A Tribute To The Legendary Playback Singer Masood Rana

Masood Rana - مسعودرانا Masood Rana sang 1035 songs in 648 films

1995

مسعودرانا کا انتقال ہوا

Masood Rana
مسعودرانا کی 25ویں برسی پر جو خراج تحسین پیش کیا جارہا ہے
وہ شاید ہی کبھی کسی فنکار کو پیش کیا گیا ہوگا

25 سال قبل ، 4 اکتوبر 1995ء کو ریڈیو پاکستان کی عالمی سروس سے مسعودرانا کے انتقال کی افسوسناک خبر سنی تھی۔ ایک میوزک پروگرام میں شرکت کے لئے لاہور سے صادق آباد جاتے ہوئے راستے میں ٹرین میں دل کا دورہ پڑنے سے ان کی روح ، جسد خاکی سے پرواز کر گئی تھی۔ عمر صرف 54 سال تھی۔ بلا شبہ ، موت برحق ہے ، ہر کسی نے اس دارفانی سے کوچ کرنا ہے لیکن اچانک موت کا صدمہ بہت ہوتا ہے۔ میرا دکھ اس لئے بھی زیادہ تھا کہ مسعودرانا ، میرے پسندیدہ ترین گلوکار تھے۔ ان کے فن پر میری تحقیق جاری تھی اور ان سے ملنے اور ان کے بارے میں جاننے کی بڑی خواہش تھی۔ اسی سلسلے میں چند ماہ تک ان سے ملاقات کا پروگرام بھی تھا جو ان کی اچانک موت کی وجہ سے ممکن نہ ہو سکا تھا اور بڑی سخت مایوسی ہوئی تھی۔

Masood Rana died on October 4, 1995
4 اکتوبر 1995ء کو مسعودرانا کے انتقال پر میری ذاتی ڈائری کا ایک ورق
میں نے اپنی زندگی میں جو پہلا فلمی گیت سنا تھا وہ فلم کون کسی کا (1966) کا تھا "دے گا نہ کوئی سہارا۔۔" اس گیت میں نمایاں آواز مسعودرانا کی تھی۔ پھر جب ہوش سنبھالا تو ریڈیو پر اپنے اردگرد کے ماحول میں جس گلوکار کے گیت بڑے انہماک سے سنتے ہوئے دیکھا تھا ، وہ بھی مسعودرانا ہی تھے۔ ہمارے ہاں روایتی قسم کے عشق و محبت والے گیتوں کو بے ہودگی میں شمار کیا جاتا تھا اور ان کے مقابلے میں انسانی رشتوں ، ناطوں اور سماجی موضوعات پر گائے گئے بامقصد گیتوں کو بڑے ذوق و شوق سے سنا جاتا تھا۔ مسعودرانا کو ایسے گیتوں پر ہمیشہ اجارہ داری حاصل ہوتی تھی اور یہی وجہ تھی کہ میں نے ان سے زیادہ تعریف کبھی کسی کی نہیں سنی تھی۔ گو اپنے پچپن میں مجھے عنایت حسین بھٹی کے عوامی گیت بڑے پسند تھے ، نوجوانی میں مہدی حسن کے رومانٹک گیت بہت اپیل کرتے تھے لیکن جب اسی کے عشرہ میں پاکستانی فلمی گیتوں پر تحقیق کی تو مسعودرانا سے بہتر آل راؤنڈ گلوکار کسی کو نہیں پایا۔ گو برصغیر میں ہر دور میں بڑے اعلیٰ پائے کے گانے والے رہے ہیں لیکن ہر کوئی اپنے اپنے انداز کا گلوکار ہوتا تھا۔ فلمی گائیکی میں گیت فلمی صورتحال کے لئے گائے جاتے تھے اور یہ کمال ہر گلوکار کو حاصل نہیں ہوتا تھا۔ زیادہ تر گلوکار مخصوص اور محدود صلاحیتوں کے مالک ہوتے تھے لیکن مسعودرانا ، لامحدود صلاحیتوں کے مالک تھے جو فلم کے سب سے آئیڈیل گلوکار تھے۔

