A Tribute To The Legendary Playback Singer Masood Rana
مسعودرانا کا فنی سفر
مسعودرانا کے 241 ساتھی فنکاروں پر معلوماتی مضامین
26 ..... گلوکار
- زبیدہ خانم
- علی بخش ظہور
- منور سلطانہ
- مسعود رانا
- عنایت حسین بھٹی
- حامدعلی بیلا
- فضل حسین
- تصورخانم
- اعظم چشتی
- رونا لیلیٰ
- آصف جاوید
- نگہت سیما
- ملکہ ترنم نور جہاں
- نذیر بیگم
- سائیں اختر
- سلیم رضا
- روبینہ بدر
- نسیم بیگم
- شوکت علی
- مالا
- احمد رشدی
- نسیمہ شاہین
- منیر حسین
- آئرن پروین
- محمد رفیع
- مہدی حسن
32 ..... نغمہ نگار
- حکیم احمد شجاع
- شیون رضوی
- سلطان محمود آشفتہ
- سلیم کاشر
- طفیل ہوشیارپوری
- کلیم عثمانی
- اسماعیل متوالا
- اختریوسف
- ظہیر کاشمیری
- تسلیم فاضلی
- ریاض الرحمان ساغر
- منظورجھلا
- سعیدگیلانی
- صہبااختر
- ظہورناظم
- خواجہ پرویز
- مظفروارثی
- ساحل فارانی
- قتیل شفائی
- سرور بارہ بنکوی
- حبیب جالب
- احمد راہی
- تنویر نقوی
- بابا عالم سیاہ پوش
- حزیں قادری
- مشیر کاظمی
- موج لکھنوی
- منیر نیازی
- وارث لدھیانوی
- مسرور انور
- حمایت علی شاعر
- فیاض ہاشمی
44 ..... موسیقار
- راگنی
- رفیق غزنوی
- ماسٹر غلام حیدر
- طافو
- اعظم بیگ
- مشتاق علی
- امجدبوبی
- غلام حسین شبیر
- وجاہت عطرے
- علی حسین
- اے حمید
- کریم شہاب الدین
- صفدرحسین
- وزیر افضل
- ناشاد
- کمال احمد
- رحمان ورما
- حسن لطیف
- روبن گھوش
- نذیرجعفری
- نذیرعلی
- سیف چغتائی
- خواجہ خورشید انور
- سلیم اقبال
- اخترحسین اکھیاں
- غلام نبی ، عبداللطیف
- طفیل فاروقی
- ماسٹر عنایت حسین
- ماسٹر عبد اللہ
- سہیل رعنا
- خلیل احمد
- فیروز نظامی
- بخشی وزیر
- خان عطا الرحمان
- ماسٹر عاشق حسین
- نثار بزمی
- ماسٹر تصدق حسین
- ماسٹر رفیق علی
- رشید عطرے
- ایم اشرف
- لال محمد اقبال
- مصلح الدین
- جی اے چشتی
- دیبو بھٹا چاریہ
56 ..... ہدایتکار
- اے آر کاردار
- داؤد چاند
- نذرالاسلام
- آغا حسینی
- ایم صادق
- حسن عسکری
- اسلم ڈار
- قدیرغوری
- الطاف حسین
- ایم ایس ڈار
- شوکت حسین رضوی
- ایس ایم یوسف
- خواجہ سرفراز
- حمیدچوہدری
- آغا جی اے گل
- عزیز میرٹھی
- لقمان
- کے خورشید
- پرویز ملک
- ایم سلیم
- سیف الدین سیف
- بھائیا اے حمید
- خلیل قیصر
- اکبرعلی اکو
- ریاض احمد راجو
- وحیدڈار
- ریاض احمد
- افتخارخان
- ارشدکاظمی
- ظہیرریحان
- ایم اکرم
- الحامد
- ریاض شاہد
- نذیر
- انورکمال پاشا
- شریف نیر
- راجہ حفیظ
- مسعودپرویز
- ایم اے رشید
- ایس سلیمان
- رشیداختر
- منوررشید
- رفیق رضوی
- اقبال کاشمیری
- جمیل اختر
- جعفر بخاری
- شباب کیرانوی
- احتشام ، مستفیض
- ایس اے بخاری
- ایم جے رانا
- رضا میر
- حیدر چوہدری
- امین ملک
- اسلم ایرانی
- اقبال شہزاد
- حسن طارق
83 ..... اداکار
- ہمالیہ والا
- آشا پوسلے
- سنگیتا
- سلطان راہی
- آسیہ
- عمرشریف
- شبنم
- قوی
- افضل خان
- شاہد
- ننھا
- کیفی
- لیلیٰ
- ساقی
- ناصرہ
- علی اعجاز
- حسنہ
- ناہید
- اقبال حسن
- عالیہ
- رخسانہ
- ماسٹر مراد
- نسیمہ خان
- تانی
- الیاس کاشمیری
- شبانہ
- نبیلہ
- ایم اسماعیل
- روزینہ
- ندیم
- خلیفہ نذیر
- کمار
- سیما
- مسرت نذیر
- ساون
- آئٹم گرلز
- غزالہ
- دیبا
- زینت
- سلونی
- یاسمین
- منورظریف
- زیبا
- طلعت صدیقی
- حیدر
- اعجاز
- رانی
- زلفی
- ابو شاہ
- آصف جاہ
- سلمیٰ ممتاز
- نورمحمدچارلی
- شیریں
- یوسف خان
- علاؤالدین
- وحیدمراد
- فردوس
- شمیم آرا
- لہری
- مظہر شاہ
- طالش
- نغمہ
- رضیہ
- سنتوش کمار
- رنگیلا
- دلجیت مرزا
- اکمل
- اے شاہ
- نذر
- سدھیر
- حنیف
- طارق عزیز
- صبیحہ خانم
- محمد علی
- درپن
- امداد حسین
- البیلا
- اطہر شاہ خان
- نیلو
- نرالا
- اسد بخاری
- سید کمال
- حبیب
نثار بزمی
نثار بزمی ، اردو فلموں کے ایک مایہ ناز موسیقار تھے۔۔!
