A Tribute To The Legendary Playback Singer Masood Rana
مسعودرانا کا فنی سفر
مسعودرانا کے 241 ساتھی فنکاروں پر معلوماتی مضامین
26 ..... گلوکار
- زبیدہ خانم
- علی بخش ظہور
- منور سلطانہ
- مسعود رانا
- عنایت حسین بھٹی
- حامدعلی بیلا
- فضل حسین
- تصورخانم
- اعظم چشتی
- رونا لیلیٰ
- آصف جاوید
- نگہت سیما
- ملکہ ترنم نور جہاں
- نذیر بیگم
- سائیں اختر
- سلیم رضا
- روبینہ بدر
- نسیم بیگم
- شوکت علی
- مالا
- احمد رشدی
- نسیمہ شاہین
- منیر حسین
- آئرن پروین
- محمد رفیع
- مہدی حسن
32 ..... نغمہ نگار
- حکیم احمد شجاع
- شیون رضوی
- سلطان محمود آشفتہ
- سلیم کاشر
- طفیل ہوشیارپوری
- کلیم عثمانی
- اسماعیل متوالا
- اختریوسف
- ظہیر کاشمیری
- تسلیم فاضلی
- ریاض الرحمان ساغر
- منظورجھلا
- سعیدگیلانی
- صہبااختر
- ظہورناظم
- خواجہ پرویز
- مظفروارثی
- ساحل فارانی
- قتیل شفائی
- سرور بارہ بنکوی
- حبیب جالب
- احمد راہی
- تنویر نقوی
- بابا عالم سیاہ پوش
- حزیں قادری
- مشیر کاظمی
- موج لکھنوی
- منیر نیازی
- وارث لدھیانوی
- مسرور انور
- حمایت علی شاعر
- فیاض ہاشمی
44 ..... موسیقار
- راگنی
- رفیق غزنوی
- ماسٹر غلام حیدر
- طافو
- اعظم بیگ
- مشتاق علی
- امجدبوبی
- غلام حسین شبیر
- وجاہت عطرے
- علی حسین
- اے حمید
- کریم شہاب الدین
- صفدرحسین
- وزیر افضل
- ناشاد
- کمال احمد
- رحمان ورما
- حسن لطیف
- روبن گھوش
- نذیرجعفری
- نذیرعلی
- سیف چغتائی
- خواجہ خورشید انور
- سلیم اقبال
- اخترحسین اکھیاں
- غلام نبی ، عبداللطیف
- طفیل فاروقی
- ماسٹر عنایت حسین
- ماسٹر عبد اللہ
- سہیل رعنا
- خلیل احمد
- فیروز نظامی
- بخشی وزیر
- خان عطا الرحمان
- ماسٹر عاشق حسین
- نثار بزمی
- ماسٹر تصدق حسین
- ماسٹر رفیق علی
- رشید عطرے
- ایم اشرف
- لال محمد اقبال
- مصلح الدین
- جی اے چشتی
- دیبو بھٹا چاریہ
56 ..... ہدایتکار
- اے آر کاردار
- داؤد چاند
- نذرالاسلام
- آغا حسینی
- ایم صادق
- حسن عسکری
- اسلم ڈار
- قدیرغوری
- الطاف حسین
- ایم ایس ڈار
- شوکت حسین رضوی
- ایس ایم یوسف
- خواجہ سرفراز
- حمیدچوہدری
- آغا جی اے گل
- عزیز میرٹھی
- لقمان
- کے خورشید
- پرویز ملک
- ایم سلیم
- سیف الدین سیف
- بھائیا اے حمید
- خلیل قیصر
- اکبرعلی اکو
- ریاض احمد راجو
- وحیدڈار
- ریاض احمد
- افتخارخان
- ارشدکاظمی
- ظہیرریحان
- ایم اکرم
- الحامد
- ریاض شاہد
- نذیر
- انورکمال پاشا
- شریف نیر
- راجہ حفیظ
- مسعودپرویز
- ایم اے رشید
- ایس سلیمان
- رشیداختر
- منوررشید
- رفیق رضوی
- اقبال کاشمیری
- جمیل اختر
- جعفر بخاری
- شباب کیرانوی
- احتشام ، مستفیض
- ایس اے بخاری
- ایم جے رانا
- رضا میر
- حیدر چوہدری
- امین ملک
- اسلم ایرانی
- اقبال شہزاد
- حسن طارق
83 ..... اداکار
- ہمالیہ والا
- آشا پوسلے
- سنگیتا
- سلطان راہی
- آسیہ
- عمرشریف
- شبنم
- قوی
- افضل خان
- شاہد
- ننھا
- کیفی
- لیلیٰ
- ساقی
- ناصرہ
- علی اعجاز
- حسنہ
- ناہید
- اقبال حسن
- عالیہ
- رخسانہ
- ماسٹر مراد
- نسیمہ خان
- تانی
- الیاس کاشمیری
- شبانہ
- نبیلہ
- ایم اسماعیل
- روزینہ
- ندیم
- خلیفہ نذیر
- کمار
- سیما
- مسرت نذیر
- ساون
- آئٹم گرلز
- غزالہ
- دیبا
- زینت
- سلونی
