Pakistn Film Magazine in Urdu/Punjabi



Pakistan Film History

First Punjabi film

An Urdu/Punjabi article on Lahore made feature film Heer Ranjha (1932), which was the first Punjabi film ever.


برصغیر کی پہلی پنجابی فلم

قیام پاکستان سے قبل ، لاہور کے علاوہ ممبئی اور کولکتہ میں بھی پنجابی فلمیں بنائی جاتی تھیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان تینوں فلم سینٹروں کا دعویٰ رہا ہے کہ برصغیر پاک و ہند کی پہلی پنجابی فلم بنانے کا اعزاز انھیں حاصل ہے۔

پہلی فلم کا تنازعہ مندرجہ ذیل تین فلموں کے مابین رہا ہے:


لاہور کی پہلی پنجابی فلم
لاہور کی پہلی پنجابی فلم ہیر رانجھا (1932)
ہیر رانجھا (1932)
ممبئی کی پہلی پنجابی فلم
ممبئی کی پہلی پنجابی فلم عشقِ پنجاب (1935)
عشقِ پنجاب (1935)
کولکتہ کی پہلی پنجابی فلم
کولکتہ کی پہلی پنجابی فلم شیلا عرف پنڈ دی کڑی (1936)
پنڈ دی کڑی (1936)


آیئے ، دیکھتے ہیں کہ تاریخی حقائق کیا ہے؟

برصغیر کی پہلی پنجابی فلم ہیر رانجھا (1932)

برصغیر پاک و ہند کی پہلی پنجابی فلم ہیر رانجھا ، جمعتہ المبارک 9 ستمبر 1932ء کو لاہور کے دو سینماؤں ، کیپٹل (ریجنٹ) سینما اور سٹار ٹاکیز میں ریلیز ہوئی تھی۔ لاہور میں بنائی گئی یہ پہلی بولتی ، متکلم یا ٹاکی فلم تھی۔

لاہور کی فلمی صنعت کی اس پہلی پنجابی فلم ہیر رانجھا (1932) کے ہدایتکار اے آر کاردار (عبدالرشید کاردار) تھے جن کے کریڈٹ پر لاہور میں بننے والی آدھی سے زائد خاموش فلمیں بھی تھیں۔ فلم کے تدوین کار یا ایڈیٹر بھی خود ہی تھے۔ عکاسی ، وی ایم ویاس کی تھی جو ایک اناڑی عکاس ثابت ہوئے۔ فلم کی دھندلی عکاسی یا خراب پراسیسنگ ہی فلم کی ناکامی کی بڑی وجہ بتائی جاتی ہے۔

فلم ہیر رانجھا (1932) پر سرمایہ کاری ، کیپٹل سینما کے مالک حکیم رام پرشاد نے کی جو اس سے قبل بمبئی میں بنائی گئی خاموش فلم ہیررانجھا (1929) بھی بنا چکے تھے۔ اس فلم کے مرکزی کردار یعنی "ہیر" اور "رانجھا" ، خاموش فلموں کی ممتاز جوڑی ، سلوچنا اور ڈی بلیوریا نے کیے تھے۔ اے آر کاردار نے اس فلم میں "سیدے کھیڑے" کا جبکہ ایم اسماعیل نے " کیدو" کا رول کیا تھا جو انھوں نے برصغیر پاک و ہند کی پہلی پنجابی فلم ہیر رانجھا (1932) میں بھی کیا تھا۔

فلم ہیر رانجھا (1932) کی کاسٹ کریڈٹ

پلے آرٹ فوٹو ٹون کارپوریشن لاہور کی اس پہلی ٹاکی فلم کی کہانی وارث شاہؒ کی عظیم تصنیف "ہیر" سے ماخوذ تھی۔ فلمی تمثیل اور گیت سید عابد علی عابد کے تھے۔ سکرین پلے ، ممتاز فلم ہدایتکار ، ایم صادق اور مکالمے ایک مقامی فنکار لالہ یعقوب کے تھے جو فلم میں "سیدے کھیڑے" کا کردار بھی کر رہے تھے۔ خوبرو اداکار گل حمید نے "راجہ عدلی" کا رول کیا جبکہ پاکستان کے پہلے جوبلی ہیرو ، اداکار نذیر کا نام بھی معاون اداکار کے طور پر ملتا ہے۔ عین ممکن ہے کہ انھوں نے اس فلم میں "مراد بلوچ" کا اہم کردار کیا ہو۔

