A Tribute To The Legendary Playback Singer Masood Rana

Masood Rana - مسعودرانا Masood Rana sang 1047 songs in 652 films

1995

مسعودرانا کی یاد میں

Masood Rana
مسعودرانا
کے پاکستانی فلموں میں گیت نہ ہوتے تو
پاکستان فلم میگزین جیسی تاریخی ویب سائٹ
کبھی نہ بن پاتی۔۔!

4 اکتوبر 1995ء کو ریڈیو پاکستان کی عالمی سروس سے عظیم گلوکار مسعودرانا کے انتقال کی افسوسناک خبر سنی تھی۔ ایک میوزک پروگرام میں شرکت کے لئے لاہور سے صادق آباد جاتے ہوئے راستے میں ٹرین میں دل کا دورہ پڑنے سے ان کی روح ، جسد خاکی سے پرواز کر گئی تھی۔ عمر صرف 54 سال تھی۔ بلا شبہ ، موت برحق ہے ، ہر کسی نے اس دارفانی سے کوچ کرنا ہے لیکن اچانک موت کا صدمہ بہت ہوتا ہے۔ میرا دکھ اس لئے بھی زیادہ تھا کہ مسعودرانا ، میرے پسندیدہ ترین گلوکار تھے۔ ان کے فن اور دیگر فلمی گیتوں پرتحقیق جاری تھی اور ان سے ملنے اور ان کے بارے میں جاننے کی بڑی خواہش تھی۔ ہماری ٹیلی فون پر بات ہوچکی تھی اور چند ماہ تک ملاقات کا پروگرام بھی تھا جو ان کی اچانک موت کی وجہ سے ممکن نہ ہو سکا تھا اور بڑی سخت مایوسی ہوئی تھی۔

Masood Rana died on October 4, 1995
4 اکتوبر 1995ء کو مسعودرانا کے انتقال پر میری ذاتی ڈائری کا ایک ورق

بچپن میں سنا ہوا پہلا پہلا فلمی گیت جو یاد پڑتا ہے ، وہ فلم کون کسی کا (1966) میں مسعودرانا کا گایا ہوا تھا "دے گا نہ کوئی سہارا ، ان بے درد فضاؤں میں ، سو جا غم کی چھاؤں میں۔۔" ہوش سنبھالا تو اپنے اردگرد کے ماحول میں ریڈیو پر جس گلوکار کو سب سے زیادہ سنا ، وہ بھی مسعودرانا ہی تھے۔ ہمارے ہاں روایتی قسم کے عشق و محبت والے گیتوں کو بے ہودگی اور بے حیائی میں شمار کیا جاتا تھا اور ان کے برعکس انسانی رشتے ناطوں اور سماجی ومعاشرتی موضوعات پر گائے گئے بامقصد گیتوں کو بہت پسند کیا جاتا تھا۔ مسعودرانا کو اپنی دلکش ، پرسوز، پراثر اور باوقار مردانہ آواز کی وجہ سے ایسے گیتوں پر ہمیشہ اجارہ داری حاصل ہوتی تھی اور یہی وجہ تھی کہ ان سے زیادہ تعریف کبھی کسی گلوکار کی نہیں سنی تھی۔ گو اپنے پچپن میں عنایت حسین بھٹی اور نوجوانی میں مہدی حسن کے رومانٹک گیت اور احمدرشدی کے مزاحیہ گیت بڑے پسند ہوتے تھے لیکن 80کے عشرہ میں جب پاکستانی فلمی گیتوں پر تحقیق کی تو مسعودرانا سے بہتر آل راؤنڈ فلمی گلوکار کسی کو نہیں پایا۔ دیگر گلوکار مخصوص اور محدود صلاحیتوں کے مالک ہوتے تھے لیکن مسعودرانا ، لامحدود صلاحیتوں کے مالک تھے اور فلم کے سب سے مکمل ، آئیڈیل اور آل راؤنڈ گلوکار تھے۔ پاکستانی فلمی تاریخ کے سنہرے دور میں کہا جاتا تھا کہ برصغیر کی فلمی گائیکی میں دو ہی گلوکار ہیں ، ہندوستان میں محمدرفیع اور پاکستان میں مسعودرانا ، اور یہ بات سو فیصدی درست تھی۔

