Pakistn Film Magazine in Urdu/Punjabi


A Tribute To The Legendary Playback Singer Masood Rana

Masood Rana - مسعودرانا Masood Rana sang 1037 songs in 647 films

مسعودرانا اور افتخار خان

ہدایتکار افتخارخان کے کریڈٹ پر متعدد بڑی بڑی فلمیں تھیں۔ انھیں بڑے فنکاروں سے بڑا کام لینے میں بڑی مہارت حاصل تھی جس کی وجہ دو بڑے ہدایتکاروں ، حسن طارق اور ایم جے رانا کی شاگردی تھی۔ وہ ایک بہت بڑی فلم مولا جٹ (1979) کے ایک بڑے ہدایتکار یونس ملک کے استاد بھی تھے۔۔!

ڈیڑھ درجن فلموں کے ہدایتکار افتخارخان نے اپنے فلمی سفر کا آغاز 1965ء کی تین بڑی فلموں سے کیا تھا۔ عظیم ہدایتکار حسن طارق کے معاون کے طور پر ان کی پہلی سپرہٹ فلم پھنے خان (1965) تھی جس کے ٹائٹل رول میں علاؤالدین کو بڑی عوامی پذیرائی ملی تھی۔ اس فلم میں سدھیر اور مظہرشاہ جیسے بڑے بڑے نام بھی موجود تھے۔ اسی سال کی ایک اور بہت بڑی فلم کنیز (1965) میں بھی افتخارخان ، حسن طارق کے معاون تھے۔ یہ ایک ملٹی کاسٹ فلم تھی جو اردو فلموں کے تین بڑے ہیروز ، سنتوش ، محمدعلی اور وحیدمراد کی واحد مشترکہ فلم تھی۔ اس فلم میں صبیحہ خانم ، طالش اور زیبا جیسے بڑے بڑے فنکار بھی شامل تھے۔ اسی سال ایک اور عظیم ہدایتکار ایم جے رانا کی پنجابی فلم من موجی (1965) میں بھی افتخارخان ، معاون ہدایتکار تھے۔ اس فلم میں پنجابی فلموں کے وقت کے دونوں بڑے سپرسٹارز ، سدھیر اور اکمل ، اپنے عروج کے دور میں ایک ساتھ دیکھے گئے تھے جبکہ اس فلم میں مظہرشاہ جیسا بڑا ولن ان دونوں بڑوں کے مقابلے میں اکیلا ہی کافی تھا۔

بطور مکمل ہدایتکار ، افتخارخان کی پہلی بڑی فلم جگری یار (1967) تھی جس کے پیش کار ان کے استاد حسن طارق تھے۔ یہ اپنے وقت کی ایک بھاری بھر کم ملٹی کاسٹ ، بامقصد اور تفریحی فلم تھی۔ علاؤالدین اس دور کے انتہائی مقبول اداکار تھے ، اس فلم میں انھوں نے ساون کے ساتھ ٹائٹل رول کیا تھا۔ نغمہ ، اکمل اور مظہرشاہ کے ساتھ زینت اور مینا شوری بھی اس کہانی کے اہم کردار تھے۔ حزیں قادری کی یاری دوستی کے موضوع پر لکھی ہوئی قابل تعریف کہانی اور گیتوں کے علاوہ موسیقی بابا چشتی کی تھی۔ فلم کا سب سے سپرہٹ اور لازوال گیت مسعودرانا صاحب کا گایا ہوا تھا "سوچ کے یار بناویں بندیا ، یار بنا کے فیر نہ سوچیں ، سولی تھے چڑھ جاویں۔۔" اس گیت کے ریکارڈنگ اور فلم ورژن میں واضح فرق تھا اور اس ایک گیت میں پوری فلم کی کہانی مل جاتی ہے۔ میری یادداشت میں محفوظ یہ گیت جب کبھی ریڈیو پر بجتا تھا تو سامعین دم بخود ہو کر سنتے تھے اور جب گیت ختم ہوتا تھا تو ہمیشہ سننے کو ملتا تھا کہ کیا آواز ہے۔۔؟ لندن کے ایک انڈین ریڈیو سن رائز پر پنجابی فلمی گیتوں کے ایک پروگرام میں ہمیشہ پہلے محمدرفیع اور پھر مسعودرانا کا ایک گیت ہوتا تھا اور زیادہ تر یہی گیت سننے کو ملتا تھا۔ مسعودرانا کا ایک دلکش رومانٹک گیت بھی اس فلم میں تھا "دل کولوں پچھ پہلاں اکھاں نوں منا نی ، دوویں کہن جاناں تے بے شک چلی جا نی۔۔" اسی فلم میں احمدرشدی کا ایک مزاحیہ گیت بھی تھا جو منورظریف اپنے باپ رنگیلا کے لیے گاتے ہیں "ہائے ابا جی ، معاف چا کرو ، میرے توں نئیں ڈردے تے رب توں ڈرو۔۔"

