PAK Magazine
Wednesday, 28 July 2021, Week: 30

Pakistan History

سالانہ | ماہانہ | ہفتہ وارانہ | روزانہ | حروفانہ | اہم ترین | تحریک پاکستان | ذاتی ڈائریاں

Pakistan History

1955

ون یونٹ کا قیام

جمعہ 14 اکتوبر 1955

One Unit
14 اکتوبر 1955ء کو موجودہ پاکستان کے تمام صوبوں ، ریاستوں اور وفاقی علاقوں (ماسوائے آزاد کشمیر اور گلگت و بلتستان) کی انفرادی حیثیت ختم کر کے صرف ایک صوبہ "مغربی پاکستان" قائم کیا گیا جسے "ون یونٹ" کا نام دیا گیا تھا۔ صوبہ مشرقی بنگال یا موجودہ بنگلہ دیش کو "مشرقی پاکستان" کا نام دے دیا گیا تھا۔

'ون یونٹ' بنانے والے عقل کے اندھوں نے غیر ارادی طور پر ایک کی بجائے دو پاکستان یعنی 'مغربی پاکستان' اور 'مشرقی پاکستان' بنا دیئے تھے۔ بظاہر "ون یونٹ" کے قیام کے دو بنیادی مقاصد بیان کئے گئے تھے جن میں صوبائی عصبیت کا خاتمہ اور انتظامی اخراجات میں کمی تھی لیکن اصل مقصد بنگالیوں کی عددی برتری کا توڑ نکالنا تھا جو پاکستان کی کل آبادی کا 54 فیصد تھے۔ قیام پاکستان کے وقت دستور ساز اسمبلی کے کل 69 اراکین میں سے 44 یا ساٹھ فیصد سے زائد کا تعلق بنگال سے تھا۔ ایسے میں کوئی بھی قانون یا دستور سازی ، بنگالی اراکین کی مرضی کے بغیر ممکن نہیں تھی۔ پاکستان کی اشرافیہ کسی طور بھی بنگالیوں کو ان کے جائز اور جمہوری حقوق دینے کو تیار نہیں تھی اور اس کے لئے کبھی نظریہ پاکستان ، مذہب یا حب الوطنی کے لولی پاپ سے بنگالیوں کو بہلانے کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔ ون یونٹ کا قیام اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔

ون یونٹ کی تجویز کے بارے میں صدر جنرل ایوب خان ، اپنی مشہور زمانہ سوانح حیات Friends Not Masters (جس کا صحیح ترجمہ تو "دوست ، آقا نہیں" ہونا چاہئے تھا لیکن پاکستانی عوام کے لئے اس کا ترجمہ "جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی" کیا گیا تھا) میں یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ تجویز 4 اکتوبر 1954ء کو دورہ امریکہ کے دوران اچانک ان کے زرخیز ذہن میں آئی تھی۔ اس وقت وہ آرمی چیف اور ایک حاضر سروس وزیر دفاع بھی تھے۔ تاریخی طور پر یہ تجویز پہلی بار 2 مارچ 1949ء کو دستورساز اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے ممبر اسمبلی ملک فیروز خان نون نے پیش کی تھی جس پر صوبہ سندھ میں بڑا زبردست احتجاج ہوا تھا اور معاملہ وقتی طور پر دب گیا تھا۔ اتفاق دیکھئے کہ جس دن جنرل ایوب کو ون یونٹ کے قیام کی تجویز کا خیال آیا تھا ، اسی دن یعنی 4 اکتوبر 1954ء کو گورنر جنرل غلام محمد نے سندھ کے وزیر اعلیٰ عبدالستار پیرزادہ کو برطرف کر کے ایوب کھوڑو کو وزیر اعلیٰ بنا دیا تھا جنہوں نے ون یونٹ کی تجویز کو اسمبلی سے منظور کروالیا تھا۔ 24 اکتوبر کو دستورساز اسمبلی کو بھی برخاست کر دیا گیا تھا تاکہ بنگالیوں کی رہی سہی جمہوری مزاحمت بھی ختم کر دی جائے۔ پنجاب اور سرحد اسمبلیوں نے اس تجویز کو بلا چون و چرا منظور کر لیا تھا۔

22 نومبر 1954ء کو وزیر اعظم محمد علی بوگرا نے سرکاری طور پر یہ تجویز پیش کی تھی جسے محمد علی بوگرا فارمولا بھی کہا جاتا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے اوپر کے دباؤ پر سیاسی حلقے بھیگی بلی بن کر اس تجویز کی حمایت کرنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ 21 جون 1955ء کو صوبائی اسمبلیوں نے نئی دستور ساز اسمبلی کا انتخاب کیا تھا جس میں مغربی اور مشرقی پاکستان کی یکساں طور پر 40 ، 40 نشستیں تھیں۔ اسی اسمبلی نے 30 ستمبر 1955ء کو ون یونٹ کی تجویز منظور کر لی تھی جو 14 اکتوبر 1955ء کو نافذ العمل ہو گئی تھی۔ فروری 1959ء کے مجوزہ عام انتخابات میں متوقع نتائج کے خوف سے 7 اکتوبر 1958ء کو پاکستان میں جمہوریت کی بساط ہی لپیٹ دی گئی تھی۔ ون یونٹ کی تنسیخ یکم جولائی 1970ء کو لیگل فریم آرڈر کے تحت صدر جنرل یحییٰ خان نے کی تھی۔ صوبہ مغربی پاکستان کی پہلی کابینہ کی تفصیل حسب ذیل ہے:


1 14-10-1955مشتاق احمد گورمانیگورنر
2 14-10-1955ڈاکٹر خان صاحبوزیر اعلیٰ
3 14-10-1955محمد ایوب کھوڑو؟
4 14-10-1955میاں ممتاز دولتانہ؟
5 14-10-1955سردار عبدالحمید دستی؟
6 14-10-1955خان قربان علی خان؟
7 14-10-1955سردار بہادر خان؟
8 14-10-1955سید عابد حسین؟


One Unit

Friday, 14 October 1955

The One Unit policy was regarded as an administrative reform that would reduce expenditure and help eliminate ethnic and parochial prejudices..

1 14-10-1955Mushtaq Ahmad GormaniGovernor
2 14-10-1955Dr. Khan SahibChief Minister
3 14-10-1955Mohammad Ayub Khoro?
4 14-10-1955Mian Mumtaz Doltana?
5 14-10-1955Sardar Abdul Hameed Dasti?
6 14-10-1955Khan Qurban Ali Khan?
7 14-10-1955Sardar Bahadur Khan?
8 14-10-1955Syed Abid Hussain?


Pak Broad Cor



World history

Pakistan History

تاریخ پاکستان
آپریشن سرچ لائٹ
آپریشن سرچ لائٹ
پاکستان قومی اتحاد
پاکستان قومی اتحاد
ڈکٹیٹروں کے لئے آئینہ
ڈکٹیٹروں کے لئے آئینہ
جنرل ایوب خان ، صدر بن گئے
جنرل ایوب خان ، صدر بن گئے
قائد اعظمؒ ، گورنر جنرل بنے
قائد اعظمؒ ، گورنر جنرل بنے

Other segments on Pak Magazine

مستقل سلسلے
اخبارات
اخبارات
جغرافیائی تاریخ
جغرافیائی تاریخ
سقوط ڈھاکہ
سقوط ڈھاکہ
قائد اعظمؒ
قائد اعظمؒ
بھٹو شہیدؒ
بھٹو شہیدؒ
آمر مردود
آمر مردود
صدر
صدر
وزیر اعظم
وزیر اعظم
آرمی چیف
آرمی چیف
چیف جسٹس
چیف جسٹس
مغلیہ سلطنت
مغلیہ سلطنت
ڈنمارک
ڈنمارک
اٹلی کا سفر
اٹلی کا سفر
حج بیت اللہ
حج بیت اللہ
سیف الملوک
سیف الملوک
شعر و شاعری
شعر و شاعری
ہیلتھ میگزین
ہیلتھ میگزین
فلم میگزین
فلم میگزین

Pakistan Media

Some useful external links


Some useful history sites

World links

Some useful links

Cricket links

IT links

Urdu poetry links

Pakistan
Pakistan

وکی پیڈیا پر پاکستان کی تاریخ


Pakistan World Rankings

پاکستان کی عالمی درجہ بندی

پاکستان کی معیشت ، سیاست و ریاست اور دیگر اہم موضوعات میں عالمی درجہ بندیوں کی معلومات کو اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے۔ روایتی حریف بھارت اور جڑواں بھائی بنگلہ دیش کی درجہ بندیوں کے علاوہ دنیا کی ایک مثالی جمہوریت ڈنمارک کو بھی موازنے کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ درجہ بندیوں میں چھوٹے اعداد بہترین اور بڑے بدترین ہیں جبکہ تمام رقوم امریکی ڈالروں میں ہیں۔
آبادی (لاکھوں میں)225213726170058
آبادی کی درجہ بندی528113
رقبہ33792130
فی کس آمدن12851877188858439
فی کس آمدن کی درجہ بندی1541391427
ڈالر ریٹ16071846
معیشت کا حجم2233051
زرمبادلہ کے ذخائر (اربوں میں)135844378
زرمبادلہ کے ذخائر کی درجہ بندی7154631
خوشحالی123591073
انسانی ترقی15413313110
تعلیم1281121552
صحت عامہ123591073
فوجی طاقت1044554
دہشت گردی سے متاثر783385
امن و امان کی صورتحال1531411015
مذہبی وابستگی50543145
ایمانداری124861461
جمہوری روایات10553767
پاسپورٹ کی عزت107851015


Pakistan Exchange Rates

Pakistan Rupee Exchange Rate