Menu of Pakistan Film Magazine
Pakistn Film Magazine in Urdu/Punjabi


A Tribute To The Legendary Playback Singer Masood Rana

Masood Rana - مسعودرانا


ریاض احمد راجو

پاکستان کی فلمی تاریخ میں متعدد ہم عصر فنکار ، ہم نام رہے ہیں۔۔!

ریاض احمد
ریاض احمد

ریاض احمد راجو ، ایک فلمی ہدایتکار تھے جن کے ہم نام اور ہم عصر ہدایتکار ریاض احمد بھی تھے۔

دونوں میں فرق صرف اتنا تھا کہ ریاض احمد نے زیادہ تر اردو فلمیں بنائیں جن میں کالا پانی (1963) ، غدار ، خاندان (1964) اور سسی پنوں (1968) وغیرہ تھیں جبکہ ریاض احمد راجو کے کریڈٹ پر زیادہ تر پنجابی فلمیں تھیں جن مٹی دیاں مورتاں (1960) ، دل دا جانی (1967) اور یارمستانے (1974) وغیرہ شامل ہیں۔

ہدایتکار ریاض احمد کے بارے میں ایک تفصیلی مضمون لکھا جا چکا ہے۔ آج کی نشست میں ریاض احمد راجو کی فلموں کے بارے میں بات ہوگی لیکن پہلے ان خاص خاص فنکاروں پر مختصراً ایک نظر ڈالیں گے جو ہم عصر اور ہم نام تھے:

نورجہاں

عام طور پر لوگ صرف ملکہ ترنم نورجہاں ہی کو جانتے ہیں لیکن بہت کم لوگوں کو علم ہوگا کہ پاکستان میں ایک نورجہاں بیگم بھی تھی جو ایک ریڈیو گلوکارہ تھی۔ اس نے سات فلموں میں آٹھ گیت گائے تھے اور فلم منگتی (1961) میں واحد سولو گیت گایا تھا "مینوں چاندی دیاں جھانجھراں لیا دے۔۔" 1968ء میں انتقال ہوا تھا۔

اس کے علاوہ تقسیم سے قبل تیس اور چالیس کے عشروں میں بمبئی کی ہندی/اردو فلموں میں بھی ایک ہیروئن 'نورجہاں' ہوتی تھی جو 'بےبی نورجہاں' کے چوٹی کی فلمی ہیروئن اور گلوکارہ بننے کے بعد پس منظر میں چلی گئی تھی۔

عنایت حسین

پاکستان کی فلموں کے ابتدائی دور کے دو ممتاز نام 'عنایت حسین' تھے جن میں سے ایک عنایت حسین بھٹی تھے جو پاکستان کے سینئر ترین گلوکار تھے۔ انھیں یہ ناقابل شکست اعزاز حاصل ہے کہ انھوں نے پاکستان کی پہلی پنجابی فلم پھیرے (1949) میں نغمہ سرائی کی تھی۔ دلچسپ اتفاق ہے کہ ان کا پہلا ریکارڈ ہونے والا فلمی گیت "نی سوہے چوڑے والیئے۔۔" جس موسیقار نے کمپوز کیا تھا ، وہ پاکستان کی فلمی تاریخ کا ایک بہت بڑا نام اور ان کا ہم نام تھا ، یعنی عظیم موسیقار ماسٹر عنایت حسین ، جن کے کریڈٹ پر بڑی تعداد میں سپرہٹ گیت ہیں۔

سلیم رضا

پاکستان کی تاریخ کا ایک بڑا نام سلیم رضا کا تھا جو اردو فلموں کے پہلے بڑے گلوکار تھے۔ ان کے ہم نام ایک اداکار سلیم رضا بھی تھے جو ان سے سینئر تھے۔ تقسیم سے قبل کی فلموں میں اداکاری کرنے کے علاوہ پچاس کے عشرہ کی کئی فلموں میں ولن اداکار کے طور پر سامنے آئے تھے۔ چن ماہی ، چھوٹی بیگم (1956) اور توحید (1958) وغیرہ اہم فلمیں تھیں۔

اداکار سلیم رضا کے بیٹے آغا سکندر ٹی وی کے ایک مشہور اداکار تھے جو عنایت حسین بھٹی کے داماد تھے اور جوانی ہی میں فوت ہو گئے تھے۔

