A Tribute To The Legendary Playback Singer Masood Rana
مسعودرانا کا فنی سفر
مسعودرانا کے 241 ساتھی فنکاروں پر معلوماتی مضامین
26 ..... گلوکار
- زبیدہ خانم
- علی بخش ظہور
- منور سلطانہ
- مسعود رانا
- عنایت حسین بھٹی
- حامدعلی بیلا
- فضل حسین
- تصورخانم
- اعظم چشتی
- رونا لیلیٰ
- آصف جاوید
- نگہت سیما
- ملکہ ترنم نور جہاں
- نذیر بیگم
- سائیں اختر
- سلیم رضا
- روبینہ بدر
- نسیم بیگم
- شوکت علی
- مالا
- احمد رشدی
- نسیمہ شاہین
- منیر حسین
- آئرن پروین
- محمد رفیع
- مہدی حسن
32 ..... نغمہ نگار
- حکیم احمد شجاع
- شیون رضوی
- سلطان محمود آشفتہ
- سلیم کاشر
- طفیل ہوشیارپوری
- کلیم عثمانی
- اسماعیل متوالا
- اختریوسف
- ظہیر کاشمیری
- تسلیم فاضلی
- ریاض الرحمان ساغر
- منظورجھلا
- سعیدگیلانی
- صہبااختر
- ظہورناظم
- خواجہ پرویز
- مظفروارثی
- ساحل فارانی
- قتیل شفائی
- سرور بارہ بنکوی
- حبیب جالب
- احمد راہی
- تنویر نقوی
- بابا عالم سیاہ پوش
- حزیں قادری
- مشیر کاظمی
- موج لکھنوی
- منیر نیازی
- وارث لدھیانوی
- مسرور انور
- حمایت علی شاعر
- فیاض ہاشمی
44 ..... موسیقار
- راگنی
- رفیق غزنوی
- ماسٹر غلام حیدر
- طافو
- اعظم بیگ
- مشتاق علی
- امجدبوبی
- غلام حسین شبیر
- وجاہت عطرے
- علی حسین
- اے حمید
- کریم شہاب الدین
- صفدرحسین
- وزیر افضل
- ناشاد
- کمال احمد
- رحمان ورما
- حسن لطیف
- روبن گھوش
- نذیرجعفری
- نذیرعلی
- سیف چغتائی
- خواجہ خورشید انور
- سلیم اقبال
- اخترحسین اکھیاں
- غلام نبی ، عبداللطیف
- طفیل فاروقی
- ماسٹر عنایت حسین
- ماسٹر عبد اللہ
- سہیل رعنا
- خلیل احمد
- فیروز نظامی
- بخشی وزیر
- خان عطا الرحمان
- ماسٹر عاشق حسین
- نثار بزمی
- ماسٹر تصدق حسین
- ماسٹر رفیق علی
- رشید عطرے
- ایم اشرف
- لال محمد اقبال
- مصلح الدین
- جی اے چشتی
- دیبو بھٹا چاریہ
56 ..... ہدایتکار
- اے آر کاردار
- داؤد چاند
- نذرالاسلام
- آغا حسینی
- ایم صادق
- حسن عسکری
- اسلم ڈار
- قدیرغوری
- الطاف حسین
- ایم ایس ڈار
- شوکت حسین رضوی
- ایس ایم یوسف
- خواجہ سرفراز
- حمیدچوہدری
- آغا جی اے گل
- عزیز میرٹھی
- لقمان
- کے خورشید
- پرویز ملک
- ایم سلیم
- سیف الدین سیف
- بھائیا اے حمید
- خلیل قیصر
- اکبرعلی اکو
- ریاض احمد راجو
- وحیدڈار
- ریاض احمد
- افتخارخان
- ارشدکاظمی
- ظہیرریحان
- ایم اکرم
- الحامد
- ریاض شاہد
- نذیر
- انورکمال پاشا
- شریف نیر
- راجہ حفیظ
- مسعودپرویز
- ایم اے رشید
- ایس سلیمان
- رشیداختر
- منوررشید
- رفیق رضوی
- اقبال کاشمیری
- جمیل اختر
- جعفر بخاری
- شباب کیرانوی
- احتشام ، مستفیض
- ایس اے بخاری
- ایم جے رانا
- رضا میر
- حیدر چوہدری
- امین ملک
- اسلم ایرانی
- اقبال شہزاد
- حسن طارق
83 ..... اداکار
- ہمالیہ والا
- آشا پوسلے
- سنگیتا