فلم ہیر رانجھا (1932) کی کاسٹ کریڈٹ

فلم ہیر رانجھا (1932) کے گیت

فلم ہیر رانجھا (1932) کے مرکزی کردار ، امرتسر کی ایک نامور طوائف ، انوری بائی اور لاہور کے ایک مشہور گویے اور موسیقار ، بی اے پاس رفیق غزنوی نے ادا کیے تھے۔ یہ دونوں 1980ء کی معروف اداکارہ اور گلوکارہ سلمیٰ آغا کے نانا نانی تھے۔ فلم کے گیت بھی انھی دونوں فنکاروں نے گائے تھے کیونکہ اسوقت تک پس پردہ گلوکاری کا رواج نہیں تھا۔ رفیق غزنوی ، اس پہلی پنجابی فلم کے موسیقار بھی تھے۔

فلم ہیر رانجھا (1932) کے مندرجہ ذیل تین گیتوں کی معلومات دستیاب ہیں جن میں پہلا گیت ایک سپرہٹ گیت تھا جسے لوگ وارث شاہؒ کے کلام کا حصہ سمجھنے لگے تھے:

  • ڈولی چڑھدیاں ماریاں ہیر چیکاں ، مینوں لے چلے بابلا ، لے چلے۔۔
  • جوگی چھڈ جہاں فقیر ہویا ، ایس جگ وچ بہت خواریاں نیں۔۔
  • ٹر چلیا رانجھا نی ، میری پریت نوں توڑ کے۔۔

فلم ہیر رانجھا (1932) پر اعتراضات

لاہور میں بنائی جانے والی پہلی بولتی فلم ہیر رانجھا (1932) کو پہلی پنجابی فلم کہنے پر مختلف اعتراضات رہے ہیں۔ اگر یہ فلم دستیاب ہوتی تو شک و شبہ کی گنجائش نہ رہتی لیکن مکمل ریکارڈز دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے حتمی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ یہ ایک پنجابی فلم تھی البتہ جو ثبوت ملتے ہیں ، ان کے مطابق یہ ایک پنجابی فلم ہی تھی۔

