PAK Magazine | An Urdu website on the Pakistan history
Friday, 12 July 2024, Day: 194, Week: 28

PAK Magazine |  پاک میگزین پر تاریخِ پاکستان ، ایک منفرد انداز میں


پاک میگزین پر تاریخِ پاکستان

Annual
Monthly
Weekly
Daily
Alphabetically

جمعرات یکم مارچ 1962

1962ء کا معطل آئین

آئین پاکستان
جنرل ایوب خان کے آئین
سے لفظ "اسلامی" نکال دیا گیا تھا!

فوجی آمر، جنرل ایوب خان کے آئین میں "اسلامی جمہوریہ پاکستان" صرف "جمہوریہ پاکستان" رہ گیا تھا۔۔!

یکم مارچ 1962ء کو "جنرل ایوب خان کا (ذاتی) آئین"، ایک صدارتی آئین تھا جس میں طاقت اور عقلِ کل ، صدر کی ذات تھی اور عوام محض رعایا اور غلام تھے۔ سیاسی پارٹیوں پر پابندی تھی لیکن خود صدر صاحب کے مسلم لیگ کو ہائی جیک کرنے کی گنجائش رکھی گئی تھی۔

اس "دستورِ بے نور" کی ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ اس آئین میں پاکستان کو "اسلامی جمہوریہ" کے بجائے صرف "جمہوریہ" یا The Repblic of Pakistan قرار دیا گیا تھا اور مزے کی بات ہے کہ کسی مذہبی حلقے کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی تھی یا شاید رینگنے ہی نہیں دی گئی تھی۔۔!

ایک شخصی آئین

The Constitution 1962 stamp
1962ء کے آئین کی یاد میں جاری شدہ ڈاک ٹکٹ

اس شخصی آئین کے تحت صدر ، قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ممبران کا بالواسطہ انتخاب بنیادی جمہوریتوں کے ممبران اور ان کا بلاواسطہ انتخاب بلدیاتی انتخابات میں بالغ رائے دہی کی بنیاد پر عوام الناس کرتے تھے۔ صدر کو کلی اختیار حاصل تھا کہ وہ ہر کسی کو گھر بھیج سکتا تھا اور اس کا حکم ، آرڈیننس کی صورت میں قانون بن جاتا تھا۔ قومی اسمبلی توڑنے کی صورت میں صدر کو بھی مستعفی ہونا پڑتا تھا۔ صدر ، اسمبلی کے کسی بھی فیصلے کو ویٹو کر سکتا تھا جبکہ دو تہائی اکثریت سے صدر کا مواخذہ بھی کیا جا سکتا تھا۔ صدر کا مسلمان ہونا لازم اور اس کا انتخاب صرف دو بار ہی ہو سکتا تھا۔ صدر اور سپیکر کے عہدوں پر بیک وقت ایک ہی صوبے کے افراد فائز نہیں ہو سکتے تھے۔ صدر کے بعد گورنرز کی حیثیت تھی جو صوبائی حکومت چلانے کے لئے صدر کے سامنے جوابدہ تھے۔

1962ء کا معطل آئین
"صدر ایوب نے پاکستان کا نیا آئین نافذ کر دیا" ، روزنامہ جنگ کی معنی خیز شہ سرخی

آئینی کمیٹی میں بھٹو بھی شامل تھے!

17 فروری 1960ء کو سابق چیف جسٹس شہاب الدین کی سربراہی میں ایک آئینی کمیشن قائم کیا گیا تھا جن کے ذمہ ایک اسلامی ، جمہوری اور وفاقی آئین مرتب کرنا تھا۔ اس کمیشن میں وزیر خارجہ منظور قادر کے علاوہ ذوالفقار علی بھٹو بھی شامل تھے۔ چھ ہزار سے زائد تجاویز اور پانچ سو سے زائد متعلقہ افراد کے انٹرویوز کے بعد 6 مئی 1961ء کو آئینی رپورٹ تیار ہوئی جس پر کابینہ کے علاوہ تمام متعلقہ اداروں میں غوروغوض کیا گیا اور یکم مارچ 1962ء کو آئین کی منظوری دے دی گئی تھی۔

اس آئین کے تحت قومی اسمبلی کی کل 156 نشستیں تھیں جن میں چھ خواتین کی مخصوص نشستیں بھی تھیں جبکہ دونوں صوبوں یعنی مشرقی اور مغربی پاکستان سے 75 ارکان فی یونٹ تھے۔ صوبائی اسمبلیوں کے ممبران کی تعداد 150 فی یونٹ تھی۔

صدر ایوب خان

عوام کے لیے دستور؟

ریڈیو پاکستان پر اپنی اس نشری تقریر میں صدر ایوب خان ، اہل پاکستان کو یہ مژدہ سنا رہے ہیں کہ ان کے لئے دستور تیار کر لیا گیا ہے اور جب وقت آیا تو ان کی رائے بھی لے لی جائے گی۔ وہ یہ بھی ارشاد فرما رہے ہیں کہ عوام کے لئے اس جمہوریت کا انتخاب کیا گیا ہے جو وہ سمجھ سکتے ہیں یا ان کے لئے مناسب سمجھا گیا ہے۔ یہ تقریر انگلش میں تھی اور دلچسپ بات یہ تھی کہ خود صدر صاحب اپنی اس تقریر میں فرما رہے ہیں کہ لوگ وہی بات سمجھ سکتے ہیں جو ان کی اپنی زبان میں ہو۔ اس وقت ملک بھر (پاکستان اور بنگلہ دیش) میں خواندگی کا تناسب دس فیصد سے بھی کم تھا اور دس کروڑ آبادی کے لئے اخبارات کی مجموعی اشاعت بیس ہزار کے قریب تھی جس سے امور مملکت میں عوام الناس کی دلچسپی یا شرکت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔۔!