- سلطان راہی
- آسیہ
- عمرشریف
- شبنم
- قوی
- افضل خان
- شاہد
- ننھا
- کیفی
- لیلیٰ
- ساقی
- ناصرہ
- علی اعجاز
- حسنہ
- ناہید
- اقبال حسن
- عالیہ
- رخسانہ
- ماسٹر مراد
- نسیمہ خان
- تانی
- الیاس کاشمیری
- شبانہ
- نبیلہ
- ایم اسماعیل
- روزینہ
- ندیم
- خلیفہ نذیر
- کمار
- سیما
- مسرت نذیر
- ساون
- آئٹم گرلز
- غزالہ
- دیبا
- زینت
- سلونی
- یاسمین
- منورظریف
- زیبا
- طلعت صدیقی
- حیدر
- اعجاز
- رانی
- زلفی
- ابو شاہ
- آصف جاہ
- سلمیٰ ممتاز
- نورمحمدچارلی
- شیریں
- یوسف خان
- علاؤالدین
- وحیدمراد
- فردوس
- شمیم آرا
- لہری
- مظہر شاہ
- طالش
- نغمہ
- رضیہ
- سنتوش کمار
- رنگیلا
- دلجیت مرزا
- اکمل
- اے شاہ
- نذر
- سدھیر
- حنیف
- طارق عزیز
- صبیحہ خانم
- محمد علی
- درپن
- امداد حسین
- البیلا
- اطہر شاہ خان
- نیلو
- نرالا
- اسد بخاری
- سید کمال
- حبیب
زلفی
زلفی ، ساٹھ کی دھائی کا ایک نامور مزاحیہ اداکار تھا۔ صرف سات آٹھ برسوں کے مختصر فلمی کیرئر میں سو کے قریب فلموں میں کام کرنا ، اس کی قابلیت اور مقبولیت کا منہ بولتا ثبوت تھا۔۔!
پہلا ڈائمنڈ جوبلی کامیڈین
ایک دبلے پتلے اور نازک اندام اداکار زلفی کو پاکستان کی پہلی ڈائمنڈ جوبلی فلم زرقا (1969) کا مین کامیڈین ہونے کا ناقابل شکست اعزاز حاصل ہے۔ پہلی فلم حسن و عشق تھی جو 1962 میں ریلیز ہوئی تھی۔
فلمی کیرئیر کے عروج پر اچانک 1969ء میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہوا۔ آخری فلم گل بانو بتائی جاتی ہے جو ایک پشتو فلم تھی اور 1978ء میں ریلیز ہوئی تھی۔
زلفی کے ابتدائی دور میں مزاحیہ اداکاری میں نذر ، اے شاہ ، آصف جاہ اور دلجیت مرزا بام عروج پر تھے۔ اگلی پود میں رنگیلا ، منورظریف ، لہری ، نرالا اور خلیفہ نذیر کے ساتھ زلفی کا نام بھی فلموں کی ضرورت بن گیا تھا۔
زلفی کا اصل نام چوہدری ذوالفقار علی بتایا جاتا ہے۔ اس کی ذاتی معلومات تو دستیاب نہیں لیکن اس کی فلمیں ایک کھلی کتاب کی طرح ہیں جن میں سے چند اوراق پلٹنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
زلفی کا فلمی کیرئر
زلفی نے شروع میں بہت سی فلموں میں چھوٹے موٹے کردار ادا کیے تھے۔
فلم گوانڈی (1966) ایک سیاسی نوعیت کی فلم تھی جو پاک بھارت تعلقات پر بنائی گئی تھی۔ اس فلم میں بتایا گیا تھا کہ تقسیم سے قبل کیسے ایک ہی گاؤں کے رہنے والے ہندو اور مسلمان الگ الگ قومیں تھیں ، یعنی دو قومی نظریہ کا پرچار کیا گیا تھا۔ اس فلم میں طالش نے ایک مسلمان اور پھر پاکستانی اور اے شاہ شکارپوری نے ایک ہندو اور پھر بھارتی کے کردار کیے تھے۔ تقسیم سے قبل ان دونوں گروپوں پر ایک کورس گیت فلمایا گیا تھا:
- جوڑ پے گیا ، دھنے دی پتنگ دا تے منہے دی پتنگ دا۔۔
