تھا ، اس سے قبل ہابو (1961) اور دارا (1968) بھی جنگل فلمیں تھیں۔ اس اردو فلم میں اداکارہ عالیہ کو پہلی بار ایک مکمل ہیروئن کے طور پر پیش کیا گیا۔ فلم کے ہیرو بنگالی اداکار عظیم تھے جن کی لاہور میں بنی ہوئی یہ اکلوتی فلم تھی۔ اسوقت کی لاہور کی فلموں میں عام طور پر بنگالی اداکاروں کو کم ہی کاسٹ کیا جاتا تھا۔

اکو صاحب کی آخری دونوں فلمیں ان کے انتقال کے بعد ریلیز ہوئی تھیں جن میں فلم سوداگر (1972) میں رانی کے مقابل ایک نئے ہیرو عادل کو پیش کیا گیا تھا۔ اس فلم کے چند گیت بڑے مقبول ہوئے تھے جن میں مالا کا گیت "تیرا میرا پیار کیسے روکے گا زمانہ۔۔" اور رونالیلیٰ کا گیت "میری وفا کا آج ہوا ہے کتنا حسین انجام۔۔" ایم اشرف کی موسیقی میں خواجہ پرویز کے گیت تھے۔ طالش ، ٹائٹل رول میں تھے۔

اکبرعلی اکو کی ریلیز ہونے والی آخری فلم آزادی (1972) تھی جس میں رانی کے ساتھ نصراللہ بٹ تھے جن کی بطور ہیرو یہ آخری فلم تھی۔ وہ بنیادی طور پر ایک باڈی بلڈر تھے اور 'مسٹر پاکستان' تھے۔ چند فلموں میں ہیرو آئے لیکن ناکام رہے۔ اسی کے عشرہ میں ولن پارٹیوں میں شامل ہوتے تھے۔

اکبرعلی اکو نے پاکستان میں صرف پانچ فلمیں بنائیں جو سبھی اردو زبان میں تھیں۔ صرف فلم عادل (1966) ہی کامیاب تھی۔ ان کا انتقال 6 جون 1971ء کو ہوگیا تھا۔

مسعودرانا کے اکبر علی اکو کی 1 فلم میں 1 گیت

(1 اردو گیت ... 0 پنجابی گیت )
1
فلم ... حاتم طائی ... اردو ... (1967) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: نثار بزمی ... شاعر: تنویر نقوی ... اداکار: محمد علی

Masood Rana & Akbar Ali Akkoo: Latest Online film

Masood Rana & Akbar Ali Akkoo: Film posters
Hatim Tai
Masood Rana & Akbar Ali Akkoo:

0 joint Online films

(0 Urdu and 0 Punjabi films)

Masood Rana & Akbar Ali Akkoo:

Total 1 joint film

(1 Urdu, 0 Punjabi films)

1.1967: Hatim Tai
(Urdu)


Masood Rana & Akbar Ali Akkoo: 1 song in 1 film

(1 Urdu and 0 Punjabi songs)

1.
Urdu film
Hatim Tai
from Friday, 5 May 1967
Singer(s): Masood Rana, Music: Nisar Bazmi, Poet: , Actor(s): Mohammad Ali


Noreen
Noreen
(1970)
Gangwa
Gangwa
(1991)
Jangu
Jangu
(1972)
Soudagar
Soudagar
(1972)
Begum Jan
Begum Jan
(1977)

Bhai
Bhai
(1944)
Noukar
Noukar
(1943)
Champa
Champa
(1945)
Shalimar
Shalimar
(1946)

Gulbadan
Gulbadan
(1937)
Papi
Papi
(1943)
Poonji
Poonji
(1943)



پاکستان کی 75 سالہ فلمی تاریخ

پاکستان فلم میگزین ، سال رواں یعنی 2023ء میں پاکستانی فلموں کے 75ویں سال میں مختلف فلمی موضوعات پر اردو/پنجابی میں تفصیلی مضامین پیش کر رہا ہے جن میں مکمل فلمی تاریخ کو آن لائن محفوظ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

قبل ازیں ، 2005ء میں پاکستانی فلموں کا عروج و زوال کے عنوان سے ایک معلوماتی مضمون لکھا گیا تھا۔ 2008ء میں پاکستانی فلموں کے ساٹھ سال کے عنوان سے مختلف فنکاروں اور فلموں پر مختصر مگر جامع مضامین سپردقلم کیے گئے تھے۔ ان کے علاوہ پاکستانی فلموں کے منفرد ڈیٹابیس سے اعدادوشمار پر مشتمل بہت سے صفحات ترتیب دیے گئے تھے جن میں خاص طور پر پاکستانی فلموں کی سات دھائیوں کے اعدادوشمار پر مشتمل ایک تفصیلی سلسلہ بھی موجود ہے۔


237 فنکاروں پر معلوماتی مضامین



PAK Magazine is an individual effort to compile and preserve the Pakistan's political, film and media history.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes, and therefor, I am not responsible for the content of any external site.