PAK Magazine
Wednesday, 30 November 2022, Week: 48

Pakistan Chronological History
Annual
Annual
Monthly
Monthly
Weekly
Weekly
Daily
Daily
Alphabetically
Alphabetically


1999
پاکستان میں چوتھا مارشل لاء
پاکستان میں چوتھا مارشل لاء
1947
پاکستان کا قیام
پاکستان کا قیام
2001
جنرل مشرف ، صدر بنا
جنرل مشرف ، صدر بنا
2020
نواز شریف کی تاریخی تقریر
نواز شریف کی تاریخی تقریر
1978
بھٹو اورسپریم کورٹ
بھٹو اورسپریم کورٹ


1972

Shimla Agreement

Sunday, 2 July 1972

The Shimla Agreement was signed between President of Pakistan, Zulfiqar Ali Bhutto and the Indian Prime Minister Indira Gandhi on July 2, 1972 in Shimla, India..

شملہ معاہدہ

اتوار 2 جولائی 1972
Bhutto and Indira Gandhi

جناب ذوالفقار علی بھٹوؒ کے عظیم کارناموں میں سے ایک بہت بڑا کارنامہ شملہ معاہدہ تھا جس میں انہوں نے ایک تاریخ ساز کامیابی حاصل کی تھی اور میدان جنگ میں ہاری ہوئی بازی مذاکرات کی میز پر جیت لی تھی۔۔!

جب ہاری ہوئی بازی جیتی

پاکستان ، میدان جنگ میں بری طرح سے پٹ چکا تھا ، مشرقی پاکستان چھن چکا تھا ، نوے ہزار سے زائد جنگی قیدی تھے اور مغربی پاکستان کا آٹھ نو ہزار مربع کلو میٹر کا علاقہ بھی دشمن کے قبضہ میں تھا۔ پاکستان ، سیاسی طور پر دنیا بھر میں یک و تنہا تھا جبکہ بھارت کو کھلی جارحیت کے باوجود بنگالیوں کا نجات دہندہ سمجھا جار رہا تھا۔ ایسے میں وہ جو چاہتا ، منوا سکتا تھا لیکن مسلمانوں سے ہزار سالہ تاریخ کا بدلہ لینے والی ہندوؤں کی بہادری کی علامت "درگا دیوی" کہلانے والی وزیر اعظم شرمتی اندرا گاندھی کا سامنا فخر پاکستان جناب ذوالفقار علی بھٹوؒ جیسے گوہر نایاب سے تھا۔ تاریخ دان آج بھی حیران ہیں کہ بھٹو نے اندرا گاندھی پر کیا جادو کردیا تھا کہ میدان جنگ میں پاکستان سے ہتھیار ڈلوانے والی اس آہنی عورت نے بھٹو کی سفارتکاری کے آگے ہتھیار ڈال دیے تھے۔۔؟

ذوالفقار علی بھٹوؒ نے قومی مفادادت پر کوئی حرف آئے بغیر ایک با عزت اور باوقار معاہدہ کیا ، مقبوضہ علاقے واپس لے لئے اور جنگی قیدیوں کی رہائی کے لیے پیش رفت کی تھی۔ پاکستانی فوجی افسران پر جنگی جرائم کے تحت مقدمہ بھی نہیں چلنے دیا تھا اور کشمیر پر بھی کسی قسم کی کوئی سودا بازی نہیں کی تھی۔ جمہوری روایات کا کمال تھا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار منتخب قومی اسمبلی سے اس معاہدے کی توثیق بھی کروائی گئی تھی۔۔!

شملہ معاہدہ کے نکات

2 جولائی 1972ء کو بھارت کی وزیراعظم اندرا گاندھی اور پاکستان کے صدر ذوالفقارعلی بھٹوؒ کھے مابین ہونے والے پاک بھارت شملہ معاہدے کے نکات مندرجہ ذیل ہیں:

    بھارت اور پاکستان کی حکومتیں عہد کرتی ہیں کہ دونوں ممالک ان تنازعات اور اختلافات کو ختم کریں گے جو اب تک باہمی تعلقات کو نقصان پہنچاتے رہے ہیں۔ دونوں ممالک دوستانہ مراسم ، باہمی اعتماد کے فروغ اور پائیدار امن کے قیام کے لیے کام کریں گے۔ نیز دونوں ممالک اپنے وسائل اور توانائیاں اپنے عوام کی بہتر فلاح و بہبود کے لیے وقف کریں گے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے دونوں حکومتوں نے مندرجہ ذیل امور پر اتفاق کیا ہے:

