Pakistn Film Magazine in Urdu/Punjabi


A Tribute To The Legendary Playback Singer Masood Rana

Masood Rana - مسعودرانا


نثار بزمی

نثار بزمی
نثار بزمی
ایک اعلیٰ پائے کے موسیقار تھے

نثار بزمی ، اردو فلموں کے ایک مایہ ناز موسیقار تھے۔۔!

موسیقار نثار بزمی نے اپنی جنم بومی ہندوستان میں چالیس کے قریب فلموں کی موسیقی ترتیب دی تھی لیکن کسی کامیابی سے محروم رہے تھے۔ 1962ء میں جب وہ اپنے عزیزواقارب سے ملنے کے لیے کراچی آئے تو قسمت کی دیوی ایسی مہربان ہوئی کہ پانسہ ہی پلٹ گیا تھا۔ پاک سر زمین ان کے لیے انتہائی مبارک ثابت ہوئی تھی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ پاکستان کی اردو فلموں کے کامیاب ترین موسیقار بن گئے تھے۔

نثار بزمی کا فلمی کیرئر

نثار بزمی نے سب سے پہلے فلمساز اور ہدایتکار فضل احمد کریم فضلی کی فلم ایسا بھی ہوتا ہے (1965) کی موسیقی ترتیب دی تھی۔ ان کی پہلی کمپوزیشن اس فلم میں میڈم نورجہاں کا یہ کورس گیت تھا:

  • آئے آئے ، بہار کے دن آئے۔۔

اس فلم میں ان کا پہلا سپر ہٹ گیت بھی میڈم نورجہاں نے گایا تھا:

  • ہو تمنا اور کیا ، جان تمنا آپ ہیں۔۔

اسی فلم میں انھوں نے پہلی بار مسعودرانا سے ایک بڑا اعلیٰ پائے کا یہ دوگانا گوایا تھا جس میں دوسرے گلوکار احمدرشدی تھے:

  • مالک بنا ہوا ہے تو ہے وہ بھی آدمی۔۔

نثار بزمی کی بھارتی فلمیں

نثار بزمی نے بھارت میں کل چالیس فلموں کی موسیقی ترتیب دی تھی جن میں سے 24 فلموں کا ریکارڈ پاکستان فلم میگزین کے سابقہ ورژن پر موجود ہے۔ ان کی پہلی فلم جمنار پار (1946) تھی جبکہ آخری فلم شعلہ جو بھڑکے (1961) کا ریکارڈ ملتا ہے۔

بقول ان کے اپنے ، یہ سبھی بی اور سی کلاس فلمیں تھیں اور ان میں سے کسی فلم کا کوئی ایک بھی گیت سپر ہٹ نہیں ہوا تھا حالانکہ گانے والوں میں محمدرفیع ، لتا منگیشکر اور آشا بھونسلے جیسے بڑے بڑے نام تھے۔

ریکارڈز کے لیے ان کی 24 بھارتی فلموں کی مکمل تفصیل اس طرح سے تھی: جمنا پار ، جیب کترا (1946) ، دغا باز دوست ، ایکسٹرا گرل (1947) ، ہماری قسمت ، جیو راجہ ، روپ لیکھا (1949) ، رام بھروسے (1951) ، باما ، کیوں جی (1952) ، گوریلا ، کھوج (1953) ، ہلا گلا ، ستمگر (1954) ، پیارا دشمن ، آدم خور (1955) ، فلائنگ کوئین ، جنگل کوئین ، کربھلا (1956) ، بھلا آدمی ، کل کیا ہوگا ، سچے کا بول بالا (1958) ، تیر اور تلوار (1960) ، شعلہ جو بھڑکے (1961)۔

نثار بزمی کی پہلی پاکستانی فلم

پاکستان آمد کے بعد ریلیز کے اعتبار سے ان کی پہلی فلم ہیڈ کانسٹیبل (1964) تھی جبکہ آخری فلم ویری گڈ دنیا ، ویر بیڈ لوگ (1998) تھی۔