فلم ہیر رانجھا (1932)
لاہور کی پہلی پنجابی فلم
ہیر رانجھا (1932)
پڑوسی ملک کے فلمی ریکارڈز میں
تھی ہی نہیں!
  • پڑوسی ملک بھارت کے فلمی ریکارڈز میں فلم ہیر رانجھا (1932) موجود ہی نہیں تھی۔ اگر کہیں ذکر تھا بھی تو وہ بھی ایک ہندی/اردو فلم کے طور پر۔ پاکستان فلم میگزین پر اس فلم کی معلومات اور ثبوت کے طور پر دو اخباری اشتہارات شائع نہ کیے جاتے تو یہ فلم گمنام ہی رہتی۔
  • فلم ہیر رانجھا (1932) کے بارے میں لاعلمی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ دستیاب معلومات کے مطابق 1928ء سے 1932ء تک اس موضوع پر کچھ کم نہیں ، پوری پانچ فلمیں بنائی گئیں جن میں سے چار کے ٹائٹلز "ہیررانجھا" کے تھے!
    پہلی تین خاموش فلمیں تھیں جبکہ بمبئی میں پہلی بولتی فلم ہیررانجھا (1931) میں شانتا کماری اور ماسٹر فقیرا نے مرکزی کردار ادا کیے تھے۔ اس فلم میں پنجابی گیت بھی شامل کیے گئے تھے۔ اسی فلم میں انوری بیگم کا نام بھی شامل ہے۔ شاید اسی وجہ سے اس فلم کو لاہور کی پہلی پنجابی فلم سے گڈمڈ کیا جاتا رہا ہے۔ یاد رہے کہ یہ فلم 15 اپریل 1932ء کو لاہور کے ویلنگٹن سینما بھاٹی گیٹ میں ریلیز ہوئی تھی جس کے صرف پانچ ماہ بعد ہی لاہور کی پہلی پنجابی فلم ہیر رانجھا (1932) ) ریلیز ہوئی تھی۔
  • فلم ہیر رانجھا (1932) کے بارے میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ یہ فلم ہندوستانی زبان (ہندی/اردو) میں بنائی گئی لیکن لوگوں کے احتجاج پر اس میں ایک پنجابی گیت ڈالا گیا تھا۔
    یہ بھی درست نہیں کیونکہ ایک تو فلم بمشکل چلی ہی ایک ہفتہ تھی ، دوسرا اس فلم کے تین گیتوں کا ریکارڈ دستیاب ہے جو خالص پنجابی زبان میں ہیں۔ قدرتی بات ہے کہ جب گیت پنجابی میں ہیں تو باقی فلم بھی پنجابی زبان ہی میں ہوگی ورنہ چوں چوں کا مربہ ہوتی۔
  • ناقدین کا ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ فلم ہیر رانجھا (1932) کے جو دو اشتہارات دستیاب ہیں ، ان پر کہیں نہیں لکھا ہوا کہ یہ ایک پنجابی فلم ہے۔
    یہ بات درست ہے لیکن اردو فلم اشتہار پر یہ بھی واضح اور جلی حروف میں لکھا ہوا ہے کہ "وارث شاہؒ کی لکھی ہوئی داستان محبت" جو ظاہر ہے کہ اردو ، ہندی یا فارسی میں تو نہیں لکھی گئی تھی ، خالص پنجابی زبان میں تھی ، شاید اسی لیے یہ لکھنا ضروری نہیں سمجھا گیا تھا کہ یہ ایک پنجابی فلم ہے۔
  • فلم ہیر رانجھا (1932) کو "حورِ پنجاب" کا نام بھی دیا گیا تھا جو اصل میں ممبئی میں بنائی ہوئی 1929ء کی ایک سپرہٹ خاموش فلم ، ہیررانجھا کا دوسرا نام تھا۔ پاکستانی فلمی تاریخ کے مطابق فلم ہیر رانجھا (1932) کا ایک ہی نام تھا۔
  • لاہور کی فلم ہیر رانجھا (1932) کے ایک پنجابی فلم ہونے کی ایک بڑی اور واضح دلیل یہ بھی ہے کہ صرف ایک سال پہلے یعنی 1931ء میں ممبئی میں ایک فلم ہیررانجھا بنائی گئی تھی جو ہندی/اردو میں تھی۔ (بعض ذرائع کے مطابق یہ بھی ایک خاموش فلم تھی۔) اب یہ تو خلاف عقل ہے کہ لاہور والے بھی ممبئی کے مقابلے میں صرف ایک سال ہی میں اسی موضوع اور اسی نام پر ایک اور ہندی/اردو فلم بناتے۔
  • یاد رہے کہ بولتی فلموں کے پہلے ہی سال یعنی 1931ء میں نہ صرف ہندی/اردو فلمیں بنیں بلکہ ہندوستان کی دیگر بڑی زبانوں میں بھی فلمیں بننا شروع ہوگئی تھیں جن میں بنگالی ، مراٹھی ، تامل اور تیلگو وغیرہ شامل ہیں۔ یقیناً انھی کی تقلید میں لاہور میں بھی پہلی پنجابی فلم بنائی گئی تھی۔
  • بھارتی میڈیا بھی تسلیم کرتا ہے کہ
    فلم ہیر رانجھا (1932)
    ہی برصغیر کی پہلی پنجابی فلم تھی
  • لاہور کی اس پہلی پنجابی فلم ، ہیر رانجھا (1932) کے گوشہ گمنامی میں گم ہونے کی ایک بڑی وجہ اس کا بری طرح سے ناکام ہونا اور بہت جلد لوگوں کے حافظے سے مٹ جانا تھا لیکن لاہور کے فلمی ریکارڈز میں موجود رہی۔
  • پاکستان فلم میگزین پر ثبوت کے طور پر اس فلم کے دو اخباری اشتہارات پیش نہ کیے جاتے تو شاید ٹائمز آف انڈیا جیسی معتبر ویب سائٹ بھی لاہور کی اس فلم کو پہلی پنجابی فلم تسلیم نہ کرتی۔
  • وکی پیڈیا پر چونکہ ہر ایرا غیرا نتھو خیرا ، ایڈیٹ کر سکتا ہے ، اس لیے ، پاکستانی تاریخ کے بارے میں عام طور پر اور پاکستانی فلمی معلومات کے بارے میں خاص طور پر معلومات قابل اعتماد نہیں ہوتیں۔ متضاد اور ناقص معلومات کی ایک مثال پہلی پنجابی فلم کے ضمن میں ہے جہاں List of Punjabi films میں شیلا عرف پنڈ دی کُڑی (1935) جبکہ Punjabi cinema میں ہیر رانجھا (1932) کو پہلی پنجابی فلم لکھا ہوا ہے۔
وکی پیڈیا پر پہلی پنجابی فلم کے ضمن میں متضاد معلومات
وکی پیڈیا پر پہلی پنجابی فلم کے ضمن میں متضاد معلومات