- یاسمین
- منورظریف
- زیبا
- طلعت صدیقی
- حیدر
- اعجاز
- رانی
- زلفی
- ابو شاہ
- آصف جاہ
- سلمیٰ ممتاز
- نورمحمدچارلی
- شیریں
- یوسف خان
- علاؤالدین
- وحیدمراد
- فردوس
- شمیم آرا
- لہری
- مظہر شاہ
- طالش
- نغمہ
- رضیہ
- سنتوش کمار
- رنگیلا
- دلجیت مرزا
- اکمل
- اے شاہ
- نذر
- سدھیر
- حنیف
- طارق عزیز
- صبیحہ خانم
- محمد علی
- درپن
- امداد حسین
- البیلا
- اطہر شاہ خان
- نیلو
- نرالا
- اسد بخاری
- سید کمال
- حبیب
ساون
پاکستان کی فلمی تاریخ میں بعض فنکاروں نے بڑی حیرت انگیز کامیابیاں حاصل کی تھیں۔ ان میں ایک بڑا نام اداکار ساون کا تھا جو ایک ایکسٹرا سے چوٹی کے ولن بنے اور پھر کیریکٹرایکٹر کرداروں میں صف اول کے اداکار ثابت ہوئے تھے۔
ساون کا عروج و زوال
ایک وقت ایسا بھی تھا کہ اس دراز قد ، تنومند ، گرجدار آواز کے مالک پہلوان نما اداکار کو سامنے رکھ کر فلموں کی کہانیاں لکھی جاتی تھیں۔ پھر وہ وقت بھی آیا کہ چوٹی کے اس اداکار کو نظر انداز کر دیا گیا تھا اور وہ زندہ رہنے کے لیے چھوٹے موٹے فلمی کردار قبول کرنے پر مجبور ہوگیا تھا۔۔!
ساون کی پہلی فلم کارنامہ (1956) تھی جو کراچی میں بنائی گئی تھی۔ لگتا ہے کہ باقی ملک کے لیے یہ ایک اجنبی فلم تھی کیونکہ فلم آس پاس (1957) کے ٹائٹل پر ساون کا نام introducing کے ضمن میں لکھا ہوا تھا۔
چالیس سال کی عمر میں بریک تھرو ملا
پہلی ایک درجن فلموں میں صرف ایک پنجابی فلم شیرا (1959) تھی ، باقی سبھی اردو فلمیں تھیں۔ ان فلموں میں چھوٹے موٹے کرداروں کے بعد فلم تیس مارخان (1963) میں پہلی بار مرکزی ولن کے کردار میں خوب چمکے۔
یہ بریک تھرو انھیں چالیس سال کی عمر میں ملا تھا۔ اس فلم میں پہلی بار پچاس کے عشرہ کے کامیاب ترین ولن اداکار علاؤالدین ، سولو ہیرو کے طور پر سامنے آئے اور کامیاب رہے تھے۔ ساٹھ کے عشرہ میں پنجابی فلموں میں مظہرشاہ کے بعد ساون دوسرے مقبول ترین ولن اداکار ہوتے تھے۔ علاؤالدین کی بطور ہیرو فلموں میں زیادہ تر ولن کے کردار ساون ہی نے کیے تھے۔

ساون کی سب سے بڑی فلم خان چاچا (1972)

ساون کی ٹائٹل رول میں پہلی فلم گونگا (1966)

ساون کی ٹائٹل رول میں فلم سردارا (1970)

ساون کی ٹائٹل رول میں فلم ذیلدار (1972)

ساون کی مرکزی کردار میں فلم اک ڈولی دو کہار (1972)

ساون کی مرکزی کردار میں فلم سوہنا جانی (1972)
فلم چاچا خوامخوہ (1963) میں ایک یادگار منظر ایسا بھی تھا کہ جب پنجابی فلموں کے دونوں سپرسٹار ہیرو ، سدھیر اور اکمل اور ولن مظہرشاہ اور ساون ، ایک ہی فریم میں نظر آتے ہیں۔
فلم ملنگی (1965) ، بھریا میلہ اور نظام لوہار (1966) وغیرہ جیسی یادگار فلموں میں بڑے بھاری بھر کم ولن ثابت ہوئے تھے۔
ساون کی ٹائٹل رول میں پہلی فلم
دودرجن فلموں میں ولن کرداروں کے بعد فلم گونگا (1966) میں پہلی بار ساون کو ٹائٹل رول ملا تھا جس میں وہ کامیاب رہے تھے۔ اس فلم میں مسعودرانا کا یہ پس پردہ گیت حساس دلوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے
- کوئی اینی گل رب کولوں پچھ کے تے آوے ، ربا او کی کرے ، جدی ماں مر جائے۔۔
فلم جگری یار (1967) کے ٹائٹل رول میں ساون نے کسی ایک بھی سین میں علاؤالدین ، اکمل اور مظہرشاہ جیسے بھاری بھر کم اداکاروں کو اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دیا تھا۔ اس فلم کے تھیم سانگ کے طور پر مسعودرانا کا یہ لازوال گیت
