PAK Magazine
Sunday, 29 January 2023, Week: 04

Pakistan Chronological History
Annual
Annual
Monthly
Monthly
Weekly
Weekly
Daily
Daily
Alphabetically
Alphabetically



General Yahya Khan

General Agha Mohammad Yahya Khan was the second military dictator in Pakistan.


جنرل یحییٰ خان

جنرل یحییٰ خان
عہدہ: آرمی چیف (کمانڈر انچیف) ، صدر ، چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر
میعاد: 18ستمبر 1966ء تا 20 دسمبر 1971ء …… فوجی سروس: 1938ء …… تا …… 1971ء
صدارت: 25 مارچ 1969ء تا 20 دسمبر 1971ء
حیات: 4 فروری 1917ء تا 10 اگست 1980 …… تعلق: پشاور/قزلباش …… زبان: فارسی

پاکستان کاپانچواں آرمی چیف ، جنرل یحییٰ خان ، پاکستان ہی نہیں بلکہ اسلامی تاریخ کا ایک بہت بڑا ولن ثابت ہوا کہ جس کے دور میں پاکستانی فوج کو تاریخ کی ایک شرمناک ترین فوجی شکست ہوئی تھی۔ مشرقی پاکستان میں فوجی ایکشن اور مغربی پاکستان سے بھارت پر حملہ کرنا اس کے فوجی کیرئر کے تباہ کن فیصلے ثابت ہوئے تھے جن میں پاکستان کا پہلا وائس آرمی چیف جنر ل حمید بھی برابر کا شریک تھا جو ایک فور سٹار جنرل بنا دیا گیا تھا۔

ایک عیاش اور نااہل جرنیل

بتایا جاتا ہے کہ جنرل یحییٰ خان جیسے بدکردار اور عیاش جرنیل کو دو سینئر جرنیلوں پر فوقیت دے کر آرمی چیف بنا کر صدر جنرل ایوب خان نے پاکستان سے سب بڑی دشمنی کی تھی۔ اس کی کارکردگی بھی کوئی مثالی نہ تھی بلکہ جب1965ء کی جنگ میں اکھنور کی طرف جنرل اختر حسین ملک کی قیادت میں کامیاب پیش قدمی ہو رہی تھی توکاروائی کے دوران کمان یحییٰ خان کے سپر د کرنے میں 36 گھنٹے لگ گئے تھے جس سے میدان جنگ کا نقشہ بدل گیا تھا۔ اس کوتاہی اور نااہلی کے باوجود اسے آرمی چیف بنانا اچھنبے کی بات تھی۔

ہوس اقتدار میں ملک تڑوا لیا

جنرل یحییٰ خان ، اپنے ابتدائی دو ر میں تو بڑا فرمانبردار رہا لیکن جب صدر جنرل ایوب خان کا زوال شروع ہوا تو موصوف کے پر پرزے نکل آئے تھے اور وہ پہلا فوجی جنرل بنا جس نے اپنے سابقہ باس کی حکومت پر قبضہ کیا تھا اورجس نے ملک گیر مارشل لاء بھی لگایا تھا۔ گو اس نے کچھ نیک کام بھی کئے تھے جن میں سے ون یونٹ توڑنا ، صوبے بحال کرنا ، آزادانہ اور منصفانہ انتخابات منعقد کراناشامل ہیں لیکن انتقال اقتدار میں وہ ویسا ہی بددیانت تھا جیسا جنرل ضیاع اپنی 8ویں ترمیم یا جنرل مشرف 17ویں ترمیم کی صورت میں تھے۔ وہ بھی ایک ایسے آئین کی تشکیل پر بضد تھا جس میں طاقت کا منبع صدر یا آرمی چیف رہے لیکن اکثریتی پارٹی لیڈر شیخ مجیب الرحمان اسے یہ حق دینے کو کسی طور بھی تیار نہیں تھا۔ جنرل یحییٰ نے ملک تڑوا لیا لیکن اقتدار سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں تھا۔ اگر سقوط ڈھاکہ نہ ہوتا تو وہ کبھی بھی سولین کو حکومت نہ دیتا جو اس کے اس پریس ریلیز سے ظاہر تھا جو اس نے 20 دسمبر 1971ء سے نئے آئین کی صورت میں ملک پر مسلط کرنا تھا۔

