PAK Magazine
Saturday, 03 December 2022, Week: 48

Pakistan Chronological History
Annual
Annual
Monthly
Monthly
Weekly
Weekly
Daily
Daily
Alphabetically
Alphabetically


1954
قومی ترانہ
قومی ترانہ
1945
1945/46ء کے انتخابات
1945/46ء کے انتخابات
1979
ذوالفقار علی بھٹوؒ ، پیدائش سے پھانسی تک
ذوالفقار علی بھٹوؒ ، پیدائش سے پھانسی تک
1951
نوابزادہ لیاقت علی خان
نوابزادہ لیاقت علی خان
1961
وارسک ڈیم
وارسک ڈیم


1953

Mohammad Ali Bogra as Prime Minister..!

Friday, 17 April 1953

Pakistan Ambassador in USA, Mohammad Ali Bogra became Prime Minister of Paksitan on April 17, 1953..

محمد علی بوگرا ، وزیر اعظم بنے

جمعہ 17 اپریل 1953
محمد علی بوگرا ، اپنی بیگم کے ساتھ

محمد علی بوگرا
وطن چھٹیوں پر آئے ہوئے تھے
کہ انھیں وزیر اعظم بنا دیا گیا تھا

پاکستان کے دوسرے گورنر جنرل ، پنجابی نژاد ملک غلام محمد نے اپنے غیر معمولی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے 17 اپریل 1953ء کو پہلے بنگالی نژاد وزیراعظم خواجہ ناظم الدین کو برطرف کرکے ان کی جگہ امریکہ میں پاکستان کے سفیر ، ایک اور بنگالی نژاد محمدعلی بوگرا کو نیا وزیر اعظم نامزد کردیا تھا جو چھٹیوں پر پاکستان آئے ہوئے تھے یا لائے گئے تھے۔۔!

پہلے کٹھ پتلی وزیراعظم

پاکستان کے پہلے کٹھ پتلی وزیر اعظم بننے کے بعد محمدعلی بوگرا کو صوبائی اسمبلیوں کے اراکین سے مجلس دستور ساز کا رکن بھی "منتخب" کروا لیا گیا تھا۔ 24 اکتوبر 1954ء کو ملک غلام محمد نے پہلی دستور ساز اسمبلی توڑ دی لیکن بوگرا صاحب کو وزیر اعظم کے عہدے پر برقرار رکھا گیا تھا۔ 7 جولائی 1955ء تک محمد علی بوگرا ایک ایسی حکومت کے سربراہ رہے جس کی اپنی کوئی اسمبلی نہیں تھی۔ اس کی شاید ضرورت بھی نہیں تھی کیونکہ ایک حاضر سروس آرمی چیف جنرل محمد ایوب خان کو وزارت دفاع کا قلمدان سونپ دیا گیا تھا جو اصل میں عقل کل اور مختار کل بھی تھے۔

امریکہ سے فوجی معاہدہ

وزیر اعظم محمدعلی بوگرا کے دور کا سب سے اہم واقعہ آرمی چیف جنرل ایوب خان کا اپنے طور پر امریکہ کے ساتھ ایک بھرپور فوجی معاہدہ تھا۔ مئی 1954ء میں ہونے والے اس تاریخی معاہدے کے تحت نہ صرف امریکہ کو پاکستانی سرزمین پر فوجی اڈے دیے گئے بلکہ روس کے خلاف مختلف دفاعی معاہدوں میں شرکت بھی کی گئی تھی۔ اس کے عوض پاکستان کو بھاری فوجی اور اقتصادی امداد ملی تھی۔ اسی تناظر میں دیکھیں تو 24 جولائی 1954ء کو ایک سیاسی جماعت ، کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان پر جو پابندی لگائی گئی تھی ، وہ کسی طور بھی حیرت کا باعث نہیں تھی۔

ون یونٹ کا قیام

بوگرا حکومت کا دوسرا اہم "کارنامہ" ون یونٹ کے قیام کی راہ ہموار کرنا تھا جس سے مشرقی پاکستان کی عددی برتری کو ختم کیا گیا تھا اور اسی پر 1956ء میں پہلا غیرمتفقہ آئین بھی بنایا گیا تھا۔ اس کے بدلے میں 7 مئی 1954ء کو بنگالی زبان کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا تھا جس سے اردو بولنے والوں میں سخت اشتعال پھیلا تھا۔

ناقابل معافی گستاخی

11 اگست 1955ء کو ون یونٹ کی بنیاد پر قائم ہونے والی نئی اسمبلی اور نئی وفاداریوں کے بعد بوگرا صاحب کی ضرورت نہ رہی تھی۔ انھوں نے اپنی اوقات بھولتے ہوئے گورنر جنرل کے اسمبلی برخاست کرنے کے اختیارات کو ختم کرنے کی گستاخی بھی کی تھی۔ اسی لیے وزارت عظمیٰ کے عہدے سے ہٹا کر واپس امریکا میں پاکستان کے سفیر مقرر کر دیے گئے تھے۔