موسیقار نثار بزمی نے اپنی جنم بومی ہندوستان میں چالیس کے قریب فلموں کی موسیقی ترتیب دی تھی لیکن کسی کامیابی سے محروم رہے تھے۔ 1962ء میں جب وہ اپنے عزیزواقارب سے ملنے کے لیے کراچی آئے تو قسمت کی دیوی ایسی مہربان ہوئی کہ پانسہ ہی پلٹ گیا تھا۔ پاک سر زمین ان کے لیے انتہائی مبارک ثابت ہوئی تھی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ پاکستان کی اردو فلموں کے کامیاب ترین موسیقار بن گئے تھے۔
نثار بزمی کا فلمی کیرئر
نثار بزمی نے سب سے پہلے فلمساز اور ہدایتکار فضل احمد کریم فضلی کی فلم ایسا بھی ہوتا ہے (1965) کی موسیقی ترتیب دی تھی۔ ان کی پہلی کمپوزیشن اس فلم میں میڈم نورجہاں کا یہ کورس گیت تھا:
- آئے آئے ، بہار کے دن آئے۔۔
اس فلم میں ان کا پہلا سپر ہٹ گیت بھی میڈم نورجہاں نے گایا تھا:
- ہو تمنا اور کیا ، جان تمنا آپ ہیں۔۔
اسی فلم میں انھوں نے پہلی بار مسعودرانا سے ایک بڑا اعلیٰ پائے کا یہ دوگانا گوایا تھا جس میں دوسرے گلوکار احمدرشدی تھے:
- مالک بنا ہوا ہے تو ہے وہ بھی آدمی۔۔
نثار بزمی کی بھارتی فلمیں
نثار بزمی نے بھارت میں کل چالیس فلموں کی موسیقی ترتیب دی تھی جن میں سے 24 فلموں کا ریکارڈ پاکستان فلم میگزین کے سابقہ ورژن پر موجود ہے۔ ان کی پہلی فلم جمنار پار (1946) تھی جبکہ آخری فلم شعلہ جو بھڑکے (1961) کا ریکارڈ ملتا ہے۔
بقول ان کے اپنے ، یہ سبھی بی اور سی کلاس فلمیں تھیں اور ان میں سے کسی فلم کا کوئی ایک بھی گیت سپر ہٹ نہیں ہوا تھا حالانکہ گانے والوں میں محمدرفیع ، لتا منگیشکر اور آشا بھونسلے جیسے بڑے بڑے نام تھے۔
ریکارڈز کے لیے ان کی 24 بھارتی فلموں کی مکمل تفصیل اس طرح سے تھی: جمنا پار ، جیب کترا (1946) ، دغا باز دوست ، ایکسٹرا گرل (1947) ، ہماری قسمت ، جیو راجہ ، روپ لیکھا (1949) ، رام بھروسے (1951) ، باما ، کیوں جی (1952) ، گوریلا ، کھوج (1953) ، ہلا گلا ، ستمگر (1954) ، پیارا دشمن ، آدم خور (1955) ، فلائنگ کوئین ، جنگل کوئین ، کربھلا (1956) ، بھلا آدمی ، کل کیا ہوگا ، سچے کا بول بالا (1958) ، تیر اور تلوار (1960) ، شعلہ جو بھڑکے (1961)۔
نثار بزمی کی پہلی پاکستانی فلم
پاکستان آمد کے بعد ریلیز کے اعتبار سے ان کی پہلی فلم ہیڈ کانسٹیبل (1964) تھی جبکہ آخری فلم ویری گڈ دنیا ، ویر بیڈ لوگ (1998) تھی۔
ان کی فلموں کی کل تعداد 68 ہے جن میں سات گیتوں کی اوسط سے اندازاً پانچ سو کے قریب گیت بنتے ہیں۔ ان کے زیادہ تر گیت احمدرشدی ، ملکہ ترنم نورجہاں ، مہدی حسن ، مالا ، رونا لیلیٰ اور مہناز نے گائے تھے۔
بزمی صاحب نے مسعودرانا سے صرف 16 گیت گوائے تھے جن میں سے چار گیت پہلے دس برسوں میں اور آخری بارہ گیت آخری دو برسوں یعنی 1974/75ء میں گوائے تھے۔ اس کی وجوہات آگے بیان کی گئی ہیں۔
نثار بزمی نے کبھی کسی پنجابی فلموں کی موسیقی نہیں دی تھی
نثار بزمی ، پاکستان کے ان پانچ بڑے موسیقاروں میں شامل ہیں کہ جنھوں نے کبھی کسی پنجابی فلم کی موسیقی ترتیب نہیں دی تھی حالانکہ ان کے کریڈٹ پر ایک پشتو فلم جوند یا مرگ (1978) کا ذکر بھی ملتا ہے۔ نثار بزمی کے علاوہ دیگر چار خالص اردو موسیقار سہیل رعنا ، روبن گھوش ، ناشاد اور لعل محمد اقبال ہیں۔
نثار بزمی کی شاہکار فلم لاکھوں میں ایک (1967)
نثار بزمی ایک انتہائی اعلیٰ پائے کے موسیقار تھے۔ اپنے ابتدائی دور میں ان کی سب سے بڑی فلم لاکھوں میں ایک (1967) تھی جس کے بیشتر گیت امر سنگیت میں شامل ہیں۔
مجھے ذاتی طور پر ان کی تمام فلموں میں سے اس فلم کے گیت سب سے زیادہ پسند رہے ہیں۔ خاص طور پر میڈم نورجہاں کا یہ گیت:
- سن ساجنا ، دکھی من کی پکار۔۔
