A Tribute To The Legendary Playback Singer Masood Rana

Masood Rana - مسعودرانا Masood Rana sang 1047 songs in 652 films

مسعودرانا اور زلفی

Film comedian Zulfi
زلفی
نے صرف سات سالہ فلمی کیرئیر میں
سو کے قریب فلموں میں کام کیا تھا
زلفی ، ساٹھ کے عشرہ کا ایک نامور مزاحیہ اداکار تھا۔ صرف سات آٹھ برسوں کے مختصر فلمی کیرئر میں سو کے قریب فلموں میں کام کرنا ، اس کی قابلیت اور مقبولیت کا منہ بولتا ثبوت تھا۔۔!

ایک دبلے پتلے اور نازک اندام اداکار زلفی کو پاکستان کی پہلی ڈائمنڈ جوبلی فلم زرقا (1969) کا مین کامیڈین ہونے کا ناقابل شکست اعزاز حاصل ہے۔ پہلی فلم حسن و عشق تھی جو 1962 میں ریلیز ہوئی تھی۔ فلمی کیرئیر کے عروج پر اچانک 1969ء میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہوا۔ آخری فلم گل بانو بتائی جاتی ہے جو ایک پشتو فلم تھی اور 1978ء میں ریلیز ہوئی تھی۔

زلفی کے ابتدائی دور میں مزاحیہ اداکاری میں نذر ، اے شاہ ، آصف جاہ اور دلجیت مرزا بام عروج پر تھے۔ اگلی پود میں رنگیلا ، منورظریف ، لہری ، نرالا اور خلیفہ نذیر کے ساتھ زلفی کا نام بھی فلموں کی ضرورت بن گیا تھا۔ زلفی کی ذاتی معلومات تو دستیاب نہیں لیکن اس کی فلمیں ایک کھلی کتاب کی طرح ہیں جن میں سے چند اوراق پلٹنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

Film comedian Zulfi
زلفی نے شروع میں بہت سی فلموں میں چھوٹے موٹے کردار ادا کیے تھے۔ فلم گوانڈی (1966) ایک سیاسی نوعیت کی فلم تھی جو پاک بھارت تعلقات پر بنائی گئی تھی۔ اس فلم میں بتایا گیا تھا کہ تقسیم سے قبل کیسے ایک ہی گاؤں کے رہنے والے ہندو اور مسلمان الگ الگ قومیں تھیں ، یعنی دو قومی نظریہ کا پرچار کیا گیا تھا۔ اس فلم میں طالش نے ایک مسلمان اور پھر پاکستانی اور اے شاہ شکارپوری نے ایک ہندو اور پھر بھارتی کے کردار کیے تھے۔ تقسیم سے قبل ان دونوں گروپوں پر ایک کورس گیت فلمایا گیا تھا "جوڑ پے گیا ، دھنے دی پتنگ دا تے منہے دی پتنگ دا۔۔" بظاہر یہ پتنگ بازی کا ایک عام سا مقابلہ ہوتا ہے لیکن اسے مذہبی رنگ دے دیا جاتا ہے اور بوکاٹا کے لیے اپنی اپنی مذہبی دعائیں بھی مانگی جاتی ہیں اور نوبت لڑائی مارکٹائی تک جا پہنچتی ہے جو فرقہ وارانہ فسادات کا بہانہ بن جاتا ہے۔ اس دلچسپ کورس گیت کی دھن بابا چشتی نے بنائی تھی اور بول حزیں قادری نے لکھے تھے۔ اسے احمدرشدی ، مسعودرانا اور ساتھیوں نے گایا تھا اور گانے والوں میں ایک زلفی بھی تھا۔