زینت

پاکستان کے پہلے دو عشروں کی ممتاز اداکارہ زینت نے دو سو کے قریب فلموں میں کام کیا تھا۔ وہ فلمسازہ اور ہدایتکارہ بھی تھی۔ اسی نام کی ریڈیو پاکستان لاہور کی ایک گلوکارہ زینت بیگم بھی تھی جسے یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے محمدرفیع کے ساتھ ان کا پہلا فلمی گیت گایا تھا۔

اے حمید

اس نام کے تین افراد مشہور ہوئے جن میں ایک افسانہ نگار اے حمید تھے۔ فلم سوسائٹی (1959) کے کہانی نویس کا نام اے حمید تھا ، ممکن ہے کہ یہ کہانی انھوں نے لکھی ہو۔

ایک فلمساز ، ہدایتکار اور عکاس اے حمید بھی تھے جنھیں بھائیا اے حمید بھی کہتے تھے۔ انھوں نے 40 فلمیں بنائیں جن میں سے سات فلموں کے ہدایتکار اور بہت سی فلموں کے عکاس بھی تھے۔ زیادہ تر شباب کیرانوی کے ساتھ ہوتے تھے۔

فلموں میں زیادہ تر موسیقار اے حمید کا نام سننے میں آتا تھا جنھوں نے ستر سے زائد فلموں کی موسیقی دی تھی اور جن کے کریڈٹ پر بے شمار میوزیکل فلمیں تھیں۔

شکیل

اس نام کے بھی دو فنکار تھے۔ ایک کراچی ٹیلی ویژن کے سپرسٹار اداکار شکیل تھے جنھوں نے چند فلموں میں کام کیا لیکن ناکام رہے۔ ان کی پہلی فلم ہونہار (1966) تھی۔ ان کے ایک ہم نام اداکار شکیل کا تعلق لاہور سے تھا جو زیادہ تر پنجابی فلموں میں نظر آتے تھے۔ ان کی سب سے بڑی پہچان فلم مولا جٹ (1979) میں جیلر کا کردار تھا جسے نوری نت یعنی مصطفیٰ قریشی کا یہ مشہور زمانہ ڈائیلاگ سننے کا 'اعزاز' حاصل ہے کہ "نواں آیا ایں سوہنیا۔۔؟"

مسعودبٹ

'مسعودبٹ' نام کے بھی دو فنکار ہیں جن میں ایک نامور ہدایتکار مسعودبٹ ہیں تو دوسرے ان کے ساتھ کام کرنے والے کیمرہ مین مسعودبٹ ہیں جن کے ساتھ ایک فلم کی شوٹنگ کے دوران ایک حادثہ ہوا تھا جب ایک بم پھٹنے سے ان کا دایاں ہاتھ ضائع ہوگیا تھا لیکن پھر بھی وہ اپنا کام خوش اسلوبی سے انجام دیتے رہے تھے۔

ندیم بیگ

آج کے دور کے ٹیلی ویژن اور فلم کے مقبول ہدایتکار ندیم بیگ کو ماضی کی اردو فلموں کے عظیم ہیرو ندیم صاحب سے گڈمڈ کیا جارہا ہے۔ گوگل سرچ پر ندیم صاحب کا نام 'ندیم بیگ' کے طور پر ملتا ہے جو غلط ہے کیونکہ ندیم صاحب کا فلمی نام صرف ' ندیم ' ہوتا تھا ، 'ندیم بیگ' نہیں۔ شاید یہی وجہ ہے ایک اناڑی اینکر ، ندیم صاحب کا انٹرویو کرتے وقت انھیں ندیم بیگ کے ڈراموں اور فلموں کا کریڈٹ بھی دے رہی تھی۔

ریاض احمد راجو کا فلمی ریکارڈ

ریاض احمد راجو ، ممتاز اداکار علاؤالدین کے چھوٹے بھائی تھے۔ وہ ، فلمیں بنانے کے علاوہ متعدد فلموں میں بطور اداکار چھوٹے موٹے کرداروں میں نظر آتے تھے۔ ان کی آواز مکمل طور پر اپنے بھائی سے ملتی تھی۔

