PAK Magazine
Sunday, 03 July 2022, Week: 26

Pakistan Chronological History
Annual
Annual
Monthly
Monthly
Weekly
Weekly
Daily
Daily
Alphabetically
Alphabetically


1971

Zulfiqar Ali Bhutto as President

Monday, 20 December 1971

Zulfikar Ali Bhutto became the first ever elected President in Pakistan..

ذوالفقار علی بھٹوؒ ، صدر بنے

پير 20 دسمبر 1971
Bhutto took oath as President of Paksitan on 20 Deecember 1971

20 دسمبر 1971ء کو پہلی بار پاکستانی عوام کے منتخب نمائندے قائد عوام جناب ذوالفقارعلی بھٹوؒ کو حکومت بنانے کا موقع ملا تھا۔۔!

بھٹو کو حکومت کبھی نہ ملتی اگر۔۔

یہ ناممکن کبھی ممکن نہ ہوتا اگر ایک ذلت آمیز فوجی شکست کے نتیجے میں پاکستان کے دو لخت ہونے اور بھارتی جارحیت کے نتیجے میں مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے کا دلخراش سانحہ رونما نہ ہوتا۔ پاکستان پر قابض مطلق العنان حکمران ، جنرل یحییٰ خان اور اس کا غاصب ٹولہ منتخب عوامی نمائندوں اور خصوصاً بھٹو صاحب کو ان کا حق دینے اور اپنے ناجائز اقتدار سے دستبردار ہونے کو تیار نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ کی شان دیکھئے کہ بھٹو کو اقتدار سے دور رکھنے والوں کو نہ صرف انھیں صدر بنانا پڑا بلکہ 'سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر' کا عہدہ بھی دینا پڑا۔ ساتھ ہی وہ وزیرخارجہ ، وزیر داخلہ اور وزیر دفاع بھی تھے۔

بظاہر ذوالفقارعلی بھٹوؒ ، پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کے بعد پاکستان کے طاقتور ترین سویلین حکمران تھے لیکن بھٹو کی کارکردگی لیاقت علی خان سے بدرجہا بہتر رہی ہے۔

بھٹو کے اہم ترین کارنامے

  • بھٹو نے صرف پانچ ماہ کی قلیل مدت میں 21 اپریل 1972ء کو ایک عبوری آئین بنا کر ملک سے مارشل لاء کی لعنت کو ختم کیا۔
  • 14 اگست 1973ء کو پاکستان کے پہلے متفقہ اور مستقل آئین کی منظوری کے بعد صدارت کا عہدہ چھوڑ کر پارلیمانی جمہوریت کے تحت پہلے منتخب وزیر اعظم منتخب ہوئے۔
  • پاکستان ایک بہت بڑی فوجی شکست کے بعد معاشی اور سیاسی طور پر تباہ ہو چکا تھا۔ GDP گروتھ 0,47 فیصد تک گر چکی تھی لیکن بھٹو نے کمال حکمت عملی ، دانائی اور شب و روز کی محنت سے ایک سال کے اندر ہی میں جی ڈی پی گروتھ 7,06 فیصد تک پہنچا دی تھی۔ قومی اعتماد بحال کیا اور بین الاقوامی ساکھ کو بہتر بنایا۔ بڑی صنعتوں کو قومی تحویل میں لے کر مالی بدعنوانیوں کا سدباب کیا اور مزدوروں کا استحصال ختم کیا۔
  • پاکستان کو نہ صرف معاشی بحران سے نکالا بلکہ دفاعی طور پر بھی بے حد مضبوط کیا اور ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی۔
  • متعددشعبہ جات میں تاریخی اصلاحات کے علاوہ ایک بہت بڑا کارنامہ شملہ معاہدہ تھا جس میں قومی وقار پر حرف آئے بغیر مغربی محاذ پر جنگ میں ہارے ہوئے پانچ ہزار مربع میل سے زائد مقبوضہ علاقوں کی واپسی ممکن ہوئی تھی۔ 195 فوجی افسران پر جنگی جرائم کے تحت مقدمہ نہیں چلنے دیا اور نوے ہزار جنگی قیدیوں کی رہائی ممکن ہوئی تھی۔

ذوالفقارعلی بھٹو کون تھے؟

جناب ذوالفقار علی بھٹوؒ ، 5 جنوری 1928ء کو لاڑکانہ سندھ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سر شاہ نواز بھٹو مشیر اعلیٰ حکومت بمبئی اور ریاست جوناگڑھ کے وزیر اعظم تھے۔ 1950ء میں برکلے یونیورسٹی کیلیفورنیا سے سیاسیات میں گریجویشن کی۔ 1952ء میں آکسفورڈ یونیورسٹی سے اصول قانون میں ماسٹر کی ڈگری لی۔ اسی سال لندن سے بیرسٹری کا امتحان پاس کیا۔ پہلے ایشیائی تھے جو انگلستان کی ایک یونیورسٹی میں بین الاقوامی قانون کے استاد مقرر ہوئے۔ کچھ عرصہ تک مسلم لاء کالج کراچی میں دستوری قانون کے لیکچرر رہے۔ 1953ء میں سندھ ہائی کورٹ میں وکالت شروع کی۔ 1957ء میں دو بین الاقوامی کانفرنسوں میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ 1958ء سے 1966ء تک جنرل ایوب خان کی فوجی حکومت میں ایک غیر سیاسی اہلکار کے طور پر مختلف وزارتوں پر فائز رہے اور اپنی لاجواب کارکردگی کی بنیاد پر قومی ہیرو بنے۔