بظاہر یہ پتنگ بازی کا ایک عام سا مقابلہ ہوتا ہے لیکن اسے مذہبی رنگ دے دیا جاتا ہے اور بوکاٹا کے لیے اپنی اپنی مذہبی دعائیں بھی مانگی جاتی ہیں اور نوبت لڑائی مارکٹائی تک جا پہنچتی ہے جو فرقہ وارانہ فسادات کا بہانہ بن جاتا ہے۔
اس دلچسپ کورس گیت کی دھن بابا چشتی نے بنائی تھی اور بول حزیں قادری نے لکھے تھے۔ اسے احمدرشدی ، مسعودرانا اور ساتھیوں نے گایا تھا اور گانے والوں میں ایک زلفی بھی تھا۔
ترانہ جو قومی ترانہ بنی
فلم گوانڈی (1966) ہی میں زلفی پر مسعودرانا کا ایک باقاعدہ مزاحیہ گیت فلمایا گیا تھا:
- نی آوارہ تے نئیں میں ، کرماں مارا تے نئیں میں۔۔
اس دوگانے میں دوسری آواز مزاحیہ گیتوں کی ملکہ آئرن پروین کی تھی۔
اس گیت میں زلفی کی ساتھی اداکارہ کا نام ترانہ تھا جو ایک ایرانی نژاد تھی۔ وہ چالیس سے زائد فلموں میں نظر آنے والی ایک بدنام زمانہ اداکارہ تھی جو عام طور پر ثانوی کرداروں میں بڑے بولڈ قسم کے رول کرتی تھی۔ دو فلموں ڈاکٹر شیطان (1969) اور جین بانڈ 008 آپریشن کراچی (1971) کی ہیروئن بھی تھی لیکن کامیاب نہیں ہوئی تھی۔
ترانہ کے بارے میں مشہور ہے کہ جنرل یحییٰ خان جیسے بدکردار حکمران کے دور میں ایوان صدر کو حرام کاری کا اڈہ بنا دیا گیا تھا اور اس ضمن میں کئی بڑے بڑے نام ، بدنام ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک مشہور نام اداکارہ ترانہ کا بھی تھا جس کے بارے میں ایک بڑا مشہور جملہ تاریخ میں ملتا ہے کہ جب وہ ، جنرل یحییٰ سے ملنے گئی تو صرف ' ترانہ ' تھی لیکن جب واپس آئی تو ' قومی ترانہ ' بن چکی تھی۔۔!
عاشقاں نوں جتیاں دی نئیں پرواہ
اسی سال کی فلم گونگا (1966) میں زلفی پرمسعودرانا کا ایک اور مزاحیہ گیت فلمایا گیا تھا جس میں وہ ایک دبلا پتلا اور کمزور عاشق ہے لیکن اس کی محبوبہ کے کچھ کم نہیں پورے سات بھائی ہیں اور سبھی ہٹے کٹے پہلوان۔ وہ آئرن پروین کی آواز میں زلفی کو بہت سمجھاتی ہے:
- تیری کلی جان ، میرے ست نے بھرا ، ٹیڈی ایتھوں پھٹ جا۔۔
اس پر اسے جواب ملتا ہے:
- عاشقاں نوں جتیاں دی نئیں پرواہ ، نی تو نہ گبھرا۔۔
مسعودرانا نے اس مزاحیہ گیت میں کیا غضب کے ایکسپریشنز دیے تھے ، صرف ایک جملے "نی تو نہ گبھرا۔۔" کو مختلف انداز میں گا کر ثابت کر دیا تھا پاکستانی فلموں نے ان سے بہتر آل راؤنڈ گلوکار کبھی نہیں دیکھا۔
فلم نادرہ (1967) میں بھی زلفی مین کامیڈین تھا اور اس کی جوڑی اداکارہ سیما کے ساتھ تھی۔ اس فلم میں بھی اس جوڑی پر ایک مزاحیہ گیت فلمایا گیا تھا:
- اری او لیلیٰ کی خالہ ، میرا نکل گیا دیوالہ۔۔
نامور موسیقار کمال احمد کی یہ پہلی فلم تھی اور یہ گیت انھوں نے مسعودرانا اور مالا سے گوایا تھا۔
زلفی کے انتہائی عروج کا دور
1969ء کا سال زلفی کے انتقال اور انتہائی عروج کا سال تھا۔ گزشتہ تین برسوں میں اس کی ریلیز ہونے والی فلموں کی تعداد پچاس سے زائد تھی جبکہ اس کے انتقال کے بعد بھی دو درجن کے قریب فلمیں ریلیز ہوئی تھیں۔