ان کی فلموں کی کل تعداد 68 ہے جن میں سات گیتوں کی اوسط سے اندازاً پانچ سو کے قریب گیت بنتے ہیں۔ ان کے زیادہ تر گیت احمدرشدی ، ملکہ ترنم نورجہاں ، مہدی حسن ، مالا ، رونا لیلیٰ اور مہناز نے گائے تھے۔

بزمی صاحب نے مسعودرانا سے صرف 16 گیت گوائے تھے جن میں سے چار گیت پہلے دس برسوں میں اور آخری بارہ گیت آخری دو برسوں یعنی 1974/75ء میں گوائے تھے۔ اس کی وجوہات آگے بیان کی گئی ہیں۔

نثار بزمی نے کبھی کسی پنجابی فلموں کی موسیقی نہیں دی تھی

نثار بزمی ، پاکستان کے ان پانچ بڑے موسیقاروں میں شامل ہیں کہ جنھوں نے کبھی کسی پنجابی فلم کی موسیقی ترتیب نہیں دی تھی حالانکہ ان کے کریڈٹ پر ایک پشتو فلم جوند یا مرگ (1978) کا ذکر بھی ملتا ہے۔ نثار بزمی کے علاوہ دیگر چار خالص اردو موسیقار سہیل رعنا ، روبن گھوش ، ناشاد اور لعل محمد اقبال ہیں۔

نثار بزمی کی شاہکار فلم لاکھوں میں ایک (1967)

نثار بزمی ایک انتہائی اعلیٰ پائے کے موسیقار تھے۔ اپنے ابتدائی دور میں ان کی سب سے بڑی فلم لاکھوں میں ایک (1967) تھی جس کے بیشتر گیت امر سنگیت میں شامل ہیں۔

مجھے ذاتی طور پر ان کی تمام فلموں میں سے اس فلم کے گیت سب سے زیادہ پسند رہے ہیں۔ خاص طور پر میڈم نورجہاں کا یہ گیت:

  • سن ساجنا ، دکھی من کی پکار۔۔

اتنا پسند ہے کہ جب کبھی کسی اداسی کے عالم میں گنگناتا ہوں تو جو دو گیت کسی ہوک کی طرح دل کی گہرائیوں نکلتے ہیں ان میں مسعودرانا کے فلم ہمراہی (1966) کے گیت "نقشہ تیری جدائی کا زخم جگر میں ہے۔۔" کی طرح یہ گیت بھی ہے۔

اسی فلم کا ایک اور گیت:

  • چلو اچھا ہوا تم بھول گئے۔۔

میں شمیم آراء کا معصوم سا چہرہ نہیں بھولتا جو کسی بھی فلم آرٹسٹ کا پہلا پہلا چہرہ ہے جو میرے ذہن پر نقش ہے کیونکہ سینما پر اپنی پہلی فلم دیکھنے سے قبل یہی چہرہ ٹیلی ویژن پر دیکھا تھا۔

جب نثار بزمی نے مہدی حسن اور نورجہاں کے گیت رد کئے

نثار بزمی ، ایک اعلیٰ پائے کے موسیقار تھے جو میعار پرسمجھوتہ نہیں کرتے تھے اور اس وجہ سے بڑا نقصان بھی اٹھاتے تھے۔

انھوں نے فلم شمع اور پروانہ (1970) کا گیت:

  • میں تیرا شہر چھوڑ جاؤں گا۔۔

پہلے خانصاحب مہدی حسن سے گوایا تھا لیکن مطمئن نہیں ہوئے تھے۔ پھر وہی گیت انھوں نے کہیں کم تجربہ کار گلوکار مجیب عالم سے گوایا تو ان کی کارکردگی سے اتنے خوش ہوئے تھے کہ ان سے فلم کے چھ گیت گوا لیے تھے۔

یہ جرات بھی صرف بزمی صاحب ہی کی تھی کہ انھوں نے فلم امراؤ جان ادا (1972) میں میڈم نورجہاں کا گیت:

  • جو بچا تھا ، وہ لٹانے کے لیے آئے ہیں۔۔

کی ریکارڈنگ کے بعد اپنی ناپسندیدگی اور ناراضی کا اظہار کیا تھا۔

یہ بات جب ملکہ ترنم کے کانوں تک پہنچی تھی تو وہ اتنی سیخ پا ہوئی تھیں کہ ان کے دباؤ پر سنگر ایسوسی ایشن نے بزمی صاحب کا بائیکاٹ کر دیا تھا اور انھیں لاہور چھوڑ کر واپس کراچی شفٹ ہونا پڑا تھا۔

دلچسپ بات یہ تھی کہ اس وقت وہ ایک فلم جاگیر (1975) کی موسیقی ترتیب دے رہے تھے اور اس کا گیت:

  • ہم چلے تو ہمارے ، سنگ سنگ نظارے چلے۔۔

احمدرشدی سے گوانا چاہتے تھے لیکن گلوکاروں کے بائیکاٹ کی وجہ سے نہ گوا سکے تو انھوں نے کراچی ٹی وی کے ایک نوجوان گلوکار عالمگیر کو موقع دیا تھا جو فلم کے کامیاب گلوکار تو نہ بن سکے تھے لیکن ٹی وی کے مقبول ترین اور پہلے پاپ گلوکار تھے۔

جب نثار بزمی نے محمدرفیع کے مقابلے کا گیت مسعودرانا سے گوایا

نثار بزمی صاحب اپنی مرضی کا کام کرنا پسند کرتے تھے اور کسی قسم کا دباؤ پسند نہیں کرتے تھے۔

فلم حاتم طائی (1967) میں انھوں نے مسعودرانا سے ایک بڑی اعلیٰ پائے کی حمد گوائی تھی:

  • مشکل میں سب نے تجھ کو پکارا ، پروردگارا۔۔

اس حمد کی ساری شاعری ایک بھارتی فلم حاتم طائی (1956) میں محمدرفیع کی گائی ہوئی حمد سے لی گئی تھی "پروردگار عالم ، تیرا ہی ہے سہارا۔۔"

فلمساز کی خواہش تھی کی دھن بھی نقل ہو لیکن بزمی صاحب نے ایسا کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا اور ایک اوریجنل دھن بنا کر فلمساز کو لاجواب کر دیا تھا۔

عام طور پر بزمی صاحب کے فیورٹ گلوکار احمدرشدی اور مہدی حسن ہوتے تھے لیکن اونچی سروں میں گانا ان دونوں کے بس کی بات نہیں ہوتی تھی ، اسی لیے مسعودرانا سے گوانا ، اردو موسیقاروں کی مجبوری ہوتی تھی۔

جب نثار بزمی ، مسعودرانا سے گوانے پر مجبور ہوئے

بزمی صاحب کو یہ شکایت بھی ہوتی تھی کہ ان کے کام میں مداخلت بہت ہوتی تھی اور بعض بڑے فلمساز اور ہدایتکار بھی اپنی مرضی کا کام کرواتے تھے۔

فلم دشمن (1974) کا واقعہ سناتے ہوئے وہ بتاتے تھے کہ ہدایتکار پرویز ملک نے ایک تھیم سانگ:

  • اپنا لہو پھر اپنا لہو ہے۔۔

کے لیے انھیں مجبور کیا تھا کہ اسے صرف مسعودرانا ہی گائیں گے جبکہ وہ یہ گیت اقبال باہو سے گوانا چاہتے تھے۔

بزمی صاحب کے خیال میں ایک تھیم سانگ کی اتنی اہمیت نہیں تھی کیونکہ اردو فلم بینوں کے لیے صرف وہی مردانہ گیت اہم ہوتے تھے جو ان کے سپر سٹار اداکاروں محمدعلی ، وحیدمراد یا ندیم پر فلمائے جاتے تھے۔

