PAK Magazine
Tuesday, 02 March 2021, Week: 09

Pakistan History

سالانہ | ماہانہ | ہفتہ وارانہ | روزانہ | حروفانہ | اہم ترین | تحریک پاکستان | ذاتی ڈائریاں

Pakistan History

1947

اردو بنگالی تنازعہ

بدھ 10 دسمبر 1947

14 اگست 1947ء کو …… پاکستان …… کے قیام کے صرف تین ماہ بعد ہی آشیاں میں پہلی چنگاری بھڑک اٹھی تھی جب …… 10 دسمبر 1947ء …… کو زبان کے مسئلہ پر ڈھاکہ کے سکولوں اور کالجوں کے طلبہ نے صوبائی سیکرٹریٹ کے سامنے …… بنگالی زبان …… کو قومی زبان بنانے کے حق میں مظاہرہ کیا تھا۔ یہ لسانی فسادات کا آغاز تھا جس نے پاکستان کی وحدت میں پہلی دراڑ ڈال دی تھی۔ قیام پاکستان کے حق میں 97 فیصد وؤٹ دینے والے بنگالی اپنی زبان اور قوم پرستی کے متعلق انتہائی حساس تھے اور اس پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کے موڈ میں نہیں تھے جب کہ پاکستان کے ارباب اختیار بنگالی عوام کے مزاج کو سمجھنے میں بری طرح سے ناکام رہے تھے اور زمینی حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے بدستور ……نظریہ پاکستان …… کے سراب میں گم تھے۔

Qaid-e-Azam addressing in Dhaka on March 21, 1948
گورنر جنرل کا یہ کام نہیں کہ وہ بتائے
کہ ملک کی سرکاری زبان کونسی ہو گی
یہ فیصلہ عوام کریں گے
21مارچ 1948ء کو ڈھاکہ میں بطور گورنر جنرل اپنے اکلوتے دورہ مشرقی پاکستان میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے …… بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح ؒ …… نے یہ واضح بیان دیا تھا کہ …… "پاکستان کی قومی زبان صرف اور صرف اردو ہی ہو گی۔۔" …… یہی بیان جب انہوں نے ڈھاکہ یونیورسٹی میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے دہرایا تھا تو ایک ہنگامہ کھڑا ہوگیا تھا اور جن نوجوان طالب علموں نے یہ ہنگامہ کیا تھا ان میں …… بانی بنگلہ دیش شیخ مجیب الرحمان …… کانام نامی بھی تھا۔ اس سے قبل مرکزی حکومت …… 25فروری 1948ء …… کو اردو ہی کو اکلوتی قومی زبان بنانے کا اعلان کر چکی تھی اور …… وزیر اعظم خان لیاقت علی خان …… کے بقول …… "صرف اردو ہی مغربی اور مشرقی پاکستان کو متحدرکھ سکتی ہے۔۔" …… 23 مارچ 1940ء کے دن قرار داد پاکستان پیش کرنے والے …… شیر بنگال مولوی فضل الحق …… نے قائد اعظم ؒ کے اس متنازعہ بیان پر سخت تنقید کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ …… "گورنر جنرل کا یہ کام نہیں کہ وہ بتائے کہ ملک کی سرکاری زبان کونسی ہو گی، یہ فیصلہ عوام کریں گے۔۔" …… یاد رہے کہ قائد اعظم ؒ کی ڈھاکہ آمد اور بنگالی کو قومی زبان نہ بنانے پربطور احتجاج …… 11مارچ 1948ء …… کو مشرقی پاکستان میں عام ہڑتال کی گئی تھی لیکن قائد اعظم ؒ نے …… 28مارچ 1948ء …… کو ایک بار پھر ریڈیو پر یہی بیان دہرایا تھا کہ "اردو ہی پاکستان کی واحد قومی زبان ہو گی۔۔" اس سے قبل …… 24مارچ 1948ء …… کوقائد اعظم ؒ ڈھاکہ یونیورسٹی میں اپنے بیان کی یہ وضاحت بھی کر چکے تھے کہ …… "صوبائی سطح پر مقامی زبان کے استعمال پر کوئی پابندی نہیں ہے لیکن قومی سطح پر صرف اردو ہی رابطہ زبان ہو سکتی ہے۔۔!" …… لیکن ان کی یہ مناسب وضاحت بھی بنگالیوں کو مطمئن نہ کر سکی تھی اور بنگالی زبان کی تحریک زور و شور سے جاری تھی۔