1962ء کے آئین پر جنرل ایوب کا بیان





1962 Constitution

Thursday, 1 March 1962

The "General Ayub Khan's Personal Constitution", was a presidential constitution in which the power and intellect were vested in the President and the people were mere subjects and slaves. Political parties were banned but the President himself was allowed to hijack the Muslim League.


1962 Constitution (video)

Credit: Pak Broad Cor

صدر جنرل ایوب خان نئے آئین کے بارے میں قوم سے خطاب کر رہے ہیں۔


پاکستان کی تاریخ پر ایک منفرد ویب سائٹ

پاک میگزین ، پاکستان کی سیاسی تاریخ پر ایک منفرد ویب سائٹ ہے جس پر سال بسال اہم ترین تاریخی واقعات کے علاوہ اہم شخصیات پر تاریخی اور مستند معلومات پر مبنی مخصوص صفحات بھی ترتیب دیے گئے ہیں جہاں تحریروتصویر ، گرافک ، نقشہ جات ، ویڈیو ، اعدادوشمار اور دیگر متعلقہ مواد کی صورت میں حقائق کو محفوظ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

2017ء میں شروع ہونے والا یہ عظیم الشان سلسلہ، اپنی تکمیل تک جاری و ساری رہے گا، ان شاءاللہ



پاکستان کے اہم تاریخی موضوعات



تاریخِ پاکستان کی اہم ترین شخصیات



تاریخِ پاکستان کے اہم ترین سنگِ میل



پاکستان کی اہم معلومات

Pakistan

چند مفید بیرونی لنکس



پاکستان فلم میگزین

پاک میگزین" کے سب ڈومین کے طور پر "پاکستان فلم میگزین"، پاکستانی فلمی تاریخ، فلموں، فنکاروں اور فلمی گیتوں پر انٹرنیٹ کی تاریخ کی پہلی اور سب سے بڑی ویب سائٹ ہے جو 3 مئی 2000ء سے مسلسل اپ ڈیٹ ہورہی ہے۔


پاکستانی فلموں کے 75 سال …… فلمی ٹائم لائن …… اداکاروں کی ٹائم لائن …… گیتوں کی ٹائم لائن …… پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد …… پاکستان کی پہلی پنجابی فلم پھیرے …… پاکستان کی فلمی زبانیں …… تاریخی فلمیں …… لوک فلمیں …… عید کی فلمیں …… جوبلی فلمیں …… پاکستان کے فلم سٹوڈیوز …… سینما گھر …… فلمی ایوارڈز …… بھٹو اور پاکستانی فلمیں …… لاہور کی فلمی تاریخ …… پنجابی فلموں کی تاریخ …… برصغیر کی پہلی پنجابی فلم …… فنکاروں کی تقسیم ……

پاک میگزین کی پرانی ویب سائٹس

"پاک میگزین" پر گزشتہ پچیس برسوں میں مختلف موضوعات پر مستقل اہمیت کی حامل متعدد معلوماتی ویب سائٹس بنائی گئیں جو موبائل سکرین پر پڑھنا مشکل ہے لیکن انھیں موبائل ورژن پر منتقل کرنا بھی آسان نہیں، اس لیے انھیں ڈیسک ٹاپ ورژن کی صورت ہی میں محفوظ کیا گیا ہے۔

پاک میگزین کا تعارف

"پاک میگزین" کا آغاز 1999ء میں ہوا جس کا بنیادی مقصد پاکستان کے بارے میں اہم معلومات اور تاریخی حقائق کو آن لائن محفوظ کرنا ہے۔

Old site mazhar.dk

یہ تاریخ ساز ویب سائٹ، ایک انفرادی کاوش ہے جو 2002ء سے mazhar.dk کی صورت میں مختلف موضوعات پر معلومات کا ایک گلدستہ ثابت ہوئی تھی۔

اس دوران، 2011ء میں میڈیا کے لیے akhbarat.com اور 2016ء میں فلم کے لیے pakfilms.net کی الگ الگ ویب سائٹس بھی بنائی گئیں لیکن 23 مارچ 2017ء کو انھیں موجودہ اور مستقل ڈومین pakmag.net میں ضم کیا گیا جس نے "پاک میگزین" کی شکل اختیار کر لی تھی۔

سالِ رواں یعنی 2024ء کا سال، "پاک میگزین" کی مسلسل آن لائن اشاعت کا 25واں سلور جوبلی سال ہے۔




PAK Magazine is an individual effort to compile and preserve the Pakistan history online.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes and therefor, I am not responsible for the content of any external site.