راجو صاحب کی بطور ہدایتکار ، پہلی فلم جائیداد (1959) تھی جس کی کہانی ممتاز صحافی اور ادیب ابراہیم جلیس نے لکھی تھی ، مکالمے ریاض شاہد نے لکھے تھے۔ علاؤالدین ، مرکزی کردار میں تھے۔ روایتی جوڑی مسرت نذیر اور اسلم پرویز کی تھی۔ اردو فلموں کی صف اول کی اداکارہ شمیم آرا کی یہ پہلی پنجابی فلم تھی جبکہ دوسری اور آخری پنجابی فلم تیس سال بعد ریلیز ہوئی تھی۔

موسیقار ماسٹرعاشق حسین تھے ، نغمات لکھنے والوں میں تنویرنقوی ، قتیل شفائی اور استاد دامن جیسے بڑے بڑے نام تھے۔ یہ ایک گمنام فلم ہے جو بظاہر جائیداد کی تقسیم پر سگے رشتوں میں ہونے والی عداوتوں کے بارے میں تھی۔ استاد دامن کے لکھے ہوئے اور عنایت حسین بھٹی کے گائے ہوئے اس تھیم سانگ میں کہانی کا خلاصہ مل جاتا ہے "ایتھے ویر ویراں نوں ماردے۔۔" ایسا ہی ایک گیت "اک کلا تے دو یاراں ، یاراں نال بہاراں۔۔" قتیل شفائی کا لکھا ہوا گیت تھا جسے بھٹی صاحب کے ساتھ فضل حسین نے گایا تھا۔

مٹی دیاں مورتاں (1960)

فلمساز وزیرعلی کی اردو فلم الہ دین کا بیٹا (1960) ، ریاض احمد راجو کی پہلی اردو فلم تھی۔ نیلو اور رتن کمار کی جوڑی تھی جن پر بابا چشتی کی موسیقی میں ناہیدنیازی اور منیر حسین کا یہ گیت فلمایا گیا تھا "دیکھ کے چلنا ، رستے میں دل ہے کسی دیوانے کا۔۔" احمدراہی ، نغمہ نگار تھے۔

ریاض احمد راجو کی تیسری فلم مٹی دیاں مورتاں (1960) ایک یادگار پنجابی فلم تھی۔ بہار اور اسلم پرویز کی جوڑی کی یہ رومانٹک فلم اپنے گیتوں کی وجہ سے جانی جاتی تھی۔ بابا چشتی کا لکھا ہوا اور کمپوز کیا ہوا یہ گیت فلم کا سب سے مقبول ترین گیت تھا "دلاں دیاں میلیاں نیں چن جیاں صورتاں ، ایناں کولوں چنگیاں نیں مٹی دیاں مورتاں ۔۔" اس دور کی ایک مقبول گلوکارہ ناہیدنیازی کے فلمی کیرئر کا یہ سب سے مقبول پنجابی گیت تھا جس کا میل ورژن آصف خان نامی گلوکار نے گایا تھا۔

اسی فلم میں عنایت حسین بھٹی کا یہ گیت بھی بڑا مقبول ہوا تھا "کرے نہ بھروسہ کوئی دنیا دے پیار دا ، کوئ ایتھے جت دا تے کوئی ایتھے ہار دا۔۔" اسی فلم کا ایک بڑا دلکش دوگانا بھٹی صاحب کے ساتھ آئرن پروین نے گایا تھا "وے محلاں ایٹھ کھلوتیا ، تو چور ایں یا کوئی ہور۔۔" آئرن پروین کی آواز بڑی حد تک زبیدہ خانم کے ساتھ ملتی تھی جس کے فلمی دنیا چھوڑنے سے اسے اس دور میں بڑی کامیابی ملی تھی اور وہ مصروف ترین گلوکارہ بن گئی تھی۔