فلم شیراں دی جوڑی (1969) آخری فلم تھی جس میں زلفی پر مسعودرانا کے دو گیت فلمائے گئے تھے۔ اس فلم میں رنگیلا پر لڑکیاں عاشق ہوتی ہیں لیکن نشئی زلفی سے دور بھاگتی ہیں۔ اس کیفیت میں ان دونوں پر ایک دلچسپ گیت فلمایا جاتا ہے جس میں رنگیلا ، احمدرشدی کی آواز میں اپنی مشکل بیان کرتا ہے:
- کدروں توں آواں ، میں کدروں توں جاواں ، پنڈ دیاں کڑیاں تے مل لین راہواں۔۔
اس کے جواب میں زلفی ، مسعودرانا کی آواز میں یہ شکوہ کرتا ہوا سنائی دیتا ہے:
- جدروں توں آواں ، میں جدروں توں جاواں ، پنڈ دیاں کڑیاں تے چھڈ جان راہواں۔۔
اسی فلم میں زلفی پر مسعودرانا کا ایک اور گیت فلمایا گیا تھا:
- تیرا مکھ جے نہ ویکھاں ، چین آندا نئیں۔۔
اس گیت میں چند بول حامدعلی بیلا کے بھی تھے جو فلم کا ٹائٹل رول کرنے والے اداکار مظہرشاہ پر فلمائے جاتے ہیں۔ یہ ایک اعلیٰ پائے کا گیت تھا۔
زلفی اپنے عروج کا دور نہ دیکھ پائے
1969ء میں زلفی نے فلم زرقا میں ایک شعبدہ باز کا رول کیا تھا۔ اس فلم نے پہلی بار کراچی میں سو ہفتے چلنے کا ریکارڈ قائم کیا تھا لیکن زلفی اپنی اس کامیابی کو دیکھنے سے محروم رہا تھا۔
اسی سال کی ایک یادگار فلم دلاں دے سودے میں وہ مرکزی مزاحیہ اداکار تھا اور پنجابی زبان کو بگاڑ کر بولنے کا ایک ایسا انداز متعارف کروایا تھا جس کی بہت سے لوگ نقل کرتے ہوئے نظر آئے۔
اسی سال کی بھٹی برادران کی شاہکار پنجابی فلم جند جان میں زلفی کی مزاحیہ اداکاری بڑے کمال کی تھی۔ اس فلم میں اس کا تکیہ کلام "واقفیت ودا کے وخت ای پا لیا۔۔" بڑا مقبول ہوا تھا۔
فلم دیا اور طوفان (1969) میں زلفی ، اپنے ہم عصر تین بڑے مزاحیہ ادکاروں یعنی رنگیلا ، منورظریف اور خلیفہ نذیر کے ساتھ اہم کردار میں تھا اور شاید یہ واحد فلم تھی جس کے پوسٹر پر اس کی تصویر بھی تھی۔
فلم محرم دل دا (1970) میں زلفی کو فلم کے "ہیرو" مظہرشاہ کے سٹائل کو دیکھ کر یہ طعنہ دینا پڑا کہ "تمہیں تو ہیرو بننا نہ آیا۔۔" مجھے خود یہ دیکھ کر بڑا صدمہ پہنچا تھا کہ اس فلم میں مظہرشاہ ، رانی کے ہیرو تھے۔
فلم محلے دار (1970) واحد فلم تھی جس میں زلفی کو ہیرو ٹائپ رول ملا تھا اور جوڑی اداکارہ سیما کے ساتھ تھی۔ اس فلم میں مسعودرانا کا یہ گیت بڑا سبق آموز تھا:
- بے ادب نے جہیڑے ماواں دے ، او کدی نہ چڑھن جوانی۔۔
فلم ہیررانجھا (1970) میں بھی زلفی کا منورظریف کی شادی کے موقع پر مشروب پیش کرنے کا ایک مختصر رول بھی تھا۔
زلفی کی زندگی کا آخری سین فلم پردیس (1972) میں فلمایا گیا تھا۔ اس میں زلفی اور رنگیلا پر احمدرشدی اور رجب علی کا ایک گیت فلمایا گیا تھا:
- ہیلو ہیلو ، چاچاچا ، ایک شلنگو دیتا جا۔۔
فلمساز اور اداکار حبیب کی اردو فلم پردیس (1972) کے لیے لندن جانے والے جواں سال اداکار زلفی کا اچانک انتقال 11 ستمبر 1969ء کو ہو گیا تھا۔.!