یہ ایک حقیقت ہے کہ تاریخی واقعات سو فیصدی درست نہیں ہوتے اور ہر کوئی انھیں اپنے نقطہ نظر سے دیکھتا اور لکھتا ہے۔ ویسے بھی ہر قوم کی اپنی اپنی تاریخ ہوتی ہے جو ضروری نہیں کہ سچ بھی ہو۔

ہمارا پڑوسی ملک ویسے بھی ہم پاکستانیوں کو درخوراعتنا نہیں سمجھتا اور ہر معاملے میں حقیر سمجھتا ہے۔ انٹرنیٹ کی آمد نے بہت سے فاصلے اور غلط فہمیاں مٹا دی ہیں جو مختلف اقوام میں موجود تھیں۔ اسی عظیم ایجاد کا اعجاز ہے کہ اب معتبر بھارتی میڈیا بھی یہ تسلیم کرتا ہے کہ برصغیر میں بنائی جانے والی پہلی پنجابی فلم لاہور کی ہیر رانجھا (1932) ہی تھی۔ ہمارے ہاں البتہ کچھ نادان ایسے بھی ہیں جو اپنے ذہن کو سوچنے کی زحمت نہیں دیتے اور اغیار کے سحر میں مبتلا ہوکر مسلسل گمراہی کا شکار رہے ہیں۔

لاہور کی پہلی پنجابی فلم ہیر رانجھا (1932) کا اخباری اشتہار
لاہور کی پہلی پنجابی فلم ہیر رانجھا (1932) کا اخباری اشتہار

فلم عشقِ پنجاب عرف مرزا صاحباں (1935)

مبئی کی پہلی پنجابی فلم 
عشقِ پنجاب (1935) 
پہلی پنجابی فلم ہونے کی دعوے دار
ممبئی کی پہلی پنجابی فلم
عشقِ پنجاب (1935)
پہلی پنجابی فلم ہونے کی دعوے دار

بھارت میں پنجابی فلموں کی تاریخ پر شائع ہونے والی ایک کتاب کے مطابق برصغیر پاک و ہند کی پہلی پنجابی فلم ، بمبئی (ممبئی) کی ہندماتا سائن ٹون کی بنائی ہوئی ایک گمنام فلم عشقِ پنجاب عرف مرزا صاحباں تھی۔ یہ فلم 29 مارچ 1935ء کو نرنجن ٹاکیز لاہور میں ریلیز ہوئی تھی۔

فلم عشقِ پنجاب (1935) کے فلمساز بومن شروف اور ہدایتکار جی آر سیٹھی تھے۔ صاحبزادہ ممتاز کی اس فلمی تمثیل کو پنجاب کے بڑے شہروں میں مقامی فنکاروں کی مدد سے بنایا گیا تھا۔ میاں چنوں (خانیوال) کی خورشید ، ہیروئن تھی۔ امرتسر کے ممتاز لوک فنکار بھائی دیسا کو ہیرو جبکہ پٹیالہ کے ایک اور مشہور لوک فنکار بھائی چھیلا بھی اس فلم میں شامل تھے۔