افتخارخان کی دوسری بڑی فلم سجناں دور دیا (1970) تھی۔ یہ اپنے دور کی ایک بہت بڑی نغماتی ، ڈرامائی اور اصلاحی فلم تھی جو سوتن کے موضوع پر بنائی گئی تھی۔ صبیحہ خانم نے ایک نیک سیرت خاتون کا رول کیا تھا جبکہ نبیلہ ایک حاسد اور فسادی عورت کے روپ میں تھی۔ اس فلم کی کئی ایک خوبیاں تھیں جن میں سب سے اہم بات یہ تھی کہ اڑھائی سو سے زائد فلموں کے گیت اور ڈیڑھ سو سے زائد فلموں کے عظیم مصنف حزیں قادری کی بطور فلمساز اکلوتی فلم تھی جو انھوں نے بطور خاص موسیقار نذیرعلی کے لیے "اظہار ندامت" کے طور پر بنائی تھی۔ انھوں نے فلم جنٹرمین (1969) کے ایک گیت "ساتھوں کاہنوں پھیریاں نی اکھیاں وے بابو آ۔۔" لکھتے وقت نذیرعلی کی توہین کی تھی کہ اس گیت کی دھن بابا چشتی کے سوا کوئی دوسرا موسیقار نہیں بنا سکتا۔ نذیرعلی نے اسے ایک چیلنج سمجھا اور ایسی دھن بنائی کہ خود حزیں قادری بھی انگشت بدنداں رہ گئے تھے۔ اپنے اس سلوک کی تلافی کرتے ہوئے انھوں نے اس فلم میں پہلی اور آخری بار سرمایہ کاری کی اور نذیرعلی کو موسیقار لے کر انھیں فری ہینڈ دیا جس پر وہ سو فیصدی پورا اترے تھے۔