زیبا ، علاؤالدین کی ہیروئن

ریاض احمد راجو نے فلم تیرے شہر میں (1965) اپنے بھائی علاؤالدین کو اداکارہ زیبا کے مقابل ہیرو کے طور پر پیش کیا تھا جو فلم بینوں کو ہضم نہ ہو سکا تھا۔ اس فلم میں حسن لطیف کی دھن میں منیرنیازی کا یہ سپرہٹ گیت مہدی حسن کی آواز میں تھا "کیسے کیسے لوگ ، ہمارے دل کو جلانے آ جاتے ہیں۔۔" ایسا ہی ایک تجربہ انھوں نے فلم گھرکا اجالا (1966) میں کیا تھا جب رانی کو محمدعلی کی ماں بنا دیا تھا۔

دل دا جانی (1967)

ریاض احمد راجو کے فلم کیرئر کی سب سے بڑی فلم دل دا جانی (1967) کے ٹائٹل رول حبیب اور علاؤالدین نے کیے تھے۔ یہ ایک بہت بڑی نغماتی فلم تھی جس کے گیتوں کے بارے میں موسیقار وزیرافضل کے مضمون میں تفصیل دے دی گئی ہے۔ محبت ، دوستی اور وفاداری کے بارے میں یہ ایک اعلیٰ پائے کی فلم تھی۔ اس فلم میں مظہرشاہ کی مشہور زمانہ بڑھک تھی "میں ٹبر کھا جاں تے ڈکار نہ ماراں۔۔" جس پر رنگیلا جسے 'مسٹرہانگ کانگ' کہتے ہیں ، کہتا ہے کہ "ہانگ کانگ میں تو ایسا ہاضمہ کسی کا نہیں تھا۔۔!"

اسی فلم میں راجو صاحب نے پہلی بار مسعودرانا کا کوئی گیت فلم میں شامل کیا تھا "ہتھ لا کے خالی گھڑیاں نوں ، سمجھاناں پے گیا چھڑیاں نوں۔۔" ساتھی گلوکار شوکت علی تھے اور یہ گیت علاؤالدین اور رنگیلا پر فلمایا گیا تھا۔

فلم دل دا جانی (1967) کی شاندار کامیابی کے بعد ریاض احمد راجو نے اپنی اگلی دونوں فلمیں ڈھول جانی اور جماں جنج نال (1968) اسی سٹائل میں بنائی تھیں لیکن یہ فلمیں مطلوبہ کامیابی سے محروم رہی تھیں۔ البتہ فلم جماں جنج نال (1968) کا یہ گیت مقبولیت کی نئی بلندیوں پر پہنچ گیا تھا "کہندے نیں نیناں ، تیرے کول رہنا۔۔"

حیرت کی بات ہے کہ اگلے دو عشروں میں ریاض احمد راجو کی صرف چھ فلمیں ریلیز ہوئی تھیں۔ ان میں آخری فلم بگڑو (1987) تھی جبکہ فلم سرعام (1975) میں میڈم نورجہاں کا گیت "جا جا وے تینوں دل دتا ، دے دتا اللہ واسطہ۔۔" ایک سپرہٹ گیت تھا۔ فلم دھن جگرا ماں دا (1975) میں مسعودرانا کا یہ شوخ گیت کیا کمال کا تھا "19آں سالاں دی مٹیار ، کول نہ آوے ، دیوے خار۔۔"

ریاض احمد راجو کی آخری بڑی فلم یار مستانے (1974) تھی جس کے نغمات کے بارے میں موسیقار وزیرافضل کے مضمون میں لکھا جا چکا ہے۔ اس فلم میں اقبال حسن کو حبیب پر ترجیح دی گئی تھی اور نغمہ کے ساتھ جوڑی تھی جبکہ آسیہ سیکنڈ ہیروئن تھی۔

فلم یار مستانے (1974) سے منسلک ایک یادگار واقعہ

ہدایتکار ریاض احمد راجو کی فلم یارمستانے (1974) کے ساتھ میرا ایک ناقابل فراموش واقعہ منسلک ہے۔

یہ شب برات کی ایک رات تھی جب میں نے اپنے دو کزن دوستوں کے ساتھ ارادہ کیا کہ اس مبارک رات کو ہم تینوں دوست مسجد میں شب بیداری کریں گے اور قضائے عمری یا ساری رات نوافل ادا کریں گے۔

