پاک میگزین پر تاریخِ پاکستان
منگل 5 جولائی 1977
بھٹو کی اقتصادی کارکردگی

بھٹو دورِ حکومت میں
پاکستان کی جی ڈی پی
0,47 سے 7,06 تک جا پہنچی تھی!
بھٹو دورحکومت میں پاکستان کی GDP بھارت سے بہتر ہوتی تھی۔۔!
ذوالفقار علی بھٹوؒ نے جن نامساعد حالات میں حکومت سنبھالی تھی ، پاکستان کی تاریخ میں اس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ 1971ء کی جنگ کی وجہ سے پاکستان معاشی اور دفاعی طور پر تباہ حال اور سیاسی طور پر یک و تنہا تھا۔ ملک کے وسائل بھی آدھے رہ گئے تھے۔ اس کے باوجود دفاعی اخراجات میں کمی نہیں بلکہ اضافہ ہی کیا تھا اور ملک کو ایک مضبوط فوجی طاقت بنانے کے علاوہ ایٹمی طاقت بھی بنا دیا تھا۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں تھی۔
بھٹو کے دور کی جی ڈی پیجب بھٹو کو حکومت ملی تو پاکستان کی اقتصادی ترقی کی شرح نمو ، تاریخ کی کم ترین سطح 0,47 فیصد پر تھی۔ بھٹو صاحب نے صرف ایک سال کی محنت و مشقت کے بعد پاکستان کی سالانہ جی ڈی پی 7,06 فیصد تک پہنچا دی تھی۔ ان کے پانچ سالہ دور حکومت میں جی ڈی پی کی اوسط شرح 4,12 فیصد رہی تھی جو اس وقت برصغیر میں سب سے بہترین تھی۔
امریکی مدد کے بغیریہ عظیم کارنامہ اس خوددار اور غیور لیڈر نے امریکی فوجی اور اقتصادی امداد کے بغیر اور ملکی معیشت آدھی رہ جانے کے باوجود انجام دیا تھا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ امریکی امداد ، پاکستان کے لئے حرام کی وہ کمائی رہی ہے کہ جس میں کبھی برکت نہیں رہی اور اسی لعنت نے ہمیں ہمیشہ کاسہ گدائی اٹھانے کا عادی بنایا ہے۔ اب دیکھیں ، کرونا کے بحران کے بعد ہمارا کیا حشر ہوتا ہے۔۔؟

Pakistan GDP under Bhutto-Government 1972-77
Tuesday, 5 July 1977
Some facts about Pakistan's economy from the Bhutto-Era 1972-77..
پاک میگزین، ایک منفرد ویب سائٹ
پاک میگزین پر پاکستان کے سال بسال اہم ترین تاریخی اور سیاسی واقعات کے علاوہ پاکستانی زبانوں کا ڈیٹا بیس، حروفِ تہجی کی تاریخ اور پاکستان کی فلمی تاریخ پر نایاب معلومات دستیاب ہیں۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ
-
27-01-1961: وارسک ڈیم
16-12-2014: سکول بچوں کےخلاف دہشت گردی
07-11-1981: جسٹس انوارالحق کے لیے شرمندگی
پاکستان کے اہم تاریخی موضوعات
تاریخِ پاکستان کی اہم ترین شخصیات
تاریخِ پاکستان کے اہم ترین سنگِ میل
پاکستان کی اہم معلومات
چند مفید بیرونی لنکس
پاک میگزین کی پرانی ویب سائٹس
"پاک میگزین" پر گزشتہ پچیس برسوں میں مختلف موضوعات پر مستقل اہمیت کی حامل متعدد معلوماتی ویب سائٹس بنائی گئیں جو موبائل سکرین پر پڑھنا مشکل ہے لیکن انھیں موبائل ورژن پر منتقل کرنا بھی آسان نہیں، اس لیے انھیں ڈیسک ٹاپ ورژن کی صورت ہی میں محفوظ کیا گیا ہے۔