فلم پردیس (1972) کی یاد میں
اداکار زلفی کی فلم پردیس (1972) سے میری بڑی گہری یادیں وابستہ ہیں۔ اتوار کا دن تھا اور اس فلم کا بارہ سے تین بجے کا میٹنی شو دیکھ کر آرہا تھا۔ گھر پہنچا تو دیکھا کہ دادا جان مرحوم و مغفور کے پاس ان کے ایک باریش بھتیجے ، ائیر فورس کی وردی میں ملبوس تشریف فرما ہیں۔ دادا جان ، اپنی ٹوٹی ہوئی ٹانگ کی وجہ سے بستر پر تھے۔ وہ اتنے ملنسار طبیعت کے مالک تھے کہ ان کے پاس آنے جانے والوں کی ہر وقت رونق لگی رہتی تھی ، اس لیے مہمانوں کے ہم عادی تھے اور آداب محفل سے آگہی تھی۔
میں نے بڑے ادب و احترام سے مہمان کو سلام کیا اور ہاتھ ملایا۔ دادا جان ، اس دن بڑے موڈ میں تھے۔ انھوں نے مسکراتی ہوئی شریر آنکھوں سے مجھے دیکھا اور اچانک پوچھا:
"کہاں سے تشریف لا رہے ہیں ، جناب اس وقت۔۔؟"
مجھے یقین تھا کہ باپو جی کو معلوم تھا کہ میں کہاں سے آرہا ہوں لیکن ایسا سوال پہلے کبھی نہیں کیا تھا لیکن یہ آج ان کو کیا ہوا۔۔؟
میں بڑا سٹپٹایا کہ کس وقت اور کن صاحب کے سامنے کیسا سوال کیا ہے۔ باپو جی کو اچھی طرح سے معلوم تھا کہ اتوار کے دن میں فلم دیکھنے جاتا تھا ، جس سے انھوں نے کبھی منع نہیں کیا تھا لیکن آج بے موقع باز پرس ہو رہی تھی اور وہ بھی ایک باریش مذہبی صاحب کے سامنے۔ ایک دین دار شخص کے سامنے فلم کا ذکر ویسے بھی نا مناسب تھا کیونکہ ہمارے ہاں فلم بینی کو انتہائی معیوب سمجھا جاتا تھا جس کا مجھے بھرپور ادراک تھا۔ پھر ایک دس گیارہ سالہ بچے کا فلمیں دیکھنا تو اور بھی بری بات تھی۔
میں نے ٹالنے کے انداز میں سرگوشی سی کی کہ باہر کھیل رہا تھا لیکن باپو جی نے ڈانٹتے ہوئے کہا:
"صاف کیوں نہیں بتاتے کہ فلم دیکھ کر آ رہے ہو۔۔!"
باپو جی نے بیچ چوراہے بھانڈا پھوڑ دیا تھا ، اب چھپانے کو کچھ بھی نہ تھا لیکن اس موقع پر میں نے اپنی صفائی میں ایک ہی سانس میں جو جواب دیا ، اس پر میرے مرحوم دادا جان اور ان کے باریش بھتیجے کا ہنس ہنس کر برا حال ہوگیا تھا۔ میرا جواب تھا:
"باپو جی ، یقین کریں ، فلم میں خانہ کعبہ دکھاتے ہیں ، مدینہ منورہ دکھاتے ہیں ، حج کرتے ہوئے اور نعتیں پڑھتے ہوئے بھی دکھایا جاتا ہے اور بھی بہت سی زیارتیں تھیں۔۔"
دادا جان مرحوم کے بھتیجے (مرحوم و مغفور) ، پاکستان ایئر فورس میں ماسٹر ورانٹ آفیسر تھے۔ ستمبر 1965ء کی جنگ میں جب سرگودھا کے محاذ پر ایم ایم عالم نے پانچ بھارتی طیارے صرف ایک منٹ میں مار گرائے تھے تو نیچے راڈار سے انھیں گائیڈ کرنے والی ٹیم میں شامل تھے۔ 1985ء میں وہ میرے خسر بنے اور فروری 2022ء میں انتقال ہوگیا تھا۔
مسعودرانا اور زلفی کے 8 فلمی گیت
| 1 | جوڑ پے گیا ، دھنے دی پتنگ دا تے منہے دی پتنگ دا..فلم ... گوانڈی ... پنجابی ... (1966) ... گلوکار: احمد رشدی ، مسعود رانا مع ساتھی ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: حزیں قادری ... اداکار: زلفی ، طالش ، اے شاہ مع ساتھی |
| 2 | نی آوارہ تے نئیں میں ، کرماں مارا تے نئیں میں..فلم ... گوانڈی ... پنجابی ... (1966) ... گلوکار: مسعود رانا ، آئرن پروین ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: حزیں قادری ... اداکار: زلفی ، ترانہ |