- سوچ کے یار بناویں بندیا۔۔
پوری فلم کی کہانی بیان کرتا ہے۔
ساون نے علاؤالدین کی جگہ لے لی
اس فلم کے بعد ساون کو روایتی ولن کرداروں کے بجائے مرکزی کردار ملنے لگے تھے بلکہ یہ کہنا بجا ہوگا کہ علاؤالدین کی جگہ ساون نے لے لی تھی لیکن صرف پنجابی فلموں کی حد تک ، اردو زبان میں ان کی کوئی خاص فلم نہیں ملتی۔ جانی دشمن (1967) ، میدان اور پگڑی سنبھال جٹا (1968) کے مثبت کرداروں نے ساون کو فلموں کی ضرورت بنا دیا تھا اور فلم میرا بابل (1968) کے ٹائٹل رول میں پنجابی فلموں کے مقبول ترین اداکار بن گئے تھے۔
ساون کے انتہائی عروج کا دور
1969ء سے 1975ء تک ساون ، پنجابی فلموں کی ضرورت ہوتے تھے۔ وہ کسی فلم میں روایتی ہیرو نہیں آئے۔ ان کی شکل و صورت یا جسمانی ساخت ہیرو والی تھی بھی نہیں اور پھر عمر کا تقاضا بھی تھا۔ انھیں جب عروج ملا تو وہ پچاس کے لگ بھگ تھے ، ایسے میں کیریکٹرایکٹر رولز ہی کر سکتے تھے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ان نو برسوں میں ساون کی کل 56 فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں سے صرف دو اردو اور باقی سبھی پنجابی فلمیں تھیں۔ ان میں سے ڈیڑھ درجن فلموں میں ان کے ٹائٹل رولز تھے۔
ساون ، عام طور پر ایک طاقتور ، بااختیار ، بارعب شخص کے کرداروں میں نظر آتے تھے اور اپنی خبردار قسم کی آواز ، تحکمانہ انداز اور مکالمے بولتے وقت پرجوش جسمانی ارتعاش کی وجہ سے پہچانے جاتے تھے۔
ساون جب عروج پر تھے
ساون کے عروج کے اس دور کا میں بھی عینی شاہد ہوں کیونکہ میری پہلی فلم لچھی (1969) کا مرکزی کردار بھی ساون ہی کا تھا۔
میرے ذہن میں "ساون بطور" آج بھی تازہ ہے۔ فلم کی کاسٹ کے نام عام طور پر نستعلیق خط میں لکھے جاتے تھے لیکن آخر میں ہائی لائٹ کرنے کے لیے خط نسخ ، ثلت یا رقعہ میں ساون کا نام لکھا جاتا تھا۔ بعض اوقات ساون کا نام کسی اور رنگ سے بھی لکھا جاتا تھا جو فلم کے بل بورڈز کے علاوہ پوسٹروں ، کیلنڈروں ، بک لیٹس ، سٹکرز ، سینما سلائیڈوں اور اخباری اشتہارات میں بھی واضح طور پر نظر آتا تھا۔
اس سال کی دیگر فلموں میں شیراں دی جوڑی (1969) میں ساون نے مظہرشاہ کے ساتھ ٹائٹل رول کیا تھا۔ اس فلم میں مسعودرانا اور میڈم نورجہاں کا یہ الگ الگ گایا ہوا سپرہٹ گیت
- تیرے ہتھ کی بے دردے آیا ، پھلاں جیا دل توڑ کے۔۔
فلم کی جان تھا۔ فلم لنگوٹیا ، عشق نہ پچھے ذات ، مکھڑا چن ورگا ، شیراں دے پتر شیر اور دھی رانی (1969) جیسی مشہور فلموں میں بھی ساون مرکزی کرداروں میں تھے۔
ساون کی فلم کا کراچی میں ریکارڈ
1970ء کا سال ساون کے انتہائی عروج کا سال تھا۔ اس سال کی فلم انورا (1970) ایک بہت بڑی نغماتی فلم تھی جو موسیقار طافو کی پہلی فلم تھی۔
اس فلم میں ساون کا ٹائٹل رول تھا۔ اہل کراچی کو یہ فلم نغمہ کے لباس ، رقص اور میڈم نورجہاں کے گیت
- سن وے بلوری اکھ والیا۔۔
کی وجہ سے اتنی پسند آئی تھی کہ یہ پہلی پنجابی فلم ثابت ہوئی جس نے کراچی میں 75 ہفتے چلنے کا ریکارڈ قائم کیا تھا۔
اسی کامیابی کو فلم اصغرا (1971) کی صورت میں دھرانے کی کوشش کی گئی تھی لیکن ناکامی ہوئی تھی۔