پرویز ملک ایک اعلیٰ پائے کے ہدایتکار تھے ، گو ان کی فلموں میں تھیم سانگ اور مسعودرانا کے گیت کم ہی ہوتے تھے لیکن وہ جانتے تھے کہ ایک ایسے گیت کی فلم میں کیا اہمیت ہوتی تھی۔ ایسے تھیم سانگز میں جذبات و تاثرات کے اظہار اور آواز کے سوزوگداز میں جو کمال مسعودرانا کو حاصل تھا ، وہ پاکستان کے کسی گلوکار کو حاصل نہیں تھا جس کی وجہ سے ایسے گیتوں کے لیے وہ ہر موسیقار ، فلمساز اور ہدایتکار کا پہلا انتخاب ہوتے تھے۔

نثار بزمی

جب نثار بزمی کو نورجہاں اور مسعودرانا نے حیران کردیا

نثار بزمی صاحب کو اپنی فلموں میں ناگ منی (1972) کے گیت سب سے زیادہ پسند تھے۔

ان کے ایک انٹرویو میں یہ جان کی بڑا دکھ ہوا تھا کہ انھیں شک تھا کہ ان کی دھنیں میڈم نورجہاں جیسی بے مثل گلوکارہ نہیں گا پائے گی لیکن جب گیت ریکارڈ ہوئے تھے تو انھیں اپنا نظریہ بدلنا پڑا تھا اور وہ میڈم کی عظمت کے قائل ہو گئے تھے۔

شاید ایسا ہی تصور ان کا کچھ مسعودرانا کے بارے میں بھی تھا لیکن انھیں اپنا خیال بدلنا پڑا تھا جب انھوں نے فلم دو تصویریں (1974) میں ان سے یہ گیت گوایا تھا:

  • تہہ دل سے کہہ رہے ہیں ، تجھے آج ہم مبارک۔۔

یہ ایک بڑا مشکل گیت تھا اور اس کی خاص بات یہ تھی کہ اس کا مکھڑا بزمی صاحب نے اپنی بھارتی فلم کھوج (1953) میں محمدرفیع سے گوائے ہوئے گیت:

  • چندا کا دل ٹوٹ گیا۔۔

کا ری میک کیا تھا۔ ان دونوں مکھڑوں کا موازنہ کریں تو سننے والا بے ساختہ کہہ اٹھے گا کہ مسعودرانا کو اونچے سروں کی گائیکی میں اپنے روحانی استاد محمدرفیع پر بھی برتری حاصل تھی۔

اس کارکردگی سے بزمی صاحب اتنے خوش ہوئے تھے کہ انھوں نے اپنی اگلی فلم بات پہنچی تیری جوانی تک (1974) میں پہلی اور آخری بار مسعودرانا سے کچھ کم نہیں پانچ گیت گوائے تھے جن میں میڈم کے ساتھ گایا ہوا یہ رومانٹک گیت تو مسعودرانا کی عظمت کا عملی مظاہرہ تھا:

  • اس حسن سے نہیں ہے مجھے تم سے پیار ہے۔۔

دلچسپ بات ہے کہ صرف ایک سال یعنی 1974ء میں بزمی صاحب نے مسعودرانا سے نو گیت گوائے تھے۔ یہ تعداد شاید اس سے بھی زیادہ ہوتی لیکن اس وقت لاہور کے گلوکاروں کی طرف سے ان کا بائیکاٹ کر دیا گیا تھا۔

نثار بزمی کا پس منظر

موسیقار نثار بزمی ، سید نثار احمد کے نام سے ممبئی کے قریب نصیرآباد میں 1924ء میں پیدا ہوئے تھے اور 2007ء میں کراچی میں فوت ہوئے تھے۔ ان کے کریڈٹ پر بڑی تعداد میں سپر ہٹ گیت ہیں جن کا تفصیلی شمار دیگر فنکاروں کی طرح ان کے فلمی ریکارڈز کے صفحہ پر کیا گیا ہے۔ یہاں ان کے چند خاص خاص فن پاروں کی ایک فہرست مرتب کی گئی ہے جو اس عظیم فنکار کو ایک ادنیٰ سا خراج تحسین ہے:

نثار بزمی کے چند سپرہٹ گیت

مسعودرانا اور نثار بزمی کے 16 فلمی گیت

16 اردو گیت ... 0 پنجابی گیت
1

مالک بنا ہوا ہے تو ہے وہ بھی آدمی ، اور نوکر جو بن گیا ہے تو ہے وہ بھی آدمی..