اس فلم کی دوسری خوبی یہ تھی کہ یہ اردو فلموں کی مقبول ہیروئن دیبا کی پہلی پنجابی فلم تھی۔ دیبا ، ایک آل راؤنڈ اداکارہ تھی ، اس فلم میں اس نے اپنے شوخ کردار میں بہت اچھی پرفامنس کا مظاہرہ کیا تھا ، خاص طور پر اس پر فلمائے ہوئے اس سپرہٹ گیت نے تو مقبولیت کے نئے ریکارڈز قائم کیے تھے "پرواہ نئیں اوئے ، اج تو پاویں بانہہ مروڑیں ، پاویں توڑیں ونگاں۔۔" ملکہ ترنم نورجہاں نے اس گیت کو اتنے کمال کا گایا تھا کہ بیشتر لوگ اس گیت کو سننے اور دیکھنے کے لیے بار بار فلم دیکھتے تھے اور ہر طرف اس گیت کی گونج ہوتی تھی۔ اس فلم میں موسیقار نذیرعلی کی دھنوں میں میڈم نورجہاں کے دیگر گیت بھی بڑے مقبول ہوئے تھے جن میں "ہائے ماں نی ماں ، اے زورا زوری دا پروہنا ، خورے کی چاہندا اے ، خورے کی چاہندا اے منانا ، ہائے۔۔" ، "لا موہنڈے نال موہنڈا ، ہانی لگنے آں ، شالا نظر نہ لگے تے کڈھے سوہنے سجنے آں۔۔" اور "سجناں دور دیا ۔۔" یہ آخری تھیم سانگ تین الگ الگ گیتوں پر مشتمل تھا جس میں سے دو سنجیدہ گیت ، صبیحہ خانم پر فلمائے گئے تھے جبکہ ایک شوخ انداز میں فردوس پر فلمایا گیا تھا جو اعجاز کے ساتھ فرسٹ ہیروئن تھی۔ دیبا کی جوڑی کیفی کے ساتھ تھی۔ منورظریف کی کامیڈی اور اپنا گایا ہوا ایک گیت "بھُلیا میں بھُلیا۔۔" بھی دو بیویوں کے بارے میں ہی تھا۔

فلم سجناں دور دیا (1970) اتنی بڑی فلم تھی کہ میرے ذہن پر نقش ہے کہ ہمارے مقامی سینما قیصر کا فلمی اشتہار ہر ہفتے روزنامہ جنگ راولپنڈی میں شائع ہوتا تھا۔ فلم یار تے پیار (1970) کے اشتہار کے نیچے پہلی بار یہ لکھا ہوا نظر آیا کہ "آئیندہ پروگرام" ، سجناں دور دیا (1970) ہو گی لیکن متعدد ایسے اشتہارات کے بعد بھی ایسا نہ ہو سکا تھا۔ ایک دن میں فلم دیکھنے گیا تو لوگوں کا ہجوم سینما منیجر کے دفتر کے سامنے جمع تھا۔ لوگ اس غلط بیانی پر احتجاج کر رہے تھے کہ وعدوں کے باوجود یہ فلم کیوں نہیں آرہی۔ مینجر ، لوگوں کو یہ کہہ کر مطمئن کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ "ہمیں یہ فلم نہیں مل رہی کیونکہ سرکٹ میں اس کی بکنگ اتنی زیادہ ہے کہ ہماری باری ہی نہیں آرہی۔۔" اس وقت مجھے ان باتوں کی سمجھ نہیں تھی کہ یہ سرکٹ ورکٹ کیا بلا ہیں۔ جب اسی کے عشرہ میں پہلی بار یہ فلم وی سی آر پر دیکھی تو اندازہ ہوا کہ کیوں یہ فلم اتنی مقبول تھی۔ اس فلم کو دیکھنے کے لیے میرے اپنے جنون کا یہ عالم تھا کہ ویڈیو شاپ پر تین پرانی فلمیں ، مکھڑا چن ورگا (1969) اور ماں پتر (1970) کے علاوہ یہ فلم یعنی سجناں دور دیا (1970) آئیں۔ اپنے وقت کی یہ تینوں سپرہٹ فلمیں میں پہلے نہیں دیکھ سکا تھا۔ اتفاق سے اس دن میرا وی سی آر سیٹ مرمت کے لیے گیا ہوا تھا لیکن مجھ سے صبر نہ ہو سکا اور میں نے کسی سے ادھار لے کر یہ تینوں سپرہٹ فلمیں ایک ہی نشست میں دیکھ ڈالی تھیں۔

