PAK Magazine | An Urdu website on the Pakistan history
Sunday, 21 July 2024, Day: 203, Week: 29

PAK Magazine |  پاک میگزین پر تاریخِ پاکستان ، ایک منفرد انداز میں


پاک میگزین پر تاریخِ پاکستان

Annual
Monthly
Weekly
Daily
Alphabetically

سوموار 7 دسمبر 1970

عوامی لیگ ، مغربی پاکستان میں

عوامی لیگ ، مغربی پاکستان میں
مغربی پاکستان میں
عوامی لیگ کے امیدواروں کی
ضمانتیں بھی ضبط ہو گئی تھیں

پاکستان کا المیہ دیکھیے کہ انتخابات کے نتیجہ میں وجود میں آنے والا ملک انتخابات ہی کے نتیجہ میں دو لخت بھی ہوا۔۔!

1945/56ء کے ہندوستان کے آخری انتخابات میں اگر آل انڈیا مسلم لگ ، مسلمانوں کی سو فیصدی نمائندگی حاصل نہ کرتی تو پاکستان کبھی نہ بنتا۔ اسی طرح سے مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کلین سویپ نہ کرتی تو بنگلہ دیش بھی نہ بنتا۔ گویا پاکستان کے پہلے انتخابات ، بنگلہ دیش کے قیام کا ریفرنڈم ثابت ہوئے تھے۔

مشرقی اور مغربی پاکستان کی سوچ کا فرق

1970ء میں پاکستان کے پہلے انتخابات میں مشرقی اور مغربی پاکستان کی سوچ میں کتنا فرق تھا ، اس کا اندازہ انتخابی نتائج سے لگایا جا سکتا ہے۔ مشرقی پاکستان میں کلین سویپ کرنے والی عوامی لیگ کے مغربی پاکستان میں صرف آٹھ امیدوار تھے جن کی ضمانتیں بھی ضبط ہو گئی تھیں۔ پنجاب سے 3 ، سندھ اور سرحد (کےپی) سے دو دو اور بلوچستان سے ایک امیدوار تھا۔ ان سب کو ملا کر کل 23.937 وؤٹ ملے جو تین ہزار کے قریب فی حلقہ بنتا ہے۔ ریکارڈز کے لیے ان آٹھوں امیدواروں کی کارکردگی حسب ذیل ہے:

کوہاٹ

NA-12 کوہاٹ کے انتخابی حلقہ کے چھ امیدواروں میں سے سب سے کم وؤٹ عوامی لیگ کے امیدوار جمال بادشاہ کو ملے جو کل ڈالے گئے وؤٹون کے ایک فیصد سے بھی کم تھے۔ ان کے 889 وؤٹوں کے مقابلے میں جیتنے والے جمیعت العلمائے اسلام کے امیدوار مولوی نعمت اللہ نے 35 ہزار سے زائد وؤٹ حاصل کیے جبکہ دیگر چاروں امیدواروں نے بھی دس دس ہزار سے زائد وؤٹ حاصل کیے۔ اس حلقہ سے پیپلز پارٹی کا کوئی امیدوار نہیں تھا۔

ڈیرا اسماعیل خان

NW-13 ڈیرا اسماعیل خان ، بڑا تاریخی حلقہ تھا جو مولانا فضل الرحمان کے والد ، مولانا مفتی محمود کا آبائی حلقہ تھا جس میں وہ 45.978 وؤٹ حاصل کر کے جیتے۔ ان سے ہارنے والا کوئی اور نہیں ، ذوالفقار علی بھٹوؒ تھے جنھیں 33.267 وؤٹ ملے۔ اس حلقہ کے کل چھ امیدواروں میں سے عوامی لیگ کے عثمان 2.281 وؤٹ حاصل کر کے 5ویں نمبر پر رہے تھے۔

راولپنڈی

NW-26 راولپنڈی (1) بھی ایک یادگار انتخابی حلقہ تھا جس میں کل سات امیدوار تھے۔ عوامی لیگ کے امیدوار امین الرحمان شمس الدعا چھٹے نمبر پر آئے اور کل 1.504 وؤٹ حاصل کر سکے۔ یہاں سے جیتنے والے پیپلز پارٹی کے امیدوار خورشید حسن میر تھے جنھوں نے 67.997 وؤٹ حاصل کر کے دوسرے نمبر پر آنے والے آزاد امیدوار ائرمارشل ریٹائرڈ اصغر خان کو شکست دی جو صرف 28.209 وؤٹ حاصل کر سکے تھے۔

راولپنڈی

NW-27 راولپنڈی (2) میں کل آٹھ امیدواروں میں سے عوامی لیگ کے امیدوار ایم خورشید نے 6.029 وؤٹ حاصل کر کے 7ویں پوزیشن لی۔ اس حلقہ سے بھی پیپلز پارٹی کے امیدوار ملک ایم جعفر نے کامیابی سمیٹی جنھیں 64.847 وؤٹ ملے۔ ان کے قریب ترین حریف کو 18 ہزار وؤٹ ملے تھے۔