Tarana
اداکارہ ' ترانہ ' جو ' قومی ترانہ ' کہلائی
فلم گوانڈی (1966) ہی میں زلفی پر مسعودرانا کا ایک باقاعدہ مزاحیہ گیت فلمایا گیا تھا "نی آوارہ تے نئیں میں ، کرماں مارا تے نئیں میں۔۔" اس دوگانے میں دوسری آواز مزاحیہ گیتوں کی ملکہ آئرن پروین کی تھی۔ اس گیت میں زلفی کی ساتھی اداکارہ کا نام ترانہ تھا جو ایک ایرانی نژاد تھی۔ وہ چالیس سے زائد فلموں میں نظر آنے والی ایک بدنام زمانہ اداکارہ تھی جو عام طور پر ثانوی کرداروں میں بڑے بولڈ قسم کے رول کرتی تھی۔ دو فلموں ڈاکٹر شیطان (1969) اور جین بانڈ 008 آپریشن کراچی (1971) کی ہیروئن بھی تھی لیکن کامیاب نہیں ہوئی تھی۔ ترانہ کے بارے میں مشہور ہے کہ جنرل یحییٰ خان جیسے بدکردار حکمران کے دور میں ایوان صدر کو حرام کاری کا اڈہ بنا دیا گیا تھا اور اس ضمن میں کئی بڑے بڑے نام ، بدنام ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک مشہور نام اداکارہ ترانہ کا بھی تھا جس کے بارے میں ایک بڑا مشہور جملہ تاریخ میں ملتا ہے کہ جب وہ ، جنرل یحییٰ سے ملنے گئی تو صرف ' ترانہ ' تھی لیکن جب واپس آئی تو ' قومی ترانہ ' بن چکی تھی۔۔!

اسی سال کی فلم گونگا (1966) میں زلفی پرمسعودرانا کا ایک اور مزاحیہ گیت فلمایا گیا تھا جس میں وہ ایک دبلا پتلا اور کمزور عاشق ہے لیکن اس کی محبوبہ کے کچھ کم نہیں پورے سات بھائی ہیں اور سبھی ہٹے کٹے پہلوان۔ وہ آئرن پروین کی آواز میں زلفی کو بہت سمجھاتی ہے کہ "تیری کلی جان ، میرے ست نے بھرا ، ٹیڈی ایتھوں پھٹ جا۔۔" اس پر اسے جواب ملتا ہے کہ "عاشقاں نوں جتیاں دی نئیں پرواہ ، نی تو نہ گبھرا۔۔" مسعودرانا نے اس مزاحیہ گیت میں کیا غضب کے ایکسپریشنز دیے تھے ، صرف ایک جملے "نی تو نہ گبھرا۔۔" کو مختلف انداز میں گا کر ثابت کر دیا تھا پاکستانی فلموں نے ان سے بہتر آل راؤنڈ گلوکار کبھی نہیں دیکھا۔

فلم نادرہ (1967) میں بھی زلفی مین کامیڈین تھا اور اس کی جوڑی اداکارہ سیما کے ساتھ تھی۔ اس فلم میں بھی اس جوڑی پر ایک مزاحیہ گیت فلمایا گیا تھا "اری او لیلیٰ کی خالہ ، میرا نکل گیا دیوالہ۔۔" نامور موسیقار کمال احمد کی یہ پہلی فلم تھی اور یہ گیت انھوں نے مسعودرانا اور مالا سے گوایا تھا۔

1969ء کا سال زلفی کے انتقال اور انتہائی عروج کا سال تھا۔ گزشتہ تین برسوں میں اس کی ریلیز ہونے والی فلموں کی تعداد پچاس سے زائد تھی جبکہ اس کے انتقال کے بعد بھی دو درجن کے قریب فلمیں ریلیز ہوئی تھیں۔ فلم شیراں دی جوڑی (1969) آخری فلم تھی جس میں زلفی پر مسعودرانا کے دو گیت فلمائے گئے تھے۔ اس فلم میں رنگیلا پر لڑکیاں عاشق ہوتی ہیں لیکن نشئی زلفی سے دور بھاگتی ہیں۔ اس کیفیت میں ان دونوں پر ایک دلچسپ گیت فلمایا جاتا ہے جس میں رنگیلا ، احمدرشدی کی آواز میں اپنی مشکل بیان کرتا ہے کہ "کدروں توں آواں ، میں کدروں توں جاواں ، پنڈ دیاں کڑیاں تے مل لین راہواں۔۔" اس کے جواب میں زلفی ، مسعودرانا کی آواز میں یہ شکوہ کرتا ہوا سنائی دیتا ہے کہ "جدروں توں آواں ، میں جدروں توں جاواں ، پنڈ دیاں کڑیاں تے چھڈ جان راہواں۔۔ اسی فلم میں زلفی پر مسعودرانا کا ایک اور گیت فلمایا گیا تھا "تیرا مکھ جے نہ ویکھاں ، چین آندا نئیں۔۔" اس گیت میں چند بول حامدعلی بیلا کے بھی تھے جو فلم کا ٹائٹل رول کرنے والے اداکار مظہرشاہ پر فلمائے جاتے ہیں۔ یہ ایک اعلیٰ پائے کا گیت تھا۔