ہمارے میڈیا میں عام طور پر چند مخصوص فنکاروں کا ذکر ہی ملتا ہے۔ ذاتی ، گروہی ، علاقائی اور لسانی تعصبات صاف نظر آتے ہیں اور پسند نا پسند ہر جگہ چلتی ہے۔ یہاں تک کہ اپنے من پسند مرحوم فنکاروں کی نہ صرف باقاعدگی سے برسیاں منائی جاتی ہیں بلکہ ان کی سالگرائیں منانے کا مضحکہ خیز چلن بھی عام ہے ، حالانکہ سالگرہ ، صرف زندوں کی ہوسکتی ہے اور برسی مرُدوں کی۔ یہ بھی ایک اٹل حقیقت ہے کہ کوئی بھی انسان ، تعصبات سے پاک نہیں ہے اور ایسا پوری دنیا میں ہمیشہ سے ہوتا رہا ہے ، اب بھی ہوتا ہے اور آئیندہ بھی ہوتا رہے گا۔ یہی وجہ ہے کہ میں ، معلومات کے حصول اور حقائق کی تلاش میں کبھی ملکی یا عالمی میڈیا سے متاثر نہیں ہوا اور نہ ہی کبھی کسی پر اندھا دھند اعتماد کیا ہے۔ مجھے ہمیشہ سے اپنے ذہن سے سوچنے اور پرکھنے کی عادت رہی ہے اور معاملات کی تہہ تک پہنچنے کا شوق رہا ہے۔ ایسے بہت سے زمینی حقائق ہوتے ہیں کہ جو عام لوگوں کے لئے ہضم کرنا مشکل ہوتے ہیں کیونکہ ان کے پاس تحقیق کا وقت نہیں ہوتا اور وہ سنی سنائی اور لکھی ہوئی باتوں کو سچ مان لیتے ہیں۔

Masood Rana
مسعودرانا کا شمار بھی انہیں فنکاروں میں ہوتا تھا کہ جن کے بارے شاذ و نادر ہی کچھ پڑھنے کو ملتا تھا۔ مجھے وہ گنے چنے لمحات یاد ہیں جب پاکستانی میڈیا میں ان کے بارے میں کچھ پڑھا ، سنا یا دیکھا تھا۔ 1973ء میں گیارہ سال کی عمر میں ان کی جو پہلی تصویر دیکھی تھی وہ ایک فلمی رسالہ ویکلی مصور لاہور کے کسی شمارے میں چھپی تھی جس میں وہ ، اداکار شاہد کے ساتھ بیٹھے چائے پی رہے تھے اور جو چادر انہوں نے اوڑھ رکھی تھی ، ویسی ہی چادر ، گلوکارہ افشاں نے بھی اوڑھ رکھی تھی جو ساتھ کی تصویر میں تھی۔ مسعودرانا کی تصویر کا جو کیپشن تھا ، اس کی عبارت مجھے آج بھی یاد ہے "مسعودرانا ، افشاں کا چادر بدل بھائی ، ریکارڈنگ نہ بھی ہو تو سٹوڈیو آنا جانا لگا رہتا ہے۔ اس تصویر میں شاہد کے ساتھ ایک فلم کے سیٹ پر چائے پی رہے ہیں۔۔" مجھے یاد ہے کہ مسعودرانا کی تصویر دیکھ کر بڑی مایوسی ہوئی تھی کہ ایسی سیاہ رنگت ، موٹا ناک اور چنی آنکھیں۔۔؟ آواز سے تو وہ کسی افسانوی شہزادے سے کم نہیں لگتے تھے اور پھر شاہد جیسے خوبرو ہیرو کے ساتھ بیٹھ کر تو فرق زیادہ ہی محسوس ہو رہا تھا۔ یہ اور بات ہے کہ وہ دو فلموں میں ہیرو بھی آئے تھے۔ دوسری بار بھی میں نے رانا صاحب کی تصویر مصور ہی میں دیکھی تھی جب انہیں فلم دل لگی (1974) کے گیتوں پر مصور ایوارڈ ملا تھا۔ مسعودرانا کا واحد مختصر ریڈیو انٹرویو "رنگ ہی رنگ ، مسٹر جیدی کے سنگ" نامی ریڈیو کمرشل میں سنا تھا۔ ٹی وی پر بھی ان کا ایک پروگرام دیکھا تھا جس میں وہ اپنے مشہور زمانہ گیتوں کو مختلف مقامات پر جا کر گاتے ہیں۔ 1985ء میں روزنامہ جنگ میں ان کا ایک انٹرویو شائع ہوا تھا جو زیادہ تر ان کے دورہ امریکہ کے بارے میں تھا۔ مسعودرانا کے بارے میں پہلا تفصیلی مضمون ان کے انتقال کے بعد ویکلی نگار کراچی میں پڑھا تھا۔