فلم عشقِ پنجاب عرف مرزا صاحباں (1935) کی موسیقی پروفیسر نواب خان نامی صاحب کی تھی اور صرف ایک گیت کا حوالہ ملتا ہے جو ہندی/پنجابی مکسچر اس فلم کے اخباری اشتہار پر لکھا ہوا ہے اور ضروری نہیں کہ فلم میں بھی موجود ہو۔ غالباً خورشید کی آواز میں تھا جس کے بول تھے:

  • جے میں ایسا جان دی ، پریت کیے دکھ ہو
    نگر ڈھونڈورا پیٹتی ، پریت کرے نہ کو۔۔

اداکارہ اور گلوکارہ خورشید

فلم عشقِ پنجاب عرف مرزا صاحباں (1935) میں مرکزی کردار ادا کرنے والی اداکارہ اور گلوکارہ خورشید کی پہلی فلم کولکتہ میں بنائی گئی خاموش فلم لیلیٰ مجنوں (1931) تھی۔ اس نے تیس کے قریب فلموں میں کام کیا جن میں سے فلم تان سین (1943) سب سے مشہور اور سپرہٹ فلم تھی جس میں اس کی جوڑی وقت کے عظیم گلوکار اور اداکار کندن لال سہگل کے ساتھ تھی۔ اس فلم میں کلاسیکل دھنوں میں گائے ہوئے اس کے گیت اس دور میں بڑے مقبول ہوئے تھے۔

خورشید ، تقسیم سے قبل نورجہاں اور ثریا کے بعد تیسری مقبول ترین اداکارہ اور گلوکارہ ہوتی تھی۔ قیام پاکستان کے کچھ عرصہ بعد خورشید پاکستان واپس چلی آئی جہاں اس نے کراچی میں بنائی گئی دو پاکستانی فلموں فنکار اور منڈی (1956) میں بطور اداکارہ اور گلوکارہ کام کیا لیکن دونوں فلموں کی ناکامی کے بعد اس نے مزید کسی فلم میں کام نہیں کیا اور گوشہ گمنامی میں چلی گئی تھی۔

خورشید کا اصل نام ارشاد بیگم تھا۔ 1914ء میں میاں چنوں ، ضلع خانیوال میں پیدا ہوئی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ اس نے لاہور کے ایک مقامی فنکار لالہ یعقوب سے شادی کی تھی جو معروف کامیڈین یعقوب نہیں تھے۔ طلاق کے بعد دوسری شادی ایک یوسف بھائی میاں کے ساتھ کی تھی۔ 2001ء میں کراچی میں انتقال ہوا تھا۔

فلم عشقِ پنجاب (1935) کا ایک اخباری اشتہار

فلم عشقِ پنجاب عرف مرزا صاحباں (1935) کا اخباری اشتہار بڑا دلچسپ ہے جو پنجابی زبان (شاہ مکھی) میں لکھا ہوا ہے۔ اردو ترجمہ کچھ اس طرح سے ہے:

    "پنجابی زبان کی پہلی ، انوکھی اور انتہائی دلچسپ فلم عشقِ پنجاب عرف مرزا صاحباں جس میں حسین و جمیل مس خورشید ، مس سرلا (پنجاب کی مانی ہوئی ناچنے والی) ، بھائی دیسا ، امرتسر کا مشہور گویا ، بھائی چھیلا ، پٹیالے والا اور مزید کئی اچھے فنکار کام کر رہے ہیں۔

    فلم بنانے والوں نے اس فلم کو دلچسپ اور کامیاب بنانے کے لیے پانی کی طرح سے پیسہ بہایا ہے اور بڑے بڑے مشہور شہروں یعنی لاہور ، امرتسر ، گوجرانوالہ ، جھنگ اور گورداسپور کے خوبصورت مناظر عکس بند کیے ہیں۔ پنجابی رسم و رواج کو احسن طریقے سے دکھایا گیا ہے۔

    اب ہر پنجابی بہن بھائی کا فرض ہے کہ اپنے پورے خاندان کو لے کر اس پہلی پنجابی فلم کو دیکھنے آئیں اور بنانے والوں کی حوصلہ افزائی کریں۔"