| 3 | وے تیری کلی جان ، میرے ست نے بھرا ، ٹیڈی ایتھوں پھٹ جا..فلم ... گونگا ... پنجابی ... (1966) ... گلوکار: آئرن پروین ، مسعود رانا ... موسیقی: منظور اشرف ... شاعر: خواجہ پرویز ... اداکار: ؟ ، زلفی |
| 4 | اری او لیلیٰ کی خالہ ، میرا نکل گیا دیوالا..فلم ... نادرہ ... اردو ... (1967) ... گلوکار: مسعود رانا ، مالا ... موسیقی: کمال احمد ... شاعر: مشیر کاظمی ... اداکار: زلفی ، سیما |
| 5 | سن ہاڑے باب لڈنا ، بکھیاں بے رزگاراں دے..فلم ... اکبرا ... پنجابی ... (1967) ... گلوکار: مسعود رانا ، منور ظریف ، امداد حسین ، سلیم چودھری مع ساتھی ... موسیقی: نذیر علی ... شاعر: تنویر نقوی ... اداکار: منور ظریف ، خلیفہ نذیر ، زلفی مع ساتھی |
| 6 | آ گئے ماں دے جنٹر مین ، گھر آیاں نوں چھتر پہن..فلم ... جناب عالی ... پنجابی ... (1968) ... گلوکار: مسعود رانا ، احمد رشدی ... موسیقی: صفدر حسین ... شاعر: خواجہ پرویز ... اداکار: علاؤالدین ، دلجیت مرزا ، زلفی ، بالو (گھوڑا) |
| 7 | تیرا مکھ جے نہ ویکھاں چین آندا نئیں ، میں وی ہور کسے نال دل لاندا نئیں..فلم ... شیراں دی جوڑی ... پنجابی ... (1969) ... گلوکار: مسعود رانا ، حامدعلی بیلا مع ساتھی ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: سعید جعفری ... اداکار: زلفی ، مظہر شاہ مع ساتھی |
| 8 | جدروں توں آواں ، میں جدروں تے جاواں ، پنڈ دیاں کڑیاں تے مل لین راہواں..فلم ... شیراں دی جوڑی ... پنجابی ... (1969) ... گلوکار: احمد رشدی ، مسعود رانا ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: سعید جعفری ... اداکار: رنگیلا ، زلفی |
مسعودرانا اور زلفی کے 1 اردو گیت
| 1 | اری او لیلیٰ کی خالہ ، میرا نکل گیا دیوالا ...(فلم ... نادرہ ... 1967) |
مسعودرانا اور زلفی کے 7 پنجابی گیت
| 1 | جوڑ پے گیا ، دھنے دی پتنگ دا تے منہے دی پتنگ دا ...(فلم ... گوانڈی ... 1966) |
| 2 | نی آوارہ تے نئیں میں ، کرماں مارا تے نئیں میں ...(فلم ... گوانڈی ... 1966) |
| 3 | وے تیری کلی جان ، میرے ست نے بھرا ، ٹیڈی ایتھوں پھٹ جا ...(فلم ... گونگا ... 1966) |
| 4 | سن ہاڑے باب لڈنا ، بکھیاں بے رزگاراں دے ...(فلم ... اکبرا ... 1967) |
| 5 | آ گئے ماں دے جنٹر مین ، گھر آیاں نوں چھتر پہن ...(فلم ... جناب عالی ... 1968) |
| 6 | تیرا مکھ جے نہ ویکھاں چین آندا نئیں ، میں وی ہور کسے نال دل لاندا نئیں ...(فلم ... شیراں دی جوڑی ... 1969) |
| 7 | جدروں توں آواں ، میں جدروں تے جاواں ، پنڈ دیاں کڑیاں تے مل لین راہواں ...(فلم ... شیراں دی جوڑی ... 1969) |
مسعودرانا اور زلفی کے 0سولو گیت
مسعودرانا اور زلفی کے 5دوگانے
| 1 | نی آوارہ تے نئیں میں ، کرماں مارا تے نئیں میں ...(فلم ... گوانڈی ... 1966) |
| 2 | وے تیری کلی جان ، میرے ست نے بھرا ، ٹیڈی ایتھوں پھٹ جا ...(فلم ... گونگا ... 1966) |
| 3 | اری او لیلیٰ کی خالہ ، میرا نکل گیا دیوالا ...(فلم ... نادرہ ... 1967) |
| 4 | آ گئے ماں دے جنٹر مین ، گھر آیاں نوں چھتر پہن ...(فلم ... جناب عالی ... 1968) |