فلم ... ایسا بھی ہوتا ہے ... اردو ... (1965) ... گلوکار: احمد رشدی ، مسعود رانا ... موسیقی: نثار بزمی ... شاعر: مسرور انور ... اداکار: کمال، لہری
2

مشکل میں سب نے تجھ کو پکارا، پروردگارا ، پروردگارا..

فلم ... حاتم طائی ... اردو ... (1967) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: نثار بزمی ... شاعر: تنویر نقوی ... اداکار: محمد علی
3

مٹ گئے سارے غم مل گئے جب حضور..

فلم ... تاج محل ... اردو ... (1968) ... گلوکار: مسعود رانا ، مالا ... موسیقی: نثار بزمی ... شاعر: تنویر نقوی ... اداکار: محمد علی ، زیبا
4

میرے وطن کے غازیو ، تمہیں کسی کا خوف کیا..

فلم ... سرحد کی گود میں ... اردو ... (1973) ... گلوکار: مسعود رانا مع ساتھی ... موسیقی: نثار بزمی ... شاعر: قتیل شفائی ... اداکار: (پس پردہ ، مصطفیٰ قریشی ، محمد علی مع ساتھی)
5

یہ دنیا سنگدل ہے ، اوربہت نازک میرا دل ہے ، نہ میں دنیاکے قابل ہوں ، نہ دنیا میرے قابل ہے..

فلم ... بات پہنچی تیری جوانی تک ... اردو ... (1974) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: نثار بزمی ... شاعر: شیون رضوی ... اداکار: منور ظریف
6

حسن کو حسن زمانے میں بنایا میں نے ، ناز کرنے کا انداز سکھایا میں نے..

فلم ... بات پہنچی تیری جوانی تک ... اردو ... (1974) ... گلوکار: مسعود رانا ، تصورخانم ... موسیقی: نثار بزمی ... شاعر: شیون رضوی ... اداکار: رنگیلا ، سنگیتا
7

جوگی کا برن ہم نے لیا یار کی خاطر ، صورت ہی بدل ڈالی ہے دیدار کی خاطر..

فلم ... بات پہنچی تیری جوانی تک ... اردو ... (1974) ... گلوکار: مسعود رانا ، شوکت علی ... موسیقی: نثار بزمی ... شاعر: شیون رضوی ... اداکار: رنگیلا ، منور ظریف
8

راستے میں یوں نہ بے پردہ چلو ، کوئی دیوانہ گلے پڑ جائے گا..

فلم ... بات پہنچی تیری جوانی تک ... اردو ... (1974) ... گلوکار: مسعود رانا ، شوکت علی مع ساتھی ... موسیقی: نثار بزمی ... شاعر: شیون رضوی ... اداکار: ننھا ، منور ظریف مع ساتھی
9

اس حسن سے نہیں ہے مجھے تم سے پیار ہے ، دو دن کے اس شباب کا کیا اعتبار ہے..

فلم ... بات پہنچی تیری جوانی تک ... اردو ... (1974) ... گلوکار: مسعود رانا ، نورجہاں ... موسیقی: نثار بزمی ... شاعر: شیون رضوی ... اداکار: رنگیلا ، سنگیتا
10

جگ میں سبھی بہروپیے..

فلم ... مستانی محبوبہ ... اردو ... (1974) ... گلوکار: نیرہ نور ، مسعود رانا ... موسیقی: نثار بزمی ... شاعر: مسرور انور ... اداکار: منور ظریف
11

تیرے جلوؤں سے آباد ہیں چار سو، ذرے ذرے کے دل میں تیری جستجو ، اللہ ہو، اللہ ہو..