Dia Aur Toofan (1969)
1969ء میں زلفی نے فلم زرقا میں ایک شعبدہ باز کا رول کیا تھا۔ اس فلم نے پہلی بار کراچی میں سو ہفتے چلنے کا ریکارڈ قائم کیا تھا لیکن زلفی اپنی اس کامیابی کو دیکھنے سے محروم رہا تھا۔ اسی سال کی ایک یادگار فلم دلاں دے سودے میں وہ مرکزی مزاحیہ ادکار تھا اور پنجابی زبان کو بگاڑ کر بولنے کا ایک ایسا انداز متعارف کروایا تھا جس کی بہت سے لوگ نقل کرتے ہوئے نظر آئے۔ اسی سال کی بھٹی برادران کی شاہکار پنجابی فلم جند جان میں زلفی کی مزاحیہ اداکاری بڑے کمال کی تھی۔ اس فلم میں اس کا تکیہ کلام "واقفیت ودا کے وخت ای پا لیا۔۔" بڑا مقبول ہوا تھا۔ فلم دیا اور طوفان (1969) میں زلفی ، اپنے ہم عصر تین بڑے مزاحیہ ادکاروں یعنی رنگیلا ، منورظریف اور خلیفہ نذیر کے ساتھ اہم کردار میں تھا اور شاید یہ واحد فلم تھی جس کے پوسٹر پر اس کی تصویر بھی تھی۔ فلم محرم دل دا (1970) میں زلفی کو فلم کے "ہیرو" مظہرشاہ کے سٹائل کو دیکھ کر یہ طعنہ دینا پڑا کہ "تمہیں تو ہیرو بننا نہ آیا۔۔" مجھے خود یہ دیکھ کر بڑا صدمہ پہنچا تھا کہ اس فلم میں مظہرشاہ ، رانی کے ہیرو تھے۔ فلم محلے دار (1970) واحد فلم تھی جس میں زلفی کو ہیرو ٹائپ رول ملا تھا اور جوڑی اداکارہ سیما کے ساتھ تھی۔ اس فلم میں مسعودرانا کا یہ گیت بڑا سبق آموز تھا "بے ادب نے جہیڑے ماواں دے ، او کدی نہ چڑھن جوانی۔۔" فلم ہیررانجھا (1970) میں بھی زلفی کا منورظریف کی شادی کے موقع پر مشروب پیش کرنے کا ایک مختصر رول بھی تھا۔ زلفی کی زندگی کا آخری سین فلم پردیس (1972) میں فلمایا گیا تھا۔ اس میں زلفی اور رنگیلا پر احمدرشدی اور رجب علی کا ایک گیت فلمایا گیا تھا "ہیلو ہیلو ، چاچاچا ، ایک شلنگو دیتا جا۔۔" فلمساز اور اداکار حبیب کی اردو فلم پردیس (1972) کے لیے لندن جانے والے جواں سال اداکار زلفی کا اچانک انتقال 11 ستمبر 1969ء کو ہو گیا تھا۔.!