اسی سال ساون کی مرکزی کردار میں پہلی رنگین فلم چڑھدا سورج (1970) ریلیز ہوئی جس میں سدھیر ، ہیرو تھے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل صرف دو رنگین پنجابی فلمیں ریلیز ہوئی تھیں جن میں فلم ہیررانجھا (1970) کے علاوہ پہلی رنگین پنجابی فلم پنج دریا (1968) تھی جس کے مرکزی ولن کے طور پر بھی ساون نے کام کیا تھا۔ اکمل کی یہ واحد رنگین فلم تھی جو ان کے انتقال کے بعدریلیز ہوئی تھی۔
ساون کی فلم لندن میں شوٹ ہوئی
1971ء میں ساون کی سات فلمیں منظرعام پر آئیں جن میں اصغرا ، مالی ، خزانچی اور بابا دینا (1971) میں ٹائٹل رولز میں تھے۔ فلم پہلوان جی ان لندن (1971) میں بھی مرکزی کردار تھا۔ یہ غالباً واحد فلم تھی جس میں ساون کے لیے نغمہ پر ایک رومانٹک گیت فلمایا گیا تھا۔
اس فلم کی ایک بہت بڑی خامی یہ تھی کہ نغمہ جو انگلستان میں رہتی ہے اور ساون جیسے پینڈو جاہل سے شادی سے انکار کرتی ہے۔ وہ شرٹ اور سکرٹ میں ملبوس ہے لیکن ٹھیٹھ پنجابی گیت گاتی ہے جو بڑا مصنوعی سا لگتا تھا۔ یہ پہلی پنجابی فلم تھی جو لندن میں شوٹ کی گئی تھی۔
ساون کے کیریر کی سب سے بڑی فلم
1972ء کا سال ساون کے انتہائی عروج کا دور تھا۔ اس سال انھوں نے ایک درجن سے زائد فلموں میں کام کیا تھا جو سبھی پنجابی فلمیں تھیں اور جن میں ساون مرکزی کرداروں میں تھے۔
اس سال ان کے فلمی کیرئر کی سب سے بڑی فلم خان چاچا (1972) ریلیز ہوئی تھی۔ اس شاہکار سوشل اور نغمہ بار فلم میں ساون نے کردارنگاری میں ایسی دھاک بٹھائی کہ فلمی حلقوں میں بھی انھیں 'خان چاچا' کے نام سے پکارا جانے لگا تھا۔ لیکن قدرت کی ستم ظریفی دیکھیے کہ اس فلم کی کامیابی کے خمار نے ساون کو زوال کی طرف دھکیل دیا تھا۔
ساون کا زوال
اسی سال ریلیز ہونے والے مشہور زمانہ فلم بشیرا (1972) کا ٹائٹل رول بھی ساون نے کرنا تھا لیکن معاوضے پر بات نہ بنی اور فلمساز نے سلطان راہی سے کل معاوضے کے دسویں حصہ پر ایسا کام لیا کہ ہر طرف سلطان راہی کے نام کا ڈنکا بجنے لگا تھا۔
اس سال ساون کی دو فلموں ذیلدار اور قاسو (1972) میں ٹائٹل رولز تھے۔ فلم مورچہ (1972) میں ساون جنگ میں جاتے ہیں اور ان کے پس منظر میں مسعودرانا کا یہ جنگی ترانہ سننے کو ملتا ہے
- جاگ پیے میرے دیس دے راکھے ، غازی شیر جوان۔۔
فلم اک ڈولی دو کہار (1972) میں ساون کی ضرورت نہیں تھی لیکن ان کی مارکیٹ ویلیو ایسی تھی کہ فلمساز کو انھیں نہ صرف فلم میں رکھنا پڑا بلکہ اس فلم کے انتہائی شاندار پوسٹر پر بھی نمایاں کرنا پڑا۔ اس فلم کی خاص بات یہ تھی کہ فوک گلوکار شوکت علی کے فلمی کیرئر کا سب سے مقبول گیت
- کیوں دور دور رہندے او حضور میرے کولوں۔۔
بھی اس فلم میں شامل تھا۔
1973ء میں ساون کی صرف پانچ فلمیں ریلیز ہوئی تھیں جن میں ایک اردو فلم کبڑا عاشق (1973) کے سوا باقی چاروں پنجابی فلموں میں ان کے مرکزی کردار تھے لیکن کوئی بھی فلم کسی کامیابی سے محروم رہی تھی۔ فلم شیرو (1973) میں ٹائٹل رول تھا۔ اسی سال ساون کی بطور فلمساز واحد فلم پنڈ دلیراں دا (1973) ریلیز ہوئی تھی۔
ساون کی آخری بڑی فلم
1974ء ، ساون کے عروج کا آخری سال تھا۔ اس سال کی فلموں میں ہاشو خان (1974) ایک یادگار فلم تھی جس میں ساون نے ٹائٹل رول کیا تھا جو ایک ملحد منگول سردار کا تھا۔