سیالکوٹ

NW-75 سیالکوٹ (2) سے بھی آٹھ امیدواروں نے مقابلہ کیا جن میں سے پیپلز پارٹی کے امیدوار ، مولانا کوثر نیازی نے 96.132 وؤٹ حاصل کرتے ہوئے پہلی پوزیشن حاصل کی۔ ان کے قریب ترین حریف نے 26 ہزار وؤٹ لیے جبکہ عوامی لیگ کے امیدوار ایم یاسین خان کو صرف 556 وؤٹ مل سکے اور وہ آخری نمبر پر تھے۔

نوابشاہ

NW-112 نوابشاہ (1) میں کل 5 امیدوار تھے جن میں سے سابق صدر آصف علی زرداری کے والد ، حاکم علی زرداری ، پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر 63.845 وؤٹ حاصل کر کے پہلے نمبر پر رہے جبکہ عوامی لیگ کے امیدوار قاضی فیض محمد ، 2.007 وؤٹ حاصل کر کے 5ویں اور آخری نمبر پر رہے تھے۔

کراچی

NW-131 کراچی (4) میں سات امیدواروں نے مقابلہ کیا۔ جیتنے والے امیدوار جماعت اسلامی کے محمود اعظم فاروقی تھے جنھوں نے 48.785 وؤٹ حاصل کیے۔ ان کے مخالف متحدہ جمیعت العلمائے پاکستان کے امیدوار مولانا محمد شفیع اوکاڑوی ، صرف 48 وؤٹوں کے فرق سے دوسرے نمبر پر رہے۔ عوامی لیگ کے امیدوار شیخ منظور الحق ، 5.706 وؤٹ لے کر چوتھے نمبر پر رہے۔ اس حلقہ سے پیپلز پارٹی کا کوئی امیدوار نہیں تھا جن کا کراچی میں وؤٹ بینک بھی نہیں تھا۔ اس وقت کراچی کی سیاست ایم کیو ایم کی بجائے مذہبی جماعتوں کے گرد گھومتی تھی۔

کوئٹہ

NW-136 کوئٹہ (2) سے آٹھ امیدوار مد مقابل تھے جن میں نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) کے امیدوار سردار خیر بخش خان مری نے 106.913 وؤٹ لے کر کامیابی حاصل کی۔ عوامی لیگ کے امیدوار میر ایم خان رئیسانی نے 4.965 وؤٹ لے کر چوتھی پوزیشن لی جبکہ میر تاج خان جمالی (کونسل مسلم لیگ) اور مولانا عبدالغفور ہوتی (جمیعت العلمائے اسلام) ، بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبروں پر آئے۔ اس حلقہ سے بھی پیپلز پارٹی کا کوئی امیدوار نہیں تھا۔

عوامی لیگ کی مشرقی پاکستان میں شکست

عوامی لیگ نے مشرقی پاکستان کی قومی اسمبلی کی 162 میں سے صرف دو نشستیں کھوئی تھیں اور ان دونوں امیدواروں کے لیے بنگلہ دیش کی زمین تنگ کر دی تھی جس کے نتیجہ میں وہ مستقل طور پر پاکستان منتقل ہو گئے تھے۔ ریکارڈز کے لیے ان کا ذکر بھی ہو جائے:

میمن سنگھ

NE-83 میمن سنگھ (4) میں پاکستان ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ اور مشرقی پاکستان کے سابق وزیراعلیٰ نورالامین نے 65.115 وؤٹ حاصل کر کے عوامی لیگ کے رفیق الدین بھایان کو شکست دی جنھوں نے 15.410 وؤٹ حاصل کیے۔ اس حلقہ میں تیسرا امیدوار ایک علاقائی بنگالی پارٹی کا تھا۔

نورالامین کو سقوطِ ڈھاکہ کے بعد مشرقی پاکستان چھوڑنا پڑا۔ 7 دسمبر 1971ء کو جنگ کے دوران صدر جنرل یحییٰ خان نے انھیں عارضی حکومت کا وزیراعظم بنایا جبکہ بھٹو صاحب کو نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ بنایا گیا۔ بھٹو حکومت نے نورالامین کو پاکستان سے محبت کے صلہ میں نائب صدر بنایا اور ان کے انتقال کے بعد احاطہ قائدِاعظمؒ میں دفن بھی کیا گیا تھا۔

چٹا گانگ

NE-162 چٹاگانگ ہلز سے بدھ مت قبیلہ کے سربراہ راجہ تری دیو رائے نے 91.449 وؤٹ لے کر عوامی لیگ کے چارو بھکشا چکما کو شکست دی جنھوں نے 25.114 وؤٹ حاصل کیے تھے۔