ہدایتکار افتخارخان کے لیے یہ ایک بہت بڑا اعزاز تھا کہ جب اردو فلموں کے عظیم رومانٹک ہیرو وحیدمراد نے بطور فلمساز اور ہیرو اپنی پہلی پنجابی فلم مستانہ ماہی (1971) بنانے کا اعلان کیا تو ہدایتکار کے لیے ان کی نظر انتخاب افتخارخان پر پڑی تھی۔ وحیدمراد نے اس فلم میں ڈبل رول کیا تھا اور پوری فلم پر چھائے ہوئے تھے۔ نغمہ اور عالیہ اس فلم کی ہیروئنیں تھیں جبکہ مین کامیڈین کے طور پر منورظریف پر خلیفہ نذیر کو ترجیح دی گئی تھی۔ یہ ایک سپرہٹ فلم تھی لیکن وحیدمراد کبھی بھی پنجابی فلموں کی ضرورت نہیں بن سکے تھے۔ ملکہ ترنم نورجہاں کا مشہور زمانہ گیت "سیو نی میرے ماہی میرے بھاگ جگاون آگیا۔۔" اس فلم کی جملہ خوبیوں پر بھاری ثابت ہوا تھا۔ حزیں قادری کے لکھے ہوئے اور موسیقار نذیرعلی کی سدابہار دھن میں اس گیت سے یہ تلخ یاد بھی وابستہ ہے کہ پچاس سال قبل سانحہ مشرقی پاکستان کے دوران ہمارا انتہائی بدکردار اور عیاش حکمران جنرل یحییٰ خان اس گیت کی وجہ سے میڈم نورجہاں پر عاشق ہوگیا تھا اور اس گیت اور "اپنی" روایتی دھن میں مست ملنگ ہو کر قصر صدارت میں اپنے حرم کے باہر شدید سردی میں بھی الف للہ ننگا ہوکر گھومتا پھرتا ہوا نظر آتا تھا۔

فلم مستانہ ماہی (1971) کا ایک ریکارڈ یہ بھی تھا کہ اس فلم میں پہلی بار فلم مولاجٹ فیم یونس ملک ، افتخارخان کے معاون ہدایتکار یا شاگرد کے طور پر سامنے آئے تھے اور اس کے بعد ان کی تقریباً سبھی فلموں میں ان کے ساتھ رہے تھے۔ ان فلموں میں سیونی میرا ماہی (1974) بھی تھی جس میں وحیدمراد ایک بار پھر ہیرو تھے لیکن یہ فلم ناکام رہی تھی۔ اس فلم میں مسعودرانا کا یہ گیت بڑے کمال کا تھا "ویری میرے پیار دا ، خدا تے خدائی اے ، ملناں محبوب نوں ، اساں وی ضد لائی اے۔۔" یہ گیت بھی حزیں قادری کا لکھا ہوا اور نذیرعلی کا کمپوز کیا ہوا تھا۔

وحیدمراد نے جب بطور فلمساز اپنی زندگی میں ریلیز ہونے والی آخری فلم جال (1973) بنائی تو اس اردو فلم کے لیے بھی انھوں نے افتخارخان کو بطور ہدایتکار منتخب کیا تھا۔ اس رومانٹک فلم نے کراچی میں سلورجوبلی کی تھی لیکن ستر کے عشرہ میں جو اردو فلم کراچی میں صرف سلورجوبلی کرتی تھی وہ عام طور پر ایک ناکام یا زیادہ سے زیادہ ایک اوسط درجہ کی فلم ہوتی تھی۔ اس فلم سے راولپنڈی کے موتی محل سینما کا افتتاح ہوا تھا جہاں یہ فلم صرف تین ہفتے چل سکی تھی۔ راولپنڈی میں عام طور پر ایک ہی سینما میں فلم ریلیز ہوتی تھی اور جو فلم پانچ ، چھ ہفتے چلتی تھی وہ کامیاب فلم شمار ہوتی تھی۔ اس فلم کا سب سے سریلا گیت احمدرشدی اور رونالیلیٰ کا آوازوں میں تھا "دل کی دھڑکن مدھم مدھم ، نظریں ملیں اور جھک جائیں۔۔" یہ بڑے کمال کا گیت تھا جس کی دھن بھی نذیرعلی کی بنائی ہوئی تھی اور بول شاید مسرورانور کے تھے۔ اس فلم کے بعد وحیدمراد کا زوال شروع ہوگیا تھا اور وہ فلموں میں اپنی بقاء کے لیے اپنے دیرینہ حریف محمدعلی کے ساتھ کاسٹ ہونے پر مجبور ہو گئے تھے۔

