PAK Magazine
Monday, 06 December 2021, Week: 49

Pakistan Chronological History

سالانہ | ماہانہ | ہفتہ وارانہ | روزانہ | حروفانہ | اہم ترین | تحریک پاکستان | ذاتی ڈائریاں

Pakistan Chronological History
2020

احمد رضا قصوری

جمعرات 2 جولائی 2020
Ahmad Raza Kasuri
احمدرضا قصوری ، 1970ء کے پہلے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ فروری 1971ء میں آئینی بحران پیدا ہوا جس کہ وجہ یہ تھی کہ ایک طرف فوجی حکمران اپنی مرضی کا آئین چاہتے تھے اور دوسری طرف بھٹو تمام صوبوں کے لئے ایک قابل قبول آئین کے حامی تھے۔ لیکن اکثریتی پارٹی کا لیڈر شیخ مجیب الرحمان ، صرف اپنی مرضی کا آئین مسلط کرنا چاہتا تھا جس میں وہ دوسری کسی سیاسی پارٹی یا فرد سے مشورہ تک کرنا پسند نہیں کرتا تھا۔ ایسے میں پیپلز پارٹی نے 3 مارچ 1971ء کو ڈھاکہ میں ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا تھا جس میں مغربی پاکستان کی نو میں سے چار منتخب سیاسی جماعتیں شامل تھیں۔

احمد رضا قصوری ، اپنی پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے طور پر اسمبلی کے مجوزہ اجلاس میں شرکت کے لئے ڈھاکہ چلے گئے تھے۔ واپسی پر ان سے باز پرس کی گئی تھی اور ڈسپلن کی خلاف ورزی پر انہیں پارٹی سے نکالنے کا اعلان کر دیا گیا تھا۔ موصوف نے دوسرے ہی دن پریس کانفرنس کر کے چیئرمین بھٹو کو پیپلز پارٹی سے نکال دیا تھا جس پر ان کی ذہنی حالت کا اندازہ لگایا جا سکتا تھا۔

6 جون 1971ء کو قصوری صاحب کو باضابطہ طور پر پیپلز پارٹی سے نکال دیا گیا تھا۔۔!

ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ قصوری صاحب ، اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے کر اپنے طور پر ضمنی انتخابات میں منتخب ہو کر آتے لیکن اتنی اخلاقی جرات کہاں تھی۔ وہ ، پیپلز پارٹی کے بھگوڑے تھے لیکن ائرمارشل اصغرخان کی سیاسی پارٹی تحریک استقلال میں شامل ہو کر قومی اسمبلی کے رکن کے طور پر بھٹو کے زبردست ناقدین میں شمار ہوتے تھے اور بڑی توہین آمیز اور اشتعال انگیز تقاریر کیا کرتے تھے۔ بغض اور عداوت کا یہ عالم تھا کہ جب 10 اپریل 1973ء کو پاکستان کا پہلا متفقہ آئین منظور ہوا تو قصوری صاحب ان تین اراکین میں سے ایک تھے جنہوں نے اپنے وؤٹ کا حق استعمال نہیں کیا تھا۔ اس کے باوجود بددیانتی کا یہ عالم ہے کہ موصوف خود کو آئین کا فاؤنڈنگ فادر ثابت کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔۔!

11 نومبر 1974ء کو قصوری صاحب کے والد نواب احمد خان قصوری ایک قاتلانہ حملہ میں ہلاک ہوئے تو موصوف نے لاہور کے اچھرہ تھانہ میں قتل کی ایف آئی آر وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف درج کروا دی تھی جو پاکستان کی تاریخ کا ایک منفرد واقعہ ہے۔ 26 فروری 1975ء کو اس مقدمہ کی کاروائی کی رپورٹ جاری کی گئی تھی جس میں عدم ثبوت کی بنیاد پر یہ مقدمہ داخل دفتر کر دیا گیا تھا۔ 5 جولائی 1977ء کو بھٹو کا تختہ الٹنے کے بعد جب اسے "مقام عبرت" بنانے کا عمل شروع ہوا تھا تو اسی مقدمہ میں اسے پھانسی دی گئی تھی حالانکہ ثبوت کوئی نہیں تھا اور تمام تر انحصار وعدہ معاف گواہوں پر تھا جو خود ایک انتہائی مشکوک عمل ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ پانچ میں سے چار وعدہ معاف گواہوں کو بھی احتیاطاَ پھانسی دے دی گئی تھی تاکہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔ پانچواں اور بڑا وعدہ معاف گواہ مسعودمحمود تب سے اب تک لاپتہ ہے۔ بقول سابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جناب جسٹس جاوید اقبال (مرحوم) کے ، اس مقدمہ میں بھٹو کی پھانسی کی سزا بنتی ہی نہیں تھی اور ایسے مقدمہ میں پھانسی پانے والے وہ واحد شخص ہیں۔ اس حقیقت کا اعتراف خود قصوری صاحب بھی کرتے ہیں۔