بھٹو کی سیاسی زندگی

ذوالفقار علی بھٹوؒ نے 1967ء میں عملی سیاست میں حصہ لینا شروع کیا اور اپنی الگ سیاسی جماعت 'پاکستان پیپلز پارٹی' بنائی جسے 1970ء کے انتخابات میں مغربی پاکستان کے دو صوبوں ، پنجاب اور سندھ سے بڑی اکثریت حاصل ہوئی اور متحدہ پاکستان میں عوامی لیگ کے بعد دوسری بڑی پارٹی بنی۔ انتخابات کے بعد ایک آئینی بحران پیدا ہوا جس میں اکثریتی پارٹی عوامی لیگ کا لیڈر شیخ مجیب الرحمان اپنی مرضی کا آئین بنانا چاہتا تھا۔ بھٹو ، ایک متفقہ آئین کا حامی تھا لیکن پاکستان کا مختار کل ، صدر جنرل یحییٰ خان اپنی مرضی کا آئین مسلط کرنا چاہتا تھا جس کے مطابق اگلے پانچ سال تک وہ جنرل ضیاع اور جنرل مشرف کی طرح کا مطلق العنان صدر ہو۔ یہی نکتہ فساد کی وجہ تھا کیونکہ اکثریتی پارٹی کا لیڈر شیخ مجیب الرحمان ، فوجی جرنیلوں کو کسی قسم کا کوئی سیاسی کردار دینے کو تیار نہیں تھا۔ اس جرم کی پاداش میں مجیب کو غدار قرار دے کر گرفتار کیا گیا ، ملک کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی ، عوامی لیگ پر پابندی لگائی گئی اور بنگالیوں کے خلاف فوجی آپریشن شروع کیا گیا۔ اصولاً اسی وقت حکومت بھٹو کے حوالے کر دینی چاہئے تھی لیکن اقتدار کے حریصوں نے ملک تڑوا لیا لیکن وؤٹ کو عزت نہیں دی۔ بالآخر ایک تاریخی شکست کھا کر ہوش آئی اور مجبوراً حقدار کو اس کا حق دینا پڑا تھا۔





Bhutto in Power
(Daily Dawn Karachi, 21 December 1971)

Bhutto took oath as President of Pakistan
(Daily Mashriq Lahore, 21 December 1971)



Zulfiqar Ali Bhutto as President (video)

Credit: AP Archive






World history
Latest News on PAK Magazine
Pakistan Media

PAK Magazine presents latest news from newspapers, TV, social media, political parties, official's and many renowned journalists from Pakistan and around the world.


تاریخ پاکستان

پاک میگزین ، پاکستانی تاریخ پر اردو میں ایک منفرد ویب سائٹ ہے جس پر اہم تاریخی واقعات کو بتاریخ سالانہ ، ماہانہ ، ہفتہ وارانہ ، روزانہ اور حروفانہ ترتیب سے چند کلکس کے نیچے پیش کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں اہم ترین واقعات اور شخصیات پر تاریخی اور مستند معلومات پر مخصوص صفحات ترتیب دیے گئے ہیں جہاں تصویر و تحریر ، ویڈیو اور دیگر متعلقہ مواد کی صورت میں محفوظ کیا گیا ہے۔ یہ سلسلہ ایک انفرادی کاوش اور فارغ اوقات کا بہترین مشغلہ ہے جو اپنی تکمیل تک جاری و ساری رہے گا ، ان شاء اللہ۔۔!



1978
بھٹو کاایک اخباری بیان
بھٹو کاایک اخباری بیان
2001
جنرل مشرف ، صدر بنا
جنرل مشرف ، صدر بنا
1960
سندھ طاس معاہدہ
سندھ طاس معاہدہ
1957
 سہروردی برطرف
سہروردی برطرف
1971
بھٹو کی پہلی کابینہ
بھٹو کی پہلی کابینہ


تاریخ پاکستان ، اہم موضوعات

تحریک پاکستان
تحریک پاکستان
جغرافیائی تاریخ
جغرافیائی تاریخ
سقوط ڈھاکہ
سقوط ڈھاکہ
شہ سرخیاں
شہ سرخیاں
سیاسی ڈائری
سیاسی ڈائری
قائد اعظمؒ
قائد اعظمؒ
ذوالفقار علی بھٹوؒ
ذوالفقار علی بھٹوؒ
بے نظیر بھٹو
بے نظیر بھٹو
نواز شریف
نواز شریف
عمران خان
عمران خان
سکندرمرزا
سکندرمرزا
جنرل ایوب
جنرل ایوب
جنرل یحییٰ
جنرل یحییٰ
جنرل ضیاع
جنرل ضیاع
جنرل مشرف
جنرل مشرف
صدر
صدر
وزیر اعظم
وزیر اعظم
آرمی چیف
آرمی چیف
چیف جسٹس
چیف جسٹس
انتخابات
انتخابات
امریکی امداد
امریکی امداد
مغلیہ سلطنت
مغلیہ سلطنت
ڈنمارک
ڈنمارک
اٹلی کا سفر
اٹلی کا سفر
حج بیت اللہ
حج بیت اللہ
سیف الملوک
سیف الملوک
شعر و شاعری
شعر و شاعری
ہیلتھ میگزین
ہیلتھ میگزین
فلم میگزین
فلم میگزین
میڈیا لنکس
میڈیا لنکس

پاکستان کے بارے میں اہم معلومات

Pakistan

چند اہم بیرونی لنکس


Pakistan Exchange Rates

Pakistan Rupee Exchange Rate



PAK Magazine is an individual effort to compile and preserve the Pakistan's political, film and media history.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes, and therefor, I am not responsible for the content of any external site.