فلم ... لیلی مجنوں ... اردو ... (1974) ... گلوکار: منیر حسین ، مسعود رانا ، اخلاق احمد مع ساتھی ... موسیقی: نثار بزمی ... شاعر: سیف الدین سیف ... اداکار: امداد حسین ، وحید مراد مع ساتھی
12

اپنا لہو، پھر اپنا لہو ہے ، ایک دن تڑپائے گا..

فلم ... دشمن ... اردو ... (1974) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: نثار بزمی ... شاعر: مسرور انور ... اداکار: (پس پردہ ، محمد علی ، وحید مراد)
13

تہہ دل سے کہہ رہے ہیں تجھے آج ہم مبارک..

فلم ... دو تصویریں ... اردو ... (1974) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: نثار بزمی ... شاعر: ذیغم حمدی ... اداکار: ندیم
14

ہار گیا انسان خدا سے ، ہار گیا انسان..

فلم ... ہار گیا انسان ... اردو ... (1975) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: نثار بزمی ... شاعر: ریاض الرحمان ساغر ... اداکار: ابو شاہ (طارق عزیز)
15

گورے مکھڑے سے گھونگھٹ سرکا دے ، نہیں تو ہو گی لڑائی رے..

فلم ... ہار گیا انسان ... اردو ... (1975) ... گلوکار: مسعود رانا ، نیرہ نور ... موسیقی: نثار بزمی ... شاعر: ریاض الرحمان ساغر ... اداکار: ندیم ، ممتاز
16

موٹر والی مائی ، دیتی جا ایک پیسہ ، اس دنیا میں کہاں ملے گا فقیر کوئی ہم جیسا..

فلم ... گنوار ... اردو ... (1975) ... گلوکار: مسعودرانا ، وحیدہ خان ، عرفان کھوسٹ ... موسیقی: نثار بزمی ... شاعر: ؟ ... اداکار: رنگیلا ، سنگیتا

مسعودرانا اور نثار بزمی کے 6سولو گیت

1

مشکل میں سب نے تجھ کو پکارا، پروردگارا ، پروردگارا ...

(فلم ... حاتم طائی ... 1967)
2

میرے وطن کے غازیو ، تمہیں کسی کا خوف کیا ...

(فلم ... سرحد کی گود میں ... 1973)
3

یہ دنیا سنگدل ہے ، اوربہت نازک میرا دل ہے ، نہ میں دنیاکے قابل ہوں ، نہ دنیا میرے قابل ہے ...

(فلم ... بات پہنچی تیری جوانی تک ... 1974)
4

اپنا لہو، پھر اپنا لہو ہے ، ایک دن تڑپائے گا ...

(فلم ... دشمن ... 1974)
5

تہہ دل سے کہہ رہے ہیں تجھے آج ہم مبارک ...

(فلم ... دو تصویریں ... 1974)
6

ہار گیا انسان خدا سے ، ہار گیا انسان ...

(فلم ... ہار گیا انسان ... 1975)

مسعودرانا اور نثار بزمی کے 8دو گانے

1

مالک بنا ہوا ہے تو ہے وہ بھی آدمی ، اور نوکر جو بن گیا ہے تو ہے وہ بھی آدمی ...

(فلم ... ایسا بھی ہوتا ہے ... 1965)
2

مٹ گئے سارے غم مل گئے جب حضور ...

(فلم ... تاج محل ... 1968)
3

حسن کو حسن زمانے میں بنایا میں نے ، ناز کرنے کا انداز سکھایا میں نے ...

(فلم ... بات پہنچی تیری جوانی تک ... 1974)
4

جوگی کا برن ہم نے لیا یار کی خاطر ، صورت ہی بدل ڈالی ہے دیدار کی خاطر ...

(فلم ... بات پہنچی تیری جوانی تک ... 1974)
5

اس حسن سے نہیں ہے مجھے تم سے پیار ہے ، دو دن کے اس شباب کا کیا اعتبار ہے ...