مسعودرانا کے بارے میں جاننے کا تجسس اور جستجو ہی تھی کہ 25 جون 1993ء کو میں نے براہ راست انہیں اپنی زندگی کا واحد "فین لیٹر یا عقیدت نامہ" لکھا تھا جس کا عکس اس مضمون کے آخر میں ہے۔ میرے پاس ان کا پرائیویٹ ایڈریس نہیں تھا لیکن ایورنیو سٹوڈیو ، ملتان روڈ لاہور کے پتہ پر خط بھیج دیا تھا جس میں ان کے لئے اپنے دلی جذبات کا اظہار کیا تھا۔ دو ماہ بعد جواب ملا اور مسعودرانا نے دیگر باتوں کے علاوہ اپنا ذاتی پتہ اور ٹیلی فون نمبر بھی دیا تھا۔ مجھے ، یہ جان کر بڑا افسوس ہوا تھا کہ اتنا بڑا گلوکار اپنے گھر کا چولہا جلانے کے لئے ایک روزگار ایجنسی چلا رہا ہے۔ ان دنوں ایکشن سے بھر پور فلمیں بنتی تھیں جن میں مردانہ گیتوں کی گنجائش کم ہی ہوتی تھی۔ اگرچہ مسعودرانا کو اداکار شان کی رومانٹک فلموں میں بڑی تعداد میں گیت گانے کا موقع مل رہا تھا لیکن عروج کا جو دور ساٹھ اور ستر کے عشروں میں دیکھ چکے تھے ، وہ ماضی کا قصہ بن چکا تھا۔

Masood Rana
17 دسمبر 1993ء کو میں نے پہلی اور آخری بار مسعودرانا سے ٹیلی فون پر بات کی تھی لیکن اس کا کوئی مثبت تاثر نہیں ملا تھا۔ میں انہیں خالص پنجابی فنکار سمجھتا تھا لیکن انہوں نے میرے ساتھ کراچی کے مہاجروں کی "عوامی اردو" میں بات کی تھی جس سے سخت کوفت اور اجنبیت ہورہی تھی۔ مجھے ان کے فنی کیرئر کے بارے میں جاننے کا شوق تھا لیکن انہیں اپنے بچوں کو یورپ سیٹ کروانے اور ڈنمارک میں اپنا میوزک شو کروانے میں زیادہ دلچسپی تھی۔ اس کے لئے انہوں نے مجھے اپنے گروپ کی تفصیلات بھی نوٹ کروا دی تھیں کہ جن کے مطابق ان کے ساتھ گلوکارہ مہناز اور گلوکار منیر حسین کے علاوہ تین سازندے تھے اور کل معاوضہ اس وقت کا ایک لاکھ روپیہ مانگ رہے تھے۔ اگر میڈم نورجہاں کو ساتھ لاتے تو پھر کسی عالیشان ہوٹل میں ایک سوئٹ بھی لینا پڑتا اور اکیلے ایک لاکھ روپیہ معاوضہ ان کا بھی ہوتا۔ میرا زندگی بھر ایسے کاموں سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا ، یہاں تک کہ لائیو شو تک دیکھنا پسند نہیں کرتا تھا۔ مسعودرانا سے اپنی اس اکلوتی ٹیلی فون گفتگو کا افسوس اس لئے نہیں ہوا تھا کہ اس سے قبل مہدی حسن اور مجیب عالم سے مل چکا تھا اور انہیں بھی بیشتر پاکستانیوں کی طرح شدید قسم کے مالی عدم استحکام اور احساس محرومی کا شکار پایا تھا۔ میں خود اسی دیس کا باسی تھا جہاں ہر دور میں عام آدمی ہی نہیں ، متوسط طبقہ کے نامور لوگوں کے لئے بھی سفید پوشی کا بھرم رکھنا خاصا مشکل رہا ہے ، اس لئے زمینی حقائق ، بنیادی انسانی ضروریات اور روزمرہ مشکلات سے بے خبر نہیں تھا۔