ہمارے بزرگ بڑے خوش ہوئے اور نماز عشاء ہمارے ساتھ ادا کی۔ نماز سے فراغت کے بعد ہم نوافل پڑھنے لگے۔ جب کچھ وقت گزر گیا تو میرا ایک کزن کہنے لگا کہ رات ابھی کافی پڑی ہے ، چلو ، ذرا ہوا خوری کے لیے باہر چلتے ہیں ، مشورہ معقول تھا۔

ہم مسجد سے نکل کر ٹہلتے ٹہلتے جی ٹی روڈ پر پہنچ گئے جہاں اتفاق سے اسی وقت سنگم سینما میں فلم یارمستانے (1974) کا شو ٹوٹا تھا۔ دوسرے رن میں چلنے والی اس فلم کے شائقین ، بڑی تعداد میں سینما ہال سے باہر آرہے تھے۔ بیشتر لوگ فلم کی بڑی تعریفیں کر رہے تھے ، کسی کو گیت اور رقص پسند تھے تو کسی کو کہانی اور فائٹ وغیرہ۔ ہمارا بھی جی مچلا کہ دیکھیں تو سہی ، آخر یہ فلم ہے کیسی۔۔؟ آخری شو کی ٹکٹیں آسانی سے مل گئیں اور تھوڑی دیر بعد ہم تینوں دوست ، سینما ہال میں بیٹھے فلم یارمستانے (1974) دیکھ رہے تھے۔

فلم ختم ہوئی تو سینما سے سیدھے مسجد واپس پہنچے اور نوافل کا سلسلہ وہیں سے شروع کر دیا ، جہاں ختم کر آئے تھے۔ اس دوران نماز فجر کا وقت ہوگیا۔ ہمارے بزرگ باجماعت نماز کی ادائیگی کے لیے مسجد آئے۔ ہمیں عبادت میں مشغول دیکھا تو بڑے خوش ہوئے۔

نماز فجر کی ادائیگی کے بعد ہمیں تاکید کی کہ ساری رات عبادت کرتے ہوئے تھک گئے ہوگے ، جاؤ ، اب گھروں میں جا کر آرام کرو۔ ان کا حکم بجا لاتے ہوئے ہم اپنے اپنے گھر جا کر سو گئے۔

دوسرے دن پورے خاندان میں ہماری واہ واہ ہورہی تھی۔ بزرگ بڑے فخر سے ہر کسی کو بتارہے تھے کہ ان جوانوں نے ساری رات عبادت کی ہے اور اللہ کو راضی کیا ہے۔

ہم تینوں 'یارمستانے' کن انکھیوں سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے اور سوچ رہے تھے کہ کیا واقعی ہم نے ایک ہی رات میں اپنے اللہ اور اس کے بندوں کے علاوہ اپنے آپ کو بھی راضی کیا ہے۔۔؟

مسعودرانا کے ریاض احمد راجو کی 3 فلموں میں 3 گیت

(0 اردو گیت ... 3 پنجابی گیت )
1
فلم ... دل دا جانی ... پنجابی ... (1967) ... گلوکار: مسعود رانا ، شوکت علی مع ساتھی ... موسیقی: وزیر افضل ... شاعر: حزیں قادری ... اداکار: علاؤالدین ، ​​رنگیلا مع ساتھی
2
فلم ... پردیسی ... پنجابی ... (1970) ... گلوکار: مسعودرانا ، حامدعلی بیلا ... موسیقی: وزیر افضل ... شاعر: خواجہ پرویز ... اداکار: ؟
3
فلم ... دھن جگرا ماں دا ... پنجابی ... (1975) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: وزیر افضل ... شاعر: خواجہ پرویز ... اداکار: منور ظریف

Masood Rana & Riaz Ahmad Raju: Latest Online film

Dhan Jigra Maa Da

(Punjabi - Color - Friday, 16 May 1975)


Masood Rana & Riaz Ahmad Raju: Film posters
PardesiDhan Jigra Maa Da
Masood Rana & Riaz Ahmad Raju:

1 joint Online films

(0 Urdu and 1 Punjabi films)

1.1975: Dhan Jigra Maa Da
(Punjabi)
Masood Rana & Riaz Ahmad Raju:

Total 3 joint films

(0 Urdu, 3 Punjabi films)

1.1967: Dil Da Jani
(Punjabi)
2.1970: Pardesi
(Punjabi)
3.1975: Dhan Jigra Maa Da
(Punjabi)