احمد رضا قصوری کتنے باضمیر شخص ہیں ، اس کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے کہ دوبارہ ممبر اسمبلی منتخب ہونے کی ہوس میں وہ بڑی تگ و دو اور منت سماجت کے بعد بیگم نصرت بھٹو کی سفارش پر 7 اپریل 1976ء کو ایک بار پھر پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے تھے۔ گویا انہوں نے ایک ایسے شخص کو ایک بار پھر اپنا قائد تسلیم کرلیا تھا جو مبینہ طور پر ان کے باپ کا قاتل تھا۔ یکم جنوری 1977ء کو انہوں نے بھٹو کی خوشامد اور چاپلوسی پر مبنی تقریر کی تھی لیکن بھٹو صاحب نے انہیں درخوراعتنا نہیں سمجھا اور پارٹی ٹکٹ نہیں دیا تھا جس پر وہ پھر ان کے دشمن بن گئے تھے۔

احمد رضا قصوری ، سابق فوجی آمر جنرل مشرف کی ٹانگہ پارٹی میں بھی شامل تھے اور وہاں سے بھی نکال دیئے گئے تھے۔ وہ ، ڈکٹیٹر کے غداری کے مقدمہ میں وکیل تھے اور بیماری کے بہانے اسے ملک سے فرار کرانے میں بھی انہوں نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ جب ان سے پوچھا گیا تھا کہ بھگوڑا اور غدار آمر وطن واپس کب آئے گا تو موصوف کا بڑا طنزیہ جواب تھا کہ "جب کشمیر آزاد ہوگا۔۔!"

احمد رضا قصوری ، اپنی بدکلامی اور تند مزاجی کی وجہ سے اکثر ٹی وی ٹاک شوز میں خاصے بے عزت ہوتے رہے ہیں۔ ایک بار ان کا منہ بھی کالا کیا گیا تھا۔ اپنی غیر سنجیدہ حرکتوں اور بے سروپا باتوں کی وجہ سے انہیں کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا گیا اور نہ ہی پاکستان کی تاریخ یا سیاست میں ان کی کبھی کوئی اہمیت یا حیثیت رہی ہے۔ قصوری صاحب کا جب بھی کبھی اور کہیں ذکر ہوگا تو صرف "بھٹو کے قاتل" کے طور پر ہی ہوگا۔۔!




Ahmad Raza Kasuri

Thursday, 2 July 2020

An interview of Ahmad Raza Kasuri..



Ijaz Ul Haq Official



World history

Latest News & Media

Pakistan History

تاریخ پاکستان
آمر کا آئین
آمر کا آئین
راشد منہاس شہید
راشد منہاس شہید
پاکستان کا پہلا صدارتی الیکشن
پاکستان کا پہلا صدارتی الیکشن
وزیر اعظم حسین شہید سہروردی برطرف
وزیر اعظم حسین شہید سہروردی برطرف
محمد علی بوگرا فارمولا
محمد علی بوگرا فارمولا

Other segments on PAK Magazine

مستقل سلسلے
اخبارات
اخبارات
جغرافیائی تاریخ
جغرافیائی تاریخ
سقوط ڈھاکہ
سقوط ڈھاکہ
قائد اعظمؒ
قائد اعظمؒ
بھٹو شہیدؒ
بھٹو شہیدؒ
آمر مردود
آمر مردود
صدر
صدر
وزیر اعظم
وزیر اعظم
آرمی چیف
آرمی چیف
چیف جسٹس
چیف جسٹس
مغلیہ سلطنت
مغلیہ سلطنت
ڈنمارک
ڈنمارک
اٹلی کا سفر
اٹلی کا سفر
حج بیت اللہ
حج بیت اللہ
سیف الملوک
سیف الملوک
شعر و شاعری
شعر و شاعری
ہیلتھ میگزین
ہیلتھ میگزین
فلم میگزین
فلم میگزین

Some useful external links


Some useful history sites

World links

Some useful links

Cricket links

IT links

Urdu poetry links

Pakistan
Pakistan

وکی پیڈیا پر پاکستان کی تاریخ


Pakistan World Rankings

پاکستان کی عالمی درجہ بندی

پاکستان کی معیشت ، سیاست و ریاست اور دیگر اہم موضوعات میں عالمی درجہ بندیوں کی معلومات کو اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے۔ روایتی حریف بھارت اور جڑواں بھائی بنگلہ دیش کی درجہ بندیوں کے علاوہ دنیا کی ایک مثالی جمہوریت ڈنمارک کو بھی موازنے کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ درجہ بندیوں میں چھوٹے اعداد بہترین اور بڑے بدترین ہیں جبکہ تمام رقوم امریکی ڈالروں میں ہیں۔
آبادی (لاکھوں میں)225213726170058
آبادی کی درجہ بندی528113
رقبہ33792130
فی کس آمدن12851877188858439
فی کس آمدن کی درجہ بندی1541391427
ڈالر ریٹ16071846
معیشت کا حجم2233051
زرمبادلہ کے ذخائر (اربوں میں)135844378
زرمبادلہ کے ذخائر کی درجہ بندی7154631
خوشحالی123591073
انسانی ترقی15413313110
تعلیم1281121552
صحت عامہ123591073
فوجی طاقت1044554
دہشت گردی سے متاثر783385
امن و امان کی صورتحال1531411015
مذہبی وابستگی50543145
ایمانداری124861461
جمہوری روایات10553767
پاسپورٹ کی عزت107851015


Pakistan Exchange Rates

Pakistan Rupee Exchange Rate