Pakistn Film Magazine in Urdu/Punjabi


A Tribute To The Legendary Playback Singer Masood Rana

Masood Rana - مسعودرانا Masood Rana sang 1045 songs in 649 films

مسعودرانا اور لقمان

عظیم بھارتی اداکار دلیپ کمار نے ایک پاکستانی فلم کی کہانی لکھی تھی جس کے فلمساز اور ہدایتکار لقمان تھے۔۔!

لقمان نے ملکہ ترنم نورجہاں کے پہلے شوہر ، فلمساز ، ہدایتکار اور تدوین کار سیدشوکت حسین رضوی کی تقسیم سے قبل کی ایک سپرہٹ اور نغماتی فلم زینت (1945) میں معاونت کی تھی۔ خودمختار ہدایتکار کے طور پر انھوں نے اپنی پہلی فلم ہمجولی (1946) بنائی جس کی ہیروئن بھی میڈم نورجہاں ہی تھیں۔ تقسیم سے پہلے آخری فلم جگنو (1947) میں بھی معاون تھے۔ اس یادگار فلم میں انھی کی سفارش پر میڈم نورجہاں کے مقابل عظیم اداکار دلیپ کمار کو ہیرو لیا گیا تھا جن کی پہلی تینوں فلمیں ناکام ہوچکی تھیں لیکن یہ فلم ان کے لیے بریک تھرو ثابت ہوئی تھی۔ اس احسان کے بدلے ان دونوں میں ہمیشہ دوستی رہی اور دلیپ کمار نے لقمان صاحب کے لیے ایک پاکستانی فلم کی کہانی بھی لکھی تھی جس کا ذکر آگے آئے گا۔

Film Shahida (1949)
ہدایتکار لقمان کی پہلی فلم شاہدہ (1949) ، پاکستان کی دوسری فلم تھی
پاکستان میں لقمان نے کل 16 فلمیں بنائی تھیں جن میں 13 اردو اور 3 پنجابی فلمیں تھیں۔ ان کی پہلی فلم شاہدہ ، 18 مارچ 1949ء کو ریلیز ہونے والی دوسری پاکستانی فلم تھی۔ یہ اور بات ہے کہ موصوف ساری زندگی مصر رہے کہ ان کی یہ فلم پاکستان کی پہلی فلم تھی۔ ان کا یہ دعویٰ بھی تھا کہ اس فلم کا ٹائٹل رول کرنے والی اداکارہ شمیم کا ادا کیا ہوا یہ مکالمہ "اللہ ، میری عزت تیرے ہاتھ میں ہے۔۔" پہلا مکالمہ ہے جو کسی پاکستانی فلم کے لیے ریکارڈ ہوا تھا۔ اس فلم کی کہانی اور مکالمے حکیم احمدشجاع نے لکھے تھے جن کی معاونت ان کے ہونہار بیٹے انورکمال پاشا نے کی تھی جو معاون ہدایتکار بھی تھے۔ یہ اکلوتی فلم تھی جس کے سبھی گیت حکیم صاحب نے لکھے تھے۔ فلم کی ہیروئن شمیم نے پاکستان میں کل سات فلموں میں کام کیا تھا اور انورکمال پاشا سے شادی کے بعد فلمی دنیا کو خیرآباد کہہ دیا تھا۔ تقسیم سے قبل بھی شمیم نے دودرجن سے زائد فلموں میں کام کیا تھا جن میں سے ایک دلیپ کمار کی پہلی فلم جواربھاٹا (1944) بھی تھی۔ فلم شاہدہ (1949) کے ہیرو ناصرخان تھے جو دلیپ کمار کے چھوٹے بھائی تھے۔ ان کی پاکستان میں یہ دوسری اور آخری فلم تھی۔ فلم کے ولن ہمالیہ والا تھے۔ فلم کی کہانی وہی روایتی عشق و محبت اور امیر و غریب کی کشمکش تھی۔