(فلم ... بات پہنچی تیری جوانی تک ... 1974)
6

جگ میں سبھی بہروپیے ...

(فلم ... مستانی محبوبہ ... 1974)
7

گورے مکھڑے سے گھونگھٹ سرکا دے ، نہیں تو ہو گی لڑائی رے ...

(فلم ... ہار گیا انسان ... 1975)
8

موٹر والی مائی ، دیتی جا ایک پیسہ ، اس دنیا میں کہاں ملے گا فقیر کوئی ہم جیسا ...

(فلم ... گنوار ... 1975)

مسعودرانا اور نثار بزمی کے 3کورس گیت

1میرے وطن کے غازیو ، تمہیں کسی کا خوف کیا ... (فلم ... سرحد کی گود میں ... 1973)
2راستے میں یوں نہ بے پردہ چلو ، کوئی دیوانہ گلے پڑ جائے گا ... (فلم ... بات پہنچی تیری جوانی تک ... 1974)
3تیرے جلوؤں سے آباد ہیں چار سو، ذرے ذرے کے دل میں تیری جستجو ، اللہ ہو، اللہ ہو ... (فلم ... لیلی مجنوں ... 1974)

Masood Rana & Nisar Bazmi: Latest Online film

Laila Majnu

(Urdu - Color - Friday, 18 October 1974)


Masood Rana & Nisar Bazmi: Film posters
Aisa Bhi Hota HayHatim TaiTaj MahalSarhad Ki Goad MeinBaat Pohnchi Teri Jawani TakMastani MehboobaLaila MajnuDushman2 Tasviren
Masood Rana & Nisar Bazmi:

4 joint Online films

(4 Urdu and 0 Punjabi films)

1.1973: Sarhad Ki Goad Mein
(Urdu)
2.1974: Laila Majnu
(Urdu)
3.1974: Dushman
(Urdu)
4.1975: Haar Geya Insan
(Urdu)
Masood Rana & Nisar Bazmi:

Total 11 joint films

(11 Urdu, 0 Punjabi films)

1.1965: Aisa Bhi Hota Hay
(Urdu)
2.1967: Hatim Tai
(Urdu)
3.1968: Taj Mahal
(Urdu)
4.1973: Sarhad Ki Goad Mein
(Urdu)
5.1974: Baat Pohnchi Teri Jawani Tak
(Urdu)
6.1974: Mastani Mehbooba
(Urdu)
7.1974: Laila Majnu
(Urdu)
8.1974: Dushman
(Urdu)
9.1974: 2 Tasviren
(Urdu)
10.1975: Haar Geya Insan
(Urdu)
11.1975: Ganwar
(Urdu)


Masood Rana & Nisar Bazmi: 16 songs

(16 Urdu and 0 Punjabi songs)