جنوری 1952ء میں اس وقت کے بنگالی نژاد وزیر اعظم پاکستان …… خواجہ ناظم الدین …… کے اس اصرار پر کہ …… "پاکستان کی قومی زبان صرف اور صرف اردو ہی ہو گی۔۔" جلتی پرتیل ثابت ہوا اور بطور احتجاج ڈھاکہ میں 21 فروری 1952ء کو عام ہڑتال کی گئی تھی جس کے دوران مظاہرین پر پولیس کی فائرنگ سے متعدد طلباء جا ں بحق ہو گئے تھے۔ بنگالی زبان کی تحریک کو …… شہید …… مل گئے تھے لیکن مغربی پاکستان میں انہیں …… "شر پسند ، سماج دشمن عناصر اور غدار" …… کہا گیا تھا۔ اب بنگالیوں کے ہیرو ، مغربی پاکستان کے غدار تھے اوریہ محاذ آرائی شدیدتر ہو گئی تھی جس کا عملی مظاہرہ یہ دیکھنے میں آیا تھا کہ …… پاکستان مسلم لیگ …… سے بغاوت کر نے والی …… عوامی لیگ …… نے اپنا نام بطور احتجاج …… عوامی مسلم لیگ …… سے صرف …… عوامی لیگ …… کر دیا تھا اور قرار داد پاکستان پیش کرنے والے …… شیر بنگال مولوی فضل الحق …… نے اپنی الگ سیاسی پارٹی …… مزدور کسان پارٹی …… بناڈالی تھی جن کے اتحاد نے1954ء کے صوبائی انتخابات میں ……جگتو فرنٹ …… کے نام سے اتنی بڑی کامیابی حاصل کی تھی کہ مشرقی پاکستان سے پاکستان کی خالق حکمران جماعت …… مسلم لیگ …… کا صفایا ہو گیا تھا جس میں پاکستان کے خیر خواہ بنگالی لیڈر …… نور الامین ……بھی انتخابات میں بری طرح سے ہار گئے تھے۔ یہ مغربی پاکستان کے عاقبت نا اندیش پالیسی سازوں کے لئے بہت بڑی وارننگ تھی لیکن نوشتہ دیوار پڑھنے کی صلاحیت کسی میں نہیں تھی۔

بنگالی زبان کی اس تحریک کو اس وقت فیصلہ کن کامیابی ملی تھی جب 19 اپریل 1954ء کوایک اور بنگالی نژاد …… وزیر اعظم پاکستان محمد علی بوگرا …… کی کابینہ نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ بنگالی بھی پاکستان کی دوسری قومی زبان ہو گی۔ اس فیصلہ پر بطور احتجاج کراچی میں …… بابائے اردو مولوی عبد الحق …… کی قیادت میں ایک لاکھ سے زائد افراد نے بہت بڑا مظاہر ہ کیا تھا جو ایک انتہائی غیر دانشمندانہ فعل تھا۔ کابینہ کے اس فیصلہ کی حمایت کرنے والوں کو غدار قرار دیا گیا تھا اور نامور شا عر …… رئیس امروہوی …… نے اپنے روزانہ قطعہ میں یہ مصرعہ لکھا تھا:

……اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے……!
Urdu Bengali Conflict

لیکن اس تمام تر مخالفت کے باوجود 7 مئی 1954ء کو بنگالی کو دوسری قومی زبان کا درجہ مل گیا تھا۔۔!