اس فلم کے فلمساز فاضل بٹ تھے جو پنجابی فلموں کے ایک بی کلاس ولن اداکار تھے لیکن پیشے کے لحاظ سے ایک وکیل تھے۔ یہ واحد فلم تھی جس میں وہ آسیہ کے ساتھ ہیرو آئے۔ سلطان راہی اور اقبال حسن بھی سائیڈ رولز میں تھے۔
اس فلم میں ساون کے پس منظر میں ابو شاہ پر فلمایا ہوا مسعودرانا کا یہ شاہکار تھیم سانگ فلم کی جان تھا
- رہے نام اللہ دا ، اللہ ہی اللہ۔۔
اسی سال کی فلم بڈھا شیر (1974) میں بھی ساون کا ٹائٹل رول تھا۔ بطور ہدایتکار یہ عظیم مصنف اور نغمہ نگار حزیں قادری کی واحد فلم تھی۔ اس فلم میں مسعودرانا نے فلم کا تھیم سانگ گایا تھا جو ساون کے پس منظر میں گایا گیا تھا
- یا غوث الاعظمؒ ، پیر میرا ، میرے ستڑے بھاگ جگا دینا۔۔
سجنو ، اے نگری داتا دی
اسی سال کی فلم نگری داتا دی (1974) میں ساون پر مسعودرانا کا اکلوتا سولو گیت فلمایا گیا تھا
- سجنو ، اے نگری داتا دی ، ایتھے آندا کل زمانہ۔۔
یہ گیت ، آج تک لاہور شہر کا سب سے بہترین روحانی تعارف رہا ہے۔ اس گیت کی خاص بات یہ تھی کہ فروری 1974ء میں لاہور میں ہونے والی اسلامی سربراہی کانفرنس میں آنے والی مسلم لیڈروں کے فوٹیج بھی شامل کیے گئے تھے۔
1975ء میں غالباً ساون کی ٹائٹل رول میں آخری فلم نادرخان (1975) ریلیز ہوئی تھی۔ اسی سال کی فلم وحشی جٹ (1975) نے سلطان راہی کو فلموں کی ضرورت بنا دیا تھا۔ ساون کو اس کے بعد معاون اداکار کے طور پر فلموں میں کام ملتا رہا اور کچھ کم نہیں ، صرف سلطان راہی کے ساتھ سو سے زائد فلموں میں کام کیا تھا۔
ساون کا پس منظر
ساون کا اصل نام ظفراحمدبٹ تھا۔ 1923ء میں سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ تعلیم کم تھی اور تانگہ چلایا کرتے تھے۔ فوج میں بھرتی کا ذکر بھی ملتا ہے۔ ذریعہ معاش کی تلاش میں کراچی میں بھی رہے جہاں مزدوری کی اور سینما ٹکٹ بھی بیچے جس سے فلموں میں کام کرنے کا شوق پیدا ہوا تھا۔ 1998ء میں لاہور میں انتقال ہوا تھا۔
مسعودرانا اور ساون کے 7 فلمی گیت
| 1 | دم علیؑ دم ، علیؑ دم مست قلندر ، وسیں تو دل دے اندر ، پیرا ہو..فلم ... بھرجائی ... پنجابی ... (1964) ... گلوکار: شوکت علی ، مسعودرانا ، نسیم بیگم مع ساتھی ... موسیقی: منظور اشرف ... شاعر: تنویر نقوی ... اداکار: اکمل ، ساون ، شیریں مع ساتھی |
| 2 | سوچ کے یار بناویں بندیا ، یار بنا کے فیر نہ سوچیں ،سولی تے چڑھ جاویں..فلم ... جگری یار ... پنجابی ... (1967) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: حزیں قادری ... اداکار: (پس پردہ ، ٹائٹل سانگ ، تھیم سانگ ، علاؤالدین ، ساون) |
| 3 | جے چناں چڑھ ، آکے کر روشنائی ،ذکر کردے تارے ، ہو..فلم ... کڑمائی ... پنجابی ... (1968) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: اختر حسین اکھیاں ... شاعر: سلطان باہو ... اداکار: (پس پردہ ، صبا ، ساون) |
| 4 | جاگ پیے میرے دیس دے راکھے ، غازی شیر جوان..فلم ... مورچہ ... پنجابی ... (1972) ... گلوکار: مسعود رانا مع ساتھی ... موسیقی: وجاہت عطرے ... شاعر: اختر کشمیری ... اداکار: (پس منظر ، ساون) |
