Pakistn Film Magazine in Urdu/Punjabi


A Tribute To The Legendary Playback Singer Masood Rana

Masood Rana - مسعودرانا


ایس ایم یوسف

جب دو باب بیٹوں نے
ایک ساتھ فلمی کیرئر کا آغاز کیا
ایس ایم یوسف
ایس ایم یوسف
اقبال یوسف
اقبال یوسف

1960ء میں پاکستان کی فلمی تاریخ میں ایک عجیب و غریب اور منفرد واقعہ رونما ہوا جب دو باپ بیٹوں نے آگے پیچھے ، اپنے اپنے فلمی کیرئرز کا آغاز کیا تھا۔

بیٹا ، سینارٹی میں باپ سے دو ماہ بڑا ثابت ہوا لیکن باپ ، اپنے تجربے کی بنیاد پر باکس آفس پر بیٹے سے بہتر نتائج کا حامل رہا۔۔!

بات ہورہی ہے ، فلمساز اور ہدایتکار ایس ایم یوسف اور ان کے صاحبزادے ، فلمساز ، ہدایتکار اور اداکار اقبال یوسف کی جو پچاس کی دھائی کے آخر میں بیشتر ہندوستانی مہاجروں کی طرح اپنا آبائی وطن بھارت چھوڑ کر بہتر مستقبل کی تلاش میں پاکستان چلے آئے تھے۔

مسلم سوشل فلموں کے ہدایتکار

ایس ایم یوسف 1910ء میں پونا ، بھارت میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کی پہلی فلم بھارت کا لال (1936) تھی۔ تقسیم سے قبل انھوں نے کل 14 فلمیں بنائیں جن میں سے فلم نیک پروین (1946) ایک یادگار مسلم سوشل فلم تھی۔ اس فلم کی شوٹنگ لاہور میں کی گئی تھی اور مشہور مقامی اداکارہ راگنی نے ٹائٹل رول کیا تھا۔ موسیقار ، فیروزنظامی تھے اور بیشتر گیت مقامی گلوکارہ زینت بیگم نے گائے تھے۔ انھوں نے اپنی اس یادگار فلم کا ری میک اسی نام سے 1975ء میں پاکستان میں بھی بنایا تھا لیکن کامیابی نہیں ہوئی تھی۔

تقسیم کے بعد ایس ایم یوسف نے بھارت میں ایک درجن کے قریب فلمیں بنائیں۔ عام طور پر وہ ، مسلم سماجی اور معاشرتی موضوعات پر فلمیں بنانے میں ماہر تھے لیکن بھارت کی اکثریتی ہندو آبادی کے لیے ایسی فلمیں پرکشش نہیں ہوتی تھیں۔ اس کی ایک مثال ان کی فلم مہندی (1958) تھی جو وہاں ناکام رہی لیکن جب پاکستان میں اس کا ری میک سہیلی (1960) کے نام سے بنایا گیا تو فلم سپرہٹ ہوگئی تھی۔

باپ بیٹے کا مقابلہ ، کراچی اور لاہور کا مقابلہ بن گیا

لطف کی بات ہے کی پاکستان آمد کے بعد باپ اور بیٹے میں فلم بنانے کا مقابلہ ایک طرح سے کراچی اور لاہور کا مقابلہ بن گیا تھا۔ ایس ایم یوسف کی فلم سہیلی (1960) لاہور میں بن رہی تھی اور ان کے بیٹے اقبال یوسف کی پہلی فلم رات کے راہی (1960) کراچی میں بن رہی تھی۔

اقبال یوسف کی فلم رات کے راہی (1960)

فلم رات کے راہی کی نمائش 28 اکتوبر 1960ء کو ہوئی اور سلورجوبلی منا کر کامیاب رہی تھی۔

کراچی کے ایسٹرن سٹوڈیوز کے چیف ساؤنڈ ریکارڈسٹ اور فلمساز اقبال شہزاد نے اس فلم میں اپنی اداکارہ بیوی ، ریحانہ کو درپن کے مقابل ہیروئن کے طور پر پیش کیا تھا۔