پاکستان کے وزیرخارجہ

پرانی وفاداریوں کے عوض 13 جون 1962ء سے 23 جنوری 1963ء کو اپنے انتقال تک محمدعلی بوگرا ، جنرل ایوب خان کی حکومت کے وزیر خارجہ بھی رہے تھے۔ اس دوران اکتوبر 1962ء میں بھارت اور چین کی جنگ ہوئی جس میں پاکستان کے اتحادی ممالک ، امریکہ اور برطانیہ نے دل کھول کر بھارت کی جنگی اور مالی مدد کی تھی لیکن وزیرخارجہ محمدعلی بوگرا بے اثر ثابت ہوئے تھے۔

محمدعلی بوگرا کی ذاتی زندگی

محمدعلی بوگرا ، 10 اکتوبر 1909ء کو ایک مالدار اور بااثر سیاسی خاندان میں بوگرا (بنگلہ دیش) کے مقام پر پیدا ہوئے تھے۔ کلکتہ یونیورسٹی سے 1930 میں پولیٹیکل سائنس میں ڈگری لی تھی- 1937ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا تھا۔ 1940 کی دہائی میں اس وقت کے وزیر اعظم حسین شہید سہروردی کی بنگال کی صوبائی کابینہ میں شمولیت اختیار کی۔ 1947 میں قیام پاکستان کے بعد وزارت خارجہ میں شمولیت اختیار کی اور برما (1948) ، کینیڈا (52ـ1949) اور امریکہ میں سفیر رہے۔ 1962ء میں بوگرا کے حلقے سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ انھوں نے دو شادیاں کی تھیں ، پہلی بیوی بیگم حمیدہ محمدعلی تھی ، جن سے دو بیٹے تھے۔ بعد میں انہوں نے 1955ء میں عالیہ سیڈی سے شادی کی تھی۔ 23 جنوری 1963ء کو ڈھاکا میں وفات پاگئے تھے۔







1948
قائد اعظمؒ  کا انتقال ہوا
قائد اعظمؒ کا انتقال ہوا
2022
پاکستان کے وزرائے اعظم
پاکستان کے وزرائے اعظم
1970
بھٹو کے 1970ء میں انتخابی نتائج
بھٹو کے 1970ء میں انتخابی نتائج
1969
صدر ایوب خان مستعفی ہوئے
صدر ایوب خان مستعفی ہوئے
1993
فاروق احمد لغاری ، صدر بنے
فاروق احمد لغاری ، صدر بنے

تاریخ پاکستان

پاک میگزین ، پاکستانی تاریخ پر اردو میں ایک منفرد ویب سائٹ ہے جس پر اہم تاریخی واقعات کو بتاریخ سالانہ ، ماہانہ ، ہفتہ وارانہ ، روزانہ اور حروفانہ ترتیب سے چند کلکس کے نیچے پیش کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں اہم ترین واقعات اور شخصیات پر تاریخی اور مستند معلومات پر مخصوص صفحات ترتیب دیے گئے ہیں جہاں تصویر و تحریر ، ویڈیو اور دیگر متعلقہ مواد کی صورت میں محفوظ کیا گیا ہے۔ یہ سلسلہ ایک انفرادی کاوش اور فارغ اوقات کا بہترین مشغلہ ہے جو اپنی تکمیل تک جاری و ساری رہے گا ، ان شاء اللہ۔۔!



تاریخ پاکستان ، اہم موضوعات
تحریک پاکستان
تحریک پاکستان
جغرافیائی تاریخ
جغرافیائی تاریخ
سقوط ڈھاکہ
سقوط ڈھاکہ
شہ سرخیاں
شہ سرخیاں
سیاسی ڈائری
سیاسی ڈائری
قائد اعظمؒ
قائد اعظمؒ
ذوالفقار علی بھٹوؒ
ذوالفقار علی بھٹوؒ
بے نظیر بھٹو
بے نظیر بھٹو
نواز شریف
نواز شریف
عمران خان
عمران خان
سکندرمرزا
سکندرمرزا
جنرل ایوب
جنرل ایوب
جنرل یحییٰ
جنرل یحییٰ
جنرل ضیاع
جنرل ضیاع
جنرل مشرف
جنرل مشرف
صدر
صدر
وزیر اعظم
وزیر اعظم
آرمی چیف
آرمی چیف
چیف جسٹس
چیف جسٹس
انتخابات
انتخابات
امریکی امداد
امریکی امداد
مغلیہ سلطنت
مغلیہ سلطنت
ڈنمارک
ڈنمارک
اٹلی کا سفر
اٹلی کا سفر
حج بیت اللہ
حج بیت اللہ
سیف الملوک
سیف الملوک
شعر و شاعری
شعر و شاعری
ہیلتھ میگزین
ہیلتھ میگزین
فلم میگزین
فلم میگزین
میڈیا لنکس
میڈیا لنکس

پاکستان کے بارے میں اہم معلومات

Pakistan

چند اہم بیرونی لنکس


پاکستان کی فلمی تاریخ

پاکستانی فلموں ، فنکاروں اور فلمی گیتوں پر ایک منفرد اور معلوماتی سلسلہ

اعجاز
اعجاز
نسیمہ خان
نسیمہ خان
افتخارخان
افتخارخان
زیبا
زیبا
ابو شاہ
ابو شاہ


PAK Magazine is an individual effort to compile and preserve the Pakistan's political, film and media history.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes, and therefor, I am not responsible for the content of any external site.