ہدایتکار افتخارخان کی ایک اور بہت بڑی فلم جیرابلیڈ (1973) بھی تھی جو بطور ہیرو اور ٹائٹل رول کے منورظریف کی پہلی سپرہٹ فلم تھی۔ ایک جیب کترے کے کردار میں منورظریف نے حقیقت کا رنگ بھردیا تھا اور ان پر فلمایا ہوا مسعودرانا کا یہ گیت "تیرے مدھ بھرے نین مل پین تے چندرا شراب چھڈ دے۔۔" فلم کی ہائی لائٹ ثابت ہوا تھا۔ یاد رہے کہ اسی فلم کی بنیاد پر منورظریف کے بیٹے فیصل منورظریف کی بھی ایک فلم تھی پتر جیرے بلیڈ دا (1994) اور اس فلم کا تھیم سانگ بھی مسعودرانا نے گایا تھا "میں پتر جیرے بلیڈ دا ، مینوں جانے دنیا ساری۔۔" باپ بیٹوں کے لیے نغمہ سرائی کا یہ مسعودرانا صاحب کا پانچواں موقع تھا۔۔!

فلم جیرابلیڈ (1973) کا ایک کورس گیت پوری فلم کا خلاصہ بیان کرتا ہے۔ مالا کہتی ہے "چور چور چور ، پھڑ لو ، پھڑ لو چور اے ، جاوے نہ اے چور اے۔۔" مسعودرانا کا جواب ہوتا ہے "اوہ پھڑے مینوں جہیڑا آپ کوے چور نئیں ، اسیں تسیں سارے آں لٹیرے کوئی ہور نئیں۔۔" (ترجمہ: یہ چور ہے ، اسے پکڑ لو ، جانے نہ پائے۔۔ مجھے وہ پکڑے جو خود چور نہیں ، ہم اور آپ ، سبھی لٹیرے ہیں یعنی چور مچائے شور۔۔!) ۔۔ اور یہی پاکستان کی تاریخ کا مکمل خلاصہ بھی ہے۔ دریا کو کوزے میں بند کرنے پر مصنف حزیں قادری کو جتنا بھی خراج تحسین پیش کیا جائے ، کم ہے۔

افتخارخان کی ایک فلم اج دی تازہ خبر (1976) بھی تھی جس کے فلمساز کے طور پر درپن اور نیرسلطانہ کے بچوں کے نام آتے ہیں۔ اس فلم میں انھوں نے اداکار منصور کو متعارف کرایا تھا جو سنتوش ، درپن اور ایس سلیمان کے بعد چوتھے بھائی تھے لیکن فلموں میں گمنام رہے تھے۔ اس فلم کے مہمان اداکاروں میں خود افتخارخان کا نام بھی آتا ہے۔ انھوں نے بطور فلمساز واحد فلم چاندنی (1985) بنائی تھی۔ ان کی آخری فلم فلمساز سرور بھٹی کی حق مہر (1985) تھی جو ناکام رہی تھی۔