مسعودرانا اور زلفی کے 8 فلمی گیت

(1 اردو گیت ... 7 پنجابی گیت )
1
فلم ... گوانڈی ... پنجابی ... (1966) ... گلوکار: احمد رشدی ، مسعود رانا مع ساتھی ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: حزیں قادری ... اداکار: زلفی ، طالش ، اے شاہ مع ساتھی
2
فلم ... گوانڈی ... پنجابی ... (1966) ... گلوکار: مسعود رانا ، آئرن پروین ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: حزیں قادری ... اداکار: زلفی ، ترانہ
3
فلم ... گونگا ... پنجابی ... (1966) ... گلوکار: آئرن پروین ، مسعود رانا ... موسیقی: منظور اشرف ... شاعر: خواجہ پرویز ... اداکار: ؟ ، زلفی
4
فلم ... نادرہ ... اردو ... (1967) ... گلوکار: مسعود رانا ، مالا ... موسیقی: کمال احمد ... شاعر: مشیر کاظمی ... اداکار: زلفی ، سیما
5
فلم ... اکبرا ... پنجابی ... (1967) ... گلوکار: مسعود رانا ، منور ظریف ، امداد حسین ، سلیم چودھری مع ساتھی ... موسیقی: نذیر علی ... شاعر: تنویر نقوی ... اداکار: منور ظریف ، خلیفہ نذیر ، زلفی مع ساتھی
6
فلم ... جناب عالی ... پنجابی ... (1968) ... گلوکار: مسعود رانا ، احمد رشدی ... موسیقی: صفدر حسین ... شاعر: خواجہ پرویز ... اداکار: علاؤالدین ، ​​دلجیت مرزا ، زلفی ، بالو (گھوڑا)
7
فلم ... شیراں دی جوڑی ... پنجابی ... (1969) ... گلوکار: مسعود رانا ، حامدعلی بیلا مع ساتھی ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: سعید جعفری ... اداکار: زلفی ، مظہر شاہ مع ساتھی
8
فلم ... شیراں دی جوڑی ... پنجابی ... (1969) ... گلوکار: احمد رشدی ، مسعود رانا ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: سعید جعفری ... اداکار: رنگیلا ، زلفی

مسعودرانا اور زلفی کے 1 اردو گیت

1اری او لیلیٰ کی خالہ ، میرا نکل گیا دیوالا ... (فلم ... نادرہ ... 1967)

مسعودرانا اور زلفی کے 7 پنجابی گیت

1جوڑ پے گیا ، دھنے دی پتنگ دا تے منہے دی پتنگ دا ... (فلم ... گوانڈی ... 1966)
2نی آوارہ تے نئیں میں ، کرماں مارا تے نئیں میں ... (فلم ... گوانڈی ... 1966)
3وے تیری کلی جان ، میرے ست نے بھرا ، ٹیڈی ایتھوں پھٹ جا ... (فلم ... گونگا ... 1966)
4سن ہاڑے باب لڈنا ، بکھیاں بے رزگاراں دے ... (فلم ... اکبرا ... 1967)
5آ گئے ماں دے جنٹر مین ، گھر آیاں نوں چھتر پہن ... (فلم ... جناب عالی ... 1968)
6تیرا مکھ جے نہ ویکھاں چین آندا نئیں ، میں وی ہور کسے نال دل لاندا نئیں ... (فلم ... شیراں دی جوڑی ... 1969)
7جدروں توں آواں ، میں جدروں تے جاواں ، پنڈ دیاں کڑیاں تے مل لین راہواں ... (فلم ... شیراں دی جوڑی ... 1969)

مسعودرانا اور زلفی کے 0سولو گیت


مسعودرانا اور زلفی کے 5دوگانے

1نی آوارہ تے نئیں میں ، کرماں مارا تے نئیں میں ... (فلم ... گوانڈی ... 1966)
2وے تیری کلی جان ، میرے ست نے بھرا ، ٹیڈی ایتھوں پھٹ جا ... (فلم ... گونگا ... 1966)
3اری او لیلیٰ کی خالہ ، میرا نکل گیا دیوالا ... (فلم ... نادرہ ... 1967)
4آ گئے ماں دے جنٹر مین ، گھر آیاں نوں چھتر پہن ... (فلم ... جناب عالی ... 1968)
5جدروں توں آواں ، میں جدروں تے جاواں ، پنڈ دیاں کڑیاں تے مل لین راہواں ... (فلم ... شیراں دی جوڑی ... 1969)

مسعودرانا اور زلفی کے 3کورس گیت

1جوڑ پے گیا ، دھنے دی پتنگ دا تے منہے دی پتنگ دا ... (فلم ... گوانڈی ... 1966)
2سن ہاڑے باب لڈنا ، بکھیاں بے رزگاراں دے ... (فلم ... اکبرا ... 1967)
3تیرا مکھ جے نہ ویکھاں چین آندا نئیں ، میں وی ہور کسے نال دل لاندا نئیں ... (فلم ... شیراں دی جوڑی ... 1969)


Masood Rana & Zulfi: Latest Online film

Tahadi Izzat Da Sawal A

(Punjabi - Black & White - Thursday, 11 December 1969)


