PAK Magazine
Thursday, 24 June 2021, Week: 25

Pakistan History

سالانہ | ماہانہ | ہفتہ وارانہ | روزانہ | حروفانہ | اہم ترین | تحریک پاکستان | ذاتی ڈائریاں

Pakistan History

1971

ذوالفقار علی بھٹو ، صدر بنے

پير 20 دسمبر 1971

Bhutto took oath as President of Paksitan on 20 Deecember 1971
20 دسمبر 1971ء کو پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار عوام کے منتخب نمائندے قائد عوام جناب ذوالفقارعلی بھٹو نے پاکستان کے چوتھے صدر کے عہدہ کا حلف اٹھایا تھا۔۔!

یہ ناممکن کبھی ممکن نہ ہوتا اگر ایک شرمناک فوجی شکست کے نتیجے میں پاکستان کے دو لخت ہونے اور بھارتی جارحیت کے نتیجے میں مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے کا دلخراش سانحہ رونما نہ ہوتا۔ پاکستان پر قابض مطلق العنان حکمران ، جنرل یحییٰ خان اور اس کا غاصب ٹولہ منتخب عوامی نمائندوں اور خصوصاً بھٹو کو اس کا حق دینے اور اپنے ناجائز اقتدار سے دستبردار ہونے کو تیار نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ کی شان دیکھئے کہ بھٹو کو اقتدار سے دور رکھنے والوں کو نہ صرف انہیں صدر بنانا پڑا بلکہ 'سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر' کا عہدہ بھی دینا پڑا۔ ساتھ ہی وہ وزیرخارجہ ، وزیر داخلہ اور وزیر دفاع بھی تھے۔

بظاہر ذوالفقارعلی بھٹو ، پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کے بعد پاکستان کے طاقتور ترین سویلین حکمران تھے لیکن بھٹو کی کارکردگی لیاقت علی خان سے بدرجہا بہتر رہی ہے۔ بھٹو نے صرف پانچ ماہ کی قلیل مدت میں 21 اپریل 1972ء کو ایک عبوری آئین بنا کر ملک سے مارشل لاء کی لعنت کو ختم کیا۔ 14 اگست 1973ء کو پاکستان کے پہلے متفقہ اور مستقل آئین کی منظوری کے بعد صدارت کا عہدہ چھوڑ کر پارلیمانی جمہوریت کے تحت پہلے منتخب وزیر اعظم بھی بنے۔ پاکستان ایک بہت بڑی فوجی شکست کے بعد معاشی اور سیاسی طور پر تباہ ہو چکا تھا۔ GDP گروتھ 0,47 فیصد تک گر چکی تھی لیکن بھٹو نے کمال حکمت عملی، دانائی اور شب و روز کی محنت سے ایک سال کے اندر ہی میں جی ڈی پی گروتھ 7,06 فیصد تک پہنچا دی تھی۔ قومی اعتماد بحال کیا اور بین الاقوامی ساکھ کو بہتر بنایا۔ بڑی صنعتوں کو قومی تحویل میں لے کر مالی بدعنوانیوں کا سدباب کیا اور مزدوروں کا استحصال ختم کیا۔ پاکستان کو نہ صرف معاشی بحران سے نکالا بلکہ دفاعی طور پر بھی بے حد مضبوط کیا اور ایٹمی پروگرام کی بنیاد بھی رکھی۔ متعددشعبہ جات میں تاریخی اصلاحات کے علاوہ ایک بہت بڑا کارنامہ شملہ معاہدہ تھا جس میں قومی وقار پر حرف آئے بغیر مغربی محاذ پر جنگ میں ہارے ہوئے پانچ ہزار مربع میل سے زائد مقبوضہ علاقوں کی واپسی ممکن ہوئی تھی اور جنگی قیدیوں کی رہائی کے لئے پیش رفت بھی ہوئی تھی۔