فلم شاہدہ (1949) کے دو موسیقار تھے جن میں سے ایک موسیقار ماسٹرغلام حیدر تھے جو تقسیم سے قبل کے ایک کامیاب موسیقار تھے لیکن پاکستان میں ناکام رہے تھے۔ دوسرے جی اے چشتی تھے جو پچاس کے عشرہ کے سب سے کامیاب اور مقبول ترین موسیقار تھے۔ گلوکار منورسلطانہ اور عبدالشکور بیدل تھے لیکن کسی مشہور گیت کا حوالہ نہیں ملتا۔ اس فلم کے بارے میں یہ دعویٰ بھی کیا جاتا ہے کہ اس نے دہلی اور لکھنو میں جوبلیاں منائی تھیں لیکن پاکستان میں ناکام رہی تھی۔

لقمان کی بطور ہدایتکار دوسری فلم محبوبہ (1953) تھی جس میں سنتوش کے ساتھ شمی ہیروئن تھی۔ وہ فلم شاہدہ (1949) میں چائلڈسٹار کے طور پر کام کرچکی تھی۔ شمی ، اداکارہ سلمیٰ ممتاز کی بہن تھی جو سدھیر کی بیوی بنی۔ یہ فلم اوسط درجہ کی تھی۔ ماسٹرعنایت حسین کی موسیقی میں قتیل شفائی کا لکھا ہوا اور منورسلطانہ اور فضل حسین کا گایا ہوا یہ دوگانا پسند کیا گیا تھا "کسی کا نام شامل ہوگیا میری کہانی میں۔۔" اس فلم میں پہلی بار اداکار اکمل ، ایکسٹرا اداکار کے طور پر نظر آئے تھے۔

1955ء کی عیدالفطر 24 مئی کو تھی ، منگل کا دن تھا اور اس مبارک دن ہدایتکار لقمان کی پہلی کامیاب ترین فلم پتن (1955) ریلیز ہوئی تھی جو ان کی پہلی پنجابی فلم بھی تھی۔ اداکارہ مسرت نذیر کی بطور مکمل ہیروئن کے یہ پہلی فلم تھی جس کے ہیرو سنتوش تھے۔ اس نغمہ بار فلم کی موسیقی بابا چشتی نے دی تھی اور کئی ایک گیت سپرہٹ ہوئے تھے۔ زبیدہ خانم کا گیت "چھڈ جاویں نہ چناں بانہہ پھڑ کے۔۔" مقبول ترین گیت تھا۔ زبیدہ خانم اور عنایت حسین بھٹی کے یہ دو دلکش دوگانے "بیڑی دتی کھیل اوئے ، محبتاں دا میل اوئے ، رب نے ملایا ساڈا پتناں تے میل اوئے۔۔" اور "ساڈا سجرا پیار کوے وار وار ، کیتے ہوئے قرار بھل جائیں نہ۔۔" بھی سپرہٹ گیت تھے۔ اس فلم کا ایک مزاحیہ گیت "جتی قصوری ، پیری نہ پوری ، ہائے ربا وے سانوں ٹرنا پیا۔۔" علاؤالدین کی آواز میں تھا جو اس فلم میں ایک جوکر ٹائپ ولن اور تک بندی کرنے والے شاعر کے کردار میں تھے۔ اس مزاحیہ گیت کو مختلف دھنوں میں گایا گیا تھا جن میں سے ایک دھن پر موسیقار طافو نے فلم انورا (1970) کا مشہور زمانہ گیت "لاج محبتاں دی رکھ وے میرے پنڈ دیا چھوروآ۔۔" ریکارڈ کیا تھا۔