Masood Rana
مسعودرانا
پاکستانی فلمی تاریخ کے واحد گلوکار تھے
جنھوں نے چھ سو زائد فلموں
کے لیے نغمہ سرائی کی تھی

مسعودرانا ، پاکستانی فلمی تاریخ کے واحد گلوکار تھے جنھوں نے چھ سو سے زائد فلموں کے لیے نغمہ سرائی کی تھی۔ انھیں یہ منفرد اعزاز بھی حاصل تھا کہ اپنی پہلی فلم انقلاب (1962) سے لے کر اپنے انتقال تک کی آخری فلم سناٹا (1995) تک کے 34 برسوں میں کبھی کوئی ایک سال بھی ایسا نہیں گزرا تھا کہ جب ان کی بطور گلوکار کوئی فلم ریلیز نہ ہوئی ہو۔ وہ اکلوتے گلوکار تھے جنھیں اردو اور پنجابی فلموں میں یکساں کامیابی حاصل ہوئی تھی اور ان کی بے مثل آل راؤنڈ کارکردگی کی وجہ سے انھیں 'پاکستانی رفیع' بھی کہا جاتا تھا لیکن اس کے باوجود ان کا شمار بھی انھی فنکاروں میں ہوتا تھا کہ جنھیں ہمارے قومی میڈیا میں شرمناک حد تک نظرانداز کیا گیا تھا۔ یہی تعصب اور تنگ نظری تھی جس نے مجھے ، مسعودراناکے بارے میں خاص طور پر اور دیگر فلموں اور فلمی گیتوں پر عام طور پر تحقیق کرنے کی ترغیب دی تھی اور نتیجہ اس عظیم الشان ویب سائٹ کی صورت میں سامنے آیا تھا۔

گزشتہ نصف صدی کے گنے چنے لمحات یاد ہیں جب مسعودراناکے بارے میں کچھ پڑھا ، سنا یا دیکھا تھا۔ 1973ء میں ان کی پہلی تصویر ایک فلمی رسالہ ویکلی مصور لاہور کے کسی شمارے میں دیکھی تھی جس میں وہ ، اداکار شاہد کے ساتھ بیٹھے چائے پی رہے تھے اور جو چادر انہوں نے اوڑھ رکھی تھی ، ویسی ہی چادر ، گلوکارہ افشاں نے بھی اوڑھ رکھی تھی جو ساتھ کی تصویر میں تھی۔ تصویر کا جو کیپشن تھا ، اس کی عبارت مجھے آج بھی یاد ہے "مسعودرانا ، افشاں کا چادر بدل بھائی ، ریکارڈنگ نہ بھی ہو تو سٹوڈیو آنا جانا لگا رہتا ہے۔ اس تصویر میں شاہد کے ساتھ ایک فلم کے سیٹ پر چائے پی رہے ہیں۔۔" مجھے یاد ہے کہ مسعودرانا کی تصویر دیکھ کر بڑی مایوسی ہوئی تھی کہ ایسی سیاہ رنگت ، موٹا ناک اور چنی آنکھیں۔۔؟ آواز سے تو وہ کسی افسانوی شہزادے سے کم نہیں لگتے تھے اور پھر شاہد جیسے خوبرو ہیرو کے ساتھ بیٹھ کر تو فرق زیادہ ہی محسوس ہو رہا تھا۔ یہ اور بات ہے کہ وہ دو فلموں میں ہیرو بھی آئے تھے۔ دوسری بار بھی میں نے رانا صاحب کی تصویر مصور ہی میں دیکھی تھی جب انہیں فلم دل لگی (1974) کے گیتوں پر مصور ایوارڈ ملا تھا۔ مسعودرانا کا واحد مختصر ریڈیو انٹرویو "رنگ ہی رنگ ، مسٹر جیدی کے سنگ" نامی ریڈیو کمرشل میں سنا تھا۔ ٹی وی پر بھی ان کا ایک پروگرام دیکھا تھا جس میں وہ اپنے مشہور زمانہ گیتوں کو مختلف مقامات پر جا کر گاتے ہیں۔ 1985ء میں روزنامہ جنگ میں ان کا ایک انٹرویو شائع ہوا تھا جو زیادہ تر ان کے دورہ امریکہ کے بارے میں تھا۔ مسعودرانا کے بارے میں پہلا تفصیلی مضمون ان کے انتقال کے بعد ویکلی نگار میں پڑھا تھا۔