اداکارہ ریحانہ

ریحانہ ، تقسیم سے پہلے کی ایک مشہور اور متنازعہ اداکارہ تھی جس نے اس وقت کے بیشتر فلمی ہیروز کے ساتھ کام کیا تھا۔ پاکستان میں اس کی پہلی فلم وحشی (1956) تھی جو سینئر اداکار ، فلمساز اور ہدایتکار نذیر کے بیٹے افضل نذیر کی بطور ہیرو اکلوتی فلم تھی۔ ریحانہ کو اصل شہرت فلم رات کے راہی (1960) سے ملی اور اس پر فلمایا ہوا زبیدہ خانم کا لازوال گیت

  • تیری الفت میں صنم ، دل نے بہت درد سہے ، اور ہم چپ ہی رہے۔۔

فلم کا سب سے مقبول گیت تھا۔

شمیم آراء اور لہری کی جوڑی

اس فلم میں شمیم آرا کی بے جوڑ جوڑی ، مزاحیہ اداکار لہری کے ساتھ بنانے کی ناکام کوشش کی گئی تھی جو کردار نگاری میں بڑے کمزور تھے۔ اسی فلم میں اردو فلموں کے مایہ ناز گلوکار احمدرشدی نے فلم کے ہیرو کے ساتھ ایک فائٹ میں ایکسٹرا فائٹر کا رول کیا تھا۔ معروف معاون اداکار ابراہیم نفیس کی یہ پہلی فلم تھی۔ فلم رات کے راہی (1960) کے کہانی نویس کے طور اقبال یوسف اور مکالمہ نگار کے طور ابراہیم جلیس کے نام ملتے ہیں لیکن اصل میں یہ فلم ، ایس ایم یوسف کی بھارت میں بنائی گئی فلم گروگنٹال (1956) کا ری میک تھی۔

ایس ایم یوسف کی شاہکار فلم سہیلی (1960)

سہیلی (1960)
ہدایتکار ایس ایم یوسف کی پاکستان میں پہلی سپرہٹ فلم سہیلی (1960)

دوماہ بعد ، 23 دسمبر 1960ء کو فلمساز اور ہدایتکار ایس ایم یوسف کی پہلی پاکستانی فلم سہیلی ریلیز ہوکر سپرہٹ گولڈن جوبلی منانے میں کامیاب ہوئی تھی۔ اس وقت کی گولڈن جوبلی ، ستر اور اسی کی دھائیوں کی ڈائمنڈجوبلی فلم کے برابر ہوتی تھی۔

یہ ایک شاہکار فلم تھی جس میں تین ہیروئنیں تھیں۔ نیرسلطانہ ، شمیم آرا اور بہار جبکہ درپن ، ڈبل رول میں تھے۔ اسلم پرویز ، اپنے ہیروشب کے عروج کے دور میں اس فلم میں منفی کردار میں ایسے آئے کہ پھر ان پر اردو فلموں کے سب سے بہترین ولن کی چھاپ لگ گئی تھی۔

نیر سلطانہ اور شمیم آراء کی تکرار

اس فلم کی شاندار کامیابی سے اس کی دو ہیروئنوں ، نیرسلطانہ اور شمیم آرا میں ٹھن گئی تھی کیونکہ ایوارڈز دینے والوں نے اپنی اپنی پسند کے مطابق دونوں کو بہترین اداکارہ کے ایوارڈز تھما دیے تھے۔ یہ ان دونوں کی پہلی پہلی سپرہٹ فلم تھی جس کا وہ اکیلے ہی کریڈٹ لینا چاہتی تھیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اس فلم کی فرسٹ ہیروئن نیرسلطانہ تھی اور شمیم آرا کا کردار ثانوی تھا۔ اس دور کے فلمی میڈیا میں جو آج کل کے سوشل میڈیا کی طرح ہر ایرے غیرے نتھو خیرے کی آماجگاہ ہوتا تھا ، اس بات کو خوب اچھالا گیا تھا۔

فلم رات کے راہی (1960) کی طرح اس فلم کی موسیقی بھی اے حمید نے ترتیب دی تھی جبکہ گیت فیاض ہاشمی نے لکھے تھے۔ یہ دونوں فنکار ، ان باپ بیٹوں کی بیشتر فلموں کے مستقل رکن ہوتے تھے۔

