PAK Magazine
Thursday, 30 June 2022, Week: 26

Pakistan Chronological History
Annual
Annual
Monthly
Monthly
Weekly
Weekly
Daily
Daily
Alphabetically
Alphabetically


1964

22 Families

Monday, 15 June 1964

Mehboob-ul-Haq in 1964, told the assembly about the 22 rich families, who controlled 60-80% of industrial, banking and insurance sectors in Pakistan (including Bangladesh or East Pakistan)..

بائیس خاندان

سوموار 15 جون 1964
ڈاکٹر محبوب الحق کے بائیس خاندان
ڈاکٹر محبوب الحق

"بائیس خاندان" ، پاکستان میں کرپشن اور بدعنوانیوں کی ایک اصطلاح بن چکی ہے۔۔!

جنرل ایوب خان کے "سنہری ترقیاتی دور" میں 15 جون 1964ء کو ممبر قومی اسمبلی اور ماہر اقتصادیات ڈاکٹر محبوب الحق نے بجٹ تقریر کے دوران انکشاف کیا کہ پاکستان (جو اسوقت موجودہ پاکستان اور بنگلہ دیش پر مشتمل تھا) کی 60 سے 80 فیصد دولت پر صرف "22 خاندان" قابض ہیں۔ ان کے مطابق 66 فیصد صنعتیں ، 79 فیصد بیمہ کمپنیاں اور 80 فیصد بینکوں کا سرمایہ صرف "بائیس خاندانوں" کے تصرف میں ہے۔

22 خاندان ، کرپشن کا نشان

ڈاکٹر محبوب الحق نے ان امیر ترین "22 خاندانوں" کے نام تو نہیں بتائے تھے لیکن 1963ء میں جنرل ایوب خان کے دور میں ان کے سمدھی لیفٹیننٹ جنرل ایم حبیب اللہ خان خٹک اور بیٹے کیپٹن گوہر ایوب نے مبینہ طور پر خاندانی اثرورسوخ اور غیرقانونی طریقے سے جنرل موٹرز کے ٹھیکے حاصل کئے جس سے وہ ان امیر ترین خاندانوں میں شامل ہو گئے تھے۔ ان کی گندھارا انڈسٹریز ، کرپشن اور اقربا پروری کی ایک بدترین مثال بن گئی تھی جس کے قصے زبان زد عام تھے۔ معروف شاعر حبیب جالب نے اسی موضوع پر ایک مشہور نظم لکھی تھی جس کا پہلا شعر تھا:

  • بائیس گھرانے ہیں آباد اور کروڑوں ہیں ناشاد ، صدر ایوب زندہ باد

"22 خاندانوں" کی اصطلاح ، جنرل ایوب خان کی مبینہ کرپشن اور ان کے خلاف عوامی غیض و غضب کی ایک بڑی وجہ بھی تھی جو ان کے افسوسناک انجام پر منتج ہوئی تھی۔ جنرل ایوب پر یہ الزام رہا ہے کہ انھوں نے فوجی افسران کو پیشہ وارانہ فرائض کے بجائے کاروبار اور کرپشن کی طرف راغب کیا تھا جن میں ان کا بیٹا اور سمدھی بھی شامل تھے جو قبل از وقت فوج سے ریٹائر ہوکر کاروبار میں لگ گئے تھے۔

گندھارا انڈسٹریز آج بھی قائم ہے اور اس کی ویب سائٹ پر کمپنی پروفائل کے علاوہ جنرل حبیب اللہ کے بارے میں جو کچھ لکھا ہے ، وہ ریکارڈز کے لیے یہاں نقل کیا جارہا ہے:

گندھارا انڈسٹریز لمیٹڈ

    "گندھارا انڈسٹریز لمیٹڈ ایک پبلک لمیٹڈ کمپنی ہے جو اسٹاک ایکسچینجز کے حوالے سے نقل کی گئی ہے اور کمپنیوں ایکٹ ، 1913 (اب کمپنیوں کے آرڈیننس ، 1984) کے تحت رجسٹرڈ ہے۔ گندھارا انڈسٹریز لمیٹڈ ایک مفاد عامہ کمپنی ہے جس کی وضاحت کمپنیز ایکٹ ، 2017 کے تیسرے شیڈول میں کی گئی ہے۔ یہ جنرل موٹرس اوورسیز ڈسٹری بیوشن کارپوریشن یو ایس اے نے کراچی میں 1963 میں لیفٹیننٹ جنرل ایم حبیب اللہ خان خٹک نے جنرل موٹرس سے یہ سہولیات حاصل کیں۔ اور اس کا نام گندھارا انڈسٹریز لمیٹڈ رکھ دیا۔ حکومت پاکستان نے 1972 میں گندھارا انڈسٹریز لمیٹڈ کو قومی شکل دے دی اور اس کا نام نیشنل موٹرز لمیٹڈ رکھ دیا۔ 1992 میں میس۔ بیبوجی سروسز (پرائیوٹ) لمیٹڈ اسے حکومت کی نجکاری پالیسی کے تحت حاصل کیا ، اور اپنا اصلی نام گندھارا انڈسٹریز لمیٹڈ رکھا۔" (منقول)

