PAK Magazine
Monday, 29 November 2021, Week: 48

Pakistan Chronological History

سالانہ | ماہانہ | ہفتہ وارانہ | روزانہ | حروفانہ | اہم ترین | تحریک پاکستان | ذاتی ڈائریاں

Pakistan Chronological History
1974

بھٹو کا بنگلہ دیش کو تسلیم کرنا

جمعہ 22 فروری 1974
پاکستان نے 22 فروری 1974ء کو بنگلہ دیش کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کیا تھا لیکن 10 اپریل 1973ء کو منظور ہونے والے متفقہ آئین کے مطابق بنگلہ دیش ، مشرقی پاکستان کی صورت میں پاکستان کا ایک مستقل حصہ تھا۔ ایسے میں بنگلہ دیش کو ایک الگ ریاست کے طور پر تسلیم کرنا آئین شکنی تھی۔ دوسری طرف 1971ء کی جنگ میں ذلت آمیز شکست کے بعد بنگلہ دیش ایک آزاد ملک کے طور پر دنیا کے نقشہ پر موجود تھا جسے بیشتر ممالک تسلیم کر چکے تھے ، صرف پاکستان اور اس کے چند قریبی حلیف ممالک نے تسلیم نہیں کیا تھا۔ معاہدہ شملہ (1972) میں جہاں بھارت ، پاکستان سے کشمیر پر کوئی مستقل سمجھوتہ چاہتا تھا ، وہاں بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے کی شرط پر نوے ہزار جنگی قیدیوں کو رہا کرنا چاہتا تھا لیکن بھٹو صاحب نے جہاں اپنے مقبوضہ علاقے واپس لے لئے تھے اور کشمیر کو ایک متنازعہ علاقہ بھی تسلیم کروا لیا تھا ، وہاں بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے کی شرط پر جنگی قیدیوں کی رہائی پر راضی نہیں تھے۔ بنگلہ دیش ایک حققیت بن چکا تھا جسے جلد یا بدیر تسلیم کرنا تھا لیکن آئینی رکاوٹ کے علاوہ اندرون ملک کئی ایک پریشر گروپس بھی تھے جو "بنگلہ دیش نامنظور" کی تحریک چلا رہے تھے۔ ایسے میں بھٹو صاحب نے جس طرح اس مسئلہ کو حل کیا وہ ان جیسا دور اندیش ، زیرک اور معاملہ فہم رہنما ہی کر سکتا تھا۔ پاکستانی عوام کے لئے اس وقت سب سے بڑا مسئلہ جنگی قیدیوں کی رہائی تھی لیکن اس میں تاخیر کی وجہ دشمن کا یہ مطالبہ تھا کہ پہلے پاکستان ، بنگلہ دیش کو تسلیم کرے۔ بھٹو صاحب نے اس مسئلہ کے حل کے لئے 11 مئی 1973ء کو عالمی عدالت انصاف سے رجوع کیا تھا اور یہ موقف اختیار کیا تھا کہ جنیوا معاہدہ کے تحت بھارت کو جلد از جلد جنگی قیدیوں کو رہا کرنا لازم ہے۔ بھارت متوقع فیصلے سے گبھرا گیا تھا اور 28 اگست 1973ء کو سہ طرفہ معاہدہ دہلی کے تحت غیر مشروط طور پر نہ صرف جنگی قیدیوں کو رہا کرنے کا پابند ہوا بلکہ بنگلہ دیش ، 195 پاکستانی فوجی افسران پر جنگی جرائم کے تحت مقدمہ چلانے کے مطالبہ سے بھی دستبردار ہو گیا تھا۔ معاہدہ شملہ کے بعد معاہدہ دہلی بھی بھٹو صاحب کی ایک اور بہت بڑی سیاسی فتح تھی لیکن اگلا چیلنج آئین شکنی سے بچنا تھا۔ اس سلسلے میں 4 جولائی 1973ء کو پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کسی حاکم وقت کی طرف سے سپریم کورٹ کو عزت بخشی گئی تھی اور بنگلہ دیش کوتسلیم کرنے کی اجازت طلب کی گئی تھی۔ 7 جولائی 1973ء کو عدالت عالیہ نے قومی اسمبلی کو مطلوبہ قانون سازی کی اجازت دے دی تھی۔ 10 جولائی 1973ء کو پارلیمنٹ نے اکثریتی فیصلہ سے بھٹو صاحب کو یہ اختیار دے دیا تھا کہ وہ جب چاہیں بنگلہ دیش کو تسلیم کر سکتے ہیں۔ 23 اپریل 1974ء کو آئین میں پہلی ترمیم اسی ضمن میں ہوئی تھی۔ اس طرح ذوالفقار علی بھٹو جیسی عظیم المر تبت ہستی نے قواعد و ضوابط کے احترام اور الجھے مسائل کو سلجھانے کی جو مثال قائم کی تھی وہ اپنی مثال آپ تھی۔۔!