اس واقعہ کے بعد میں نے مسعودرانا سے کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں کیا تھا۔ اس دوران 4 اکتوبر 1995ء کو ان کا انتقال ہو گیا تھا۔ چھ ماہ بعد مارچ 1996ء میں ، عرصہ چودہ سال بعد اپنے وطن جانے کا موقع ملا تھا۔ واپسی پر آخری دنوں میں لاہور کے اقبال ٹاؤن میں مسعودرانا کے گھر گیا تھا جہاں ان کے بیٹے اور بیگم سے ملاقات ہوئی تھی۔ مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کی تھی۔ ان کی بیگم نے مجھے تحفہ کے طور پر وہ یادگار تصویر دی تھی جس میں مسعودرانا ، ملکہ ترنم نورجہاں اور لتا منگیشکر کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ان کی وہ ڈائری بھی یاد ہے کہ جس میں انہوں نے بڑے طریقے اور سلیقے سے اپنے گائے ہوئے گیت لکھے ہوئے تھے۔ مثلاً فلم بے ایمان (1973) کے گیت "اللہ کے نام پہ جھولی بھر دے۔۔" کے صفحہ پر انہوں نے بڑی ترتیب سے لکھا تھا کہ کون سے بول وہ گائیں گے اور کون کون سے بول احمد رشدی اور روشن گائیں گے۔ ایک صفحہ پر رانا صاحب کا نام بڑا خوشخط لکھا ہوا تھا جو پتہ چلا کہ گلوکار شوکت علی نے لکھا تھا جن کا ان کے ہاں اکثر آنا جانا ہوتا تھا۔ اپنے اس یادگار دورہ پاکستان کی تقریباً اٹھارہ گھنٹے کی ویڈیو ریکارڈنگ کی تھی جس میں سے کچھ ان کے گھر کی بھی تھی۔ مسعودرانا ، 6 اگست 1941ء کو میرپور خاص ، سندھ میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے آباؤ اجداد ، جالندھر کے ایک متمول پنجابی زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے لیکن وہ اپنی ساری زندگی ، لاہور میں اپنا ذاتی مکان تک نہیں بنا سکے تھے اور کرائے کی ایک کوٹھی میں رہتے تھے۔

مسعودرانا سے میری عقیدت صرف ان کے فن تک محدود تھی ، ان کی ذات یا خاندان سے کوئی دلچسپی نہیں تھی اور نہ اس کا کوئی جواز تھا۔ میرے خلوص کا عالم دیکھئے کہ 2004ء میں مجھے ، حج بیت اللہ کی سعادت حاصل ہوئی تو حرمین شریفین میں ایک ماہ کے قیام کے دوران میں نے اپنے خاندان کے تمام مرحومین کی روحوں کے ایصال ثواب کے لئے ایک ایک عمرہ کیا تھا۔ دو ہستیاں ایسی تھیں کہ جن کا میرے خاندان سے کوئی تعلق نہیں تھا لیکن انہیں بھی بطور خاص عمروں کا ثواب پہنچایا تھا ۔ ان میں پہلی ہستی جناب ذوالفقار علی بھٹو شہید کی تھی اور دوسری شخصیت مسعودرانا کی تھی۔ یقیناً ، اس سے بڑا خراج عقیدت تو ہو ہی نہیں سکتا تھا۔۔!

یہ مسعودرانا ہی تھے کہ جن کی وجہ سے مجھے پاکستانی فلمی گیتوں پر تحقیق کا شوق پیدا ہوا تھا۔ یہ اسی کے عشرہ کی بات ہے جب ہماری فلموں میں مردانہ گیتوں کی تعداد انتہائی کم ہو چکی تھی اور زنانہ گیتوں سے میری دلچسپی بڑی محدود ہوتی تھی۔ اس دور میں وی سی آر پر فلموں کی فراوانی ہوتی تھی۔ میرے پاس فلمیں اور گیت ریکارڈ کرنے کی سہولت بھی موجود تھی اور بہت زیادہ مواد اکٹھا کر لیا تھا۔ ابتداء میں اپنی ڈائریوں پر مردانہ فلمی گیتوں کی فہرستیں مرتب کیا کرتا تھا۔ 1985ء میں پہلی بار ایک کمپیوٹر کورس کیا تو اس میں مسعودرانا کے گیتوں کی رومن اردو میں ایک ڈیجیٹل لسٹ بنائی تھی۔ جون 1999ء میں اپنی ویب سائٹ بنائی تھی تو لنکس کے ساتھ جو واحد فائل اٹیچ کی تھی ، وہ مسعودرانا کے فلمی گیتوں کی ایکسیل فائل تھی۔ 3 مئی 2000ء کو پاکستان فلم میگزین کا آغاز کیا تو جو پہلی فلمی معلومات تھیں ، وہ بھی مسعودرانا کے گائے ہوئے گیتوں کے بارے میں تھیں۔ 2012ء میں ڈیٹا بیس پر ویب سائٹ بنانا شروع کی تو دیگر صفحات کی طرح تمام گیتوں کی فہرستوں کو اپ ڈیٹ کرنا اور مصدقہ ریکارڈز مرتب کرنا بہت آسان ہو گیا تھا۔ اس سال یعنی 2020ء میں مسعودرانا کی پچیسویں برسی پر ایک منفرد خراج تحسین پیش کرنے کے لئے ان کے گیتوں کا اولین اردو ڈیٹا بیس بنانے میں بھی کامیابی ہوئی جس سے مختلف النوع اعدادوشمار اور فہرستیں بنانا ممکن ہوا۔ مسعودرانا ہی کی وجہ سے دیگر فنکاروں کے بارے میں بھی اردو میں معلوماتی مضامین کا ایک طویل سلسلہ جاری ہے جو ان شاء اللہ ، مکمل کرنے کی پوری کوشش کی جائی گی۔