Masood Rana & Riaz Ahmad Raju: 3 songs in 3 films

(0 Urdu and 3 Punjabi songs)

1.
Punjabi film
Dil Da Jani
from Wednesday, 22 March 1967
Singer(s): Masood Rana, Shoukat Ali & Co., Music: Wazir Afzal, Poet: , Actor(s): Allauddin, Rangeela & Co.
2.
Punjabi film
Pardesi
from Friday, 25 September 1970
Singer(s): Masood Rana, Hamid Ali Bela, Music: Wazir Afzal, Poet: , Actor(s): ?
3.
Punjabi film
Dhan Jigra Maa Da
from Friday, 16 May 1975
Singer(s): Masood Rana, Music: Wazir Afzal, Poet: , Actor(s): Munawar Zarif

Milap
Milap
(1975)
Pardah
Pardah
(1966)
Geo Shera
Geo Shera
(1981)
Qasu
Qasu
(1972)

Millan
Millan
(1964)
Muftbar
Muftbar
(1961)
Maalan
Maalan
(1964)



پاکستان فلم میگزین ۔۔۔ سنہری فلمی یادوں کا امین

پاکستان فلم میگزین ، پاکستانی فلموں ، فنکاروں ، گیتوں اور اہم فلمی معلومات پر مبنی انٹرنیٹ پر اپنی نوعیت کی اولین ، منفرد اور تاریخ ساز ویب سائٹ ہے جو 3 مئی 2000ء سے مسلسل اپ ڈیٹ ہورہی ہے۔ یہ ایک انفرادی کاوش ہے جو فارغ اوقات کا بہترین مشغلہ اور پاکستان کی فلمی تاریخ کو مرتب کرنے کا ایک انوکھا مشن بھی ہے۔

A website of Masood Rana

یہ بے مثل ویب سائٹ کبھی نہ بن پاتی اگر پاکستانی فلموں میں میرے آل ٹائم فیورٹ پلے بیک سنگر جناب مسعودرانا صاحب کے گیت نہ ہوتے۔ انھی کے گیتوں کی تلاش میں یہ عظیم الشان ویب سائٹ وجود میں آئی۔ 2020ء سے اس عظیم فنکار کی 25ویں برسی پر ایک ایسا شاندار خراج تحسین پیش کیا جارہا ہے کہ جو آج تک کبھی کسی دوسرے فنکار کو پیش نہیں کیا جا سکا۔ مسعودرانا کے ایک ہزار سے زائد فلمی گیتوں کے اردو/پنجابی ڈیٹابیس کے علاوہ ان کے ساتھی فنکاروں پر بھی بڑے تفصیلی معلوماتی مضامین لکھے جارہے ہیں۔ یہ سلسلہ اپنی تکمیل تک جاری رہے گا ، ان شاء اللہ۔۔!