Masood Rana & Zulfi: Film posters
Mera MahiLanda BazarSoukanPilpli SahibMann MoujiMalangiGowandhiMoajzaWatan Ka SipahiChughalkhorHamrahiBharia MelaGoongaLal BujhakkarYaar MaarNadiraChann JiAkbaraMuqablaMera VeerBeRehamWohtiNeeli BarPind Di KurriRotiShehanshah-e-JahangirJanab-e-AaliSassi PunnuJawani MastaniMela 2 Din DaTaj MahalDillan day SoudayNajoDildarSheran Di JoriIshq Na Puchhay ZaatTahadi Izzat Da Sawal AMahallaydarYeh Rastay Hayn Pyar KayAansoo Ban Geye MotiHeer RanjhaBanda BasharUchi HaveliSipah Salar
Masood Rana & Zulfi:

20 joint Online films

(3 Urdu and 17 Punjabi films)

1.1965: Pilpli Sahib
(Punjabi)
2.1965: Mann Mouji
(Punjabi)
3.1965: Malangi
(Punjabi)
4.1966: Chughalkhor
(Punjabi)
5.1966: Hamrahi
(Urdu)
6.1966: Bharia Mela
(Punjabi)
7.1967: Yaar Maar
(Punjabi)
8.1967: Muqabla
(Punjabi)
9.1968: Pind Di Kurri
(Punjabi)
10.1968: Roti
(Punjabi)
11.1968: Shehanshah-e-Jahangir
(Urdu)
12.1968: Babul Da Wehra
(Punjabi)
13.1968: Kurmai
(Punjabi)
14.1968: Sassi Punnu
(Punjabi)
15.1968: Mela 2 Din Da
(Punjabi)
16.1969: Langotia
(Punjabi)
17.1969: Ishq Na Puchhay Zaat
(Punjabi)
18.1969: Tahadi Izzat Da Sawal A
(Punjabi)
19.1970: Aansoo Ban Geye Moti
(Urdu)
20.1970: Heer Ranjha
(Punjabi)
Masood Rana & Zulfi:

Total 51 joint films

(12 Urdu and 39 Punjabi films)

1.1964: Mera Mahi
(Punjabi)
2.1964: Landa Bazar
(Urdu)
3.1965: Jhanjhar
(Punjabi)
4.1965: Soukan
(Punjabi)
5.1965: Pilpli Sahib
(Punjabi)
6.1965: Mann Mouji
(Punjabi)
7.1965: Malangi
(Punjabi)
8.1966: Gowandhi
(Punjabi)
9.1966: Moajza
(Urdu)
10.1966: Watan Ka Sipahi
(Urdu)
11.1966: Chughalkhor
(Punjabi)
12.1966: Hamrahi
(Urdu)
13.1966: Bharia Mela
(Punjabi)
14.1966: Goonga
(Punjabi)
15.1967: Lal Bujhakkar
(Punjabi)
16.1967: Yaar Maar
(Punjabi)
17.1967: Nadira
(Urdu)
18.1967: Chann Ji
(Punjabi)
19.1967: Akbara
(Punjabi)
20.1967: Muqabla
(Punjabi)
21.1967: Mera Veer
(Punjabi)
22.1967: BeReham
(Urdu)
23.1967: Wohti
(Punjabi)
24.1967: Neeli Bar
(Punjabi)
25.1968: Pind Di Kurri
(Punjabi)
26.1968: Roti
(Punjabi)
27.1968: Shehanshah-e-Jahangir
(Urdu)
28.1968: Babul Da Wehra
(Punjabi)
29.1968: Janab-e-Aali
(Punjabi)
30.1968: Kurmai
(Punjabi)
31.1968: Sassi Punnu
(Punjabi)
32.1968: Commander
(Urdu)
33.1968: Jawani Mastani
(Punjabi)
34.1968: Mela 2 Din Da
(Punjabi)
35.1968: Taj Mahal
(Urdu)
36.1969: Dillan day Souday
(Punjabi)
37.1969: Najo
(Punjabi)
38.1969: Langotia
(Punjabi)
39.1969: Dildar
(Punjabi)
40.1969: Sheran Di Jori
(Punjabi)
41.1969: Ishq Na Puchhay Zaat
(Punjabi)
42.1969: Tahadi Izzat Da Sawal A
(Punjabi)
43.1970: Mahallaydar
(Punjabi)
44.1970: Yeh Rastay Hayn Pyar Kay
(Urdu)
45.1970: Aansoo Ban Geye Moti
(Urdu)
46.1970: Laralappa
(Punjabi)
47.1970: Heer Ranjha
(Punjabi)
48.1971: Banda Bashar
(Punjabi)
49.1971: Uchi Haveli
(Punjabi)
50.1972: Sipah Salar
(Urdu)
51.Unreleased: Udeekan
(Punjabi)