ہدایتکار لقمان کی چوتھی فلم ایورنیو پکچرز کے فلمساز آغا جی اے گل کی نغماتی فلم لخت جگر (1956) تھی۔ یہ فلم ایک بھارتی فلم وچن (1955) کا چربہ تھی اور ہدایتکار منشی دل کی فلم حمیدہ (1956) سے مقابلے میں بنائی جارہی تھی۔ دونوں فلموں کی یکساں کہانیوں کے علاوہ صرف ایک بات مشترک تھی کہ دونوں فلموں کے ہیرو سنتوش تھے جن کی فلم حمیدہ (1956) میں ہیروئن صبیحہ خانم اور فلم لخت جگر (1956) میں میڈم نورجہاں تھیں۔ ان دونوں فلموں میں بالترتیب اعجاز اور حبیب نئے چہروں کی صورت میں متعارف ہوئے تھے۔ لخت جگر (1956) کے موسیقار جی اے چشتی تھے جن کی موسیقی میں چند گیت بڑے مقبول ہوئے تھے۔ ان میں سے حزیں قادری کا لکھا ہوا گیت "آ حال دیکھ لے میرا کہ دل میں پیار بسا کر تیرا ، میں برباد ہوئی۔۔" اور سیف الدین سیف کے لکھے ہوئے دونوں گیت "وہ خواب سہانا ٹوٹ گیا ۔۔" اور "چندا کی نگری سے آجا ری نندیا ، تاروں کی نگری سے آجا۔۔" بابا چشتی ، اس لوری کو اپنی اردو فلموں کا سب سے بہترین گیت قرار دیتے تھے۔ یہ تینوں گیت میڈم نورجہاں نے گائے تھے۔

ہدایتکار لقمان نے بطور فلمساز پہلی فلم آدمی (1958) بنائی تھی جس میں انھوں نے حبیب کو ٹائٹل اور ڈبل رول دیا تھا۔ یہ ایک بہت اچھی سوشل فلم تھی۔ یاسمین نے جذباتی اداکاری میں کمال کر دیا تھا۔ فلم کا ہٹ گیت تو ناہیدنیازی اور سلیم رضا کی آوازوں میں تھا "زمانہ پیار کا اتنا ہی کم ہے ، یہ نہ جانا تھا۔۔" لیکن جس گیت نے مجھے تڑپا کر رکھ دیا تھا وہ ناہیدنیازی صاحبہ کی گائیکی کا کمال تھا "جاگ ، تقدیر کو جگا لوں گی۔۔" ایک مردہ بچے کو ایک بے بس ماں کس طرح پاگلوں کی طرح زندہ کرنے کی ناکام کوشش کرتی ہے ، ناقابل فراموش منظر تھا۔ اس فلم میں طالش اور دلجیت مرزا کا کامیڈی حصہ بڑے کمال کا تھا۔

افغان حملہ آور اور فاتح سلطان محمود غزنوی (971ء تا 1030ء) پر بنائی گئی واحد پاکستانی فلم ایاز (1960) بنانے کا اعزاز بھی لقمان کو حاصل تھا۔ اس فلم کا ٹائٹل رول سینئر اداکار شاہنواز نے کیا تھا جو ایک تاریخ ساز اداکار تھے۔ انھوں نے برصغیر پاک و ہند کی پہلی ڈائمنڈ جوبلی فلم قسمت (1943) میں مرکزی ولن کا رول کیا تھا۔ ممتاز شانتی اور اشوک کمار اس فلم کی روایتی جوڑی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ اس فلم نے کلکتہ میں 190 سے زائد ہفتے چلنے کا ریکارڈ قائم کیا تھا۔ پاکستان میں ان کے کریڈٹ پر دودرجن کے قریب فلمیں ہیں جن میں پہلی سلورجوبلی اردو فلم دوآنسو (1950) اور پہلی گولڈن جوبلی اردو فلم سسی (1954) بھی شامل ہیں۔