مسعودرانا کو ان کی 25ویں برسی پر جو بے مثل خراج تحسین پیش کیا جارہا ہے ، شاید ہی کبھی کسی فنکار کو پیش کیا گیا ہو گا۔ وہ بجا طور پر اس اعزاز کے مستحق تھے اور یقیناً بڑے خوش قسمت فنکار تھے کہ جنہیں مجھ جیسا قدردان ملا۔۔!

A letter to Masood Rana
A letter from Masood Rana
A letter from Masood Rana

1995 میں مسعودرانا کے 0 ساتھی فنکاروں پر تفصیلی مضامین



مسعودرانا کے 1995 میں 1 فلموں میں 1 گیت

(0 اردو فلمیں ۔۔۔ 0 اردو گیت ۔۔۔ 1 پنجابی فلمیں ۔۔۔ 1 پنجابی گیت)
1
فلم ... سناٹا ... پنجابی ... (1995) ... گلوکار: مسعود رانا ، حمیرا چنا ... موسیقی: ایس اے خان ... شاعر: ؟ ... اداکار: جان ریمبو ، نرگس

1995 میں مسعودرانا کے 0 اردو گیت


1995 میں مسعودرانا کے 1 پنجابی گیت

1تیرے پیار مینوں کیتا مجبور، کڑئیے نی ، نئیوں زندگی چہ رہنا تیتھوں دور ، کڑئیے ... (فلم ... سناٹا ... 1995)

1995 میں مسعودرانا کے 0سولو گیت


1995 میں مسعودرانا کے 1دوگانے

1تیرے پیار مینوں کیتا مجبور، کڑئیے نی ، نئیوں زندگی چہ رہنا تیتھوں دور ، کڑئیے ... (فلم ... سناٹا ... 1995)

1995 میں مسعودرانا کے 0کورس گیت



Masood Rana: Latest Online film from 1995

Masood Rana: Film posters from 1995

Masood Rana:

0 Online films from 1995

(0 Urdu and 0 Punjabi films)

Masood Rana:

Total 1 released films in 1995

(0 Urdu, 1 Punjabi, 0 Pashto, 0 Sindhi films)

1.
13-10-1995:
Sanata
(Punjabi)


Masood Rana: 1 songs from 1 films in 1995

(0 Urdu songs from 0 Urdu films and 1 Punjabi songs from 1 Punjabi films)

1.
Punjabi film
Sanata
from Friday, 13 October 1995
Singer(s): Masood Rana, Humaira Channa, Music: S.A. Khan, Poet: ?, Actor(s): Jan Rambo, Nargis


Pakistan Film Magazine

The most comprehensive source to the history of Pakistani films, music and artists.



پاکستان فلم میگزین ۔۔۔ سنہری فلمی یادوں کا امین

پاکستان فلم میگزین ، پاکستانی فلموں ، فلمی گیتوں اور فلمی فنکاروں پر اولین ، منفرد اور ایک بے مثل معلوماتی اور تفریحی ویب سائٹ ہے جو 3 مئی 2000ء سے مسلسل اپ ڈیٹ ہورہی ہے۔ یہ ایک انفرادی کاوش ہے جو فارغ اوقات کا ایک بہترین مشغلہ بھی ہے۔ یہ تاریخ ساز ویب سائٹ کبھی نہ بن پاتی ، اگر پاکستانی فلموں میں میرے آئیڈیل گلوکار جناب مسعودرانا صاحب کے گیت نہ ہوتے۔ اس عظیم گلوکار کو ایک منفرد خراج تحسین پیش کرنے کے لئے اس کے گائے ہوئے ایک ہزار سے زائد گیتوں کا پہلا اردو ڈیٹابیس بنایا گیا ہے جس میں ریکارڈ محفوظ رکھنے کے علاوہ دیگر ساتھی فنکاروں پر تفصیلی مضامین بھی شائع کئے جارہے ہیں۔