1.
Urdu film
Aisa Bhi Hota Hay
from Wednesday, 3 February 1965
Singer(s): Ahmad Rushdi, Masood Rana, Music: Nisar Bazmi, Poet: , Actor(s): Kemal, Lehri
2.
Urdu film
Hatim Tai
from Friday, 5 May 1967
Singer(s): Masood Rana, Music: Nisar Bazmi, Poet: , Actor(s): Mohammad Ali
3.
Urdu film
Taj Mahal
from Sunday, 22 December 1968
Singer(s): Masood Rana, Mala, Music: Nisar Bazmi, Poet: , Actor(s): Mohammad Ali, Zeba
4.
Urdu film
Sarhad Ki Goad Mein
from Tuesday, 16 January 1973
Singer(s): Masood Rana, Music: Nisar Bazmi, Poet: , Actor(s): (Playback, Mustafa Qureshi, Mohammad Ali)
5.
Urdu film
Baat Pohnchi Teri Jawani Tak
from Friday, 29 March 1974
Singer(s): Masood Rana, Tasawur Khanum, Music: Nisar Bazmi, Poet: , Actor(s): Rangeela, Sangeeta
6.
Urdu film
Baat Pohnchi Teri Jawani Tak
from Friday, 29 March 1974
Singer(s): Masood Rana, Noorjahan, Music: Nisar Bazmi, Poet: , Actor(s): Rangeela, Sangeeta
7.
Urdu film
Baat Pohnchi Teri Jawani Tak
from Friday, 29 March 1974
Singer(s): Masood Rana, Shoukat Ali, Music: Nisar Bazmi, Poet: , Actor(s): Rangeela, Munawar Zarif
8.
Urdu film
Baat Pohnchi Teri Jawani Tak
from Friday, 29 March 1974
Singer(s): Masood Rana, Shoukat Ali & Co., Music: Nisar Bazmi, Poet: , Actor(s): Nanha, Munawar Zarif & Co.
9.
Urdu film
Baat Pohnchi Teri Jawani Tak
from Friday, 29 March 1974
Singer(s): Masood Rana, Music: Nisar Bazmi, Poet: , Actor(s): Munawar Zarif
10.
Urdu film
Mastani Mehbooba
from Friday, 16 August 1974
Singer(s): Nayyara Noor, Masood Rana, Music: Nisar Bazmi, Poet: , Actor(s): Munawar Zarif
11.
Urdu film
Laila Majnu
from Friday, 18 October 1974
Singer(s): Munir Hussain, Akhlaq Ahmad, Masood Rana, Music: Nisar Bazmi, Poet: , Actor(s): Imdad Hussain, Waheed Murad & Co.
12.
Urdu film
Dushman
from Friday, 8 November 1974
Singer(s): Masood Rana, Music: Nisar Bazmi, Poet: , Actor(s): (Playback - Mohammad Ali, Waheed Murad)
13.
Urdu film
2 Tasviren
from Friday, 29 November 1974
Singer(s): Masood Rana, Music: Nisar Bazmi, Poet: , Actor(s): Nadeem
14.
Urdu film
Haar Geya Insan
from Friday, 21 March 1975
Singer(s): Masood Rana, Nayyara Noor, Music: Nisar Bazmi, Poet: , Actor(s): Nadeem, Mumtaz
15.
Urdu film
Haar Geya Insan
from Friday, 21 March 1975
Singer(s): Masood Rana, Music: Nisar Bazmi, Poet: , Actor(s): Abbu Shah (Tariq Aziz)
16.
Urdu film
Ganwar
from Tuesday, 7 October 1975
Singer(s): Masood Rana, Waheed Khan, Irfan Khoost, Music: Nisar Bazmi, Poet: , Actor(s): Rangeela, Sangeeta


Talash
Talash
(1986)
Azmat
Azmat
(1973)

Rattan
Rattan
(1944)
Aurat
Aurat
(1940)



پاکستان کی 75 سالہ فلمی تاریخ

پاکستان فلم میگزین ، سال رواں یعنی 2023ء میں پاکستانی فلموں کے 75ویں سال میں مختلف فلمی موضوعات پر اردو/پنجابی میں تفصیلی مضامین پیش کر رہا ہے جن میں مکمل فلمی تاریخ کو آن لائن محفوظ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

قبل ازیں ، 2005ء میں پاکستانی فلموں کا عروج و زوال کے عنوان سے ایک معلوماتی مضمون لکھا گیا تھا۔ 2008ء میں پاکستانی فلموں کے ساٹھ سال کے عنوان سے مختلف فنکاروں اور فلموں پر مختصر مگر جامع مضامین سپردقلم کیے گئے تھے۔ ان کے علاوہ پاکستانی فلموں کے منفرد ڈیٹابیس سے اعدادوشمار پر مشتمل بہت سے صفحات ترتیب دیے گئے تھے جن میں خاص طور پر پاکستانی فلموں کی سات دھائیوں کے اعدادوشمار پر مشتمل ایک تفصیلی سلسلہ بھی موجود ہے۔


237 فنکاروں پر معلوماتی مضامین



PAK Magazine is an individual effort to compile and preserve the Pakistan's political, film and media history.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes, and therefor, I am not responsible for the content of any external site.