سلطان محمودغزنوی کو ہماری تاریخ میں 'بت شکن' کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ہمیں یہ پڑھایا جاتا رہا ہے کہ محمود نے ہندوستان پر سترہ حملے کیے تھے اور ہر بار کامیاب رہا تھا۔ ہم سوچتے رہتے تھے کہ اگر وہ ہر بار کامیاب ہوا تھا تو سترہ بار حملے کرنے کی نوبت کیوں آئی تھی؟ ہماری کاپیوں کی جلد پر طرح طرح کی جو مصوری ہوتی تھی ان میں سے ایک پر محمودغزنوی کے سومنات کے اس قیمتی بت کو توڑنے والی تصویر میرے ذہن پر آج بھی نقش ہے۔ تاریخ کی ستم ظریفی دیکھیے کہ سومنات کا وہ بت اور مندر ، آج بھی اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ موجود ہے لیکن ہمارا 'بت شکن' تاریخ کی کتابوں میں کہیں گم ہو چکا ہے۔۔!

سلطان محمودغزنوی نے اپنے چہیتے ملازم ایاز کو 1021ء میں لاہور کا گورنر مقرر کیا تھا اور یہ کردار اس فلم میں حبیب نے کیا تھا۔ کمال دوسرے ہیرو تھے اور ولن نعیم ہاشمی تھے۔ صبیحہ ، نیلو اور نیرسلطانہ ہیروئنیں تھیں جن پر تنویرنقوی کی لکھی ہوئی اور زبیدہ خانم اور ساتھیوں کی گائی ہوئی یہ لازوال نعت بھی فلمائی گئی تھی "جو نہ ہوتا تیرا جمال ہی ، صلو الیہ وآلہ۔۔" خواجہ خورشید انور کی موسیقی میں چند دیگر گیت بھی مقبول ہوئے تھے جن میں "رقص میں ہے سارا جہاں۔۔" اور "ناچ ناچ پروانے جب تک شمع جلے۔۔" قابل ذکر ہیں۔

لقمان صاحب نے بطور فلمساز اور ہدایتکار ایک روسی ناول پر مبنی فلم فرشتہ (1961) بھی بنائی تھی جو ایک نیم آرٹ فلم تھی۔ بین الاقوامی میعار کی فلمیں پسند کرنے والوں کے لیے حیرت کا باعث تھا کہ ایسی فلم پاکستان میں بنائی گئی تھی۔ ایک غریب خاندان کی کفالت کے لیے جسم فروشی کا دھندہ کرنے والی ایک عورت کی کہانی تھی جسے ایک نوجوان اس دلدل سے نکالتا ہے۔ یاسمین ، اعجاز ، طالش اور علاؤالدین مرکزی کرداروں میں تھے۔ میڈم نورجہاں اور سلیم رضا کے گائے ہوئے الگ الگ گیت "زمانہ کس قدر نامہربان ہے۔۔" بہت اچھے گیت تھے۔ موسیقار رشید عطرے تھے اور گیت تنویرنقوی کے لکھے ہوئے تھے۔

ہدایتکار لقمان کی دوسری پنجابی فلم اک پردیسی اک مٹیار (1964) میں نغمہ کے ہیرو اسد بخاری تھے جو ان دنوں ہیرو کے طور پر فلموں میں کاسٹ ہوتے تھے لیکن ناکامی کے بعد پنجابی فلموں کے ممتاز ولن اداکار ثابت ہوئے تھے۔ علاؤالدین مرکزی کردار میں تھے۔