Pakistan recognized Bangladesh

Friday, 22 February 1974

Pakistan recognized Bangladesh as an independent state on 22 February 1974, but according to the Constitution of Pakistan, Bangladesh was a permanent part of Pakistan. In such a case, recognizing Bangladesh as a separate state was a violation of the Constitution..



AP Archive



World history
Pakistan Media

Pakistan History

تاریخ پاکستان
میر ظفراللہ خان  جمالی
میر ظفراللہ خان جمالی
ذوالفقار علی بھٹو ، صدر بنے
ذوالفقار علی بھٹو ، صدر بنے
پاکستان کا پاسپورٹ ، بیچارہ۔۔!
پاکستان کا پاسپورٹ ، بیچارہ۔۔!
قائد اعظمؒ کی 11 اگست 1947ء کی تقریر
قائد اعظمؒ کی 11 اگست 1947ء کی تقریر
منگل اور جنگل کا قانون
منگل اور جنگل کا قانون

Other segments on PAK Magazine

مستقل سلسلے
اخبارات
اخبارات
جغرافیائی تاریخ
جغرافیائی تاریخ
سقوط ڈھاکہ
سقوط ڈھاکہ
قائد اعظمؒ
قائد اعظمؒ
بھٹو شہیدؒ
بھٹو شہیدؒ
آمر مردود
آمر مردود
صدر
صدر
وزیر اعظم
وزیر اعظم
آرمی چیف
آرمی چیف
چیف جسٹس
چیف جسٹس
مغلیہ سلطنت
مغلیہ سلطنت
ڈنمارک
ڈنمارک
اٹلی کا سفر
اٹلی کا سفر
حج بیت اللہ
حج بیت اللہ
سیف الملوک
سیف الملوک
شعر و شاعری
شعر و شاعری
ہیلتھ میگزین
ہیلتھ میگزین
فلم میگزین
فلم میگزین

Some useful external links


Some useful history sites

World links

Some useful links

Cricket links

IT links

Urdu poetry links

Pakistan
Pakistan

وکی پیڈیا پر پاکستان کی تاریخ


Pakistan World Rankings

پاکستان کی عالمی درجہ بندی

پاکستان کی معیشت ، سیاست و ریاست اور دیگر اہم موضوعات میں عالمی درجہ بندیوں کی معلومات کو اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے۔ روایتی حریف بھارت اور جڑواں بھائی بنگلہ دیش کی درجہ بندیوں کے علاوہ دنیا کی ایک مثالی جمہوریت ڈنمارک کو بھی موازنے کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ درجہ بندیوں میں چھوٹے اعداد بہترین اور بڑے بدترین ہیں جبکہ تمام رقوم امریکی ڈالروں میں ہیں۔
آبادی (لاکھوں میں)225213726170058
آبادی کی درجہ بندی528113
رقبہ33792130
فی کس آمدن12851877188858439
فی کس آمدن کی درجہ بندی1541391427
ڈالر ریٹ16071846
معیشت کا حجم2233051
زرمبادلہ کے ذخائر (اربوں میں)135844378
زرمبادلہ کے ذخائر کی درجہ بندی7154631
خوشحالی123591073
انسانی ترقی15413313110
تعلیم1281121552
صحت عامہ123591073
فوجی طاقت1044554
دہشت گردی سے متاثر783385
امن و امان کی صورتحال1531411015
مذہبی وابستگی50543145
ایمانداری124861461
جمہوری روایات10553767
پاسپورٹ کی عزت107851015


Pakistan Exchange Rates

Pakistan Rupee Exchange Rate