نسیم بیگم اور سلیم رضا کے گیتوں نے ایک عالم کو مسحور کیا تھا اور متعدد یادگار گیت سننے کو ملے

  • ہم بھول گئے ہر بات مگر تیرا پیار نہیں بھولے۔۔
  • ہم نے جو پھول چنے ، دل میں کھبے جاتے ہیں۔۔
  • مکھڑے پہ سہرا ڈالے ، آجا او آنے والے ، چاند سی بنو میری تیرے حوالے۔۔
  • کہیں دو دل جو مل جاتے ، بگڑتا کیا زمانے کا۔۔

فلم سہیلی (1960) کو دہلی کے ایک فلمی میلے میں بھی پیش کیا گیا تھا۔ اسوقت کے بھارتی وزیراعظم جواہرلال نہرو نے فلم کی تعریف کرتے ہوئے اس جملے کے ساتھ کہ "ہمارا یوسف ، پرایا ہوگیا ہے۔۔" ، ایس ایم یوسف کو ایک خاص تحفہ دیا تھا۔

نہرو کا پاکستان کے لیے نرم گوشہ

بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو ، پاکستان کے لیے بڑا نرم گوشہ رکھتے تھے۔ ان کی قیادت میں کانگریس پارٹی نے دانستہ پاکستان کے قیام کی راہ ہموار کی تھی۔ تقسیم کے بعد اثاثہ جات کی تقسیم ہو ، انتظامی اور اقلیتی امور ہوں یا پاکستان کی اقوام متحدہ میں ممبرشپ ، نہرو نے ہمیشہ پاکستان سے بھر پور تعاون کیا تھا۔

تنازعہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے اقوام متحدہ بھی خود ہی گئے تھے۔ نہری پانی کا مسئلہ جتنا پاکستان کے لیے اہم تھا ، اتنا بھارت کے لیے نہیں تھا ، پھر بھی وہ بڑے اہتمام کے ساتھ کراچی آئے اور جنرل ایوب خان اور وولڈ بینک کے ساتھ سہ طرفہ معاہدہ کیا تھا۔ انھوں نے پاکستان کو راوی اور ستلج کے پانیوں کی قیمت بھی ادا کی تھی اور دس سال کا عرصہ بھی دیا تھا کہ اس دوران پاکستان ، ان دریاؤں کے لیے رابطہ نہریں بنا لے۔

نہرو صاحب ، پاکستان پر اتنے مہربان تھے کہ مغربی پاکستان سے مشرقی پاکستان کے لیے زمینی راہداری دینے پر بھی تیار تھے۔ بدقسمتی سے پاکستان کو کشمیر کے عشق نے کہیں کا نہ چھوڑا ، جرم ضعیفی اور عاقبت نا اندیشی میں وصال یار ملا نہ اپنی دنیا و آخرت سنوار سکے۔۔!

وحیدمراد کی پہلی فلم اولاد (1962)

ایس ایم یوسف کی دوسری فلم اولاد (1962) بھی ایک یادگار گولڈن جوبلی فلم تھی۔

ایک باوفا بیوی ، مثالی ماں اور بچوں کی تربیت کے موضوع پر بنائی گئی اس اصلاحی فلم میں نیرسلطانہ کی اداکاری عروج پر تھی۔ اس کی جوڑی حبیب کے ساتھ تھی۔ اس فلم میں وحیدمراد کو متعارف کرایا گیا تھا جنھوں نے اصل میں فلم کا ٹائٹل رول بھی کیا تھا کیونکہ وہ ان دونوں کی 'اولاد' ہوتے ہیں۔

نسیم بیگم اور منیر حسین کے گیتوں نے دھوم مچا دی تھی۔

  • نام لے لے کے تیرا ہم تو جیے جائیں گے۔۔
  • تم ملے پیار ملا ، اب کوئی ارمان نہیں۔۔
  • حق لاالہ الااللہ ، فرمادیا کملی والےﷺ نے۔۔