ہندوستان کی پہلی پنجابی فلم کا دعویٰ کرنے والی یہ فلم بھی اپنی تیکنیکی کمزوریوں کی وجہ سے چند دن بعد ہی گمنام ہو گئی تھی۔

فلم شیلا عرف پنڈ دی کُڑی (1936)

برصغیر کی پہلی پنجابی فلم کی دعوے دار ایک اور فلم شیلا عرف پنڈ دی کُڑی (1936) تھی جو کلکتہ (کولکتہ) میں بنائی گئی پہلی پنجابی فلم تھی۔ یہ فلم بے بی نور جہاں کی پہلی فلم کے طور پر یادگار ہے لیکن اس فلم کی تاریخ نمائش کی متضاد معلومات ہیں۔

کولکتہ کی پہلی پنجابی فلم 
شیلا عرف پنڈ دی کُڑی (1936) 
بے بی نور جہاں کی پہلی فلم تھی
کولکتہ کی پہلی پنجابی فلم
شیلا عرف پنڈ دی کُڑی (1936)
بے بی نور جہاں کی پہلی فلم تھی

فلم شیلا عرف پنڈ دی کُڑی (1936) ، فلمساز ، ہدایتکار ، مصنف اور گیت نگار کے ڈی مہرہ کی مدن تھیٹرز کے لیے بنائی گئی پہلی پنجابی فلم تھی۔ ان کے چھوٹے بھائی ایم ایم بلو مہرہ نے پاکستان میں بطور ہدایتکار فلم اکیلی (1951) بنائی تھی جبکہ سید عطا اللہ شاہ ہاشمی کی متعدد فلموں نوکر (1955) ، چھوٹی بیگم (1956) وغیرہ کے درپردہ ہدایتکار بھی تھے۔

فلم شیلا عرف پنڈ دی کُڑی (1936) کا ٹائٹل رول نواب بیگم نے کیا اور اس کے ہیرو کے ایل راجپال تھے۔ دیگر اداکاروں میں اس دور کے ایک مشہور"گراموفون گلوکار" ماسٹر گاما کے علاوہ سب سے اہم نام بے بی نور جہاں کا تھا جو اپنی بڑی بہن حیدرباندی کے ساتھ اس فلم میں پہلی بار نظر آئی۔

فلم شیلا عرف پنڈ دی کُڑی (1936) کا پوسٹر

ہمارے پڑوسی ملک میں ہم پاکستانیوں کے لیے کچھ زیادہ ہی متعصبانہ ماحول رہا ہے۔ فلمی معلومات بھی اس سے مبرا نہیں ہیں۔ اس کی ایک مثال فلم شیلا عرف پنڈ دی کُڑی (1936) کا پوسٹر ہے جو اصل نہیں لگتا اور بعد بنایا گیا ہوگا۔

اس فلمی پوسٹر پر فلم کا نام انگریزی ، ہندوؤں کی دیونا گری پنجابی اور سکھوں کی گورمکھی پنجابی میں تو نمایاں طور پر لکھا ہوا ہے لیکن مسلمانوں کی شاہ مکھی پنجابی (فارسی/اردو نستعلیق رسم الخط) میں "مغروں لایا" ہوا ہے اور اس میں بھی "کُڑی" کی جگہ "کوڑی" لکھا گیا ہے جو کسی اناڑی کی کارستانی ہے۔

حقیت یہ ہے کہ 1960 کی دھائی تک بھارتی پنجابی فلموں کے پوسٹرز اور فلمی ٹائٹلز ، انگلش کے علاوہ شاہ مکھی اور دیوناگری میں لکھے جاتے تھے جبکہ فلمی کرداروں میں شاہ مکھی پنجابی استعمال ہوتی تھی۔ سکھوں کا گورمکھی رسم الخط شاذونادر ہی نظر آتا تھا۔