    1. اقوام متحدہ کے رہنما اصولوں اور مقاصد کے تحت دونوں ممالک کے درمیان تعلقات استوار ہوں گے۔
    2. دونوں ممالک اپنے باہمی اختلافات کو پرامن طریقے سے دوطرفہ مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے پرعزم ہیں یا کسی دوسرے پرامن طریقے سے جس پر ان کے درمیان باہمی اتفاق ہو۔ دونوں ممالک کے درمیان کسی بھی مسئلے کے حتمی تصفیے تک کوئی بھی فریق یکطرفہ طور پر صورت حال کو تبدیل نہیں کرے گا اور دونوں ممالک ، امن اور ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے لیے نقصان دہ کارروائیوں میں ملوث تنظیموں کی مدد یا حوصلہ افزائی کو روکیں گے۔
    3. مفاہمت ، اچھی ہمسائیگی اور پائیدار امن کے لیے دونوں ممالک ایک دوسرے کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام اور ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کے پرامن بقائے باہمی کا عہد کرتے ہیں۔ نیز بنیادی مسائل اور تنازعات کے اسباب جنہوں نے گزشتہ 25 برسوں سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بگاڑ پیدا کیا ہے ، ان کو پرامن طریقے سے حل کیا جائے گا۔
    4. دونوں ممالک ، ہمیشہ ایک دوسرے کی قومی یکجہتی ، علاقائی سالمیت ، سیاسی آزادی اور خودمختاری کا احترام کریں گے۔
    5. اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ، ایک دوسرے کی علاقائی سالمیت یا آزادی کے خلاف دھمکیوں اور طاقت کے استعمال سے پرہیز کریں گے۔
    6. دونوں حکومتیں ایک دوسرے کے خلاف مخالفانہ پروپیگنڈے کو روکنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں گی۔ دونوں ممالک ایسی معلومات کی ترسیل کی حوصلہ افزائی کریں گے جس سے ان کے درمیان دوستانہ تعلقات کو فروغ ملے گا۔
    دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بحالی کے لیے اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ:
    1. مواصلات ، ڈاک ، ٹیلی گرافک ، سرحدی چوکیوں سمیت ، سمندری ، زمینی اور فضائی رابطوں کو بحال کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
    2. دونوں ممالک کے شہریوں کے لیے سفری سہولیات کو فروغ دینے کے لیے مناسب اقدامات کیے جائیں گے۔
    3. جہاں تک ممکن ہو سکے اقتصادی اور تجارتی تعاون کو دوبارہ شروع کیا جائے گا۔
    4. سائنس اور ثقافت کے شعبوں میں بھی تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔
    5. اس سلسلے میں دونوں ممالک کے وفود گاہے بگاہے ملاقات کر کے ضروری تفصیلات طے کریں گے۔

    پائیدار امن کے قیام کے عمل کو شروع کرنے کے لیے دونوں حکومتیں متفق ہیں کہ:

    1. بھارتی اور پاکستانی افواج کو مقبوضہ علاقوں سے واپس بین الاقوامی سرحدوں پر بلا لیا جائے گا۔
    2. جموں اور کشمیر میں 17 دسمبر 1971 کی جنگ بندی کے نتیجے میں لائن آف کنٹرول کا بلا تعصب احترام کیا جائے گا۔ کوئی بھی فریق باہمی اختلافات اور قانونی تشریحات سے قطع نظر یکطرفہ طور پر اسے تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔ فریقین ، اس لائن کی خلاف ورزی میں دھمکی یا طاقت کے استعمال سے باز رہنے کا عہد کرتے ہیں۔
    3. مقبوضہ علاقوں سے فوجوں کی واپسی اس معاہدے کے نافذ العمل ہونے کے 30 دنوں کے اندر مکمل ہو جائے گی۔
    4. یہ معاہدہ دونوں ممالک کی طرف سے متعلقہ آئینی طریقہ کار کے مطابق توثیق سے مشروط ہو گا اور اس تاریخ سے نافذ العمل ہو گا جس تاریخ کو توثیق کے کاغذات کا تبادلہ ہو گا۔
    5. دونوں حکومتیں اس بات پر متفق ہیں کہ ان کے متعلقہ سربراہان مستقبل میں باہمی طور پر مناسب وقت پر دوبارہ ملاقات کریں گے اور اس دوران فریقین کے نمائندے مل کر پائیدار امن کے قیام اور تعلقات کو معمول پر لانے کے طریقوں اور انتظامات ، جنگی قیدیوں اور سویلین قیدیوں کی وطن واپسی ، جموں و کشمیر کا حتمی حل اور سفارتی تعلقات کی بحالی پر مزید بات چیت کریں گے۔