اتنا پسند ہے کہ جب کبھی کسی اداسی کے عالم میں گنگناتا ہوں تو جو دو گیت کسی ہوک کی طرح دل کی گہرائیوں نکلتے ہیں ان میں مسعودرانا کے فلم ہمراہی (1966) کے گیت "نقشہ تیری جدائی کا زخم جگر میں ہے۔۔" کی طرح یہ گیت بھی ہے۔
اسی فلم کا ایک اور گیت:
- چلو اچھا ہوا تم بھول گئے۔۔
میں شمیم آراء کا معصوم سا چہرہ نہیں بھولتا جو کسی بھی فلم آرٹسٹ کا پہلا پہلا چہرہ ہے جو میرے ذہن پر نقش ہے کیونکہ سینما پر اپنی پہلی فلم دیکھنے سے قبل یہی چہرہ ٹیلی ویژن پر دیکھا تھا۔
جب نثار بزمی نے مہدی حسن اور نورجہاں کے گیت رد کئے
نثار بزمی ، ایک اعلیٰ پائے کے موسیقار تھے جو میعار پرسمجھوتہ نہیں کرتے تھے اور اس وجہ سے بڑا نقصان بھی اٹھاتے تھے۔
انھوں نے فلم شمع اور پروانہ (1970) کا گیت:
- میں تیرا شہر چھوڑ جاؤں گا۔۔
پہلے خانصاحب مہدی حسن سے گوایا تھا لیکن مطمئن نہیں ہوئے تھے۔ پھر وہی گیت انھوں نے کہیں کم تجربہ کار گلوکار مجیب عالم سے گوایا تو ان کی کارکردگی سے اتنے خوش ہوئے تھے کہ ان سے فلم کے چھ گیت گوا لیے تھے۔
یہ جرات بھی صرف بزمی صاحب ہی کی تھی کہ انھوں نے فلم امراؤ جان ادا (1972) میں میڈم نورجہاں کا گیت:
- جو بچا تھا ، وہ لٹانے کے لیے آئے ہیں۔۔
کی ریکارڈنگ کے بعد اپنی ناپسندیدگی اور ناراضی کا اظہار کیا تھا۔
یہ بات جب ملکہ ترنم کے کانوں تک پہنچی تھی تو وہ اتنی سیخ پا ہوئی تھیں کہ ان کے دباؤ پر سنگر ایسوسی ایشن نے بزمی صاحب کا بائیکاٹ کر دیا تھا اور انھیں لاہور چھوڑ کر واپس کراچی شفٹ ہونا پڑا تھا۔
دلچسپ بات یہ تھی کہ اس وقت وہ ایک فلم جاگیر (1975) کی موسیقی ترتیب دے رہے تھے اور اس کا گیت:
- ہم چلے تو ہمارے ، سنگ سنگ نظارے چلے۔۔
احمدرشدی سے گوانا چاہتے تھے لیکن گلوکاروں کے بائیکاٹ کی وجہ سے نہ گوا سکے تو انھوں نے کراچی ٹی وی کے ایک نوجوان گلوکار عالمگیر کو موقع دیا تھا جو فلم کے کامیاب گلوکار تو نہ بن سکے تھے لیکن ٹی وی کے مقبول ترین اور پہلے پاپ گلوکار تھے۔
جب نثار بزمی نے محمدرفیع کے مقابلے کا گیت مسعودرانا سے گوایا
نثار بزمی صاحب اپنی مرضی کا کام کرنا پسند کرتے تھے اور کسی قسم کا دباؤ پسند نہیں کرتے تھے۔
فلم حاتم طائی (1967) میں انھوں نے مسعودرانا سے ایک بڑی اعلیٰ پائے کی حمد گوائی تھی:
- مشکل میں سب نے تجھ کو پکارا ، پروردگارا۔۔
اس حمد کی ساری شاعری ایک بھارتی فلم حاتم طائی (1956) میں محمدرفیع کی گائی ہوئی حمد سے لی گئی تھی "پروردگار عالم ، تیرا ہی ہے سہارا۔۔"
فلمساز کی خواہش تھی کی دھن بھی نقل ہو لیکن بزمی صاحب نے ایسا کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا اور ایک اوریجنل دھن بنا کر فلمساز کو لاجواب کر دیا تھا۔
عام طور پر بزمی صاحب کے فیورٹ گلوکار احمدرشدی اور مہدی حسن ہوتے تھے لیکن اونچی سروں میں گانا ان دونوں کے بس کی بات نہیں ہوتی تھی ، اسی لیے مسعودرانا سے گوانا ، اردو موسیقاروں کی مجبوری ہوتی تھی۔
جب نثار بزمی ، مسعودرانا سے گوانے پر مجبور ہوئے
بزمی صاحب کو یہ شکایت بھی ہوتی تھی کہ ان کے کام میں مداخلت بہت ہوتی تھی اور بعض بڑے فلمساز اور ہدایتکار بھی اپنی مرضی کا کام کرواتے تھے۔
فلم دشمن (1974) کا واقعہ سناتے ہوئے وہ بتاتے تھے کہ ہدایتکار پرویز ملک نے ایک تھیم سانگ:
- اپنا لہو پھر اپنا لہو ہے۔۔
کے لیے انھیں مجبور کیا تھا کہ اسے صرف مسعودرانا ہی گائیں گے جبکہ وہ یہ گیت اقبال باہو سے گوانا چاہتے تھے۔
بزمی صاحب کے خیال میں ایک تھیم سانگ کی اتنی اہمیت نہیں تھی کیونکہ اردو فلم بینوں کے لیے صرف وہی مردانہ گیت اہم ہوتے تھے جو ان کے سپر سٹار اداکاروں محمدعلی ، وحیدمراد یا ندیم پر فلمائے جاتے تھے۔