Masood Rana
مسعودرانا کو جو منفرد خراج تحسین پیش کیا جارہا ہے
وہ شاید ہی کبھی کسی فنکار کو پیش کیا گیا ہوگا۔۔!

مسعودرانا کے بارے میں جاننے کا تجسس اور جستجو ہی تھی کہ 25 جون 1993ء کو انھیں ، اپنی زندگی کا واحد "فین لیٹر یا عقیدت نامہ" لکھا تھا جس کا عکس اس مضمون کے آخر میں ہے۔ میرے پاس ان کا پرائیویٹ ایڈریس نہیں تھا لیکن ایورنیو سٹوڈیو ، ملتان روڈ لاہور کے پتہ پر خط بھیج دیا تھا جس میں ان کے لئے اپنے دلی جذبات کا اظہار کیا تھا۔ دو ماہ بعد جواب ملا اور مسعودرانا نے دیگر باتوں کے علاوہ اپنا ذاتی پتہ اور ٹیلی فون نمبر بھی دیا تھا۔ یہ جان کر بڑا افسوس ہوا تھا کہ اتنا بڑا گلوکار اپنے گھر کا چولھا جلانے کے لئے ایک روزگار ایجنسی چلا رہا ہے۔ ان دنوں ایکشن سے بھر پور فلمیں بنتی تھیں جن میں مردانہ گیتوں کی گنجائش کم ہی ہوتی تھی۔ اگرچہ مسعودرانا کو اداکار شان کی رومانٹک فلموں میں بڑی تعداد میں گیت گانے کا موقع مل رہا تھا لیکن عروج کا جو دور 60 اور 70 کی دھائیوں میں دیکھ چکے تھے ، وہ ماضی کا قصہ بن چکا تھا۔ میرے دوسرے خط کا کوئی جواب نہیں ملا تھا جس میں ان کے فلمی کیرئر کے بارے میں ڈھیر سارے سوالات پوچھے تھے۔