| 5 | یا غوث الاعظمؓ ، پیر میرا ، میرے ستڑے بھاگ جگا دینا..فلم ... بڈھا شیر ... پنجابی ... (1974) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: نذیر علی ... شاعر: حزیں قادری ... اداکار: (پس پردہ ۔ ساون) |
| 6 | سجنوں ، اے نگری داتا دی ، ایتھے آندا کل زمانہ ، در میرے مرشد دا ، پیراں ولیاں دا آستانہ..فلم ... نگری داتا دی ... پنجابی ... (1974) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: نذیر علی ... شاعر: تنویر نقوی ... اداکار: ساون |
| 7 | رہے نام اللہ دا ، اللہ ہی اللہ ، ظلم نئیں اوں رہناباقی ، رہنا سدا پیار اوۓ..فلم ... ہاشو خان ... پنجابی ... (1972) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: ایم اشرف ... شاعر: حبیب جالب ... اداکار: ابو شاہ (ساون) |
مسعودرانا اور ساون کے 0 اردو گیت
مسعودرانا اور ساون کے 7 پنجابی گیت
| 1 | دم علیؑ دم ، علیؑ دم مست قلندر ، وسیں تو دل دے اندر ، پیرا ہو ...(فلم ... بھرجائی ... 1964) |
| 2 | سوچ کے یار بناویں بندیا ، یار بنا کے فیر نہ سوچیں ،سولی تے چڑھ جاویں ...(فلم ... جگری یار ... 1967) |
| 3 | جے چناں چڑھ ، آکے کر روشنائی ،ذکر کردے تارے ، ہو ...(فلم ... کڑمائی ... 1968) |
| 4 | جاگ پیے میرے دیس دے راکھے ، غازی شیر جوان ...(فلم ... مورچہ ... 1972) |
| 5 | یا غوث الاعظمؓ ، پیر میرا ، میرے ستڑے بھاگ جگا دینا ...(فلم ... بڈھا شیر ... 1974) |
| 6 | سجنوں ، اے نگری داتا دی ، ایتھے آندا کل زمانہ ، در میرے مرشد دا ، پیراں ولیاں دا آستانہ ...(فلم ... نگری داتا دی ... 1974) |
| 7 | رہے نام اللہ دا ، اللہ ہی اللہ ، ظلم نئیں اوں رہناباقی ، رہنا سدا پیار اوۓ ...(فلم ... ہاشو خان ... 1972) |
مسعودرانا اور ساون کے 6سولو گیت
| 1 | سوچ کے یار بناویں بندیا ، یار بنا کے فیر نہ سوچیں ،سولی تے چڑھ جاویں ...(فلم ... جگری یار ... 1967) |
| 2 | جے چناں چڑھ ، آکے کر روشنائی ،ذکر کردے تارے ، ہو ...(فلم ... کڑمائی ... 1968) |
| 3 | جاگ پیے میرے دیس دے راکھے ، غازی شیر جوان ...(فلم ... مورچہ ... 1972) |
| 4 | یا غوث الاعظمؓ ، پیر میرا ، میرے ستڑے بھاگ جگا دینا ...(فلم ... بڈھا شیر ... 1974) |
| 5 | سجنوں ، اے نگری داتا دی ، ایتھے آندا کل زمانہ ، در میرے مرشد دا ، پیراں ولیاں دا آستانہ ...(فلم ... نگری داتا دی ... 1974) |
| 6 | رہے نام اللہ دا ، اللہ ہی اللہ ، ظلم نئیں اوں رہناباقی ، رہنا سدا پیار اوۓ ...(فلم ... ہاشو خان ... 1972) |
مسعودرانا اور ساون کے 0دوگانے
مسعودرانا اور ساون کے 2کورس گیت
| 1 | دم علیؑ دم ، علیؑ دم مست قلندر ، وسیں تو دل دے اندر ، پیرا ہو ... (فلم ... بھرجائی ... 1964) |
| 2 | جاگ پیے میرے دیس دے راکھے ، غازی شیر جوان ... (فلم ... مورچہ ... 1972) |
Masood Rana & Sawan: Latest Online film
Masood Rana & Sawan: Film posters
Masood Rana & Sawan:
0 joint Online films
(0 Urdu and 0 Punjabi films)Masood Rana & Sawan:
Total 84 joint films
(4 Urdu and 79 Punjabi films)| 1. | 1964: Bharjai(Punjabi) |
| 2. | 1965: Doli(Punjabi) |
| 3. | 1965: Jhanjhar(Punjabi) |
| 4. | 1965: Ik Si Chor(Punjabi) |
| 5. | 1965: Malangi(Punjabi) |
| 6. | 1966: Ann Parh(Punjabi) |
| 7. | 1966: Hamrahi(Urdu) |