21 فروری 1952ء کے دن بنگالی زبان کی تحریک کے دوران ہلاک ہونے والے …… شہداء …… کی یاد میں 21 فروری 1963ء کو ڈھاکہ میں …… شہید مینار …… کا افتتاح کیا گیا تھا اور بنگلہ دیشی حکومت کی کوششوں سے نومبر1999ء میں یونیسکو نے اس دن کو …… مادری زبان کے عالمی دن …… کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا تھا۔

مندرجہ بالا تاریخی حقائق کو ایک غیر جانبدارانہ نظر سے دیکھیں تو بظاہر بنگالی سوچ غلط نہیں تھی۔ یہ بنیادی انسانی حقوق کا تقاضا ہے کہ ہر قوم اور قبیلے کو اپنی شناخت،اپنی مادری زبان اوراپنے تہذیب و تمدن کی حفاظت کرنے کا حق حاصل ہے اور کسی دوسری قوم یا افراد کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ انہیں ان بنیادی حقوق سے محروم کرے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب آپ ایک مشترکہ گھر میں رہتے ہوں تو آپ کو دوسرے مکینوں کا خیال بھی کرنا چاہئے۔ بنگالی قیادت اس وصف سے محروم تھی اور انتہائی خود غرضی اور قابل نفرت قوم پرستی کا مظاہرہ کر رہی تھی۔ پاکستان میں صرف بنگالی اور اردو زبانیں ہی نہیں تھیں بلکہ …… پنجابی ، سندھی ، پشتو ، بلوچی وغیرہ …… جیسی بڑی …… مادری زبانیں …… بھی تھیں ، انہیں بھی قومی زبانیں بننے کا وہی حق حاصل تھا جو بنگالی جیسی علاقائی زبان کو حاصل تھا لیکن بنگالی رہنماؤں کو دیگر پاکستانیوں یا ان کے مسائل سے کوئی غرض نہیں تھی۔

اردو ، مغربی پاکستان کے کسی بھی خطہ کی زبان نہیں تھی لیکن برصغیر کے مسلمانوں کے مشترکہ ورثہ کے طور پرقومی زبان کی صورت میں اپنائی گئی تھی
جس اردو زبان کوبنگالیوں نے وجہ نزاع بنا دیا تھا ، وہ غیر متنازعہ ہونا چاہئے تھی کیونکہ اردو ، مغربی پاکستان کے کسی بھی خطہ کی زبان نہیں تھی لیکن برصغیر کے مسلمانوں کے مشترکہ ورثہ کے طور پرقومی زبان کی صورت میں اپنائی گئی تھی۔ اردو ہی دنیا کی واحد …… اسلامی زبان …… تھی جو ہندوستان کے ہندی بولنے والے علاقوں میں ایک الگ زبان کے طور پر اس وقت وجود میں آئی تھی جب ان علاقوں میں مسلمانوں کی آمد اور مقامی افراد کے قبو ل اسلام سے ہندی زبان میں اسلامی ، عربی اور فارسی الفاظ کی آمیزش ہونا شروع ہوگئی تھی۔ اردو کی بنیاد تو ہندی ہی رہی اور یہ پڑوسی زبانوں …… پنجابی اور سندھی …… کے لئے اجنبی بھی نہ تھی لیکن بنگالی زبان ، اردو سے بالکل مختلف تھی۔ بد قسمتی سے جب اردو کے حامی زبان کے اس نازک مسئلہ پر خود ایک فریق بن گئے تھے تو مسئلہ زیادہ گھمبیر ہو گیا تھا اور بنگالی عوام ، اردو کی اجارہ داری کو نو آبادیاتی نظام کا نیا شاخسانہ سمجھ رہے تھے۔مشرقی پاکستان میں بڑی تعداد میں اردو بولنے والے بہاری مہاجرین کی آمد بھی بنگالیوں کے لئے قابل قبول نہیں تھی اور وہ بیچارے غریب الوطن آج بھی بڑی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

