PAK Magazine | An Urdu website on the Pakistan history
Saturday, 18 May 2024, Day: 139, Week: 20

PAK Magazine |  پاک میگزین پر تاریخِ پاکستان ، ایک منفرد انداز میں


پاک میگزین پر تاریخِ پاکستان

Annual
Monthly
Weekly
Daily
Alphabetically

جمعرات 23 دسمبر 1971

میاں محمود علی قصوری

میاں محمود علی قصوری
میاں محمود علی قصوری

میاں محمود علی قصوری ، 1972ء کے عبوری آئین کے خالق تھے۔۔!

20 دسمبر 1971ء کو جب ذوالفقار علی بھٹوؒ کو حکومت ملی تو پاکستان میں کوئی آئین نہیں تھا۔ ملک پر مارشل لاء مسلط تھا۔ بھٹو صاحب کی ہدایت پر صرف پانچ ماہ میں میاں محمود علی قصوری کی سربراہی میں ایک عبوری آئین بنا جس سے مارشل لاء کی لعنت کو ختم کیا گیا تھا۔

محمود قصوری کا تعارف

میاں محمودعلی قصوری ، 31 اکتوبر 1910ء کو قصور میں پیدا ہوئے۔ پونا ، بمبئی ، لاہور اور لندن سے تعلیم حاصل کی۔ 1935ء میں لاء کالج میں درس و تدریس اور وکالت کے شعبے سے وابستہ ہوئے۔ اس دوران انہوں نے آل انڈیا مسلم لیگ سے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کیا۔ قیام پاکستان کے بعد انھوں نے مسلم لیگ کے باغی گروپ میاں افتخار الدین اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ "آزاد پاکستان پارٹی" کے قیام میں فعال حصہ لیا۔ یہ پارٹی 1955ء میں ولی خان کی نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) میں ضم ہو گئی تھی۔

محمود قصوری کے بھٹو سے اختلافات

1970ء میں میاں محمود علی قصوری ، پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے اور لاہور سے بھٹو صاحب کی خالی کردہ نشست پر ضمنی انتخابات جیت کر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 23 دسمبر 1971ء کو بھٹو حکومت میں وزیر برائے قانون اور پارلیمانی امور کے منصب پر فائز ہوئے۔ اس عہدے پر کام کرتے ہوئے ان کا سب سے بڑا کارنامہ عبوری آئین کی تیاری اور نفاذ تھا۔

پاکستان کے مستقل آئین (1973) کی تیاری میں اختلافات کی بنا پر 4 اکتوبر 1972ء کو اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے۔ 7 جون 1973ء کو ائرمارشل اصغر خان کی تحریک استقلال میں شمولیت اختیار کی اور پھر تاحیات اسی پارٹی کے ممبر رہے۔ اس طرح سے احمد رضا قصوری کی طرح محمود علی قصوری بھی جیتے تو پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر تھے لیکن شامل اصغر خان کی پارٹی میں ہوئے جو بھٹو کے بہت بڑے سیاسی رقیب تھے اور انھیں کوہالہ پل پر پھانسی دینے کے بیانات دیا کرتے تھے اور 1977ء میں مارشل لاء لگوانے کا مرکزی کردار بھی تھے۔

13 اپریل 1987ء کو میاں محمود علی قصوری کا قصور میں انتقال ہوا۔ وہ سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کے والد گرامی تھے۔






Mehmood Ali Qasoori

Thursday, 23 December 1971

Mehmood Ali Qasoor was Law Minister in Bhutto cabinet on December 23, 1971. He played a key role in the formation of Pakistan's first constitution in 1973..


Mehmood Ali Qasoori (video)

Credit: AP Archive



پاکستان کی تاریخ پر ایک منفرد ویب سائٹ

پاک میگزین ، پاکستان کی سیاسی تاریخ پر ایک منفرد ویب سائٹ ہے جس پر سال بسال اہم ترین تاریخی واقعات کے علاوہ اہم شخصیات پر تاریخی اور مستند معلومات پر مبنی مخصوص صفحات بھی ترتیب دیے گئے ہیں جہاں تحریروتصویر ، گرافک ، نقشہ جات ، ویڈیو ، اعدادوشمار اور دیگر متعلقہ مواد کی صورت میں حقائق کو محفوظ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

2017ء میں شروع ہونے والا یہ عظیم الشان سلسلہ، اپنی تکمیل تک جاری و ساری رہے گا، ان شاءاللہ



پاکستان کے اہم تاریخی موضوعات



تاریخِ پاکستان کی اہم ترین شخصیات



تاریخِ پاکستان کے اہم ترین سنگِ میل



پاکستان کی اہم معلومات

Pakistan

چند مفید بیرونی لنکس



پاکستان فلم میگزین

پاک میگزین" کے سب ڈومین کے طور پر "پاکستان فلم میگزین"، پاکستانی فلمی تاریخ، فلموں، فنکاروں اور فلمی گیتوں پر انٹرنیٹ کی تاریخ کی پہلی اور سب سے بڑی ویب سائٹ ہے جو 3 مئی 2000ء سے مسلسل اپ ڈیٹ ہورہی ہے۔


پاکستانی فلموں کے 75 سال …… فلمی ٹائم لائن …… اداکاروں کی ٹائم لائن …… گیتوں کی ٹائم لائن …… پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد …… پاکستان کی پہلی پنجابی فلم پھیرے …… پاکستان کی فلمی زبانیں …… تاریخی فلمیں …… لوک فلمیں …… عید کی فلمیں …… جوبلی فلمیں …… پاکستان کے فلم سٹوڈیوز …… سینما گھر …… فلمی ایوارڈز …… بھٹو اور پاکستانی فلمیں …… لاہور کی فلمی تاریخ …… پنجابی فلموں کی تاریخ …… برصغیر کی پہلی پنجابی فلم …… فنکاروں کی تقسیم ……

پاک میگزین کی پرانی ویب سائٹس

"پاک میگزین" پر گزشتہ پچیس برسوں میں مختلف موضوعات پر مستقل اہمیت کی حامل متعدد معلوماتی ویب سائٹس بنائی گئیں جو موبائل سکرین پر پڑھنا مشکل ہے لیکن انھیں موبائل ورژن پر منتقل کرنا بھی آسان نہیں، اس لیے انھیں ڈیسک ٹاپ ورژن کی صورت ہی میں محفوظ کیا گیا ہے۔

پاک میگزین کا تعارف

"پاک میگزین" کا آغاز 1999ء میں ہوا جس کا بنیادی مقصد پاکستان کے بارے میں اہم معلومات اور تاریخی حقائق کو آن لائن محفوظ کرنا ہے۔

Old site mazhar.dk

یہ تاریخ ساز ویب سائٹ، ایک انفرادی کاوش ہے جو 2002ء سے mazhar.dk کی صورت میں مختلف موضوعات پر معلومات کا ایک گلدستہ ثابت ہوئی تھی۔

اس دوران، 2011ء میں میڈیا کے لیے akhbarat.com اور 2016ء میں فلم کے لیے pakfilms.net کی الگ الگ ویب سائٹس بھی بنائی گئیں لیکن 23 مارچ 2017ء کو انھیں موجودہ اور مستقل ڈومین pakmag.net میں ضم کیا گیا جس نے "پاک میگزین" کی شکل اختیار کر لی تھی۔

سالِ رواں یعنی 2024ء کا سال، "پاک میگزین" کی مسلسل آن لائن اشاعت کا 25واں سلور جوبلی سال ہے۔




PAK Magazine is an individual effort to compile and preserve the Pakistan history online.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes and therefor, I am not responsible for the content of any external site.