مسعودرانا کے افتخار خان کی 5 فلموں میں 12 گیت

(0 اردو گیت ... 12 پنجابی گیت )
1
فلم ... جگری یار ... پنجابی ... (1967) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: حزیں قادری ... اداکار: (پس پردہ ، ٹائٹل سانگ ، تھیم سانگ ، علاؤالدین ، ساون)
2
فلم ... جگری یار ... پنجابی ... (1967) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: حزیں قادری ... اداکار: اکمل
3
فلم ... چالباز ... پنجابی ... (1968) ... گلوکار: مالا ، مسعود رانا ... موسیقی: منظور اشرف ... شاعر: خواجہ پرویز ... اداکار: شیریں ، علاؤالدین
4
فلم ... چالباز ... پنجابی ... (1968) ... گلوکار: مسعود رانا ، احمد رشدی ... موسیقی: سلیم اقبال ... شاعر: ؟ ... اداکار: ؟
5
فلم ... عشق بناکی جینا ... پنجابی ... (1971) ... گلوکار: مسعود رانا مع ساتھی ... موسیقی: وجاہت عطرے ... شاعر: حزیں قادری ... اداکار: منور ظریف ، امداد حسین مع ساتھی
6
فلم ... جیرا بلیڈ ... پنجابی ... (1973) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: نذیر علی ... شاعر: حزیں قادری ... اداکار: منور ظریف
7
فلم ... جیرا بلیڈ ... پنجابی ... (1973) ... گلوکار: مسعود رانا مع ساتھی ... موسیقی: نذیر علی ... شاعر: حزیں قادری ... اداکار: منور ظریف مع ساتھی
8
فلم ... جیرا بلیڈ ... پنجابی ... (1973) ... گلوکار: مالا ، مسعود رانا ... موسیقی: نذیر علی ... شاعر: حزیں قادری ... اداکار: صاعقہ ، منور ظریف
9
فلم ... جیرا بلیڈ ... پنجابی ... (1973) ... گلوکار: مالا ، مسعود رانا مع ساتھی ... موسیقی: نذیر علی ... شاعر: حزیں قادری ... اداکار: ؟ ، منور ظریف مع ساتھی
10
فلم ... جیرا بلیڈ ... پنجابی ... (1973) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: نذیر علی ... شاعر: حزیں قادری ... اداکار: (پس پردہ ، تھیم سانگ )
11
فلم ... سیو نی میرا ماہی ... پنجابی ... (1974) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: نذیر علی ... شاعر: حزیں قادری ... اداکار: (پس پردہ، وحید مراد)
12
فلم ... سیو نی میرا ماہی ... پنجابی ... (1974) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: نذیر علی ... شاعر: حزیں قادری ... اداکار: وحید مراد

Masood Rana & Iftikhar Khan: Latest Online film

Ishq Bina Ki Jeena

(Punjabi - Black & White - Friday, 1 October 1971)


Masood Rana & Iftikhar Khan: Film posters
Jigri YaarIshq Bina Ki JeenaJeera BladeSayyo Ni Mera Mahi
Masood Rana & Iftikhar Khan:

2 joint Online films

(0 Urdu and 2 Punjabi films)

1.01-10-1971Ishq Bina Ki Jeena
(Punjabi)
2.31-05-1974Sayyo Ni Mera Mahi
(Punjabi)
Masood Rana & Iftikhar Khan:

Total 5 joint films

(0 Urdu, 5 Punjabi films)

1.12-01-1967: Jigri Yaar
(Punjabi)
2.04-10-1968: Chalbaz
(Punjabi)
3.01-10-1971: Ishq Bina Ki Jeena
(Punjabi)
4.21-12-1973: Jeera Blade
(Punjabi)
5.31-05-1974: Sayyo Ni Mera Mahi
(Punjabi)


Masood Rana & Iftikhar Khan: 12 songs in 5 films

(0 Urdu and 12 Punjabi songs)