ایس ایم یوسف کی دیگر فلمیں

حیرت کی بات ہے کہ پہلی دوفلموں کی زبردست کامیابی کے بعد ایس ایم یوسف کی دیگر گیارہ فلمیں کسی بڑی کامیابی سے محروم رہیں۔ گو ان میں ناکام فلمیں صرف دو تھیں لیکن یہ ریکارڈز صرف کراچی کے ہیں جہاں اردو فلموں کی کامیابی کا مطلب یہ نہیں ہوتا تھا کہ وہ فلمیں باقی ملک میں بھی کامیاب ہوتی تھیں۔

ان کی ایک فلم دلہن (1963) بہت اچھی فلم تھی لیکن ناکام رہی۔ شاید اس لیے کہ اس فلم میں نیرسلطانہ کی جوڑی درپن کے بجائے حبیب کے ساتھ تھی۔

آشیانہ (1964) بھی اپنے موضوع اور گیتوں کی وجہ سے بڑی یادگار فلم تھی۔

فلم عید مبارک (1965) بھی ایک قابل تعریف فلم تھی جس میں انھوں نے اپنے بیٹے اقبال یوسف کو پہلی بار بطور اداکار پیش کیا تھا۔

فلم شریک حیات (1968) بھی ایک بہت اچھی سبق آموز ، اصلاحی اور نغماتی فلم تھی جس میں مسعودرانا کا پہلا ساتھ اس گیت کے ساتھ ہوا تھا:

  • میرے دل کے صنم خانے میں اک تصویر ایسی ہے ، جو بالکل آپ جیسی ہے۔۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یوسف صاحب کی آخری چھ میں سے پانچ فلموں میں مسعودرانا کے گیت ملتے ہیں جن میں سے فلم ہارگیا انسان (1975) کے تھیم سانگ کے علاوہ آخری فلم گونج اٹھی شہنائی (1976) میں یہ مزاحیہ گیت بھی تھا:

  • چاہے بدھ ہو ، چاہے ہو جمعرات ، تیرے گھر لے کے آؤں گا بارات رے۔۔

وحیدمراد پر فلمایا گیا مسعودرانا کا یہ آخری سولو گیت تھا۔

فلمساز کے طور پر بھی ایس ایم یوسف نے بارہ فلمیں بنائی تھیں جن میں سے بیشتر فلموں کے ہدایتکار وہ خود ہی تھے۔ ان کی فلمساز کے طور پر آخری فلم نصیب (1994) تھی جو ایک ڈبل ورژن پنجابی/اردو فلم تھی۔

ایس ایم یوسف کی اس آخری فلم میں بھی مسعودرانا کا یہ دلچسپ گیت تھا:

  • کڑی کچی کچنار دی ، دل میرا لے گئی جے ،
    مینوں ہوگیا ایدھے نال پیار ، پسوڑی پے گئی جے۔۔

ہدایتکار اقبال یوسف کا فلمی ریکارڈ

دوسری طرف اقبال یوسف زیادہ تر ہلاگلا ، ایکشن ، جاسوسی اور ماڈرن ٹائپ فلمیں بناتے تھے۔ ایسی فلمیں شہری ماحول اور نوجوان طبقے کو تو متاثر کیا کرتی تھیں لیکن میعاری نہیں ہوتی تھیں۔

فلمی بزنس کا جائزہ لیں تو 28 فلموں میں سے صرف ایک فلم ان داتا (1976) سپرہٹ ہوئی تھی۔ یہ ایک شاہکار ایکشن فلم تھی جس میں سدھیر نے ٹائٹل رول کیا تھا جنھیں اقبال یوسف نے فلم سن آف ان داتا (1987) میں بھی مرکزی کردار دیا تھا۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ فلم ان داتا (1976) میں سدھیر کے ایک بٹیے سلطان راہی کو دوسری فلم سن آف ان داتا (1987) میں بھی رکھا گیا تھا لیکن دوسرے بیٹے ، محمدعلی کو مکمل طور پر نظرانداز کردیا گیا تھا حالانکہ پہلی فلم کے وہ روایتی ہیرو تھے۔