ظہورناظم
ظہورناظم
حیدر
حیدر
سعیدگیلانی
سعیدگیلانی
نگہت سیما
نگہت سیما
کلیم عثمانی
کلیم عثمانی
دلجیت مرزا
دلجیت مرزا
سیف چغتائی
سیف چغتائی
فیاض ہاشمی
فیاض ہاشمی
حمایت علی شاعر
حمایت علی شاعر
ماسٹر عاشق حسین
ماسٹر عاشق حسین
رضا میر
رضا میر
اخترحسین اکھیاں
اخترحسین اکھیاں
پرویز ملک
پرویز ملک
احمد راہی
احمد راہی
اقبال حسن
اقبال حسن
حسن لطیف
حسن لطیف
اختریوسف
اختریوسف
خواجہ خورشید انور
خواجہ خورشید انور
شباب کیرانوی
شباب کیرانوی
مسرور انور
مسرور انور
حسن طارق
حسن طارق
کے خورشید
کے خورشید
ایس سلیمان
ایس سلیمان
ملکہ ترنم نور جہاں
ملکہ ترنم نور جہاں
بخشی وزیر
بخشی وزیر
نغمہ
نغمہ
احمد رشدی
احمد رشدی
وارث لدھیانوی
وارث لدھیانوی
مشیر کاظمی
مشیر کاظمی
امجدبوبی
امجدبوبی
سیما
سیما
منیر حسین
منیر حسین
اے حمید
اے حمید
حامدعلی بیلا
حامدعلی بیلا
سلیم رضا
سلیم رضا
خلیفہ نذیر
خلیفہ نذیر
حزیں قادری
حزیں قادری
تنویر نقوی
تنویر نقوی
افتخارخان
افتخارخان
یاسمین
یاسمین
آصف جاوید
آصف جاوید
ابو شاہ
ابو شاہ
راجہ حفیظ
راجہ حفیظ
کمار
کمار
امین ملک
امین ملک
طلعت صدیقی
طلعت صدیقی
مظہر شاہ
مظہر شاہ
احتشام ، مستفیض
احتشام ، مستفیض
نبیلہ
نبیلہ
درپن
درپن
سنگیتا
سنگیتا
آغا جی اے گل
آغا جی اے گل
محمد رفیع
محمد رفیع
زینت
زینت
عمرشریف
عمرشریف
وجاہت عطرے
وجاہت عطرے
حمیدچوہدری
حمیدچوہدری
طافو
طافو
اسماعیل متوالا
اسماعیل متوالا
نثار بزمی
نثار بزمی
ریاض احمد
ریاض احمد
اقبال شہزاد
اقبال شہزاد
ماسٹر تصدق حسین
ماسٹر تصدق حسین
حسن عسکری
حسن عسکری
زیبا
زیبا
تسلیم فاضلی
تسلیم فاضلی
طالش
طالش
یوسف خان
یوسف خان
نرالا
نرالا
نذر
نذر
الیاس کاشمیری
الیاس کاشمیری
انورکمال پاشا
انورکمال پاشا
ندیم
ندیم
ماسٹر عنایت حسین
ماسٹر عنایت حسین
ایم اے رشید
ایم اے رشید
مشتاق علی
مشتاق علی
حبیب
حبیب
سائیں اختر
سائیں اختر
سرور بارہ بنکوی
سرور بارہ بنکوی
شیریں
شیریں
صبیحہ خانم
صبیحہ خانم
لقمان
لقمان
وزیر افضل
وزیر افضل
روبن گھوش
روبن گھوش
مظفروارثی
مظفروارثی
آئرن پروین
آئرن پروین
لال محمد اقبال
لال محمد اقبال
سنتوش کمار
سنتوش کمار
مہدی حسن
مہدی حسن
مسعودپرویز
مسعودپرویز
منظورجھلا
منظورجھلا
خلیل احمد
خلیل احمد
نذرالاسلام
نذرالاسلام
آغا حسینی
آغا حسینی
ظہیرریحان
ظہیرریحان
بھائیا اے حمید
بھائیا اے حمید
اطہر شاہ خان
اطہر شاہ خان
رضیہ
رضیہ
رانی
رانی
طفیل ہوشیارپوری
طفیل ہوشیارپوری
زلفی
زلفی
تانی
تانی
صفدرحسین
صفدرحسین
سلیم کاشر
سلیم کاشر
ایم اشرف
ایم اشرف
مسرت نذیر
مسرت نذیر
غلام حسین شبیر
غلام حسین شبیر
نیلو
نیلو
ناہید
ناہید
مصلح الدین
مصلح الدین
ماسٹر عبد اللہ
ماسٹر عبد اللہ
آسیہ
آسیہ
جی اے چشتی
جی اے چشتی
دیبا
دیبا
ماسٹر رفیق علی
ماسٹر رفیق علی
شاہد
شاہد
موج لکھنوی
موج لکھنوی
صہبااختر
صہبااختر
حنیف
حنیف
سہیل رعنا
سہیل رعنا
نسیمہ شاہین