| 5 | جدروں توں آواں ، میں جدروں تے جاواں ، پنڈ دیاں کڑیاں تے مل لین راہواں ...(فلم ... شیراں دی جوڑی ... 1969) |
مسعودرانا اور زلفی کے 3کورس گیت
| 1 | جوڑ پے گیا ، دھنے دی پتنگ دا تے منہے دی پتنگ دا ... (فلم ... گوانڈی ... 1966) |
| 2 | سن ہاڑے باب لڈنا ، بکھیاں بے رزگاراں دے ... (فلم ... اکبرا ... 1967) |
| 3 | تیرا مکھ جے نہ ویکھاں چین آندا نئیں ، میں وی ہور کسے نال دل لاندا نئیں ... (فلم ... شیراں دی جوڑی ... 1969) |
Masood Rana & Zulfi: Latest Online film
Masood Rana & Zulfi: Film posters
Masood Rana & Zulfi:
0 joint Online films
(0 Urdu and 0 Punjabi films)Masood Rana & Zulfi:
Total 54 joint films
(12 Urdu and 42 Punjabi films)| 1. | 1964: Mera Mahi(Punjabi) |
| 2. | 1964: Landa Bazar(Urdu) |
| 3. | 1965: Jhanjhar(Punjabi) |
| 4. | 1965: Soukan(Punjabi) |
| 5. | 1965: Pilpli Sahib(Punjabi) |
| 6. | 1965: Malangi(Punjabi) |
| 7. | 1965: Mann Mouji(Punjabi) |
| 8. | 1966: Govandhi(Punjabi) |
| 9. | 1966: Moajza(Urdu) |
| 10. | 1966: Watan Ka Sipahi(Urdu) |
| 11. | 1966: Chughalkhor(Punjabi) |
| 12. | 1966: Hamrahi(Urdu) |
| 13. | 1966: Bharia Mela(Punjabi) |
| 14. | 1966: Goonga(Punjabi) |
| 15. | 1967: Lal Bujhakkar(Punjabi) |
| 16. | 1967: Yaar Maar(Punjabi) |
| 17. | 1967: Nadira(Urdu) |
| 18. | 1967: Chann Ji(Punjabi) |
| 19. | 1967: Akbara(Punjabi) |
| 20. | 1967: Muqabla(Punjabi) |
| 21. | 1967: Mera Veer(Punjabi) |
| 22. | 1967: BeReham(Urdu) |
| 23. | 1967: Wohti(Punjabi) |
| 24. | 1967: Neeli Bar(Punjabi) |
| 25. | 1968: Pind Di Kurri(Punjabi) |
| 26. | 1968: Roti(Punjabi) |
| 27. | 1968: Shehanshah-e-Jahangir(Urdu) |
| 28. | 1968: Babul Da Vehra(Punjabi) |
| 29. | 1968: Janab-e-Aali(Punjabi) |
| 30. | 1968: Kurmai(Punjabi) |
| 31. | 1968: Sassi Punnu(Punjabi) |
| 32. | 1968: Commander(Urdu) |
| 33. | 1968: Javani Mastani(Punjabi) |
| 34. | 1968: Chalbaz(Punjabi) |
| 35. | 1968: Mela 2 Din Da(Punjabi) |
| 36. | 1968: Taj Mahal(Urdu) |
| 37. | 1969: Dillan day Souday(Punjabi) |
| 38. | 1969: Najo(Punjabi) |
| 39. | 1969: Langotia(Punjabi) |
| 40. | 1969: Dildar(Punjabi) |
| 41. | 1969: Sheran Di Jori(Punjabi) |
| 42. | 1969: Ishq Na Puchhay Zaat(Punjabi) |
| 43. | 1969: Tahadi Izzat Da Savaal A(Punjabi) |
| 44. | 1970: Mahallaydar(Punjabi) |
| 45. | 1970: Yeh Rastay Hayn Pyar Kay(Urdu) |
| 46. | 1970: Aansoo Ban Geye Moti(Urdu) |
| 47. | 1970: Laralappa(Punjabi) |
| 48. | 1970: Heer Ranjha(Punjabi) |
| 49. | 1971: Banda Bashar(Punjabi) |
| 50. | 1971: Jor Javana Da(Punjabi) |
| 51. | 1971: Uchi Haveli(Punjabi) |
| 52. | 1972: Sipah Salar(Urdu) |
| 53. | 1975: Pulekha(Punjabi) |
| 54. | Unreleased: Udeekan(Punjabi) |
