PAK Magazine
Friday, 28 January 2022, Week: 04

Pakistan Chronological History

سالانہ | ماہانہ | ہفتہ وارانہ | روزانہ | حروفانہ | اہم ترین | تحریک پاکستان | ذاتی ڈائریاں

Pakistan Chronological History
1949

The Objectives Resolution

Saturday, 12 March 1949

The Objectives Resolution was adopted by the Constituent Assembly of Pakistan on March 12, 1949. It was drafted by Alama Shabbir Ahmad Usmani..


قرار داد مقاصد

ہفتہ 12 مارچ 1949
قرارداد مقاصد 1949

پاکستان کے پہلے وزیر اعظم نوابزادہ لیاقت علی خان ، اپنے چار سالہ دور حکومت میں ملک کو کوئی آئین یا دستور تو نہ دے سکے تھے لیکن ایک متنازعہ "قرارداد مقاصد" ضرور دی تھی جو دستور ساز اسمبلی نے 12 مارچ 1949ء کو منظور کی تھی اور جس کا مسودہ علامہ شبیر احمد عثمانی نے تیار کیا تھا۔۔!

قرارداد مقاصد کے اہم نکات

  1. حاکمیت صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۔ حکومت پاکستان ، اس مقدس امانت کو عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال کرے گی اور اسلام کے سنہری جمہوری اصولوں پر عمل کرے گی۔
  2. پاکستان کا نظام حکومت وفاقی اور طرز حکمرانی شورائی ہو گا۔ صوبوں کو خود مختاری حاصل ہو گی۔
  3. عدلیہ آزاد اور انتظامیہ سے الگ ہو گی اور نظام عدل مکمل طور پر محفوظ ہو گا۔
  4. اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کے جائز حقوق ، مذہبی اور ثقافتی آزادی کا پورا تحفظ کیا جائے گا۔
  5. بنیادی حقوق اور اظہار خیال کی آزادی ہو گی۔ وفاقی علاقوں کی حاکمیت ، آزادی کے علاوہ بری ، بحری اور فضائی حدود کا تحفظ کیا جا ئے گا۔ اہل ِپاکستان کی فلاح وبہبود اور ترقی و خوشحالی کے مواقع فراہم کئے جائیں گے تاکہ وہ اقوام عالم کی صف میں اپنا جائز مقام حاصل کرسکیں اور امن عالم کے قیام اور بنی نوع انسان کی ترقی میں اپنا بھر پور کردار ادا کر سکیں۔

قرارداد مقاصد کی مخالفت

اس وقت متحدہ پاکستان کی پندرہ فیصد آبادی غیر مسلم تھی جس نے اس قرارداد کی سخت الفاظ میں مذمت کی تھی کیونکہ پاکستان کے شہریوں کو مسلمانوں اور اقلیتوں میں تقسیم کر کے مذہبی تعصب کی بنیاد رکھ دی گئی تھی۔ ناقدین کے خیال میں یہ کام ریاست کا نہیں کہ وہ شہریوں کے دین و ایمان پر پہرہ دے ، عقیدہ ہر شخص کا ذاتی فعل ہے۔ اس قرارداد کی وجہ سے قائد اعظمؒ کے نامزد کردہ پاکستان کے پہلے وزیر قانون جوگندر ناتھ منڈل اتنے بددل ہوئے تھے کہ ملک ہی چھوڑ کر چلے گئے تھے۔

قرارداد مقاصد اور آئین

قرارداد مقاصد ، آئین کا ابتدائی خاکہ تو ہو سکتی تھی نعم البدل نہیں۔ یہ محض زبانی جمع خرچ تھا جو نااہلی ، بدنیتی اور دستور سازی میں غفلت کی ایک بدترین مثال تھی۔ اگر اس وقت آئین بن جاتا تو شاید آج ہماری تاریخ مختلف ہوتی لیکن دستور سازی میں مشکلات کی بڑی وجہ اسمبلی میں بنگالی اراکین کی اکثریت تھی جن کی موجودگی میں جمہوری طریقے سے پاکستان کی اشرافیہ اپنی مرضی کا دستور مسلط نہیں کر سکتی تھی ، اسی لئے یہ مذہبی کارڈ کھیل کر بنگالیوں کو بے بس کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔

یاد رہے کہ قیام پاکستان سے قبل 1945/46ء کے انتخابات کے نتیجے میں وجود آنے والی اس نیم منتخب اور انتہائی نااہل اسمبلی کو سات سال بعد 1955ء میں گورنر جنرل ملک غلام محمد نے ایک آمرانہ حکم سے توڑ دیا تھا۔ ون یونٹ کی بنیاد پر ایک نئی "جی حضور" قسم کی اسمبلی وجود میں آئی تھی جس نے مقتدر حلقوں کی خواہش پر 1956ء کا متنازعہ آئین منظور کرلیا تھا۔ اس آئین میں پہلی بار پاکستان کو "اسلامی جمہوریہ پاکستان" کا نام دیا گیا تھا لیکن مشرقی پاکستان کے نمائندوں نے اس آئین کا بائیکاٹ کیا تھا۔

جنرل ضیاع مردود نے بھی قرارداد مقاصد کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کیا تھا لیکن اس کی ایک بھی شق پر عمل نہیں کیا تھا بلکہ مذہبی انتہاپسندی کو ہوا دے کر پاکستان کو دنیا بھر میں تماشا بنا دیا تھا۔









تاریخ پاکستان

پاک میگزین ، پاکستانی تاریخ پر اردو میں ایک منفرد ویب سائٹ ہے جس پر سال بہ سال اہم تاریخی واقعات چند کلکس کے نیچے ہیں۔ ہر واقعہ پر ایک صفحہ ترتیب دیا گیا ہے جہاں تمام تر معلومات کو تصویر و تحریر ، ویڈیو اور دیگر متعلقہ مواد کی صورت میں محفوظ کیا گیا ہے۔ یہ سلسلہ ایک انفرادی کاوش اور فارغ اوقات کا بہترین مشغلہ ہے جو اپنی تکمیل تک جاری و ساری رہے گا ، ان شاء اللہ۔۔!


World history

تاریخ پاکستان

تازہ ترین


پاکستان کے بارے میں اہم معلومات

Pakistan

پاک میگزین کے دیگر سلسلے

جغرافیائی تاریخ
جغرافیائی تاریخ
سقوط ڈھاکہ
سقوط ڈھاکہ
قائد اعظمؒ
قائد اعظمؒ
بھٹو شہیدؒ
بھٹو شہیدؒ
آمر مردود
آمر مردود
صدر
صدر
وزیر اعظم
وزیر اعظم
آرمی چیف
آرمی چیف
چیف جسٹس
چیف جسٹس
مغلیہ سلطنت
مغلیہ سلطنت
ڈنمارک
ڈنمارک
اٹلی کا سفر
اٹلی کا سفر
حج بیت اللہ
حج بیت اللہ
سیف الملوک
سیف الملوک
شعر و شاعری
شعر و شاعری
ہیلتھ میگزین
ہیلتھ میگزین
فلم میگزین
فلم میگزین
میڈیا لنکس
میڈیا لنکس

چند اہم بیرونی لنکس