PAK Magazine
Monday, 17 January 2022, Week: 03

Pakistan Chronological History

سالانہ | ماہانہ | ہفتہ وارانہ | روزانہ | حروفانہ | اہم ترین | تحریک پاکستان | ذاتی ڈائریاں

Pakistan Chronological History
1957

NAP (National Awami Party) formed

Saturday, 27 July 1957

The left-wing socialist political party NAP (National Awami Party) was founded by Moulana Bashani on July 27, 1957 in Dacca, East Pakistan (Dhaka, Bangladesh).


نیپ (نیشنل عوامی پارٹی) کا قیام

ہفتہ 27 جولائی 1957
Moulana Bashani

نیشنل عوامی پارٹی کا قیام 27 جولائی 1957ء کو ڈھاکہ میں عمل میں آیا تھا اور مقصد 1959ء کے متوقع انتخابات میں حصہ لینا تھا۔ باریش بنگالی لیڈر مولانا عبدالحمید باشانی اس کے بانی تھے۔ بائیں بازو کی سوشلسٹ اور کمیونسٹ نظریات کی حامل اس پارٹی میں ملک بھر کے ممتاز سیاستدانوں نے شمولیت اختیار کی تھی جن میں خان عبدالغفار خان ، خان عبدالولی خان ، غوث بخش بزنجو ، عبدالصمد خان اچکزئی ، میاں محمود علی قصوری ، جی ایم سید اور میاں افتخار الدین وغیرہ شامل تھے۔ یہ پارٹی ون یونٹ اور سماجی ناہمورایوں کے سخت خلاف تھی۔

1958ء کے ایوب خان کے مارشل لاء کے دوران سبھی سیاسی پارٹیوں پر پابندی لگا دی گئی تھی جو 1962ء کے آئین کے نفاذ تک رہی تھی۔ 1967ء میں مغربی پاکستان میں خان عبدالولی خان نے اپنا الگ نظریاتی گروپ بنا لیا تھا۔ اختلافات اس بات پر تھے کہ مولانا باشانی کی پارٹی چین نواز تھی جبکہ ولی خان کی پارٹی روس نواز تھی۔ ان دنوں ان دونوں کمیونسٹ ممالک کے درمیان تلخی اتنی بڑھی تھی کہ سرحدی جھڑپوں کی نوبت تک آگئی تھی۔

1970ء میں پاکستان کے پہلے انتخابات میں نیپ کو صوبہ سرحد اور بلوچستان کے صوبائی انتخابات میں اکثریت ملی تھی۔ یہ قوم پرست علاقائی پارٹی ، پاکستان میں "چار قومیتوں" یعنی پنجابی ، سندھی ، پشتون اور بلوچی کی تھیوری کی حامی تھی جبکہ پشتون علاقوں پر مشتمل "آزاد پختونستان" کے قیام کے لیے بھی کوشاں تھی۔ اسی لیے 1971ء کے سیاسی بحران میں اس نے "چھ نکات" کے علمبردار بنگالیوں کے لیڈر شیخ مجیب الرحمان کا بھرپور ساتھ دیا تھا جس نے انھیں مکمل صوبائی خودمختاری کی گارنٹی دی تھی۔ لیکن 25 مارچ 1971ء کو جب صدر جنرل یحییٰ خان نے عوامی نمائندوں کو اقتدار منتقل کرنے کی بجائے اکثریتی لیڈر مجیب کو غدار قرار دیا ، فاتح جماعت عوامی لیگ کو خلاف قانون قرار دیا اور بنگالیوں کے خلاف فوجی ایکشن کا حکم دیا تو دیگر سیاسی سرگرمیوں پر پابندی کے علاوہ ولی خان کی نیشنل عوامی پارٹی کو بھی خلاف قانون قرار دے دیا تھا۔

16 دسمبر 1971ء کو ایک المناک فوجی شکست کے نتیجے میں بنگلہ دیش کے قیام کے بعد جب جنرل یحییٰ نے مجبوراً حکومت موجودہ پاکستان کے منتخب نمائندے جناب ذوالفقار علی بھٹوؒ کے حوالے کی تو انھوں نے اپنی ہی تقریر میں نیپ پر سے پابندی اٹھا لی تھی۔ بھٹو صاحب کے عظیم کارناموں میں سے ایک بہت بڑا کارنامہ یہ بھی تھا کہ انھوں نے علیحدگی پسند نظریات رکھنے والوں میں سے ایک ولی خان کو بھی قومی دھارے میں لاتے ہوئے نہ صرف ایک متفقہ وفاقی آئین پر دستخط کرنے پر مجبور کردیا تھا بلکہ انھیں اپوزیشن لیڈر بھی بنا دیا تھا۔ یہ عزت انھیں راس نہ آئی تھی اور وہ اپنے اصل مشن پر گامزن رہے۔ اسی لیے آج تاریخ کی کتابوں میں ایک گمشدہ باب کے طور پر ملتے ہیں۔۔!









تاریخ پاکستان

پاک میگزین ، پاکستانی تاریخ پر اردو میں ایک منفرد ویب سائٹ ہے جس پر سال بہ سال اہم تاریخی واقعات چند کلکس کے نیچے ہیں۔ ہر واقعہ پر ایک صفحہ ترتیب دیا گیا ہے جہاں تمام تر معلومات کو تصویر و تحریر ، ویڈیو اور دیگر متعلقہ مواد کی صورت میں محفوظ کیا گیا ہے۔ یہ سلسلہ ایک انفرادی کاوش اور فارغ اوقات کا بہترین مشغلہ ہے جو اپنی تکمیل تک جاری و ساری رہے گا ، ان شاء اللہ۔۔!


World history

تاریخ پاکستان

تازہ ترین


پاکستان کے بارے میں اہم معلومات

Pakistan

پاک میگزین کے دیگر سلسلے

جغرافیائی تاریخ
جغرافیائی تاریخ
سقوط ڈھاکہ
سقوط ڈھاکہ
قائد اعظمؒ
قائد اعظمؒ
بھٹو شہیدؒ
بھٹو شہیدؒ
آمر مردود
آمر مردود
صدر
صدر
وزیر اعظم
وزیر اعظم
آرمی چیف
آرمی چیف
چیف جسٹس
چیف جسٹس
مغلیہ سلطنت
مغلیہ سلطنت
ڈنمارک
ڈنمارک
اٹلی کا سفر
اٹلی کا سفر
حج بیت اللہ
حج بیت اللہ
سیف الملوک
سیف الملوک
شعر و شاعری
شعر و شاعری
ہیلتھ میگزین
ہیلتھ میگزین
فلم میگزین
فلم میگزین
میڈیا لنکس
میڈیا لنکس

چند اہم بیرونی لنکس