پرویز ملک ایک اعلیٰ پائے کے ہدایتکار تھے ، گو ان کی فلموں میں تھیم سانگ اور مسعودرانا کے گیت کم ہی ہوتے تھے لیکن وہ جانتے تھے کہ ایک ایسے گیت کی فلم میں کیا اہمیت ہوتی تھی۔ ایسے تھیم سانگز میں جذبات و تاثرات کے اظہار اور آواز کے سوزوگداز میں جو کمال مسعودرانا کو حاصل تھا ، وہ پاکستان کے کسی گلوکار کو حاصل نہیں تھا جس کی وجہ سے ایسے گیتوں کے لیے وہ ہر موسیقار ، فلمساز اور ہدایتکار کا پہلا انتخاب ہوتے تھے۔
جب نثار بزمی کو نورجہاں اور مسعودرانا نے حیران کردیا
نثار بزمی صاحب کو اپنی فلموں میں ناگ منی (1972) کے گیت سب سے زیادہ پسند تھے۔
ان کے ایک انٹرویو میں یہ جان کی بڑا دکھ ہوا تھا کہ انھیں شک تھا کہ ان کی دھنیں میڈم نورجہاں جیسی بے مثل گلوکارہ نہیں گا پائے گی لیکن جب گیت ریکارڈ ہوئے تھے تو انھیں اپنا نظریہ بدلنا پڑا تھا اور وہ میڈم کی عظمت کے قائل ہو گئے تھے۔
شاید ایسا ہی تصور ان کا کچھ مسعودرانا کے بارے میں بھی تھا لیکن انھیں اپنا خیال بدلنا پڑا تھا جب انھوں نے فلم دو تصویریں (1974) میں ان سے یہ گیت گوایا تھا:
- تہہ دل سے کہہ رہے ہیں ، تجھے آج ہم مبارک۔۔
یہ ایک بڑا مشکل گیت تھا اور اس کی خاص بات یہ تھی کہ اس کا مکھڑا بزمی صاحب نے اپنی بھارتی فلم کھوج (1953) میں محمدرفیع سے گوائے ہوئے گیت:
- چندا کا دل ٹوٹ گیا۔۔
کا ری میک کیا تھا۔ ان دونوں مکھڑوں کا موازنہ کریں تو سننے والا بے ساختہ کہہ اٹھے گا کہ مسعودرانا کو اونچے سروں کی گائیکی میں اپنے روحانی استاد محمدرفیع پر بھی برتری حاصل تھی۔
اس کارکردگی سے بزمی صاحب اتنے خوش ہوئے تھے کہ انھوں نے اپنی اگلی فلم بات پہنچی تیری جوانی تک (1974) میں پہلی اور آخری بار مسعودرانا سے کچھ کم نہیں پانچ گیت گوائے تھے جن میں میڈم کے ساتھ گایا ہوا یہ رومانٹک گیت تو مسعودرانا کی عظمت کا عملی مظاہرہ تھا:
- اس حسن سے نہیں ہے مجھے تم سے پیار ہے۔۔
دلچسپ بات ہے کہ صرف ایک سال یعنی 1974ء میں بزمی صاحب نے مسعودرانا سے نو گیت گوائے تھے۔ یہ تعداد شاید اس سے بھی زیادہ ہوتی لیکن اس وقت لاہور کے گلوکاروں کی طرف سے ان کا بائیکاٹ کر دیا گیا تھا۔
نثار بزمی کا پس منظر
موسیقار نثار بزمی ، سید نثار احمد کے نام سے ممبئی کے قریب نصیرآباد میں 1924ء میں پیدا ہوئے تھے اور 2007ء میں کراچی میں فوت ہوئے تھے۔ ان کے کریڈٹ پر بڑی تعداد میں سپر ہٹ گیت ہیں جن کا تفصیلی شمار دیگر فنکاروں کی طرح ان کے فلمی ریکارڈز کے صفحہ پر کیا گیا ہے۔ یہاں ان کے چند خاص خاص فن پاروں کی ایک فہرست مرتب کی گئی ہے جو اس عظیم فنکار کو ایک ادنیٰ سا خراج تحسین ہے:
نثار بزمی کے چند سپرہٹ گیت
- ہو تمنا اورکیا ، جان تمنا آپ ہیں۔۔ (گلوکارہ نورجہاں ، فلم ایسا بھی ہوتا ہے 1965)
- شمع کا شعلہ بھڑک رہا ہے ، دل دیوانہ دھڑک رہا ہے۔۔ (گلوکارہ مالا ، فلم عادل 1966)
- چلو اچھا ہوا تم بھول گئے۔۔ (گلوکارہ نورجہاں ، فلم لاکھوں میں ایک 1967)
- بڑی مشکل سے ہوا تیرا میرا ساتھ پیا۔۔ (گلوکارہ نورجہاں ، فلم لاکھوں میں ایک 1967)
- بیتے دنوں کی یادوں کو کیسے میں بھلا دوں ۔۔ (گلوکارہ نورجہاں ، فلم آگ 1967)
- موسم حسیں ہے لیکن ، تم سا حسیں نہیں ہے ۔۔ (گلوکار احمدرشدی ، مالا ، فلم آگ 1967)
- یوں زندگی کی راہ میں ٹکرا گیا کوئی ۔۔ (گلوکار مہدی حسن ، فلم آگ 1967)
- اک ستم اور میری جان ، ابھی جان باقی ہے۔۔ (گلوکار مہدی حسن ، فلم صاعقہ 1968)
- اے بہارو ، گواہ رہنا۔۔ (گلوکار مالا ، احمدرشدی ، فلم صاعقہ 1968)
- بہت یاد آئیں گے وہ دن ، تیری قسم۔۔ (گلوکار مہدی حسن/مالا ، احمدرشدی فلم انیلا 1969)