1.
Punjabi film
Jigri Yaar
from Thursday, 12 January 1967
Singer(s): Masood Rana, Music: G.A. Chishti, Poet: , Actor(s): Akmal
2.
Punjabi film
Jigri Yaar
from Thursday, 12 January 1967
Singer(s): Masood Rana, Music: G.A. Chishti, Poet: , Actor(s): (Playback, themesong - Allauddin, Sawan)
3.
Punjabi film
Chalbaz
from Friday, 4 October 1968
Singer(s): Masood Rana, Ahmad Rushdi, Music: Saleem Iqbal, Poet: , Actor(s): ?
4.
Punjabi film
Chalbaz
from Friday, 4 October 1968
Singer(s): Mala, Masood Rana & Co., Music: M. Ashraf, Poet: , Actor(s): Shirin, Allauddin & Co.
5.
Punjabi film
Ishq Bina Ki Jeena
from Friday, 1 October 1971
Singer(s): Masood Rana, ? ? & Co., Music: Wajahat Attray, Poet: , Actor(s): Munawar Zarif, Imdad Hussain & Co.
6.
Punjabi film
Jeera Blade
from Friday, 21 December 1973
Singer(s): Mala, Masood Rana & Co., Music: Nazir Ali, Poet: , Actor(s): ?, Munawar Zarif
7.
Punjabi film
Jeera Blade
from Friday, 21 December 1973
Singer(s): Masood Rana & Co., Music: Nazir Ali, Poet: , Actor(s): Munawar Zarif & Co.
8.
Punjabi film
Jeera Blade
from Friday, 21 December 1973
Singer(s): Masood Rana, Music: Nazir Ali, Poet: , Actor(s): Munawar Zarif
9.
Punjabi film
Jeera Blade
from Friday, 21 December 1973
Singer(s): Masood Rana, Music: Nazir Ali, Poet: , Actor(s): (Playback)
10.
Punjabi film
Jeera Blade
from Friday, 21 December 1973
Singer(s): Mala, Masood Rana, Music: Nazir Ali, Poet: , Actor(s): Saiqa, Munawar Zarif
11.
Punjabi film
Sayyo Ni Mera Mahi
from Friday, 31 May 1974
Singer(s): Masood Rana, Music: Nazir Ali, Poet: , Actor(s): (Playback - Waheed Murad)
12.
Punjabi film
Sayyo Ni Mera Mahi
from Friday, 31 May 1974
Singer(s): Masood Rana, Music: Nazir Ali, Poet: , Actor(s): Waheed Murad


پاکستان فلم میگزین ۔۔۔ سنہری فلمی یادوں کا امین

پاکستان فلم میگزین ، پاکستانی فلموں ، فلمی گیتوں اور فلمی فنکاروں پر اولین ، منفرد اور ایک بے مثل معلوماتی اور تفریحی ویب سائٹ ہے جو 3 مئی 2000ء سے مسلسل اپ ڈیٹ ہورہی ہے۔ یہ ایک انفرادی کاوش ہے جو فارغ اوقات کا ایک بہترین مشغلہ بھی ہے۔ یہ تاریخ ساز ویب سائٹ کبھی نہ بن پاتی ، اگر پاکستانی فلموں میں میرے آئیڈیل گلوکار جناب مسعودرانا صاحب کے گیت نہ ہوتے۔ اس عظیم گلوکار کو ایک منفرد خراج تحسین پیش کرنے کے لئے اس کے گائے ہوئے ایک ہزار سے زائد گیتوں کا پہلا اردو ڈیٹابیس بنایا گیا ہے جس میں ریکارڈ محفوظ رکھنے کے علاوہ دیگر ساتھی فنکاروں پر تفصیلی مضامین بھی شائع کئے جارہے ہیں۔

تازہ ترین اپ ڈیٹس




Pakistan Film Magazine

The first and largest website on Pakistani films, music and artists with chronological film history since 1913, useful information's, facts & figures, milestones, filmo- & songographies, images, videos and Urdu/Punjabi articles on various film topics.



Azad
Azad
(1964)
Waar
Waar
(2013)
Sarfarosh
Sarfarosh
(1956)
Zindagi
Zindagi
(1978)



Artists database

Useful information's with detailed film records, milestones, videos, images etc..


Click on any category from the menu below and read more information's..