PAK Magazine
Monday, 27 June 2022, Week: 26

Pakistan Chronological History
Annual
Annual
Monthly
Monthly
Weekly
Weekly
Daily
Daily
Alphabetically
Alphabetically


1953

Mohammad Ali Bogra as Prime Minister..!

Friday, 17 April 1953

Pakistan Ambassador in USA, Mohammad Ali Bogra became Prime Minister of Paksitan on April 17, 1953..

محمد علی بوگرا ، وزیر اعظم بنے

جمعہ 17 اپریل 1953

پاکستان کے دوسرے گورنر جنرل ، پنجابی نژاد ملک غلام محمد نے اپنے غیر معمولی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے 17 اپریل 1953ء کو پہلے بنگالی نژاد وزیراعظم خواجہ ناظم الدین کو برطرف کرکے ان کی جگہ امریکہ میں پاکستان کے سفیر ، ایک اور بنگالی نژاد محمدعلی بوگرا کو نیا وزیر اعظم نامزد کردیا تھا جو چھٹیوں پر پاکستان آئے ہوئے تھے یا لائے گئے تھے۔۔!

Mohammad Ali Borgra with his wife

پہلے کٹھ پتلی وزیراعظم

پاکستان کے پہلے کٹھ پتلی وزیر اعظم بننے کے بعد محمدعلی بوگرا کو صوبائی اسمبلیوں کے اراکین سے مجلس دستور ساز کا رکن بھی "منتخب" کروا لیا گیا تھا۔ 24 اکتوبر 1954ء کو ملک غلام محمد نے پہلی دستور ساز اسمبلی توڑ دی لیکن بوگرا صاحب کو وزیر اعظم کے عہدے پر برقرار رکھا گیا تھا۔ 7 جولائی 1955ء تک محمد علی بوگرا ایک ایسی حکومت کے سربراہ رہے جس کی اپنی کوئی اسمبلی نہیں تھی۔ اس کی شاید ضرورت بھی نہیں تھی کیونکہ ایک حاضر سروس آرمی چیف جنرل محمد ایوب خان کو وزارت دفاع کا قلمدان سونپ دیا گیا تھا جو اصل میں عقل کل اور مختار کل بھی تھے۔

امریکہ سے فوجی معاہدہ

وزیر اعظم محمدعلی بوگرا کے دور کا سب سے اہم واقعہ آرمی چیف جنرل ایوب خان کا اپنے طور پر امریکہ کے ساتھ ایک بھرپور فوجی معاہدہ تھا۔ ستمبر 1953ء میں ہونے والے اس تاریخی معاہدے کے تحت نہ صرف امریکہ کو پاکستانی سرزمین پر فوجی اڈے دیے گئے بلکہ روس کے خلاف مختلف دفاعی معاہدوں میں شرکت بھی کی گئی تھی۔ اس کے عوض پاکستان کو بھاری فوجی اور اقتصادی امداد ملی تھی۔ اسی تناظر میں دیکھیں تو 24 جولائی 1954ء کو ایک سیاسی جماعت ، کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان پر جو پابندی لگائی گئی تھی ، وہ کسی طور بھی حیرت کا باعث نہیں تھی۔

ون یونٹ کا قیام

بوگرا حکومت کا دوسرا اہم "کارنامہ" ون یونٹ کے قیام کی راہ ہموار کرنا تھا جس سے مشرقی پاکستان کی عددی برتری کو ختم کیا گیا تھا اور اسی پر 1956ء میں پہلا غیرمتفقہ آئین بھی بنایا گیا تھا۔ اس کے بدلے میں 7 مئی 1954ء کو بنگالی زبان کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا تھا جس سے اردو بولنے والوں میں سخت اشتعال پھیلا تھا۔

ناقابل معافی گستاخی

11 اگست 1955ء کو ون یونٹ کی بنیاد پر قائم ہونے والی نئی اسمبلی اور نئی وفاداریوں کے بعد بوگرا صاحب کی ضرورت نہ رہی تھی۔ انھوں نے اپنی اوقات بھولتے ہوئے گورنر جنرل کے اسمبلی برخاست کرنے کے اختیارات کو ختم کرنے کی گستاخی بھی کی تھی۔ اسی لیے وزارت عظمیٰ کے عہدے سے ہٹا کر واپس امریکا میں پاکستان کے سفیر مقرر کر دیے گئے تھے۔

پاکستان کے وزیرخارجہ

پرانی وفاداریوں کے عوض 13 جون 1962ء سے 23 جنوری 1963ء کو اپنے انتقال تک محمدعلی بوگرا ، جنرل ایوب خان کی حکومت کے وزیر خارجہ بھی رہے تھے۔ اس دوران اکتوبر 1962ء میں بھارت اور چین کی جنگ ہوئی جس میں پاکستان کے اتحادی ممالک ، امریکہ اور برطانیہ نے دل کھول کر بھارت کی جنگی اور مالی مدد کی تھی لیکن وزیرخارجہ محمدعلی بوگرا بے اثر ثابت ہوئے تھے۔