| 8. | 1966: Bharia Mela(Punjabi) |
| 9. | 1966: Goonga(Punjabi) |
| 10. | 1966: Nizam Lohar(Punjabi) |
| 11. | 1967: Lal Bujhakkar(Punjabi) |
| 12. | 1967: Jigri Yaar(Punjabi) |
| 13. | 1967: Nadira(Urdu) |
| 14. | 1967: Akbara(Punjabi) |
| 15. | 1967: Muqabla(Punjabi) |
| 16. | 1967: Mera Veer(Punjabi) |
| 17. | 1967: Jani Dushman(Punjabi) |
| 18. | 1967: Neeli Bar(Punjabi) |
| 19. | 1968: Medan(Punjabi) |
| 20. | 1968: Kurmai(Punjabi) |
| 21. | 1968: Har Fun Maula(Punjabi) |
| 22. | 1968: Mera Babul(Punjabi) |
| 23. | 1968: Ik Si Maa(Punjabi) |
| 24. | 1968: Javani Mastani(Punjabi) |
| 25. | 1968: Chalbaz(Punjabi) |
| 26. | 1968: Mela 2 Din Da(Punjabi) |
| 27. | 1969: Langotia(Punjabi) |
| 28. | 1969: Khoon-e-Nahaq(Urdu) |
| 29. | 1969: Sheran Di Jori(Punjabi) |
| 30. | 1969: Lachhi(Punjabi) |
| 31. | 1969: Ishq Na Puchhay Zaat(Punjabi) |
| 32. | 1969: Mukhra Chann Varga(Punjabi) |
| 33. | 1969: Dhee Rani(Punjabi) |
| 34. | 1970: Vichhora(Punjabi) |
| 35. | 1970: Bhai Chara(Punjabi) |
| 36. | 1970: Bahadur Kissan(Punjabi) |
| 37. | 1971: Sher Puttar(Punjabi) |
| 38. | 1971: Pehlvan Jee in London(Punjabi) |
| 39. | 1972: Ik Doli 2 Kahar(Punjabi) |
| 40. | 1972: Meri Ghairat Teri Izzat(Punjabi) |
| 41. | 1972: Zaildar(Punjabi) |
| 42. | 1972: Sohna Jani(Punjabi) |
| 43. | 1972: Sir Dhar Di Bazi(Punjabi) |
| 44. | 1972: Morcha(Punjabi) |
| 45. | 1972: Nizam(Punjabi) |
| 46. | 1973: Kubra Ashiq(Urdu) |
| 47. | 1974: Zulm Kaday Nein Phalda(Punjabi) |
| 48. | 1974: Budha Sher(Punjabi) |
| 49. | 1974: Nagri Daata Di(Punjabi) |
| 50. | 1974: Sikandra(Punjabi) |
| 51. | 1974: Jigar Da Tukra(Punjabi) |
| 52. | 1974: Hashu Khan(Punjabi) |
| 53. | 1975: Nadir Khan(Punjabi) |
| 54. | 1976: Ajj Da Badmash(Punjabi) |
| 55. | 1977: Dada(Punjabi) |
| 56. | 1977: Puttar Tay Qanoon(Punjabi) |
| 57. | 1977: Jeera Sain(Punjabi) |
| 58. | 1978: Chaman Khan(Punjabi) |
| 59. | 1981: Athra Puttar(Punjabi) |
| 60. | 1981: Sultan Tay Veryam(Punjabi) |
| 61. | 1982: Wohti Da Sawal A(Punjabi) |
| 62. | 1983: Jatt Tay Dogar(Punjabi) |
| 63. | 1983: Jatt, Gujjar Tay Natt(Punjabi) |
| 64. | 1983: Vadda Khan(Punjabi) |
| 65. | 1984: Sholay(Punjabi) |
| 66. | 1984: Commander(Punjabi) |
| 67. | 1984: Jatt Kemala Geya Dubai(Punjabi) |
| 68. | 1984: Reshmi Rumal(Punjabi) |
| 69. | 1985: Ziddi Khan(Punjabi) |
| 70. | 1986: Baghi Sipahi(Punjabi) |
| 71. | 1986: 2 Qaidi(Punjabi) |
| 72. | 1986: Jitt Qanoon Di(Punjabi) |
| 73. | 1986: Haq Sach(Punjabi) |
| 74. | 1986: Mela(Punjabi) |
| 75. | 1987: Dunya(Punjabi) |
| 76. | 1988: Allah Ditta(Punjabi) |
| 77. | 1988: Roti(Punjabi) |
| 78. | 1989: Daket(Punjabi) |
| 79. | 1990: Khandani Badmash(Punjabi) |
| 80. | 1991: Jadoo Garni(Punjabi) |