17 دسمبر 1993ء کو میں نے پہلی اور آخری بار مسعودرانا سے ٹیلی فون پر بات کی تھی لیکن اس کا کوئی مثبت تاثر نہیں ملا تھا۔ میں انہیں ایک خالص پنجابی فنکار سمجھتا تھا لیکن انہوں نے میرے ساتھ ہندوستانیوں کی عوامی زبان میں بات کی تھی جس سے سخت کوفت اور اجنبیت محسوس ہورہی تھی۔ مجھے ان کے فنی کیرئر کے بارے میں جاننے کا شوق تھا لیکن انہیں اپنے بچوں کو یورپ سیٹ کروانے اور ڈنمارک میں اپنا میوزک شو کروانے میں زیادہ دلچسپی تھی۔ اس کے لئے انہوں نے اس مختصر گفتگو میں اپنے گروپ کی تفصیلات بھی نوٹ کروا دی تھیں کہ جن کے مطابق ان کے ساتھ گلوکارہ مہناز اور گلوکار منیر حسین کے علاوہ تین سازندے تھے اور کل معاوضہ اس وقت کا ایک لاکھ روپیہ مانگ رہے تھے۔ اگر میڈم نورجہاں کو ساتھ لاتے تو پھر کسی عالیشان ہوٹل میں ایک سوئٹ بھی لینا پڑتا اور اکیلے ایک لاکھ روپیہ معاوضہ ان کا بھی ہوتا۔ میرا زندگی بھر ایسے کاموں سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا ، یہاں تک کہ لائیو شو تک دیکھنا پسند نہیں کرتا۔ مسعودرانا سے براہ راست رابطہ کا واحدمقصد ان کے فن کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کرنا تھا لیکن انھیں غم دوراں کی فکر زیادہ تھی۔ اپنی اس اکلوتی ٹیلی فون گفتگو کا افسوس اس لئے نہیں ہوا تھا کہ اس سے قبل مہدی حسن اور مجیب عالم سے مل چکا تھا اور انہیں بھی بیشتر پاکستانیوں کی طرح شدید قسم کے مالی عدم استحکام اور احساس محرومی کا شکار پایا تھا۔ میں خود اسی دیس کا باسی تھا جہاں ہر دور میں عام آدمی ہی نہیں ، متوسط طبقہ کے نامور لوگوں کے لئے بھی سفید پوشی کا بھرم رکھنا خاصا مشکل رہا ہے ، اس لئے زمینی حقائق ، بنیادی انسانی ضروریات اور روزمرہ مشکلات سے بے خبر نہیں تھا۔

Masood Rana
مسعودرانا
اپنی ساری زندگی میں لاہور میں
اپنا مکان تک نہیں بنا سکے تھے

اس واقعہ کے بعد میں نے مسعودرانا سے کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں کیا تھا۔ اس دوران 4 اکتوبر 1995ء کو ان کا انتقال ہو گیا تھا۔ چھ ماہ بعد مارچ 1996ء میں ، عرصہ چودہ سال بعد اپنے وطن جانے کا موقع ملا تھا۔ واپسی پر آخری دنوں میں لاہور کے اقبال ٹاؤن میں مسعودرانا کے گھر گیا تھا جہاں ان کے بیٹے اور بیگم سے ملاقات ہوئی تھی۔ مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کی تھی۔ ان کی بیگم نے مجھے تحفہ کے طور پر وہ یادگار تصویر دی تھی جس میں مسعودرانا ، ملکہ ترنم نورجہاں اور لتا منگیشکر کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ان کی وہ ڈائری بھی یاد ہے کہ جس میں انہوں نے بڑے طریقے اور سلیقے سے اپنے گائے ہوئے گیت لکھے ہوئے تھے۔ مثلاً فلم بے ایمان (1973) کے گیت "اللہ کے نام پہ جھولی بھر دے۔۔" کے صفحہ پر انہوں نے بڑی ترتیب سے لکھا تھا کہ کون سے بول وہ گائیں گے اور کون کون سے بول احمد رشدی اور روشن گائیں گے۔ ایک صفحہ پر رانا صاحب کا نام بڑا خوشخط لکھا ہوا تھا جو پتہ چلا کہ گلوکار شوکت علی نے لکھا تھا جن کا ان کے ہاں اکثر آنا جانا ہوتا تھا۔ اپنے اس یادگار دورہ پاکستان کی تقریباً اٹھارہ گھنٹے کی ویڈیو ریکارڈنگ کی تھی جس میں سے کچھ ان کے گھر کی بھی تھی۔ مسعودرانا ، 6 اگست 1941ء کو میرپور خاص ، سندھ میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے آباؤ اجداد ، جالندھر کے ایک متمول پنجابی زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے لیکن وہ اپنی ساری زندگی ، لاہور میں اپنا ذاتی مکان تک نہیں بنا سکے تھے اور کرائے کی ایک کوٹھی میں رہتے تھے۔

The Grave of Masood Rana
مسعودرانا
کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ
انھوں نے اپنی پہلی فلم سے اپنے انتقال تک
مسلسل 34 برسوں تک
فلموں کے لیے گلوکاری کی تھی