ذوالفقار علی بھٹو ، 5 جنوری 1928ء کو لاڑکانہ سندھ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سر شاہ نواز بھٹو مشیر اعلیٰ حکومت بمبئی اور ریاست جوناگڑھ کے وزیر اعظم تھے۔ 1950ء میں برکلے یونیورسٹی کیلیفورنیا سے سیاسیات میں گریجویشن کی۔ 1952ء میں آکسفورڈ یونیورسٹی سے اصول قانون میں ماسٹر کی ڈگری لی۔ اسی سال لندن سے بیرسٹری کا امتحان پاس کیا۔ پہلے ایشیائی تھے جو انگلستان کی ایک یونیورسٹی میں بین الاقوامی قانون کے استاد مقرر ہوئے۔ کچھ عرصہ تک مسلم لاء کالج کراچی میں دستوری قانون کے لیکچرر رہے۔ 1953ء میں سندھ ہائی کورٹ میں وکالت شروع کی۔ 1957ء میں دو بین الاقوامی کانفرنسوں میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ 1958ء سے 1966ء تک جنرل ایوب خان کی فوجی حکومت میں ایک غیر سیاسی اہلکار کے طور پر مختلف وزارتوں پر فائز رہے اور اپنی لاجواب کارکردگی کی بنیاد پر قومی ہیرو بنے۔ 1967ء میں سیاست میں سرگرم ہوئے اور اپنی الگ سیاسی جماعت 'پیپلز پارٹی' بنائی جسے 1970ء کے انتخابات میں مغربی پاکستان کے دو صوبوں ، پنجاب اور سندھ سے بڑی اکثریت حاصل ہوئی اور متحدہ پاکستان میں عوامی لیگ کے بعد دوسری بڑی پارٹی بنی۔ انتخابات کے بعد ایک آئینی بحران پیدا ہوا جس میں اکثریتی پارٹی عوامی لیگ کا لیڈر شیخ مجیب الرحمان اپنی مرضی کا آئین بنانا چاہتا تھا۔ بھٹو ، ایک متفقہ آئین کا حامی تھا لیکن پاکستان کا مختار کل ، صدر جنرل یحییٰ خان اپنی مرضی کا آئین مسلط کرنا چاہتا تھا جس کے مطابق اگلے پانچ سال تک وہ جنرل ضیاع اور جنرل مشرف کی طرح کا مطلق العنان صدر ہو۔ یہی نکتہ فساد کی وجہ تھا کیونکہ اکثریتی پارٹی کا لیڈر شیخ مجیب الرحمان ، فوجی جرنیلوں کو کسی قسم کا کوئی سیاسی کردار دینے کو تیار نہیں تھا۔ اس جرم کی پاداش میں مجیب کو غدار قرار دے کر گرفتار کیا گیا ، ملک کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی ، عوامی لیگ پر پابندی لگائی گئی اور بنگالیوں کے خلاف فوجی آپریشن شروع کردیا گیا تھا۔ اصولاً اسی وقت حکومت بھٹو کے حوالے کر دینی چاہئے تھی لیکن اقتدار کے حریصوں نے ملک تڑوا لیا لیکن وؤٹ کو عزت نہیں دی۔ بالآخر ایک تاریخی شکست کھا کر ہوش آئی اور مجبوراً حقدار کو اس کا حق دینا پڑا تھا۔




Bhutto in Power
(Daily Dawn Karachi, 21 December 1971)

Bhutto took oath as President of Pakistan
(Daily Mashriq Lahore, 21 December 1971)

Zulfiqar Ali Bhutto as President

Monday, 20 December 1971

Zulfikar Ali Bhutto became the first ever elected President in Pakistan..



AP Archive



World history

Pakistan History

تاریخ پاکستان
اردو بنگالی تنازعہ
اردو بنگالی تنازعہ
پاکستان کا مستقل آئین
پاکستان کا مستقل آئین
پارلیمنٹ اور پی ٹی وی حملہ کیس
پارلیمنٹ اور پی ٹی وی حملہ کیس
شیخ رشید احمد
شیخ رشید احمد
سقوط مشرقی پاکستان
سقوط مشرقی پاکستان

Other segments on Pak Magazine

مستقل سلسلے
اخبارات
اخبارات
جغرافیائی تاریخ
جغرافیائی تاریخ
سقوط ڈھاکہ
سقوط ڈھاکہ
قائد اعظمؒ
قائد اعظمؒ
بھٹو شہیدؒ
بھٹو شہیدؒ
آمر مردود
آمر مردود
صدر
صدر
وزیر اعظم
وزیر اعظم
آرمی چیف
آرمی چیف
چیف جسٹس
چیف جسٹس
مغلیہ سلطنت
مغلیہ سلطنت
ڈنمارک
ڈنمارک
اٹلی کا سفر
اٹلی کا سفر
حج بیت اللہ
حج بیت اللہ
سیف الملوک
سیف الملوک
شعر و شاعری
شعر و شاعری
ہیلتھ میگزین
ہیلتھ میگزین
فلم میگزین
فلم میگزین

Pakistan Media

Some useful external links


Some useful history sites

World links

Some useful links

Cricket links

IT links

Urdu poetry links

Pakistan
Pakistan

وکی پیڈیا پر پاکستان کی تاریخ


Pakistan World Rankings

پاکستان کی عالمی درجہ بندی

پاکستان کی معیشت ، سیاست و ریاست اور دیگر اہم موضوعات میں عالمی درجہ بندیوں کی معلومات کو اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے۔ روایتی حریف بھارت اور جڑواں بھائی بنگلہ دیش کی درجہ بندیوں کے علاوہ دنیا کی ایک مثالی جمہوریت ڈنمارک کو بھی موازنے کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ درجہ بندیوں میں چھوٹے اعداد بہترین اور بڑے بدترین ہیں جبکہ تمام رقوم امریکی ڈالروں میں ہیں۔
آبادی (لاکھوں میں)225213726170058
آبادی کی درجہ بندی528113
رقبہ33792130
فی کس آمدن12851877188858439
فی کس آمدن کی درجہ بندی1541391427
ڈالر ریٹ16071846
معیشت کا حجم2233051
زرمبادلہ کے ذخائر (اربوں میں)135844378
زرمبادلہ کے ذخائر کی درجہ بندی7154631
خوشحالی123591073
انسانی ترقی15413313110
تعلیم1281121552
صحت عامہ123591073
فوجی طاقت1044554
دہشت گردی سے متاثر783385
امن و امان کی صورتحال1531411015
مذہبی وابستگی50543145
ایمانداری124861461
جمہوری روایات10553767
پاسپورٹ کی عزت107851015


Pakistan Exchange Rates

Pakistan Rupee Exchange Rate