Language Movement
آزادی سے قبل جولائی 1947ء ہی میں ایک بنگالی فلاسفر اور ماہر تعلیم نے بڑے دلائل کے ساتھ یہ تجویز پیش کی تھی کہ پاکستان کی قومی زبان بنگالی ہونی چاہئے کیونکہ کسی بھی ملک کی اکثریتی زبان ہی اس کی قومی زبان ہو تی ہے جیسا کہ بھارت میں ہندی سب سے بڑی زبان تھی لیکن اردو پاکستان کے کسی بھی خطہ میں بولی جانے زبان نہیں تھی۔ بد قسمتی سے یہ احمقانہ …… بنگالی نقطہ نظر …… بھی …… اردو نقطہ نظر …… سے مختلف نہیں تھا اور نہ ہی پاکستان جیسے کثیرالسانی مملکت کے لئے قابل عمل حل تھا۔ لیکن زبان کا مسئلہ کوئی ایسا مسئلہ بھی نہ تھا کہ جس کا کوئی حل نہ ہوتا۔ ایک جمہوری سوچ پیدا ہو جاتی تواپنے پڑوسی ملک بھار ت کی طرح ایک کثیر السانی ملک باآسانی چلایا جا سکتا تھا۔ بھارت میں انگلش اور ہندی سرکاری زبانیں ہیں لیکن ان کے علاوہ 22 دیگر بڑی زبانوں کو بھی سرکاری زبانوں کا درجہ حاصل ہے اور ہر صوبے کی اپنی اپنی زبان ہے۔ اب ظاہر ہے کہ رابطہ زبان تو ایک ہی ہو سکتی ہے اور پاکستان میں عام افراد کے لئے اردو ہی ہو سکتی تھی جس سے بر صغیر کے مسلمانوں کو جذباتی لگاؤ رہا ہے۔ بنگالیوں کو بھی باقی پاکستان سے رابطہ کے لئے بنگالی کے علاوہ کوئی دوسری زبان درکار تھی اور وہ صرف اردو ہی ہو سکتی تھی کیونکہ باقی ملک بنگالی تو نہیں بو ل سکتا تھا اور نہ اس کا کوئی جواز بنتا تھا۔

بنگالیوں کی اسی منفی سوچ نے انہیں …… کنویں کا مینڈک …… بنا کر رکھ دیا ہے جو اپنی ہی دنیا میں مست ہیں۔ گو بنگالی زبان ، دنیا کی چھٹی سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے لیکن بہر حال ایک علاقائی ، غیر ترقی یافتہ اور غیر اہم زبان ہے جسے بنگال کے باہر کوئی نہیں جانتا۔ نہ ہی نام نہاد آزادی کے بعد بنگالیوں نے کوئی ایسا تیر مارا ہے کہ وہ پاکستان یا باقی دنیا کے لئے قابل رشک ہوں بلکہ ……موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں …… کے مصداق وہ اپنی …… کھڈ کے چوہے …… بن کر رہ گئے ہیں۔ذرا یہ تصور کریں کہ …… اگر رونا لیلیٰ صرف بنگالی میں گاتی ہوتی …… لتا صرف مرہٹی میں گاتی ہوتی یا …… نور جہاں صرف پنجابی میں گاتی ہوتی …… تو کیا انہیں اپنے صوبوں سے باہر وہ شہرت ملتی جو ان کا مقدر بنی …… یقینا اب بھی بنگال میں بڑے اعلیٰ پائے کے فنکار ہوں گے لیکن دنیا تو دور کی بات ہے ، برصغیر میں بھی انہیں کوئی نہیں جانتا …… اور یہ المیہ ہے اس محدود سوچ اور تنگ نظری کا جو کسی بھی قوم کے لئے ایک روگ ہے۔۔!