محمدعلی بوگرا کی ذاتی زندگی

محمدعلی بوگرا ، 10 اکتوبر 1909ء کو ایک مالدار اور بااثر سیاسی خاندان میں بوگرا (بنگلہ دیش) کے مقام پر پیدا ہوئے تھے۔ کلکتہ یونیورسٹی سے 1930 میں پولیٹیکل سائنس میں ڈگری لی تھی- 1937ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا تھا۔ 1940 کی دہائی میں اس وقت کے وزیر اعظم حسین شہید سہروردی کی بنگال کی صوبائی کابینہ میں شمولیت اختیار کی۔ 1947 میں قیام پاکستان کے بعد وزارت خارجہ میں شمولیت اختیار کی اور برما (1948) ، کینیڈا (52ـ1949) اور امریکہ میں سفیر رہے۔ 1962ء میں بوگرا کے حلقے سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ انھوں نے دو شادیاں کی تھیں ، پہلی بیوی بیگم حمیدہ محمدعلی تھی ، جن سے دو بیٹے تھے۔ بعد میں انہوں نے 1955ء میں عالیہ سیڈی سے شادی کی تھی۔ 23 جنوری 1963ء کو ڈھاکا میں وفات پاگئے تھے۔












World history
Latest News on PAK Magazine
Pakistan Media

PAK Magazine presents latest news from newspapers, TV, social media, political parties, official's and many renowned journalists from Pakistan and around the world.


تاریخ پاکستان

پاک میگزین ، پاکستانی تاریخ پر اردو میں ایک منفرد ویب سائٹ ہے جس پر اہم تاریخی واقعات کو بتاریخ سالانہ ، ماہانہ ، ہفتہ وارانہ ، روزانہ اور حروفانہ ترتیب سے چند کلکس کے نیچے پیش کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں اہم ترین واقعات اور شخصیات پر تاریخی اور مستند معلومات پر مخصوص صفحات ترتیب دیے گئے ہیں جہاں تصویر و تحریر ، ویڈیو اور دیگر متعلقہ مواد کی صورت میں محفوظ کیا گیا ہے۔ یہ سلسلہ ایک انفرادی کاوش اور فارغ اوقات کا بہترین مشغلہ ہے جو اپنی تکمیل تک جاری و ساری رہے گا ، ان شاء اللہ۔۔!



1957
ملک فیروز خان نون ، وزیر اعظم بنے
ملک فیروز خان نون ، وزیر اعظم بنے
2013
نواز شریف ، چوتھی مرتبہ وزیر اعظم بنے
نواز شریف ، چوتھی مرتبہ وزیر اعظم بنے
1957
 سہروردی برطرف
سہروردی برطرف
2022
وزیراعظم شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف
1955
پی آئی اے
پی آئی اے


تاریخ پاکستان ، اہم موضوعات

تحریک پاکستان
تحریک پاکستان
جغرافیائی تاریخ
جغرافیائی تاریخ
سقوط ڈھاکہ
سقوط ڈھاکہ
شہ سرخیاں
شہ سرخیاں
سیاسی ڈائری
سیاسی ڈائری
قائد اعظمؒ
قائد اعظمؒ
ذوالفقار علی بھٹوؒ
ذوالفقار علی بھٹوؒ
بے نظیر بھٹو
بے نظیر بھٹو
نواز شریف
نواز شریف
عمران خان
عمران خان
سکندرمرزا
سکندرمرزا
جنرل ایوب
جنرل ایوب
جنرل یحییٰ
جنرل یحییٰ
جنرل ضیاع
جنرل ضیاع
جنرل مشرف
جنرل مشرف
صدر
صدر
وزیر اعظم
وزیر اعظم
آرمی چیف
آرمی چیف
چیف جسٹس
چیف جسٹس
انتخابات
انتخابات
امریکی امداد
امریکی امداد
مغلیہ سلطنت
مغلیہ سلطنت
ڈنمارک
ڈنمارک
اٹلی کا سفر
اٹلی کا سفر
حج بیت اللہ
حج بیت اللہ
سیف الملوک
سیف الملوک
شعر و شاعری
شعر و شاعری
ہیلتھ میگزین
ہیلتھ میگزین
فلم میگزین
فلم میگزین
میڈیا لنکس
میڈیا لنکس

پاکستان کے بارے میں اہم معلومات

Pakistan

چند اہم بیرونی لنکس


Pakistan Exchange Rates

Pakistan Rupee Exchange Rate



PAK Magazine is an individual effort to compile and preserve the Pakistan's political, film and media history.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes, and therefor, I am not responsible for the content of any external site.