- کچھ لوگ روٹھ کر بھی لگتے ہیں کتنے پیارے۔۔ (گلوکار نورجہاں ، احمدرشدی فلم عندلیب 1969)
- ایسے بھی ہیں مہربان ، زندگی کی راہ میں۔۔ (گلوکار احمدرشدی ، فلم جیسے جانتے نہیں 1969)
- ایک البیلا سجن ، تو نے گرفتار کیا۔۔ (گلوکار مالا ، فلم ناز 1969)
- مجھے آئی نہ جگ سے لاج ، کہ گنگھرو ٹوٹ گئے۔۔ (گلوکار مالا ، فلم ناز 1969)
- نیناں ترس کر رہ گئے ، پیا آئے نہ ساری رات۔۔ (گلوکار رونا لیلیٰ ، فلم آسرا 1969)
- ابھی ڈھونڈ ہی رہی ، تمہیں یہ نظر ہماری۔۔ (گلوکارہ نورجہاں ، فلم بے وفا 1970)
- آپ دل کی انجمن میں حسن بن کر آ گئے۔۔ (گلوکارہ رونا لیلیٰ ، فلم انجمن 1970)
- میں تیرا شہر چھوڑ جاؤں گا۔۔ (گلوکار مجیب عالم ، فلم شمع اور پروانہ 1970)
- میں تیرے اجنبی شہر میں ڈھونڈتا پھر رہا ہوں تجھے۔۔ (گلوکار مجیب عالم ، فلم شمع اور پروانہ 1970)
- لگا ہے مصر کا بازار دیکھو۔۔ (گلوکار نورجہاں ، مہدی حسن ، فلم تہذیب 1971)
- زندگی اپنی گزر جائے گی آرام کے ساتھ۔۔ (گلوکار نورجہاں ، رجب علی ، فلم خاک اور خون 1971)
- اک حسن کی دیوی سے مجھے پیار ہوا تھا۔۔ (گلوکار مہدی حسن ، فلم میری زندگی ہے نغمہ 1972)
- تیرا کسی پہ آئے دل ، تیرا کوئی دکھائے دل۔۔ (گلوکار رنگیلا ، نورجہاں ، فلم میری زندگی ہے نغمہ 1972)
- رنجش ہی سہی ، دل ہی دکھانے کے لیے آ۔۔ (گلوکار مہدی حسن ، فلم محبت 1972)
- تن تو پے واروں ، من تو پہ واروں۔۔ (گلوکارہ نورجہاں ، فلم ناگ منی 1972)
- کاٹے نہ کٹے رے رتیاں ، سیاں انتظار میں۔۔ (گلوکارہ رونا لیلیٰ ، فلم امراؤ جان ادا 1972)
- لکھ دیجیے اک پیار کی عرضی میرے نام۔۔ (گلوکار احمدرشدی ، فلم ملاقات 1972)
- ایسی چال میں چلوں ، کلیجہ ہل جائے گا۔۔ (گلوکار تصورخانم ، فلم انمول 1973)
- بول ری ، گڑیا بول ، چپ رہتے تجھے صدیاں بیتیں۔۔ (گلوکارہ نیرہ نور ، فلم آس 1973)
- مورا جیا نا لاگے ، بن تیرے یار۔۔ (گلوکار استاد امانت علی خان ، فلم پیار ہی پیار 1974)
- ہار گیا انسان خدا سے۔۔ (گلوکار مسعودرانا ، فلم ہار گیا انسان 1974)
- دلدارا ، دلدارا ہو دلدارا۔۔ (گلوکار مالا ، منیر حسین ، فلم ہار گیا انسان 1974)
- وہ آ تو جائے مگر میرا انتظار ہی کم ہے۔۔ (گلوکار غلام عباس ، فلم اجنبی 1975)
- تیرا پیار میرے جیون کے سنگ رہے گا۔۔ (گلوکار مہناز ، مہدی حسن ، فلم پہچان 1975)
- اے دل اپنا درد چھپا کر گیت خوشی کے گائے جا۔۔ (گلوکار اخلاق احمد ، فلم پہچان 1975)
- دیکھا جو میرا جلوہ تو دل تھام لو گے۔۔ (گلوکار ناہیداختر ، فلم تلاش 1976)
- پیار کی یاد نگاہوں میں بسائے رکھنا۔۔ (گلوکار ناہیداختر ، سلیم شہزاد ، فلم تلاش 1976)
- ہم نہ ترسیں کبھی پھر خوشی کے لئے۔۔ (ناہیداختر ، غلام عباس ، فلم انتخاب 1978)
مسعودرانا اور نثار بزمی کے 16 فلمی گیت
| 1 | مالک بنا ہوا ہے تو ہے وہ بھی آدمی ، اور نوکر جو بن گیا ہے تو ہے وہ بھی آدمی..فلم ... ایسا بھی ہوتا ہے ... اردو ... (1965) ... گلوکار: احمد رشدی ، مسعود رانا ... موسیقی: نثار بزمی ... شاعر: مسرور انور ... اداکار: کمال، لہری |
| 2 | مشکل میں سب نے تجھ کو پکارا، پروردگارا ، پروردگارا..فلم ... حاتم طائی ... اردو ... (1967) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: نثار بزمی ... شاعر: تنویر نقوی ... اداکار: محمد علی |
| 3 | مٹ گئے سارے غم مل گئے جب حضور..فلم ... تاج محل ... اردو ... (1968) ... گلوکار: مسعود رانا ، مالا ... موسیقی: نثار بزمی ... شاعر: تنویر نقوی ... اداکار: محمد علی ، زیبا |
| 4 | میرے وطن کے غازیو ، تمہیں کسی کا خوف کیا..فلم ... سرحد کی گود میں ... اردو ... (1973) ... گلوکار: مسعود رانا مع ساتھی ... موسیقی: نثار بزمی ... شاعر: قتیل شفائی ... اداکار: (پس پردہ ، مصطفیٰ قریشی ، محمد علی مع ساتھی) |