صورت اور سیرت (1975) اور سنگرام (1981) دیگر کامیاب فلمیں تھیں۔

اقبال یوسف کی دیگر فلموں میں دال میں کالا (1962) کی ہیروئن بہار تھی جس کے ساتھ انھوں نے پہلی شادی کی اور پھر طلاق ہوگئی تھی۔

فلم جوش (1966) ایک اچھی فلم تھی جس میں سدھیر کی جوڑی زیبا کے ساتھ تھی جو وحیدمراد کے پرستاروں کو ہضم نہیں ہوئی تھی کیونکہ ارمان (1966) کی تازہ تازہ کامیابی کے بعد ان کے لیے اپنے محبوب فنکار کو سیکنڈ ہیرو کے طور پر قبول کرنا بھی مشکل تھا۔

اقبال یوسف کی اکلوتی فلم میں مسعودرانا کا گیت

فلم جوکر (1966) بھی ایک اچھی فلم تھی جس میں کمال نے ٹائٹل رول بڑی عمدگی سے کیا تھا۔ یہ اکلوتی فلم تھی جس میں اقبال یوسف نے مسعودرانا سے کوئی گیت گوایا تھا:

  • بل کھاتی ہوئی ، لہراتی ہوئی ، چلی رے چلی رے دیکھو جھوم کے۔۔

فلم تم ملے پیار ملا (1969) بھی ایک اچھی رومانوی اور نغماتی فلم تھی جس کی شوٹنگ کے دوران زیبا اور محمدعلی نے شادی کرلی تھی۔

فلم اک سپیرا (1971) میں اقبال یوسف نے فرسٹ ہیرو کے طور پر کام کیا تھا اور ان کی ہیروئن مہ پارہ تھی جس سے انھوں نے دوسری شادی کرلی تھی۔

فلم ہل سٹیشن (1972) مغربی پاکستان کے کسی فلمساز کی اکلوتی فلم تھی جس میں مشرقی پاکستان کے ممتاز گلوکار بشیراحمد نے نغمہ سرائی کی تھی۔

وحیدمراد کی آخری فلم ہیرو (1985) کی ڈائریکشن کا اعزاز بھی اقبال یوسف کے پاس ہے۔

ان کی آخری فلم راز (1992) تھی جو غالباً مشہور کرکٹ کھلاڑی محسن حسن خان کی بطور اداکار پہلی فلم تھی۔

1938ء میں ممبئی میں پیدا ہونے والے اقبال یوسف کا 1995ء میں لندن میں انتقال ہوا جبکہ ان کے والد ، ایس ایم یوسف یا شیخ محمدیوسف کا ایک سال پہلے 1994ء میں انتقال ہوگیا تھا۔

مسعودرانا کے ایس ایم یوسف کی 5 فلموں میں 6 گیت

(6 اردو گیت ... 0 پنجابی گیت )
1
فلم ... شریک حیات ... اردو ... (1968) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: اے حمید ... شاعر: ریاض الرحمان ساغر ... اداکار: کمال
2
فلم ... بہورانی ... اردو ... (1969) ... گلوکار: مسعودرانا ، مالا مع ساتھی ... موسیقی: اے حمید ... شاعر: فیاض ہاشمی ... اداکار: محمد علی ، نگو مع ساتھی
3
فلم ... ہار گیا انسان ... اردو ... (1975) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: نثار بزمی ... شاعر: ریاض الرحمان ساغر ... اداکار: ابو شاہ (طارق عزیز)
4
فلم ... ہار گیا انسان ... اردو ... (1975) ... گلوکار: مسعود رانا ، نیرہ نور ... موسیقی: نثار بزمی ... شاعر: ریاض الرحمان ساغر ... اداکار: ندیم ، ممتاز
5
فلم ... نیک پروین ... اردو ... (1975) ... گلوکار: ناہید اختر ، مسعود رانا ... موسیقی: اے حمید ... شاعر: ؟ ... اداکار: سنگیتا ، محمد علی
6
فلم ... گونج اٹھی شہنائی ... اردو ... (1976) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: ایم اشرف ... شاعر: تسلیم فاضلی ... اداکار: وحید مراد