Masood Rana & Zulfi: 7 songs
(1 Urdu and 6 Punjabi songs)
| 1. | Punjabi filmGovandhifrom Monday, 24 January 1966Singer(s): Masood Rana, Irene Parveen, Music: G.A. Chishti, Poet: Hazin Qadri, Actor(s): Zulfi, Tarana |
| 2. | Punjabi filmGoongafrom Friday, 24 June 1966Singer(s): Irene Parveen, Masood Rana, Music: Manzoor Ashraf, Poet: Khawaja Parvez, Actor(s): ?, Zulfi |
| 3. | Urdu filmNadirafrom Thursday, 12 January 1967Singer(s): Masood Rana, Mala, Music: Kemal Ahmad, Poet: Mushir Kazmi, Actor(s): Zulfi, Seema |
| 4. | Punjabi filmAkbarafrom Friday, 7 July 1967Singer(s): Masood Rana, Munawar Zarif, Imdad Hussain, Saleem Chodhary & Co., Music: Nazir Ali, Poet: Tanvir Naqvi, Actor(s): Munawar Zarif, Khalifa Nazir, Zulfi & Co. |
| 5. | Punjabi filmJanab-e-Aalifrom Friday, 1 March 1968Singer(s): Masood Rana, Ahmad Rushdi, Music: Safdar Hussain, Poet: Khawaja Parvez, Actor(s): Allauddin, Diljeet Mirza, Zulfi, Billu (Horse) |
| 6. | Punjabi filmSheran Di Jorifrom Friday, 1 August 1969Singer(s): Ahmad Rushdi, Masood Rana, Music: G.A. Chishti, Poet: Saeed Jafri, Actor(s): Rangeela, Zulfi |
| 7. | Punjabi filmSheran Di Jorifrom Friday, 1 August 1969Singer(s): Masood Rana, Hamid Ali Bela & Co., Music: G.A. Chishti, Poet: Saeed Jafri, Actor(s): Zulfi, Mazhar Shah & Co. |

Chheen Lay Azadi
(1947)

But Tarash
(1947)

Raja Gopichand
(1933)

Papi
(1943)

Pap Ki Nagri
(1939)

Daku Ki Larki
(1933)
Pakistan Film Magazine
Pakistan Film Magazine is the first and largest website of its kind, containing unique information, articles, facts and figures on Pakistani and pre-Partition films, artists and film songs.
It is continuously updated website since May 3, 2000.
is an individual effort to compile and preserve the Pakistan history online.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes and therefor,
I am not responsible for the content of any external site.
پاک میگزین" کا آغاز 1999ء میں ہوا جس کا بنیادی مقصد پاکستان کے بارے میں اہم معلومات اور تاریخی حقائق کو آن لائن محفوظ کرنا ہے۔
یہ تاریخ ساز ویب سائٹ، ایک انفرادی کاوش ہے جو 2002ء سے mazhar.dk کی صورت میں مختلف موضوعات پر معلومات کا ایک گلدستہ ثابت ہوئی تھی۔
اس دوران، 2011ء میں میڈیا کے لیے akhbarat.com اور 2016ء میں فلم کے لیے pakfilms.net کی الگ الگ ویب سائٹس بھی بنائی گئیں
لیکن 23 مارچ 2017ء کو انھیں موجودہ اور مستقل ڈومین pakmag.net میں ضم کیا گیا جس نے "پاک میگزین" کی شکل اختیار کر لی تھی۔














































































Javed
Roomana
Asim Bukhari
Bindia
Shah Nawaz Ghumman
Naseebo Lal
Tasadduq Hussain
Baray Ghulam Ali Khan
Nadra
Imrozia
Sumbal
Husna
Nasheela
Ali Baba
Atiya Sharf