لقمان کی تیسری اور آخری پنجابی فلم ووہٹی (1967) تھی جس کا ٹائٹل رول نیلو نے کیا تھا۔ یہ ایک عجیب و غریب فلم تھی جس میں کوئی مستقل ہیرو نہیں تھا۔ سنتوش ، محمدعلی اور لہری کو مہمان اداکاروں کے طور پر نیلو کے مقابل پیش کیا گیا تھا۔ یہ لقمان کی اکلوتی فلم تھی جس میں مسعودرانا نے دو گیت گائے تھے۔ خواجہ پرویز کے لکھے ہوئے دونوں گیت آئرن پروین کے ساتھ تھے جن کی دھنیں بابا چشتی نے بنائی تھیں۔ ان میں سے ایک مزاحیہ گیت ادکارہ ناہید اور دلجیت مرزا پر فلمایا گیا تھا "اساں دل دتا ، تسیں سر تے پیے چڑھدے او ، بڑی مہربانی ، غصہ کیوں کردے او۔۔" جبکہ دوسرا مزاحیہ گیت نذر اور زینت پر فلمایا گیا تھا "بڈھیا وے بڈھیا ، ووہٹی بن کے جوانی یاد آگئی۔۔" اس دلچسپ گیت کو مسعودرانا اور آئرن پروین نے بوڑھی آوازوں میں گایا تھا اور کیا خوب گایا تھا۔

لقمان ایک تجربہ کار ہدایتکار تھے لیکن ان کی زیادہ تر فلمیں فلاپ ہوئیں۔ محل (1968) واحد گولڈن جوبلی اردو فلم تھی جس میں زیبا اور محمدعلی مرکزی کرداروں میں تھے۔ رشیدعطرے کی موسیقی میں کئی گیت مقبول ہوئے تھے جن میں میڈم نورجہاں کا گیت "جیا را ترسے ، دیکھنے کو۔۔" ، مہدی حسن اور نگہت سیما کا گیت "آواز جب بھی دیں ہم ، پہچان جایئے گا۔۔" اور رونالیلیٰ اور احمدرشدی کا گیت "سنا ہے کہ دل لے کے دیتے ہیں دھوکہ ، مگر میری جان ہم تو ایسے نہیں ہیں۔۔" بڑے مقبول ہوئے تھے۔ یہ سبھی گیت فیاض ہاشمی کے لکھے ہوئے تھے۔

فلم پاکیزہ (1968) میں لقمان نے زیبا کے مقابل اعجاز کو ہیرو کے طور پر پیش کیا تھا۔ محمدعلی ، ولن کے طور پر زیبا کا ریپ کرتے ہیں۔ اس فلم کا حاصل سلیم اقبال کی دھن میں احمدراہی کا لکھا ہوا یہ شاہکار گیت تھا جسے میڈم نورجہاں نے اپنی سریلی آواز میں گا کر امر کردیا تھا "تم تو کہتے تھے ، بہار آئی تو لوٹ آؤں گا ، لوٹ آؤ میرے پردیسی ، بہار آئی ہے۔۔"

لقمان نے فلمساز اور ہدایتکار کے طور پر ایک بار پھر فلم ہمجولی (1970) کے نام سے ایک فلم بنائی تھی جس میں نیرسلطانہ اور درپن کی روایتی جوڑی تھی۔ مصطفیٰ قریشی ، ادیب اور لہری اہم کرداروں میں تھے۔ یہ ایک بڑی ہی کمزور فلم تھی جس کا ٹمپو بڑا سست تھا جو اکتاہٹ کا باعث بنتا ہے۔ ویسے بھی شادی کے بعد فلم بینوں نے نیرسلطانہ کو ہیروئن کے طور پر قبول نہیں کیا تھا۔

لقمان کی فلم افسانہ (1970) مجیب عالم کے گائے ہوئے ایک سدابہار گیت کی وجہ سے یادرکھی جاتی ہے "یوں کھو گئے تیرے پیار میں ہم ، اب ہوش میں آنا مشکل ہے۔۔" تنویرنقوی کے لکھے ہوئے اس گیت کی دھن ناشاد نے بنائی تھی۔ وہ یادگار لمحہ جب یہ سپرہٹ گیت تخلیق ہوا تھا ، کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کر لیا تھا جو اس مضمون کے آخر میں دیا گیا ہے۔ دیبا ، وحیدمراد اور روزینہ اہم کردار تھے۔