| 81. | 1991: Pasoori Badshah(Punjabi) |
| 82. | 1992: Khooni Sholay(Punjabi/Urdu double version) |
| 83. | 1992: Koday Shah(Punjabi) |
| 84. | 2003: Sher Puttar(Punjabi) |
Masood Rana & Sawan: 7 songs
(0 Urdu and 7 Punjabi songs)
| 1. | Punjabi filmBharjaifrom Friday, 29 May 1964Singer(s): Shoukat Ali, Masood Rana, Naseem Begum & Co., Music: Manzoor Ashraf, Poet: Tanvir Naqvi, Actor(s): Akmal, Sawan, Shirin & Co. |
| 2. | Punjabi filmJigri Yaarfrom Thursday, 12 January 1967Singer(s): Masood Rana, Music: G.A. Chishti, Poet: Hazin Qadri, Actor(s): (Playback, themesong - Allauddin, Sawan) |
| 3. | Punjabi filmKurmaifrom Friday, 22 March 1968Singer(s): Masood Rana, Music: Akhtar Hussain Akhian, Poet: Sultan Bahoo, Actor(s): (Playback - Saba, Sawan) |
| 4. | Punjabi filmMorchafrom Friday, 8 September 1972Singer(s): Masood Rana, Music: Wajahat Attray, Poet: Akhtar Kashmiri, Actor(s): (Playback, Sawan) |
| 5. | Punjabi filmBudha Sherfrom Friday, 15 February 1974Singer(s): Masood Rana, Music: Nazir Ali, Poet: Hazin Qadri, Actor(s): (Playback, Sawan) |
| 6. | Punjabi filmNagri Daata Difrom Friday, 8 March 1974Singer(s): Masood Rana, Music: Nazir Ali, Poet: Tanvir Naqvi, Actor(s): Sawan |
| 7. | Punjabi filmHashu Khanfrom Friday, October 18, 1974Singer(s): Masood Rana, Music: M. Ashraf, Poet: Habib Jalib, Actor(s): Abbu Shah, (Sawan) |

Allah Nigehban
(2003)

Pathar Tay Leek
(1969)

Soudagar
(1972)

Ek Musafir Ek Haseena
(1968)

Eid Mubarak
(1965)

Gharana
(1973)
Pakistan Film Magazine
Pakistan Film Magazine is the first and largest website of its kind, containing unique information, articles, facts and figures on Pakistani and pre-Partition films, artists and film songs.
It is continuously updated website since May 3, 2000.
is an individual effort to compile and preserve the Pakistan history online.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes and therefor,
I am not responsible for the content of any external site.
پاک میگزین" کا آغاز 1999ء میں ہوا جس کا بنیادی مقصد پاکستان کے بارے میں اہم معلومات اور تاریخی حقائق کو آن لائن محفوظ کرنا ہے۔
یہ تاریخ ساز ویب سائٹ، ایک انفرادی کاوش ہے جو 2002ء سے mazhar.dk کی صورت میں مختلف موضوعات پر معلومات کا ایک گلدستہ ثابت ہوئی تھی۔
اس دوران، 2011ء میں میڈیا کے لیے akhbarat.com اور 2016ء میں فلم کے لیے pakfilms.net کی الگ الگ ویب سائٹس بھی بنائی گئیں
لیکن 23 مارچ 2017ء کو انھیں موجودہ اور مستقل ڈومین pakmag.net میں ضم کیا گیا جس نے "پاک میگزین" کی شکل اختیار کر لی تھی۔



















































































M.Kaleem
Shakeela Qureshi
Usman Mukhtar
S.M. Yousuf
Razia
Ahmad Rahi
Hamid
Rubi Niazi
Farida Khanum
Munir Hussain
Aqeel
Kanwal Naseer
Rasheed Dogar
Ali Baba
Sohail
Raza Mir