| 5 | یہ دنیا سنگدل ہے ، اوربہت نازک میرا دل ہے ، نہ میں دنیاکے قابل ہوں ، نہ دنیا میرے قابل ہے..فلم ... بات پہنچی تیری جوانی تک ... اردو ... (1974) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: نثار بزمی ... شاعر: شیون رضوی ... اداکار: منور ظریف |
| 6 | حسن کو حسن زمانے میں بنایا میں نے ، ناز کرنے کا انداز سکھایا میں نے..فلم ... بات پہنچی تیری جوانی تک ... اردو ... (1974) ... گلوکار: مسعود رانا ، تصورخانم ... موسیقی: نثار بزمی ... شاعر: شیون رضوی ... اداکار: رنگیلا ، سنگیتا |
| 7 | جوگی کا برن ہم نے لیا یار کی خاطر ، صورت ہی بدل ڈالی ہے دیدار کی خاطر..فلم ... بات پہنچی تیری جوانی تک ... اردو ... (1974) ... گلوکار: مسعود رانا ، شوکت علی ... موسیقی: نثار بزمی ... شاعر: شیون رضوی ... اداکار: رنگیلا ، منور ظریف |
| 8 | راستے میں یوں نہ بے پردہ چلو ، کوئی دیوانہ گلے پڑ جائے گا..فلم ... بات پہنچی تیری جوانی تک ... اردو ... (1974) ... گلوکار: مسعود رانا ، شوکت علی مع ساتھی ... موسیقی: نثار بزمی ... شاعر: شیون رضوی ... اداکار: ننھا ، منور ظریف مع ساتھی |
| 9 | اس حسن سے نہیں ہے مجھے تم سے پیار ہے ، دو دن کے اس شباب کا کیا اعتبار ہے..فلم ... بات پہنچی تیری جوانی تک ... اردو ... (1974) ... گلوکار: مسعود رانا ، نورجہاں ... موسیقی: نثار بزمی ... شاعر: شیون رضوی ... اداکار: رنگیلا ، سنگیتا |
| 10 | جگ میں سبھی بہروپیے..فلم ... مستانی محبوبہ ... اردو ... (1974) ... گلوکار: نیرہ نور ، مسعود رانا ... موسیقی: نثار بزمی ... شاعر: مسرور انور ... اداکار: منور ظریف |
| 11 | تیرے جلوؤں سے آباد ہیں چار سو، ذرے ذرے کے دل میں تیری جستجو ، اللہ ہو، اللہ ہو..فلم ... لیلی مجنوں ... اردو ... (1974) ... گلوکار: منیر حسین ، مسعود رانا ، اخلاق احمد مع ساتھی ... موسیقی: نثار بزمی ... شاعر: سیف الدین سیف ... اداکار: امداد حسین ، وحید مراد مع ساتھی |
| 12 | اپنا لہو، پھر اپنا لہو ہے ، ایک دن تڑپائے گا..فلم ... دشمن ... اردو ... (1974) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: نثار بزمی ... شاعر: مسرور انور ... اداکار: (پس پردہ ، محمد علی ، وحید مراد) |
| 13 | تہہ دل سے کہہ رہے ہیں تجھے آج ہم مبارک..فلم ... دو تصویریں ... اردو ... (1974) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: نثار بزمی ... شاعر: ذیغم حمدی ... اداکار: ندیم |
| 14 | ہار گیا انسان خدا سے ، ہار گیا انسان..فلم ... ہار گیا انسان ... اردو ... (1975) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: نثار بزمی ... شاعر: ریاض الرحمان ساغر ... اداکار: ابو شاہ (طارق عزیز) |
| 15 | گورے مکھڑے سے گھونگھٹ سرکا دے ، نہیں تو ہو گی لڑائی رے..فلم ... ہار گیا انسان ... اردو ... (1975) ... گلوکار: مسعود رانا ، نیرہ نور ... موسیقی: نثار بزمی ... شاعر: ریاض الرحمان ساغر ... اداکار: ندیم ، ممتاز |
| 16 | موٹر والی مائی ، دیتی جا ایک پیسہ ، اس دنیا میں کہاں ملے گا فقیر کوئی ہم جیسا..فلم ... گنوار ... اردو ... (1975) ... گلوکار: مسعودرانا ، وحیدہ خان ، عرفان کھوسٹ ... موسیقی: نثار بزمی ... شاعر: ؟ ... اداکار: رنگیلا ، سنگیتا |
مسعودرانا اور نثار بزمی کے 6سولو گیت
| 1 | مشکل میں سب نے تجھ کو پکارا، پروردگارا ، پروردگارا ...(فلم ... حاتم طائی ... 1967) |
| 2 | میرے وطن کے غازیو ، تمہیں کسی کا خوف کیا ...(فلم ... سرحد کی گود میں ... 1973) |