مسعودرانا سے میری دلچسپی صرف ان کے فن تک محدود تھی ، ان کی ذات یا خاندان سےکوئی تعلق نہیں تھا اور نہ اس کا کوئی جواز بنتا تھا۔ میرے خلوص کی انتہا تھی جب 2004ء میں حج بیت اللہ کی سعادت نصیب ہوئی تو حرمین شریفین میں ایک ماہ کے قیام کے دوران اپنے خاندان کے تمام مرحومین کی روحوں کے ایصال ثواب کے لئے ایک ایک عمرہ کیا تھا۔ دو ہستیاں ایسی تھیں کہ جن کا میرے خاندان سے کوئی تعلق نہیں تھا لیکن انہیں بھی بطور خاص عمروں کا ثواب پہنچایا تھا۔ ان میں پہلی عظیم المرتبت ہستی قائد عوام جناب ذوالفقار علی بھٹو شہیدؒ کی تھی جبکہ دوسری شخصیت اپنے آئیڈیل گلوکار جناب مسعودرانا صاحب کی تھی۔ یقیناً ، اس سے بڑا خراج تحسین تو ہو ہی نہیں سکتا تھا۔۔!

یہ مسعودرانا ہی تھے کہ جن کی وجہ سے مجھے پاکستانی فلمی گیتوں پر تحقیق کا شوق پیدا ہوا تھا۔ یہ 80 کے عشرہ کی بات ہے جب ہماری فلموں میں مردانہ گیتوں کی تعداد انتہائی کم ہو چکی تھی اور زنانہ گیتوں سے میری دلچسپی بڑی محدود ہوتی تھی۔ اس دور میں وی سی آر پر فلموں کی فراوانی ہوتی تھی۔ میرے پاس فلمیں اور گیت ریکارڈ کرنے کی سہولت موجود تھی اور بہت زیادہ مواد اکٹھا کر لیا تھا۔ ابتداء میں اپنی ڈائریوں پر مردانہ فلمی گیتوں کی فہرستیں مرتب کیا کرتا تھا۔ 1985ء میں پہلی بار کمپیوٹر پر مسعودرانا کے گیتوں کی رومن اردو میں ایک ڈیجیٹل لسٹ بنائی تھی۔ جون 1999ء میں اپنی ویب سائٹ بنائی تو لنکس کے ساتھ جو واحد فائل اٹیچ کی تھی ، وہ مسعودرانا کے فلمی گیتوں کی ایکسیل فائل تھی۔ 3 مئی 2000ء کو پاکستان فلم میگزین کا آغاز کیا تو جو پہلی فلمی معلومات تھیں ، وہ بھی مسعودرانا کے گائے ہوئے گیتوں کے بارے میں تھیں۔ 2012ء میں ڈیٹا بیس پر ویب سائٹ بنانا شروع کی تو دیگر صفحات کی طرح تمام گیتوں کی فہرستوں کو اپ ڈیٹ کرنا اور مصدقہ ریکارڈز مرتب کرنا بہت آسان ہو گیا تھا۔ 2020ء میں مسعودرانا کی پچیسویں برسی پر ایک منفرد خراج تحسین پیش کرنے کے لئے ان کے گیتوں کا اولین اردو ڈیٹا بیس بنانے میں بھی کامیابی ہوئی جس سے مختلف النوع اعدادوشمار اور فہرستیں بنانا ممکن ہوا۔ مسعودرانا ہی کی وجہ سے دیگر فنکاروں کے بارے میں بھی اردو میں معلوماتی مضامین کا ایک طویل سلسلہ جاری ہے جو ان شاء اللہ ، مکمل کرنے کی پوری کوشش کی جائی گی۔

مسعودرانا کو جو بے مثل خراج تحسین پیش کیا جارہا ہے ، شاید ہی کبھی کسی فنکار کو پیش کیا گیا ہو گا۔ وہ بجا طور پر اس اعزاز کے مستحق تھے اور یقیناً بڑے خوش قسمت فنکار تھے کہ جنھیں مجھ جیسا قدردان ملا۔۔!

