PAK Magazine | An Urdu website on the Pakistan history
Monday, 20 May 2024, Day: 141, Week: 21

PAK Magazine |  پاک میگزین پر تاریخِ پاکستان ، ایک منفرد انداز میں


پاک میگزین پر تاریخِ پاکستان

Annual
Monthly
Weekly
Daily
Alphabetically

جمعتہ المبارک 17 اپریل 1953

وزیر اعظم محمد علی بوگرا

محمد علی بوگرا ، اپنی بیگم کے ساتھ

محمد علی بوگرا
وطن چھٹیوں پر آئے ہوئے تھے
کہ انھیں وزیر اعظم بنا دیا گیا تھا

پاکستان کے دوسرے گورنر جنرل ، پنجابی نژاد ملک غلام محمد نے اپنے غیر معمولی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے 17 اپریل 1953ء کو پہلے بنگالی نژاد وزیراعظم خواجہ ناظم الدین کو برطرف کرکے ان کی جگہ امریکہ میں پاکستان کے سفیر ، ایک اور بنگالی نژاد محمدعلی بوگرا کو نیا وزیر اعظم نامزد کردیا تھا جو چھٹیوں پر پاکستان آئے ہوئے تھے یا لائے گئے تھے۔۔!

پہلے کٹھ پتلی وزیراعظم

پاکستان کے پہلے کٹھ پتلی وزیر اعظم بننے کے بعد محمدعلی بوگرا کو صوبائی اسمبلیوں کے اراکین سے مجلس دستور ساز کا رکن بھی "منتخب" کروا لیا گیا تھا۔ 24 اکتوبر 1954ء کو ملک غلام محمد نے پہلی دستور ساز اسمبلی توڑ دی لیکن بوگرا صاحب کو وزیر اعظم کے عہدے پر برقرار رکھا گیا تھا۔ 7 جولائی 1955ء تک محمد علی بوگرا ایک ایسی حکومت کے سربراہ رہے جس کی اپنی کوئی اسمبلی نہیں تھی۔ اس کی شاید ضرورت بھی نہیں تھی کیونکہ ایک حاضر سروس آرمی چیف جنرل محمد ایوب خان کو وزارت دفاع کا قلمدان سونپ دیا گیا تھا جو اصل میں عقل کل اور مختار کل بھی تھے۔

امریکہ سے فوجی معاہدہ

وزیر اعظم محمدعلی بوگرا کے دور کا سب سے اہم واقعہ آرمی چیف جنرل ایوب خان کا اپنے طور پر امریکہ کے ساتھ ایک بھرپور فوجی معاہدہ تھا۔ مئی 1954ء میں ہونے والے اس تاریخی معاہدے کے تحت نہ صرف امریکہ کو پاکستانی سرزمین پر فوجی اڈے دیے گئے بلکہ روس کے خلاف مختلف دفاعی معاہدوں میں شرکت بھی کی گئی تھی۔ اس کے عوض پاکستان کو بھاری فوجی اور اقتصادی امداد ملی تھی۔ اسی تناظر میں دیکھیں تو 24 جولائی 1954ء کو ایک سیاسی جماعت ، کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان پر جو پابندی لگائی گئی تھی ، وہ کسی طور بھی حیرت کا باعث نہیں تھی۔

ون یونٹ کا قیام

بوگرا حکومت کا دوسرا اہم "کارنامہ" ون یونٹ کے قیام کی راہ ہموار کرنا تھا جس سے مشرقی پاکستان کی عددی برتری کو ختم کیا گیا تھا اور اسی پر 1956ء میں پہلا غیرمتفقہ آئین بھی بنایا گیا تھا۔ اس کے بدلے میں 7 مئی 1954ء کو بنگالی زبان کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا تھا جس سے اردو بولنے والوں میں سخت اشتعال پھیلا تھا۔

ناقابل معافی گستاخی

11 اگست 1955ء کو ون یونٹ کی بنیاد پر قائم ہونے والی نئی اسمبلی اور نئی وفاداریوں کے بعد بوگرا صاحب کی ضرورت نہ رہی تھی۔ انھوں نے اپنی اوقات بھولتے ہوئے گورنر جنرل کے اسمبلی برخاست کرنے کے اختیارات کو ختم کرنے کی گستاخی بھی کی تھی۔ اسی لیے وزارت عظمیٰ کے عہدے سے ہٹا کر واپس امریکا میں پاکستان کے سفیر مقرر کر دیے گئے تھے۔

پاکستان کے وزیرخارجہ

پرانی وفاداریوں کے عوض 13 جون 1962ء سے 23 جنوری 1963ء کو اپنے انتقال تک محمدعلی بوگرا ، جنرل ایوب خان کی حکومت کے وزیر خارجہ بھی رہے تھے۔ اس دوران اکتوبر 1962ء میں بھارت اور چین کی جنگ ہوئی جس میں پاکستان کے اتحادی ممالک ، امریکہ اور برطانیہ نے دل کھول کر بھارت کی جنگی اور مالی مدد کی تھی لیکن وزیرخارجہ محمدعلی بوگرا بے اثر ثابت ہوئے تھے۔