| 3 | یہ دنیا سنگدل ہے ، اوربہت نازک میرا دل ہے ، نہ میں دنیاکے قابل ہوں ، نہ دنیا میرے قابل ہے ...(فلم ... بات پہنچی تیری جوانی تک ... 1974) |
| 4 | اپنا لہو، پھر اپنا لہو ہے ، ایک دن تڑپائے گا ...(فلم ... دشمن ... 1974) |
| 5 | تہہ دل سے کہہ رہے ہیں تجھے آج ہم مبارک ...(فلم ... دو تصویریں ... 1974) |
| 6 | ہار گیا انسان خدا سے ، ہار گیا انسان ...(فلم ... ہار گیا انسان ... 1975) |
مسعودرانا اور نثار بزمی کے 8دو گانے
| 1 | مالک بنا ہوا ہے تو ہے وہ بھی آدمی ، اور نوکر جو بن گیا ہے تو ہے وہ بھی آدمی ...(فلم ... ایسا بھی ہوتا ہے ... 1965) |
| 2 | مٹ گئے سارے غم مل گئے جب حضور ...(فلم ... تاج محل ... 1968) |
| 3 | حسن کو حسن زمانے میں بنایا میں نے ، ناز کرنے کا انداز سکھایا میں نے ...(فلم ... بات پہنچی تیری جوانی تک ... 1974) |
| 4 | جوگی کا برن ہم نے لیا یار کی خاطر ، صورت ہی بدل ڈالی ہے دیدار کی خاطر ...(فلم ... بات پہنچی تیری جوانی تک ... 1974) |
| 5 | اس حسن سے نہیں ہے مجھے تم سے پیار ہے ، دو دن کے اس شباب کا کیا اعتبار ہے ...(فلم ... بات پہنچی تیری جوانی تک ... 1974) |
| 6 | جگ میں سبھی بہروپیے ...(فلم ... مستانی محبوبہ ... 1974) |
| 7 | گورے مکھڑے سے گھونگھٹ سرکا دے ، نہیں تو ہو گی لڑائی رے ...(فلم ... ہار گیا انسان ... 1975) |
| 8 | موٹر والی مائی ، دیتی جا ایک پیسہ ، اس دنیا میں کہاں ملے گا فقیر کوئی ہم جیسا ...(فلم ... گنوار ... 1975) |
مسعودرانا اور نثار بزمی کے 3کورس گیت
| 1 | میرے وطن کے غازیو ، تمہیں کسی کا خوف کیا ... (فلم ... سرحد کی گود میں ... 1973) |
| 2 | راستے میں یوں نہ بے پردہ چلو ، کوئی دیوانہ گلے پڑ جائے گا ... (فلم ... بات پہنچی تیری جوانی تک ... 1974) |
| 3 | تیرے جلوؤں سے آباد ہیں چار سو، ذرے ذرے کے دل میں تیری جستجو ، اللہ ہو، اللہ ہو ... (فلم ... لیلی مجنوں ... 1974) |
Masood Rana & Nisar Bazmi: Latest Online film
Masood Rana & Nisar Bazmi: Film posters









Masood Rana & Nisar Bazmi:
0 joint Online films
(0 Urdu and 0 Punjabi films)Masood Rana & Nisar Bazmi:
Total 11 joint films
(11 Urdu, 0 Punjabi films)| 1. | 1965: Aisa Bhi Hota Hay(Urdu) |
| 2. | 1967: Hatim Tai(Urdu) |
| 3. | 1968: Taj Mahal(Urdu) |
| 4. | 1973: Sarhad Ki Goad Mein(Urdu) |
| 5. | 1974: Baat Pohnchi Teri Javani Tak(Urdu) |
| 6. | 1974: Mastani Mehbooba(Urdu) |
| 7. | 1974: Laila Majnu(Urdu) |
| 8. | 1974: Dushman(Urdu) |
| 9. | 1974: 2 Tasviren(Urdu) |
| 10. | 1975: Haar Geya Insan(Urdu) |
| 11. | 1975: Ganvar(Urdu) |
Masood Rana & Nisar Bazmi: 16 songs
(16 Urdu and 0 Punjabi songs)| 1. | Urdu filmAisa Bhi Hota Hayfrom Wednesday, 3 February 1965Singer(s): Ahmad Rushdi, Masood Rana, Music: Nisar Bazmi, Poet: , Actor(s): Kemal, Lehri |
| 2. | Urdu filmHatim Taifrom Friday, 5 May 1967Singer(s): Masood Rana, Music: Nisar Bazmi, Poet: , Actor(s): Mohammad Ali |
| 3. | Urdu filmTaj Mahalfrom Sunday, 22 December 1968Singer(s): Masood Rana, Mala, Music: Nisar Bazmi, Poet: , Actor(s): Mohammad Ali, Zeba |
| 4. | Urdu filmSarhad Ki Goad Meinfrom Tuesday, 16 January 1973Singer(s): Masood Rana, Music: Nisar Bazmi, Poet: , Actor(s): (Playback, Mustafa Qureshi, Mohammad Ali) |
| 5. | Urdu filmBaat Pohnchi Teri Javani Takfrom Friday, 29 March 1974Singer(s): Masood Rana, Tasawur Khanum, Music: Nisar Bazmi, Poet: , Actor(s): Rangeela, Sangeeta |