لیفٹیننٹ جنرل ایم حبیب اللہ خان خٹک

لیفٹیننٹ جنرل ایم حبیب اللہ خان خٹک
    "جنرل حبیب اللہ 17 اکتوبر 1913 کو وانا میں پیدا ہوئے تھے۔ اسلامیہ کالج پشاور سے ، وہ ان 25 افراد میں شامل تھے ، جنہوں نے ہند پاک برصغیر کے پورے ہندوستان سے ہندوستانی ملٹری اکیڈمی ، دہرادون میں فرسٹ کورس کے لئے منتخب کیا گیا تھا۔ انہیں 1934 میں کمیشن بنایا گیا تھا اور دوسری جنگ عظیم کے دوران انہوں نے برما میں انتخابی مہم چلائی تھی۔ دسمبر 1958 میں انہوں نے امپیریل ڈیفنس کالج ، لندن (اب آر سی ڈی ایس) سے گریجویشن کی اور انہیں لیفٹیننٹ جنرل رینک پر ترقی دے کر پاک فوج کا چیف آف اسٹاف مقرر کیا گیا۔
    وہ ستارہ پاکستان اور امریکی حکومت سے لیجن آف میرٹ کے وصول کنندہ تھے۔ 46 سال کی عمر میں آرمی سے ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے کاروبار / صنعت میں ایک نیا کیریئر شروع کیا اور بہت جلد ہی انہوں نے اپنے کاروبار سے بین الاقوامی شہرت حاصل کی۔ اس نے جس کاروبار کا آغاز کیا وہ ٹیکسٹائل ، آٹوموبائل ، ٹائر ، تعمیرات اور انشورنس کی طرح متنوع تھا۔
    24 دسمبر 1994 کو ان کا انتقال ہوگیا۔ اب بوبجی گروپ ان کے بچے چلا رہے ہیں۔ خاندان کی تیسری نسل بھی اس کاروبار میں شامل ہوگئی ہے اور وہ گروپ کی مختلف نشستوں پر کام کر رہے ہیں۔" (منقول)
گندھارا انڈسٹریز کا ایک اشتہار











World history
Latest News on PAK Magazine
Pakistan Media

PAK Magazine presents latest news from newspapers, TV, social media, political parties, official's and many renowned journalists from Pakistan and around the world.


تاریخ پاکستان

پاک میگزین ، پاکستانی تاریخ پر اردو میں ایک منفرد ویب سائٹ ہے جس پر اہم تاریخی واقعات کو بتاریخ سالانہ ، ماہانہ ، ہفتہ وارانہ ، روزانہ اور حروفانہ ترتیب سے چند کلکس کے نیچے پیش کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں اہم ترین واقعات اور شخصیات پر تاریخی اور مستند معلومات پر مخصوص صفحات ترتیب دیے گئے ہیں جہاں تصویر و تحریر ، ویڈیو اور دیگر متعلقہ مواد کی صورت میں محفوظ کیا گیا ہے۔ یہ سلسلہ ایک انفرادی کاوش اور فارغ اوقات کا بہترین مشغلہ ہے جو اپنی تکمیل تک جاری و ساری رہے گا ، ان شاء اللہ۔۔!



2020
نقشہ اپنا اپنا
نقشہ اپنا اپنا
1971
ذوالفقار علی بھٹوؒ ، صدر بنے
ذوالفقار علی بھٹوؒ ، صدر بنے
2000
نواز شریف کی جلا وطنی
نواز شریف کی جلا وطنی
1948
قائداعظمؒ کے اثاثے
قائداعظمؒ کے اثاثے
1979
بھٹو کی آخری سالگرہ
بھٹو کی آخری سالگرہ


تاریخ پاکستان ، اہم موضوعات

تحریک پاکستان
تحریک پاکستان
جغرافیائی تاریخ
جغرافیائی تاریخ
سقوط ڈھاکہ
سقوط ڈھاکہ
شہ سرخیاں
شہ سرخیاں
سیاسی ڈائری
سیاسی ڈائری
قائد اعظمؒ
قائد اعظمؒ
ذوالفقار علی بھٹوؒ
ذوالفقار علی بھٹوؒ
بے نظیر بھٹو
بے نظیر بھٹو
نواز شریف
نواز شریف
عمران خان
عمران خان
سکندرمرزا
سکندرمرزا
جنرل ایوب
جنرل ایوب
جنرل یحییٰ
جنرل یحییٰ
جنرل ضیاع
جنرل ضیاع
جنرل مشرف
جنرل مشرف
صدر
صدر
وزیر اعظم
وزیر اعظم
آرمی چیف
آرمی چیف
چیف جسٹس
چیف جسٹس
انتخابات
انتخابات
امریکی امداد
امریکی امداد
مغلیہ سلطنت
مغلیہ سلطنت
ڈنمارک
ڈنمارک
اٹلی کا سفر
اٹلی کا سفر
حج بیت اللہ
حج بیت اللہ
سیف الملوک
سیف الملوک
شعر و شاعری
شعر و شاعری
ہیلتھ میگزین
ہیلتھ میگزین
فلم میگزین
فلم میگزین
میڈیا لنکس
میڈیا لنکس

پاکستان کے بارے میں اہم معلومات

Pakistan

چند اہم بیرونی لنکس


Pakistan Exchange Rates

Pakistan Rupee Exchange Rate



PAK Magazine is an individual effort to compile and preserve the Pakistan's political, film and media history.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes, and therefor, I am not responsible for the content of any external site.