ہدایتکار لقمان کی اگلی فلم دنیا نہ مانے (1971) کی خاص بات یہ تھی کہ اس کی فلمساز کے طور پر 'یاسمین شوکت' کا نام آتا ہے۔ اس فلم میں پاکستان کی پہلی سلورجوبلی ہیروئن سورن لتا نے آخری بار اداکاری کی تھی۔ ناشاد کی دھن میں احمدرشدی کا یہ گیت کمال کا تھا "الہیٰ ، کوئی ہوا کا جھونکا۔۔" زیبا اور محمدعلی مرکزی کرداروں میں تھے۔

لقمان نے ایک بار پھر فلمساز اور ہدایتکار کے طور پر ایک انگریزی ناول پر ایک فلم بنائی تھی جس کا نام پرچھائیں (1974) تھا۔ اس فلم میں زیبا کا ڈبل رول تھا اور ہیرو محمدعلی تھے۔ اس فلم کی خاص بات یہ تھی کہ موسیقار ناشاد نے فلم کے ٹائٹل کے لیے مشہور زمانہ دھمال "لال میری پت رکھیو بلا ، جھولے لالن۔۔" ریکارڈ کی تھی جس میں نمایاں آواز میڈم نورجہاں کی تھی جبکہ ساتھی گلوکاروں کے ٹائٹل پر جو نام تھے ، وہ تھے: مالا ، آئرین پروین ، تصورخانم ، احمدرشدی ، مسعودرانا ، شوکت علی ، غلام علی اور پرویز مہدی۔

لقمان کی بطور فلمساز اور ہدایتکار آخری فلم وفا (1981) تھی جس میں سکندر لقمان ، معاون فلمساز تھے جبکہ فیصل لقمان نامی اداکار کو بھی متعارف کروایا گیا تھا۔ یہ دونوں ان کے بیٹے ہو سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ میڈیا میں یہ بھی سننے میں آتا رہا ہے کہ مشہور ٹی وی اینکر مبشر لقمان بھی ان کے بیٹے ہیں لیکن متضاد خبروں کی وجہ سے پاکستان فلم میگزین پر ایسی معلومات نہیں دی جارہیں۔

فلم وفا (1981) کی خاص بات یہ تھی کہ اس فلم کی کہانی بھارت کے عظیم اداکار دلیپ کمار نے لکھی تھی جس کا منظرنامہ اور مکالمے نصیر ناصر نے لکھے تھے۔ بابرہ شریف اور آصف رضا میر روایتی جوڑی تھی۔ اس فلم کی ایک اور نمایاں بات یہ تھی اس کے موسیقار خالدوحید تھے جنہوں نے اس فلم کے ساتوں گیت گائے تھے۔ ان میں سے "دیواروں سے باتیں کرنا ، اچھا لگتا ہے۔۔" ایک بڑا مقبول گیت تھا۔ اس فلم میں خالدوحید نے ایک دوگانا گایا تھا "نظروں کو اور کوئی نہ جلوہ دکھائی دے۔۔" اس گیت میں ان کی ساتھی گلوکارہ میڈم نورجہاں تھیں جو اس وقت ان کی خوشدامن بھی تھیں۔ بدقسمتی سے بعد میں اختلافات سامنے آئے اور ان کی مطلقہ نے معروف ہاکی کھلاڑی حسن سردار سے دوسری شادی کرلی تھی۔ خالدوحید نے ایک غیر ریلیز شدہ فلم رستم خان میں مسعودرانا اور میڈم نورجہاں کے ساتھ ایک لاجواب ملی ترانہ گایا تھا "دن 14 اگست دا یاد رکھنا ، قائداعظمؒ دی ایس امانت نوں ، میرے دوستو ، سدا آباد رکھنا۔۔"

لقمان کی پیدائش 1922 کی ہے اور جائے پیدائش کے بارے میں متضاد معلومات ہیں کہ جالندھر ہے یا دہلی البتہ ان کا انتقال 1994ء میں ہوا تھا۔