Masood Rana & S.M. Yousuf: Latest Online film

Haar Geya Insan

(Urdu - Color - Friday, 21 March 1975)


Masood Rana & S.M. Yousuf: Film posters
Sharik-e-HayyatBahu Rani
Masood Rana & S.M. Yousuf:

1 joint Online films

(1 Urdu and 0 Punjabi films)

1.1975: Haar Geya Insan
(Urdu)
Masood Rana & S.M. Yousuf:

Total 5 joint films

(5 Urdu, 0 Punjabi films)

1.1968: Sharik-e-Hayyat
(Urdu)
2.1969: Bahu Rani
(Urdu)
3.1975: Haar Geya Insan
(Urdu)
4.1975: Neik Parveen
(Urdu)
5.1976: Goonj Uthi Shehnai
(Urdu)


Masood Rana & S.M. Yousuf: 6 songs in 5 films

(6 Urdu and 0 Punjabi songs)

1.
Urdu film
Sharik-e-Hayyat
from Friday, 24 May 1968
Singer(s): Masood Rana, Music: A. Hameed, Poet: , Actor(s): Kemal
2.
Urdu film
Bahu Rani
from Friday, 4 July 1969
Singer(s): Masood Rana, Mala & Co., Music: A. Hameed, Poet: , Actor(s): Mohammad Ali, Niggo & Co.
3.
Urdu film
Haar Geya Insan
from Friday, 21 March 1975
Singer(s): Masood Rana, Nayyara Noor, Music: Nisar Bazmi, Poet: , Actor(s): Nadeem, Mumtaz
4.
Urdu film
Haar Geya Insan
from Friday, 21 March 1975
Singer(s): Masood Rana, Music: Nisar Bazmi, Poet: , Actor(s): Abbu Shah (Tariq Aziz)
5.
Urdu film
Neik Parveen
from Friday, 5 December 1975
Singer(s): Naheed Akhtar, Masood Rana, Music: A. Hameed, Poet: , Actor(s): Sangeeta, Mohammad Ali
6.
Urdu film
Goonj Uthi Shehnai
from Friday, 19 November 1976
Singer(s): Masood Rana, Music: M. Ashraf, Poet: , Actor(s): Waheed Murad




پاکستان کی 75 سالہ فلمی تاریخ

پاکستان فلم میگزین ، سال رواں یعنی 2023ء میں پاکستانی فلموں کے 75ویں سال میں مختلف فلمی موضوعات پر اردو/پنجابی میں تفصیلی مضامین پیش کر رہا ہے جن میں مکمل فلمی تاریخ کو آن لائن محفوظ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

قبل ازیں ، 2005ء میں پاکستانی فلموں کا عروج و زوال کے عنوان سے ایک معلوماتی مضمون لکھا گیا تھا۔ 2008ء میں پاکستانی فلموں کے ساٹھ سال کے عنوان سے مختلف فنکاروں اور فلموں پر مختصر مگر جامع مضامین سپردقلم کیے گئے تھے۔ ان کے علاوہ پاکستانی فلموں کے منفرد ڈیٹابیس سے اعدادوشمار پر مشتمل بہت سے صفحات ترتیب دیے گئے تھے جن میں خاص طور پر پاکستانی فلموں کی سات دھائیوں کے اعدادوشمار پر مشتمل ایک تفصیلی سلسلہ بھی موجود ہے۔

پاکستان کی فلمی تاریخ

عید کی فلمیں …… برصغیر کی پہلی پنجابی فلم …… بھٹو اور پاکستانی فلمیں …… لاہور کی فلمی تاریخ …… پاکستان کی فلمی زبانیں …… فنکاروں کی تقسیم …… پاکستان کے فلم سٹوڈیوز …… پاکستانی فلموں کے 75 سال …… پاکستان کی پہلی پنجابی فلم پھیرے …… پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد ……

240 فنکاروں پر معلوماتی مضامین

تازہ ترین


دیگر مضامین




PAK Magazine is an individual effort to compile and preserve the Pakistan's political, film and media history.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes, and therefor, I am not responsible for the content of any external site.