محمدعلی بوگرا کی ذاتی زندگی

محمدعلی بوگرا ، 10 اکتوبر 1909ء کو ایک مالدار اور بااثر سیاسی خاندان میں بوگرا (بنگلہ دیش) کے مقام پر پیدا ہوئے تھے۔ کلکتہ یونیورسٹی سے 1930 میں پولیٹیکل سائنس میں ڈگری لی تھی- 1937ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا تھا۔ 1940 کی دہائی میں اس وقت کے وزیر اعظم حسین شہید سہروردی کی بنگال کی صوبائی کابینہ میں شمولیت اختیار کی۔ 1947 میں قیام پاکستان کے بعد وزارت خارجہ میں شمولیت اختیار کی اور برما (1948) ، کینیڈا (52ـ1949) اور امریکہ میں سفیر رہے۔ 1962ء میں بوگرا کے حلقے سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ انھوں نے دو شادیاں کی تھیں ، پہلی بیوی بیگم حمیدہ محمدعلی تھی ، جن سے دو بیٹے تھے۔ بعد میں انہوں نے 1955ء میں عالیہ سیڈی سے شادی کی تھی۔ 23 جنوری 1963ء کو ڈھاکا میں وفات پاگئے تھے۔






Mohammad Ali Bogra as Prime Minister..!

Friday, 17 April 1953

Pakistan Ambassador in USA, Mohammad Ali Bogra became Prime Minister of Paksitan on April 17, 1953..




پاکستان کی تاریخ پر ایک منفرد ویب سائٹ

پاک میگزین ، پاکستان کی سیاسی تاریخ پر ایک منفرد ویب سائٹ ہے جس پر سال بسال اہم ترین تاریخی واقعات کے علاوہ اہم شخصیات پر تاریخی اور مستند معلومات پر مبنی مخصوص صفحات بھی ترتیب دیے گئے ہیں جہاں تحریروتصویر ، گرافک ، نقشہ جات ، ویڈیو ، اعدادوشمار اور دیگر متعلقہ مواد کی صورت میں حقائق کو محفوظ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

2017ء میں شروع ہونے والا یہ عظیم الشان سلسلہ، اپنی تکمیل تک جاری و ساری رہے گا، ان شاءاللہ



پاکستان کے اہم تاریخی موضوعات



تاریخِ پاکستان کی اہم ترین شخصیات



تاریخِ پاکستان کے اہم ترین سنگِ میل



پاکستان کی اہم معلومات

Pakistan

چند مفید بیرونی لنکس



پاکستان فلم میگزین

پاک میگزین" کے سب ڈومین کے طور پر "پاکستان فلم میگزین"، پاکستانی فلمی تاریخ، فلموں، فنکاروں اور فلمی گیتوں پر انٹرنیٹ کی تاریخ کی پہلی اور سب سے بڑی ویب سائٹ ہے جو 3 مئی 2000ء سے مسلسل اپ ڈیٹ ہورہی ہے۔


پاکستانی فلموں کے 75 سال …… فلمی ٹائم لائن …… اداکاروں کی ٹائم لائن …… گیتوں کی ٹائم لائن …… پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد …… پاکستان کی پہلی پنجابی فلم پھیرے …… پاکستان کی فلمی زبانیں …… تاریخی فلمیں …… لوک فلمیں …… عید کی فلمیں …… جوبلی فلمیں …… پاکستان کے فلم سٹوڈیوز …… سینما گھر …… فلمی ایوارڈز …… بھٹو اور پاکستانی فلمیں …… لاہور کی فلمی تاریخ …… پنجابی فلموں کی تاریخ …… برصغیر کی پہلی پنجابی فلم …… فنکاروں کی تقسیم ……

پاک میگزین کی پرانی ویب سائٹس

"پاک میگزین" پر گزشتہ پچیس برسوں میں مختلف موضوعات پر مستقل اہمیت کی حامل متعدد معلوماتی ویب سائٹس بنائی گئیں جو موبائل سکرین پر پڑھنا مشکل ہے لیکن انھیں موبائل ورژن پر منتقل کرنا بھی آسان نہیں، اس لیے انھیں ڈیسک ٹاپ ورژن کی صورت ہی میں محفوظ کیا گیا ہے۔

پاک میگزین کا تعارف

"پاک میگزین" کا آغاز 1999ء میں ہوا جس کا بنیادی مقصد پاکستان کے بارے میں اہم معلومات اور تاریخی حقائق کو آن لائن محفوظ کرنا ہے۔

Old site mazhar.dk

یہ تاریخ ساز ویب سائٹ، ایک انفرادی کاوش ہے جو 2002ء سے mazhar.dk کی صورت میں مختلف موضوعات پر معلومات کا ایک گلدستہ ثابت ہوئی تھی۔

اس دوران، 2011ء میں میڈیا کے لیے akhbarat.com اور 2016ء میں فلم کے لیے pakfilms.net کی الگ الگ ویب سائٹس بھی بنائی گئیں لیکن 23 مارچ 2017ء کو انھیں موجودہ اور مستقل ڈومین pakmag.net میں ضم کیا گیا جس نے "پاک میگزین" کی شکل اختیار کر لی تھی۔

سالِ رواں یعنی 2024ء کا سال، "پاک میگزین" کی مسلسل آن لائن اشاعت کا 25واں سلور جوبلی سال ہے۔




PAK Magazine is an individual effort to compile and preserve the Pakistan history online.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes and therefor, I am not responsible for the content of any external site.