یاد رہے کہ تقسیم سے قبل ، متحدہ صوبہ پنجاب میں 53 فیصد مسلمان ، 30 فیصد ہندو ، 15 فیصد سکھ اور 2 فیصد سے کم عیسائی ، آبادی ہوتی تھی۔ مسلمانوں کی اکثریت کی وجہ سے پنجاب بھر میں اردو زبان کے علاوہ شاہ مکھی رسم الخط ، ذریعہ تعلیم تھا جسے ہندو اور سکھ بھی سیکھتے تھے۔

بے بی نور جہاں کی پہلی فلم

بے بی نور جہاں
بے بی نور جہاں

لاہور کے سٹیج پر اپنی گائیکی سے دھوم مچانے کے بعد بے بی نور جہاں ایک میوزیکل گروپ "پنجاب میل" کے ساتھ کلکتہ کے دورے پر گئی جس میں اس کی دونوں بہنوں ، عیدن بائی اور حیدرباندی کے علاوہ موسیقار جی اے چشتی بھی ساتھ تھے جنھوں نے بے بی نور جہاں کو لاہور کے سٹیج پر متعارف کروایا تھا۔ اس کامیاب دورے میں انھیں بھی کلکتہ میں بطور موسیقار فلمیں ملنا شروع ہو گئی تھیں۔

بے بی نور جہاں کی بے پناہ مقبولیت کو کیش کروانے کے لیے کلکتہ کی پہلی پنجابی فلم شیلا عرف پنڈ دی کُڑی (1936) میں شامل کیا گیا۔ اس فلم میں بڑے غلام علی خان کے چھوٹے بھائی موسیقار مبارک علی خان کی موسیقی میں بے بی نور جہاں نے صرف نو دس سال کی عمر میں اپنا پہلا فلمی گیت گایا جو اصل میں ایک مشہور لوک گیت تھا جس کے بول تھے "لنگ آجا پتن چناں دا یار۔۔" یہ گیت آن لائن موجود ہے جسے سن کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ میڈم ، بچپن ہی سے کیا طوفان ہوتی تھی۔

میڈم کی بڑی بہن حیدرباندی نے بھی اس فلم میں اداکاری کے علاوہ دو گیت گائے تھے۔ باقی گلوکاروں میں فلم کی ہیروئن نواب بیگم ، ہیرو کے ایل راجپال اور سائیڈ ہیرو اے آر کشمیری تھے۔

فلم شیلا عرف پنڈ دی کُڑی (1936) کے گیت

فلم شیلا عرف پنڈ دی کُڑی (1936) کے جملہ گیتوں کی معلومات بھارتی پنجابی فلموں کی تاریخ پر شائع ہونے والی ایک کتاب سے اخذ کی گئیں ہیں جس کا ایک عکس نیچے دیا گیا ہے۔ مکمل تفصیل مندرجہ ذیل ہے:

  • پریم نگر دیاں ناراں طعنے ماردیاں۔۔ (نواب بیگم ، کورس گیت)
  • ایتھے سدا رہن دی ریت نئیں۔۔ (ایک فقیر پر فلمایا ہوا)
  • ڈھول جانی ، ساڈی گلی آویں ، تیری مہربانی۔۔ (نواب بیگم ، کورس گیت)
  • لنگ آجا پتن چناں دا یار۔۔ (بے بی نور جہاں)
  • گوریئے ، نہ کر گمان گورے رنگ دا۔۔ (اے آر کشمیری ، حیدرباندی)
  • کھسماں نو کھا گیا گھر ، نی چل میلے نوں چلیے۔۔ (اے آر کشمیری ، حیدرباندی)
  • بھر پیٹے پیو شراباں ، بھن بھن کھاؤ۔۔ (؟)
  • بنسری والڑیا شاما، ذرا بانسری۔۔ (؟)
  • میرے کول آجا ، میرے ڈھول جانی۔۔ (نواب بیگم ، کے ایل راجپال)
  • بحر غماں وچ روڑ گیئوں۔۔ (؟)
  • شالا پردیسی نہ تھیوے کوئی۔۔ (کے ایل راجپال)
  • چل چلیے ، بمبئی نی۔۔ (؟)
  • تیری سانوں تانگ وے پیا۔۔ (نواب بیگم)
  • دور وسیندیا سوہنیا ، کدی تاں پھیرا پا۔۔ (؟)
  • میری توبہ ، بھائی چھٹی لال کے آ نوکرا۔۔ (؟)