Shimla Agreement 1972
(Daily Jang Karachi 30 June 1972)

Shimla Agreement 1972
(Daily Jang Karachi 1 July 1972)

Shimla Agreement 1972
(Daily Jang Karachi 1 July 1972)

Shimla Agreement 1972
(Daily Jang Karachi 4 July 1972)

Shimla Agreement 1972
(Daily Jang Karachi 5 July 1972)


Shimla Agreement (video)

Credit: AP Archive

Credit: AP Archive


1971
جنرل یحییٰ اور ہوس اقتدار
جنرل یحییٰ اور ہوس اقتدار
1998
محمد رفیق تارڑ
محمد رفیق تارڑ
1933
چوہدری رحمت علی کا پاکستان
چوہدری رحمت علی کا پاکستان
1906
آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام
آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام
2022
جمہوری انڈیکس 2021
جمہوری انڈیکس 2021

تاریخ پاکستان

پاک میگزین ، پاکستانی تاریخ پر اردو میں ایک منفرد ویب سائٹ ہے جس پر اہم تاریخی واقعات کو بتاریخ سالانہ ، ماہانہ ، ہفتہ وارانہ ، روزانہ اور حروفانہ ترتیب سے چند کلکس کے نیچے پیش کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں اہم ترین واقعات اور شخصیات پر تاریخی اور مستند معلومات پر مخصوص صفحات ترتیب دیے گئے ہیں جہاں تصویر و تحریر ، ویڈیو اور دیگر متعلقہ مواد کی صورت میں محفوظ کیا گیا ہے۔ یہ سلسلہ ایک انفرادی کاوش اور فارغ اوقات کا بہترین مشغلہ ہے جو اپنی تکمیل تک جاری و ساری رہے گا ، ان شاء اللہ۔۔!



تاریخ پاکستان ، اہم موضوعات
تحریک پاکستان
تحریک پاکستان
جغرافیائی تاریخ
جغرافیائی تاریخ
سقوط ڈھاکہ
سقوط ڈھاکہ
شہ سرخیاں
شہ سرخیاں
سیاسی ڈائری
سیاسی ڈائری
قائد اعظمؒ
قائد اعظمؒ
ذوالفقار علی بھٹوؒ
ذوالفقار علی بھٹوؒ
بے نظیر بھٹو
بے نظیر بھٹو
نواز شریف
نواز شریف
عمران خان
عمران خان
سکندرمرزا
سکندرمرزا
جنرل ایوب
جنرل ایوب
جنرل یحییٰ
جنرل یحییٰ
جنرل ضیاع
جنرل ضیاع
جنرل مشرف
جنرل مشرف
صدر
صدر
وزیر اعظم
وزیر اعظم
آرمی چیف
آرمی چیف
چیف جسٹس
چیف جسٹس
انتخابات
انتخابات
امریکی امداد
امریکی امداد
مغلیہ سلطنت
مغلیہ سلطنت
ڈنمارک
ڈنمارک
اٹلی کا سفر
اٹلی کا سفر
حج بیت اللہ
حج بیت اللہ
سیف الملوک
سیف الملوک
شعر و شاعری
شعر و شاعری
ہیلتھ میگزین
ہیلتھ میگزین
فلم میگزین
فلم میگزین
میڈیا لنکس
میڈیا لنکس

پاکستان کے بارے میں اہم معلومات

Pakistan

چند اہم بیرونی لنکس


پاکستان کی فلمی تاریخ

پاکستانی فلموں ، فنکاروں اور فلمی گیتوں پر ایک منفرد اور معلوماتی سلسلہ

مہدی حسن
مہدی حسن
شوکت حسین رضوی
شوکت حسین رضوی
احتشام ، مستفیض
احتشام ، مستفیض
نبیلہ
نبیلہ
نسیم بیگم
نسیم بیگم


PAK Magazine is an individual effort to compile and preserve the Pakistan's political, film and media history.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes, and therefor, I am not responsible for the content of any external site.