یہی پہلا روگ تھاجس نے پاکستان کے وجود کو کھوکھلا کرنا شروع کر دیا تھا جس کا نتیجہ 1971ء میں بنگلہ دیش کے ناجائز وجود کی صورت میں سامنے آیا تھا۔۔!




Urdu Bengali Conflict

Wednesday, 10 December 1947

An Urdu article on the conflict about Urdu-Bengali-Languages in ex-East Pakistan..





World history
Pakistan Media

BBC Urdu Global websiteDW Urdu Global websiteVOA Urdu Global website Dawn, Karachi NewspaperDunya, Lahore NewspaperJang, Karachi NewspaperKhabrain, Lahore NewspaperPakistan, Lahore NewspaperUmmat, Karachi Newspaper ARY News TVDunya News TVExpress News TVGeo News TVGNN News TVNeo News TVPtv News TV
تاریخ پاکستان
ڈکٹیٹروں کے لئے آئینہ
ڈکٹیٹروں کے لئے آئینہ
مشرقی پاکستان میں لسانی فسادات
مشرقی پاکستان میں لسانی فسادات
قائد اعظمؒ ، گورنر جنرل بنے
قائد اعظمؒ ، گورنر جنرل بنے
پاکستان کے لئے امریکی فوجی اور اقتصادی امداد
پاکستان کے لئے امریکی فوجی اور اقتصادی امداد
شناختی کارڈ سکیم
شناختی کارڈ سکیم

مستقل سلسلے
اخبارات
اخبارات
جغرافیائی تاریخ
جغرافیائی تاریخ
سقوط ڈھاکہ
سقوط ڈھاکہ
قائد اعظمؒ
قائد اعظمؒ
بھٹو شہیدؒ
بھٹو شہیدؒ
آمر مردود
آمر مردود
صدر
صدر
وزیر اعظم
وزیر اعظم
آرمی چیف
آرمی چیف
چیف جسٹس
چیف جسٹس
مغلیہ سلطنت
مغلیہ سلطنت
ڈنمارک
ڈنمارک
اٹلی کا سفر
اٹلی کا سفر
حج بیت اللہ
حج بیت اللہ
سیف الملوک
سیف الملوک
شعر و شاعری
شعر و شاعری
ہیلتھ میگزین
ہیلتھ میگزین
فلم میگزین
فلم میگزین


Some useful history sites

World links

Some useful links

Cricket links

IT links

Urdu poetry links

Pakistan
Pakistan

وکی پیڈیا پر پاکستان کی تاریخ


پاکستان کی عالمی درجہ بندی

پاکستان کی معیشت ، سیاست و ریاست اور دیگر اہم موضوعات میں عالمی درجہ بندیوں کی معلومات کو اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے۔ روایتی حریف بھارت اور جڑواں بھائی بنگلہ دیش کی درجہ بندیوں کے علاوہ دنیا کی ایک مثالی جمہوریت ڈنمارک کو بھی موازنے کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ درجہ بندیوں میں چھوٹے اعداد بہترین اور بڑے بدترین ہیں جبکہ تمام رقوم امریکی ڈالروں میں ہیں۔
آبادی (لاکھوں میں)225213726170058
آبادی کی درجہ بندی528113
رقبہ33792130
فی کس آمدن12851877188858439
فی کس آمدن کی درجہ بندی1541391427
ڈالر ریٹ16071846
معیشت کا حجم2233051
زرمبادلہ کے ذخائر (اربوں میں)135844378
زرمبادلہ کے ذخائر کی درجہ بندی7154631
خوشحالی123591073
انسانی ترقی15413313110
تعلیم1281121552
صحت عامہ123591073
فوجی طاقت1044554
دہشت گردی سے متاثر783385
امن و امان کی صورتحال1531411015
مذہبی وابستگی50543145
ایمانداری124861461
جمہوری روایات10553767
پاسپورٹ کی عزت107851015


Pakistan Rupee Exchange Rate