فلم شیلا عرف پنڈ دی کُڑی (1936) کب ریلیز ہوئی؟

فلم شیلا عرف پنڈ دی کُڑی (1936) کا ذکر عام طور پر میڈم نور جہاں کی پہلی فلم کے حوالے کے طور پر ملتا ہے۔ اس فلم کی تاریخ نمائش 1935ء بتائی جاتی رہی ہے لیکن بھارتی پنجابی فلموں کی تاریخ پر شائع ہونے والی کتاب میں اس فلم کو 1936ء کی فلم شمار کیا گیا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اسی صفحہ پر یہ تضاد بیانی بھی ملتی ہے کہ یہ فلم 26 مارچ 1937ء کو لاہور کے پیلس سینما میں ریلیز ہوئی تھی۔

اس فلم کی ریلیز کی یہ تاریخ ایک اخباری اشتہار کے مطابق تھی جو پہلی بار پاکستان فلم میگزین پر شائع ہوا تھا۔ یہ فلم ، لاہور میں ہندوؤں کے مذہبی تہوار ہولی اور شاہ حسینؒ کے مزار پر ہونے والے میلہ چراغاں کی خوشی میں ریلیز ہوئی تھی اور عین ممکن ہے کہ دوبارہ ریلیز ہوئی ہو اور اس کی اصل تاریخ نمائش کوئی اور ہو۔

لاہور کے پیلس سینما پر 26 مارچ 1937ء کو ریلیز ہونے والی فلم شیلا عرف پنڈ دی کُڑی (1936) کا ایک اخباری اشتہار
لاہور کے پیلس سینما پر 26 مارچ 1937ء کو ریلیز ہونے والی فلم شیلا عرف پنڈ دی کُڑی (1936) کا ایک اخباری اشتہار

فلم شیلا عرف پنڈ دی کُڑی (1936) کے اس اردو اخباری اشتہار کے مطابق یہ برصغیر پاک و ہند کی پہلی پنجابی فلم تھی۔ اب یہ مسئلہ بھارتی فلمی تاریخ دانوں کا ہے کہ وہ ممبئی کی پہلی پنجابی فلم عشقِ پنجاب عرف مرزا صاحباں (1935) اور کلکتہ کی پہلی پنجابی فلم شیلا عرف پنڈ دی کُڑی (1936) کے مابین فیصلہ کر لیں کہ کون سی فلم پہلے بنی تھی۔ پاکستانی فلمی تاریخ کے علاوہ بھارت کا مین سٹریم میڈیا بھی تسلیم کرتا ہے کہ لاہور میں بننے والی فلم ہیر رانجھا (1932) ہی برصغیر پاک و ہند کی پہلی پنجابی فلم تھی۔

1947ء کے ہولناک فسادات میں جہاں اور بہت سا نقصان ہوا ، وہاں ہمارا تاریخی اور ثقافتی ورثہ بھی ضائع ہوا جس سے بہت سے حقائق ہمیشہ کے لیے گم ہو گئے۔ بدقسمتی سے اخبارات و جرائد ، کتابوں اور ابلاغ کے دیگر ذرائع میں جو کچھ لکھا اور کہا جاتا ہے وہ ہمیشہ معتبر نہیں ہوتا کیونکہ ان میں ذاتی رحجانات اور تعصبات صاف نظر آتے ہیں جو اکثر و بیشتر مبنی برحقیقت نہیں ہوتے۔ اس کے برعکس پرانے اخبارات کی فائلوں سے جو تاریخی حقائق ملتے ہیں ، انھیں جھٹلانا ممکن نہیں ہوتا لیکن انھیں ڈھونڈنا بڑا مشکل کام ہوتا ہے۔

پنجابی فلموں کی تاریخ پر ایک بھارتی کتاب میں فلم شیلا عرف پنڈ دی کڑی (1936) کی تاریخ نمائش میں تضاد




241 فنکاروں پر معلوماتی مضامین




PAK Magazine is an individual effort to compile and preserve the Pakistan's political, film and media history.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes, and therefor, I am not responsible for the content of any external site.