| 6. | Urdu filmBaat Pohnchi Teri Javani Takfrom Friday, 29 March 1974Singer(s): Masood Rana, Noorjahan, Music: Nisar Bazmi, Poet: , Actor(s): Rangeela, Sangeeta |
| 7. | Urdu filmBaat Pohnchi Teri Javani Takfrom Friday, 29 March 1974Singer(s): Masood Rana, Shoukat Ali, Music: Nisar Bazmi, Poet: , Actor(s): Rangeela, Munawar Zarif |
| 8. | Urdu filmBaat Pohnchi Teri Javani Takfrom Friday, 29 March 1974Singer(s): Masood Rana, Shoukat Ali & Co., Music: Nisar Bazmi, Poet: , Actor(s): Nanha, Munawar Zarif & Co. |
| 9. | Urdu filmBaat Pohnchi Teri Javani Takfrom Friday, 29 March 1974Singer(s): Masood Rana, Music: Nisar Bazmi, Poet: , Actor(s): Munawar Zarif |
| 10. | Urdu filmMastani Mehboobafrom Friday, 16 August 1974Singer(s): Nayyara Noor, Masood Rana, Music: Nisar Bazmi, Poet: , Actor(s): Munawar Zarif |
| 11. | Urdu filmLaila Majnufrom Friday, 18 October 1974Singer(s): Munir Hussain, Akhlaq Ahmad, Masood Rana, Music: Nisar Bazmi, Poet: , Actor(s): Imdad Hussain, Waheed Murad & Co. |
| 12. | Urdu filmDushmanfrom Friday, 8 November 1974Singer(s): Masood Rana, Music: Nisar Bazmi, Poet: , Actor(s): (Playback - Mohammad Ali, Waheed Murad) |
| 13. | Urdu film2 Tasvirenfrom Friday, 29 November 1974Singer(s): Masood Rana, Music: Nisar Bazmi, Poet: , Actor(s): Nadeem |
| 14. | Urdu filmHaar Geya Insanfrom Friday, 21 March 1975Singer(s): Masood Rana, Nayyara Noor, Music: Nisar Bazmi, Poet: , Actor(s): Nadeem, Mumtaz |
| 15. | Urdu filmHaar Geya Insanfrom Friday, 21 March 1975Singer(s): Masood Rana, Music: Nisar Bazmi, Poet: , Actor(s): Abbu Shah (Tariq Aziz) |
| 16. | Urdu filmGanvarfrom Tuesday, 7 October 1975Singer(s): Masood Rana, Waheed Khan, Irfan Khoost, Music: Nisar Bazmi, Poet: , Actor(s): Rangeela, Sangeeta |
Pakistan Film Magazine
Pakistan Film Magazine is the first and largest website of its kind, containing unique information, articles, facts and figures on Pakistani and pre-Partition films, artists and film songs.
It is continuously updated website since May 3, 2000.
is an individual effort to compile and preserve the Pakistan history online.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes and therefor,
I am not responsible for the content of any external site.
پاک میگزین" کا آغاز 1999ء میں ہوا جس کا بنیادی مقصد پاکستان کے بارے میں اہم معلومات اور تاریخی حقائق کو آن لائن محفوظ کرنا ہے۔
یہ تاریخ ساز ویب سائٹ، ایک انفرادی کاوش ہے جو 2002ء سے mazhar.dk کی صورت میں مختلف موضوعات پر معلومات کا ایک گلدستہ ثابت ہوئی تھی۔
اس دوران، 2011ء میں میڈیا کے لیے akhbarat.com اور 2016ء میں فلم کے لیے pakfilms.net کی الگ الگ ویب سائٹس بھی بنائی گئیں
لیکن 23 مارچ 2017ء کو انھیں موجودہ اور مستقل ڈومین pakmag.net میں ضم کیا گیا جس نے "پاک میگزین" کی شکل اختیار کر لی تھی۔































Roomana
Nisho
Zahida Parveen
Salma Agha
Ustad Manzoor Ali Khan
Nisar Bazmi
Master Ashiq Hussain
Razzak
Izhar Kazmi
Nisar Qadri
Nasrullah Butt
Kokab Dar
Ejaz
Nazar
Bilqees Khanum
Mushtaq Hashmi