Masood Rana & Zulfi: 7 songs

(1 Urdu and 6 Punjabi songs)

1.
Punjabi film
Gowandhi
from Monday, 24 January 1966
Singer(s): Masood Rana, Irene Parveen, Music: G.A. Chishti, Poet: Hazin Qadri, Actor(s): Zulfi, Tarana
2.
Punjabi film
Goonga
from Friday, 24 June 1966
Singer(s): Irene Parveen, Masood Rana, Music: Manzoor Ashraf, Poet: Khawaja Parvez, Actor(s): ?, Zulfi
3.
Urdu film
Nadira
from Thursday, 12 January 1967
Singer(s): Masood Rana, Mala, Music: Kemal Ahmad, Poet: Mushir Kazmi, Actor(s): Zulfi, Seema
4.
Punjabi film
Akbara
from Friday, 7 July 1967
Singer(s): Masood Rana, Munawar Zarif, Imdad Hussain, Saleem Chodhary & Co., Music: Nazir Ali, Poet: Tanvir Naqvi, Actor(s): Munawar Zarif, Khalifa Nazir, Zulfi & Co.
5.
Punjabi film
Janab-e-Aali
from Friday, 1 March 1968
Singer(s): Masood Rana, Ahmad Rushdi, Music: Safdar Hussain, Poet: Khawaja Parvez, Actor(s): Allauddin, Diljeet Mirza, Zulfi, Billu (Horse)
6.
Punjabi film
Sheran Di Jori
from Friday, 1 August 1969
Singer(s): Ahmad Rushdi, Masood Rana, Music: G.A. Chishti, Poet: Saeed Jafri, Actor(s): Rangeela, Zulfi
7.
Punjabi film
Sheran Di Jori
from Friday, 1 August 1969
Singer(s): Masood Rana, Hamid Ali Bela & Co., Music: G.A. Chishti, Poet: Saeed Jafri, Actor(s): Zulfi, Mazhar Shah & Co.


پاکستان فلم میگزین ۔۔۔ سنہری فلمی یادوں کا امین

پاکستان فلم میگزین ، پاکستانی فلموں ، فلمی گیتوں اور فلمی فنکاروں پر اولین ، منفرد اور ایک بے مثل معلوماتی اور تفریحی ویب سائٹ ہے جو 3 مئی 2000ء سے مسلسل اپ ڈیٹ ہورہی ہے۔ یہ ایک انفرادی کاوش ہے جو فارغ اوقات کا ایک بہترین مشغلہ بھی ہے۔ یہ تاریخ ساز ویب سائٹ کبھی نہ بن پاتی ، اگر پاکستانی فلموں میں میرے آئیڈیل گلوکار جناب مسعودرانا صاحب کے گیت نہ ہوتے۔ اس عظیم گلوکار کو ایک منفرد خراج تحسین پیش کرنے کے لئے اس کے گائے ہوئے ایک ہزار سے زائد گیتوں کا پہلا اردو ڈیٹابیس بنایا گیا ہے جس میں ریکارڈ محفوظ رکھنے کے علاوہ دیگر ساتھی فنکاروں پر تفصیلی مضامین بھی شائع کئے جارہے ہیں۔

تازہ ترین اپ ڈیٹس




Pakistan Film Magazine

The first and largest website on Pakistani films, music and artists with chronological film history since 1913, useful information's, facts & figures, milestones, filmo- & songographies, images, videos and Urdu/Punjabi articles on various film topics.



Sazish
Sazish
(1963)
Sheru
Sheru
(1973)
Kharidar
Kharidar
(1976)
Barkha
Barkha
(1953)



Artists database

Useful information's with detailed film records, milestones, videos, images etc..


Click on any category from the menu below and read more information's..