نسیمہ شاہین
ریاض احمد راجو
ریاض احمد راجو
شریف نیر
شریف نیر
امداد حسین
امداد حسین
علی اعجاز
علی اعجاز
اقبال کاشمیری
اقبال کاشمیری
رنگیلا
رنگیلا
منیر نیازی
منیر نیازی
ایم اسماعیل
ایم اسماعیل
وحیدمراد
وحیدمراد
ظہیر کاشمیری
ظہیر کاشمیری
ایم صادق
ایم صادق
خواجہ سرفراز
خواجہ سرفراز
سلطان راہی
سلطان راہی
اسلم ڈار
اسلم ڈار
ننھا
ننھا
ایم اکرم
ایم اکرم
شیون رضوی
شیون رضوی
خواجہ پرویز
خواجہ پرویز
سلمیٰ ممتاز
سلمیٰ ممتاز
اسلم ایرانی
اسلم ایرانی
رخسانہ
رخسانہ
سدھیر
سدھیر
کریم شہاب الدین
کریم شہاب الدین
افضل خان
افضل خان
ساقی
ساقی
سلیم اقبال
سلیم اقبال
رفیق رضوی
رفیق رضوی
قدیرغوری
قدیرغوری
اکبرعلی اکو
اکبرعلی اکو
حیدر چوہدری
حیدر چوہدری
عزیز میرٹھی
عزیز میرٹھی
نسیمہ خان
نسیمہ خان
خلیل قیصر
خلیل قیصر
غلام نبی ، عبداللطیف
غلام نبی ، عبداللطیف
دیبو بھٹا چاریہ
دیبو بھٹا چاریہ
ایم سلیم
ایم سلیم
بابا عالم سیاہ پوش
بابا عالم سیاہ پوش
اسد بخاری
اسد بخاری
طارق عزیز
طارق عزیز
سلونی
سلونی
نذیر بیگم
نذیر بیگم
آئٹم گرلز
آئٹم گرلز
آصف جاہ
آصف جاہ
شوکت حسین رضوی
شوکت حسین رضوی
سیف الدین سیف
سیف الدین سیف
علاؤالدین
علاؤالدین
قوی
قوی
جمیل اختر
جمیل اختر
حسنہ
حسنہ
حبیب جالب
حبیب جالب
نذیر
نذیر
اے شاہ
اے شاہ
لہری
لہری
کمال احمد
کمال احمد
البیلا
البیلا
الحامد
الحامد
سید کمال
سید کمال
عالیہ
عالیہ
جعفر بخاری
جعفر بخاری
اکمل
اکمل
ناشاد
ناشاد
محمد علی
محمد علی
ساون
ساون
ماسٹر مراد
ماسٹر مراد
علی حسین
علی حسین
شمیم آرا
شمیم آرا
منورظریف
منورظریف
روبینہ بدر
روبینہ بدر
فضل حسین
فضل حسین
ایم ایس ڈار
ایم ایس ڈار
رحمان ورما
رحمان ورما
ناصرہ
ناصرہ
اعظم بیگ
اعظم بیگ
عنایت حسین بھٹی
عنایت حسین بھٹی
نذیرعلی
نذیرعلی
منوررشید
منوررشید
شبانہ
شبانہ
نذیرجعفری
نذیرجعفری
لیلیٰ
لیلیٰ
ساحل فارانی
ساحل فارانی
فردوس
فردوس
غزالہ
غزالہ
کیفی
کیفی
نسیم بیگم
نسیم بیگم
فیروز نظامی
فیروز نظامی
ریاض الرحمان ساغر
ریاض الرحمان ساغر
ایس ایم یوسف
ایس ایم یوسف
قتیل شفائی
قتیل شفائی
مسعود رانا
مسعود رانا
الطاف حسین
الطاف حسین
رشیداختر
رشیداختر
شوکت علی
شوکت علی
وحیدڈار
وحیدڈار
خان عطا الرحمان
خان عطا الرحمان
سلطان محمود آشفتہ
سلطان محمود آشفتہ
اعظم چشتی
اعظم چشتی
مالا
مالا
شبنم
شبنم
ریاض شاہد
ریاض شاہد
تصورخانم
تصورخانم
ایس اے بخاری
ایس اے بخاری
اعجاز
اعجاز
روزینہ
روزینہ
ایم جے رانا
ایم جے رانا
رونا لیلیٰ
رونا لیلیٰ
ارشدکاظمی
ارشدکاظمی
نورمحمدچارلی
نورمحمدچارلی
رشید عطرے
رشید عطرے
طفیل فاروقی
طفیل فاروقی



PAK Magazine is an individual effort to compile and preserve the Pakistan's political, film and media history.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes, and therefor, I am not responsible for the content of any external site.