راجہ تری دیو رائے کو بھی اپنا قبیلہ اور آبائی وطن مشرقی پاکستان چھوڑنا پڑا۔ ان کی اس قربانی کے اعتراف کے طور پر صدر بھٹو ، بذاتِ خود ان کا استقبال کرنے کے لیے ایرپورٹ پر گئے اور انھیں تاحیات وزیر کا عہدہ تفویض ہوا۔ بدھ مت سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے واحد وزیر رہے ہیں۔

مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کی جیت





Awami League in West Pakistan

Monday, 7 December 1970

Awami League had clean sweep in East Pakistan (now Bangladesh), but it lost heavily in the West Pakistan..




پاکستان کی تاریخ پر ایک منفرد ویب سائٹ

پاک میگزین ، پاکستان کی سیاسی تاریخ پر ایک منفرد ویب سائٹ ہے جس پر سال بسال اہم ترین تاریخی واقعات کے علاوہ اہم شخصیات پر تاریخی اور مستند معلومات پر مبنی مخصوص صفحات بھی ترتیب دیے گئے ہیں جہاں تحریروتصویر ، گرافک ، نقشہ جات ، ویڈیو ، اعدادوشمار اور دیگر متعلقہ مواد کی صورت میں حقائق کو محفوظ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

2017ء میں شروع ہونے والا یہ عظیم الشان سلسلہ، اپنی تکمیل تک جاری و ساری رہے گا، ان شاءاللہ



پاکستان کے اہم تاریخی موضوعات



تاریخِ پاکستان کی اہم ترین شخصیات



تاریخِ پاکستان کے اہم ترین سنگِ میل



پاکستان کی اہم معلومات

Pakistan

چند مفید بیرونی لنکس



پاکستان فلم میگزین

پاک میگزین" کے سب ڈومین کے طور پر "پاکستان فلم میگزین"، پاکستانی فلمی تاریخ، فلموں، فنکاروں اور فلمی گیتوں پر انٹرنیٹ کی تاریخ کی پہلی اور سب سے بڑی ویب سائٹ ہے جو 3 مئی 2000ء سے مسلسل اپ ڈیٹ ہورہی ہے۔


پاکستانی فلموں کے 75 سال …… فلمی ٹائم لائن …… اداکاروں کی ٹائم لائن …… گیتوں کی ٹائم لائن …… پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد …… پاکستان کی پہلی پنجابی فلم پھیرے …… پاکستان کی فلمی زبانیں …… تاریخی فلمیں …… لوک فلمیں …… عید کی فلمیں …… جوبلی فلمیں …… پاکستان کے فلم سٹوڈیوز …… سینما گھر …… فلمی ایوارڈز …… بھٹو اور پاکستانی فلمیں …… لاہور کی فلمی تاریخ …… پنجابی فلموں کی تاریخ …… برصغیر کی پہلی پنجابی فلم …… فنکاروں کی تقسیم ……

پاک میگزین کی پرانی ویب سائٹس

"پاک میگزین" پر گزشتہ پچیس برسوں میں مختلف موضوعات پر مستقل اہمیت کی حامل متعدد معلوماتی ویب سائٹس بنائی گئیں جو موبائل سکرین پر پڑھنا مشکل ہے لیکن انھیں موبائل ورژن پر منتقل کرنا بھی آسان نہیں، اس لیے انھیں ڈیسک ٹاپ ورژن کی صورت ہی میں محفوظ کیا گیا ہے۔

پاک میگزین کا تعارف

"پاک میگزین" کا آغاز 1999ء میں ہوا جس کا بنیادی مقصد پاکستان کے بارے میں اہم معلومات اور تاریخی حقائق کو آن لائن محفوظ کرنا ہے۔

Old site mazhar.dk

یہ تاریخ ساز ویب سائٹ، ایک انفرادی کاوش ہے جو 2002ء سے mazhar.dk کی صورت میں مختلف موضوعات پر معلومات کا ایک گلدستہ ثابت ہوئی تھی۔

اس دوران، 2011ء میں میڈیا کے لیے akhbarat.com اور 2016ء میں فلم کے لیے pakfilms.net کی الگ الگ ویب سائٹس بھی بنائی گئیں لیکن 23 مارچ 2017ء کو انھیں موجودہ اور مستقل ڈومین pakmag.net میں ضم کیا گیا جس نے "پاک میگزین" کی شکل اختیار کر لی تھی۔

سالِ رواں یعنی 2024ء کا سال، "پاک میگزین" کی مسلسل آن لائن اشاعت کا 25واں سلور جوبلی سال ہے۔




PAK Magazine is an individual effort to compile and preserve the Pakistan history online.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes and therefor, I am not responsible for the content of any external site.