جنرل آغاز محمد یحییٰ خان ، تاریخ کے آئینے میں

1955
ون یونٹ کا قیام
ون یونٹ کا قیام
1957
نیپ (نیشنل عوامی پارٹی) کا قیام
نیپ (نیشنل عوامی پارٹی) کا قیام
1960
ایلون رابرٹ کارنیلیئس
ایلون رابرٹ کارنیلیئس
1960
اسلام آباد کی تعمیر
اسلام آباد کی تعمیر
1963
بھٹو بطور وزیر خارجہ
بھٹو بطور وزیر خارجہ
1965
آپریشن گرینڈ سلام
آپریشن گرینڈ سلام
1966
جنرل یحییٰ خان
جنرل یحییٰ خان
1969
صدر جنرل یحییٰ خان
صدر جنرل یحییٰ خان
1969
پاکستان میں دوسرا مارشل لاء
پاکستان میں دوسرا مارشل لاء
1970
جنرل یحییٰ کی ہوس اقتدار
جنرل یحییٰ کی ہوس اقتدار
1971
آپریشن سرچ لائٹ
آپریشن سرچ لائٹ
1971
شیخ مجیب الرحمن کا بنگلہ دیش کے قیام کا اعلان
شیخ مجیب الرحمن کا بنگلہ دیش کے قیام کا اعلان
1971
راشد منہاس شہید
راشد منہاس شہید
1971
مشرقی پاکستان کی صورتحال پر بھٹو کا موقف
مشرقی پاکستان کی صورتحال پر بھٹو کا موقف
1971
وزیر اعظم نورالامین
وزیر اعظم نورالامین
1971
شیخ مجیب الرحمان
شیخ مجیب الرحمان
1971
آمر کا مجوزہ آئین
آمر کا مجوزہ آئین
1971
صدر ذوالفقار علی بھٹو
صدر ذوالفقار علی بھٹو
1971
جنرل یحییٰ اور ہوس اقتدار
جنرل یحییٰ اور ہوس اقتدار
1972
1972ء کا عبوری آئین
1972ء کا عبوری آئین
1973
وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو
وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو
1974
بھٹو اور مجیب
بھٹو اور مجیب
1979
ذوالفقار علی بھٹوؒ ، پیدائش سے پھانسی تک
ذوالفقار علی بھٹوؒ ، پیدائش سے پھانسی تک
1998
مشرف ، آرمی چیف بنا
مشرف ، آرمی چیف بنا
1999
منگل اور جنگل کا قانون
منگل اور جنگل کا قانون
2020
آمروں کی GDP گروتھ
آمروں کی GDP گروتھ
2022
پاکستان کے وزرائے اعظم
پاکستان کے وزرائے اعظم



صدر یحییٰ خان اور مشرقی پاکستان کا طوفان

Credit: AP Archive

دیگر تاریخی ویڈیوز

14-10-1955:
ون یونٹ کا قیام
24-01-1963:
بھٹو بطور وزیر خارجہ
18-09-1966:
جنرل یحییٰ خان
26-11-1970:
صدر یحییٰ خان اور مشرقی پاکستان کا طوفان
27-11-1970:
طوفان ، الیکشن اور یحییٰ خان
01-12-1970:
جنرل یحییٰ کی ہوس اقتدار
25-03-1971:
آپریشن سرچ لائٹ
26-03-1971:
شیخ مجیب الرحمن کا بنگلہ دیش کے قیام کا اعلان
31-07-1971:
مشرقی پاکستان کا سیاسی حل
27-11-1971:
مشرقی پاکستان کی صورتحال پر بھٹو کا موقف
07-12-1971:
وزیر اعظم نورالامین
16-12-1971:
آمر کا مجوزہ آئین
16-12-1971:
شیخ مجیب الرحمان
20-12-1971:
صدر ذوالفقار علی بھٹو
14-08-1973:
وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو
27-06-1974:
بھٹو اور مجیب

1957
وزیر اعظم آئی آئی چندریگر
وزیر اعظم آئی آئی چندریگر
2018
عارف علوی
عارف علوی
1971
وزیر اعظم نورالامین
وزیر اعظم نورالامین
1976
ایٹمی طاقت
ایٹمی طاقت
1947
پاکستان کا پہلا دن
پاکستان کا پہلا دن

تاریخ پاکستان

پاک میگزین ، پاکستانی تاریخ پر اردو میں ایک منفرد ویب سائٹ ہے جس پر اہم تاریخی واقعات کو بتاریخ سالانہ ، ماہانہ ، ہفتہ وارانہ ، روزانہ اور حروفانہ ترتیب سے چند کلکس کے نیچے پیش کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں اہم ترین واقعات اور شخصیات پر تاریخی اور مستند معلومات پر مخصوص صفحات ترتیب دیے گئے ہیں جہاں تصویر و تحریر ، ویڈیو اور دیگر متعلقہ مواد کی صورت میں محفوظ کیا گیا ہے۔ یہ سلسلہ ایک انفرادی کاوش اور فارغ اوقات کا بہترین مشغلہ ہے جو اپنی تکمیل تک جاری و ساری رہے گا ، ان شاء اللہ۔۔!



تاریخ پاکستان ، اہم موضوعات
تحریک پاکستان
جغرافیائی تاریخ
سقوط ڈھاکہ
شہ سرخیاں
سیاسی ڈائری
قائد اعظمؒ
ذوالفقار علی بھٹوؒ
بے نظیر بھٹو
نواز شریف
عمران خان
سکندرمرزا
جنرل ایوب
جنرل یحییٰ
جنرل ضیاع
جنرل مشرف
صدر
وزیر اعظم
آرمی چیف
چیف جسٹس
انتخابات
امریکی امداد
مغلیہ سلطنت
ڈنمارک
اٹلی کا سفر
حج بیت اللہ
سیف الملوک
شعر و شاعری
ہیلتھ میگزین
فلم میگزین
میڈیا لنکس

پاکستان کے بارے میں اہم معلومات

Pakistan

چند اہم بیرونی لنکس


پاکستان کی فلمی تاریخ

پاکستانی فلموں ، فنکاروں اور فلمی گیتوں پر ایک منفرد اور معلوماتی سلسلہ

طفیل فاروقی
طفیل فاروقی
شبنم
شبنم
خلیل احمد
خلیل احمد
سہیل رعنا
سہیل رعنا
سعیدگیلانی
سعیدگیلانی
عنایت حسین بھٹی
عنایت حسین بھٹی
مسعود رانا
مسعود رانا
ساحل فارانی
ساحل فارانی
رضا میر
رضا میر
خان عطا الرحمان
خان عطا الرحمان


PAK Magazine is an individual effort to compile and preserve the Pakistan's political, film and media history.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes, and therefor, I am not responsible for the content of any external site.