مسعودرانا کے لقمان کی 2 فلموں میں 3 گیت

(1 اردو گیت ... 2 پنجابی گیت )
1
فلم ... ووہٹی ... پنجابی ... (1967) ... گلوکار: آئرن پروین ، مسعود رانا ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: خواجہ پرویز ... اداکار: ناہید ، دلجیت مرزا
2
فلم ... ووہٹی ... پنجابی ... (1967) ... گلوکار: آئرن پروین ، مسعود رانا ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: خواجہ پرویز ... اداکار: زینت ، نذر
3
فلم ... پرچھائیں ... اردو ... (1974) ... گلوکار: نورجہاں ، مالا ، تصورخانم ، آئرن پروین ، احمد رشدی ، مسعود رانا ، شوکت علی ، غلام علی ، پرویز مہدی ... موسیقی: ناشاد ... شاعر: ؟ ... اداکار: (پس پردہ ، ٹائٹل سانگ )

Masood Rana & Luqman: Latest Online film

Masood Rana & Luqman: Film posters
WohtiParchhaen
Masood Rana & Luqman:

0 joint Online films

(0 Urdu and 0 Punjabi films)

Masood Rana & Luqman:

Total 2 joint films

(1 Urdu, 1 Punjabi films)

1.06-10-1967: Wohti
(Punjabi)
2.08-03-1974: Parchhaen
(Urdu)


Masood Rana & Luqman: 3 songs in 2 films

(1 Urdu and 2 Punjabi songs)

1.
Punjabi film
Wohti
from Friday, 6 October 1967
Singer(s): Irene Parveen, Masood Rana, Music: G.A. Chishti, Poet: , Actor(s): Naheed, Diljeet Mirza
2.
Punjabi film
Wohti
from Friday, 6 October 1967
Singer(s): Irene Parveen, Masood Rana, Music: G.A. Chishti, Poet: , Actor(s): Zeenat, Nazar
3.
Urdu film
Parchhaen
from Friday, 8 March 1974
Singer(s): Noorjahan, Mala, Irene Parveen, Tasawur Khanum, Ahmad Rushdi, Masood Rana, Shoukat Ali, Ghulam Ali, Parvez Mehdi, Music: Nashad, Poet: , Actor(s): (Playback)


پاکستان فلم میگزین ۔۔۔ سنہری فلمی یادوں کا امین

پاکستان فلم میگزین ، پاکستانی فلموں ، فلمی گیتوں اور فلمی فنکاروں پر اولین ، منفرد اور ایک بے مثل معلوماتی اور تفریحی ویب سائٹ ہے جو 3 مئی 2000ء سے مسلسل اپ ڈیٹ ہورہی ہے۔ یہ ایک انفرادی کاوش ہے جو فارغ اوقات کا ایک بہترین مشغلہ بھی ہے۔ یہ تاریخ ساز ویب سائٹ کبھی نہ بن پاتی ، اگر پاکستانی فلموں میں میرے آئیڈیل گلوکار جناب مسعودرانا صاحب کے گیت نہ ہوتے۔ اس عظیم گلوکار کو ایک منفرد خراج تحسین پیش کرنے کے لئے اس کے گائے ہوئے ایک ہزار سے زائد گیتوں کا پہلا اردو ڈیٹابیس بنایا گیا ہے جس میں ریکارڈ محفوظ رکھنے کے علاوہ دیگر ساتھی فنکاروں پر تفصیلی مضامین بھی شائع کئے جارہے ہیں۔

تازہ ترین اپ ڈیٹس




Pakistan Film Magazine

The first and largest website on Pakistani films, music and artists with chronological film history since 1913, useful information's, facts & figures, milestones, filmo- & songographies, images, videos and Urdu/Punjabi articles on various film topics.



Doli
Doli
(1965)
Sangram
Sangram
(1981)



Artists database

Useful information's with detailed film records, milestones, videos, images etc..


Click on any category from the menu below and read more information's..