A letter to Masood Rana
مسعودرانا کے نام ایک خط
A letter from Masood Rana
A letter from Masood Rana
مسعودرانا کا جوابی خط

1995 میں مسعودرانا کے 0 ساتھی فنکاروں پر تفصیلی مضامین



1995 میں مسعودرانا کے 1 فلموں میں 1 گیت

(0 اردو فلمیں ۔۔۔ 0 اردو گیت ۔۔۔ 1 پنجابی فلمیں ۔۔۔ 1 پنجابی گیت)
1
فلم ... سناٹا ... پنجابی ... (1995) ... گلوکار: مسعود رانا ، حمیرا چنا ... موسیقی: ایس اے خان ... شاعر: ؟ ... اداکار: جان ریمبو ، نرگس

1995 میں مسعودرانا کے 0 اردو گیت


1995 میں مسعودرانا کے 1 پنجابی گیت

1تیرے پیار مینوں کیتا مجبور، کڑئیے نی ، نئیوں زندگی چہ رہنا تیتھوں دور ، کڑئیے ... (فلم ... سناٹا ... 1995)

1995 میں مسعودرانا کے 0سولو گیت


1995 میں مسعودرانا کے 1دوگانے

1تیرے پیار مینوں کیتا مجبور، کڑئیے نی ، نئیوں زندگی چہ رہنا تیتھوں دور ، کڑئیے ... (فلم ... سناٹا ... 1995)

1995 میں مسعودرانا کے 0کورس گیت



Masood Rana: Latest Online film from 1995

Masood Rana: Film posters from 1995

Masood Rana:

0 Online films from 1995

(0 Urdu and 0 Punjabi films)

Masood Rana:

Total 1 released films in 1995

(0 Urdu, 1 Punjabi, 0 Pashto, 0 Sindhi films)

1.
13-10-1995:
Sanata
(Punjabi)


Masood Rana: 1 songs from 1 films in 1995

(0 Urdu songs from 0 Urdu films and 1 Punjabi songs from 1 Punjabi films)

1.
Punjabi film
Sanata
from Friday, 13 October 1995
Singer(s): Masood Rana, Humaira Channa, Music: S.A. Khan, Poet: ?, Actor(s): Jan Rambo, Nargis


پاکستان فلم میگزین ۔۔۔ سنہری فلمی یادوں کا امین

پاکستان فلم میگزین ، پاکستانی فلموں ، فلمی گیتوں اور فلمی فنکاروں پر اولین ، منفرد اور ایک بے مثل معلوماتی اور تفریحی ویب سائٹ ہے جو 3 مئی 2000ء سے مسلسل اپ ڈیٹ ہورہی ہے۔ یہ ایک انفرادی کاوش ہے جو فارغ اوقات کا ایک بہترین مشغلہ بھی ہے۔ یہ تاریخ ساز ویب سائٹ کبھی نہ بن پاتی ، اگر پاکستانی فلموں میں میرے آئیڈیل گلوکار جناب مسعودرانا صاحب کے گیت نہ ہوتے۔ اس عظیم گلوکار کو ایک منفرد خراج تحسین پیش کرنے کے لئے اس کے گائے ہوئے ایک ہزار سے زائد گیتوں کا پہلا اردو ڈیٹابیس بنایا گیا ہے جس میں ریکارڈ محفوظ رکھنے کے علاوہ دیگر ساتھی فنکاروں پر تفصیلی مضامین بھی شائع کئے جارہے ہیں۔

تازہ ترین اپ ڈیٹس




Pakistan Film Magazine

The first and largest website on Pakistani films, music and artists with chronological film history since 1913, useful information's, facts & figures, milestones, filmo- & songographies, images, videos and Urdu/Punjabi articles on various film topics.



Mundri
Mundri
(1949)



Artists database

Useful information's with detailed film records, milestones, videos, images etc..


Click on any category from the menu below and read more information's..