PAK Magazine
Saturday, 24 September 2022, Week: 38

Pakistan Chronological History
Annual
Annual
Monthly
Monthly
Weekly
Weekly
Daily
Daily
Alphabetically
Alphabetically


2005
جسٹس افتخار محمد چوہدری
جسٹس افتخار محمد چوہدری
1978
بھٹو کے خلاف وہائٹ پیپر
بھٹو کے خلاف وہائٹ پیپر
1979
ذوالفقار علی بھٹوؒ کو پھانسی دی گئی
ذوالفقار علی بھٹوؒ کو پھانسی دی گئی
1962
1962ء کا معطل آئین
1962ء کا معطل آئین
1957
چندریگر ، وزیر اعظم بنے
چندریگر ، وزیر اعظم بنے


1949

Pakistan Muslim League

Saturday, 19 February 1949

All India Muslim League was re-named to Pakistan Muslim Leauge and its first President was Chodhary Khaliquzzaman..

پاکستان مسلم لیگ

ہفتہ 19 فروری 1949
پاکستان مسلم لیگ
پاکستان مسلم لیگ

پاکستان کی خالق جماعت آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام ، 30 دسمبر 1906ء کو عمل میں آیا تھا جس کا بنیادی مقصد برصغیر کے مسلمانوں کے مفادات کا تحفظ کرنا تھا۔

پاکستان مسلم لیگ کا پہلا صدر

قیام پاکستان کے بعد 14 دسمبر 1947ء کو کراچی میں گورنرجنرل قائد اعظم محمدعلی جناحؒ کی صدارت میں ایک خصوصی اجلاس ہوا جس میں آل انڈیا مسلم لیگ اور پاکستان مسلم لیگ کو تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن اس فیصلے ​پر 19 فروری 1949ء سے پہلے عملدرآمد نہ ہوسکا تھا۔

پاکستان مسلم لیگ نے چوہدری خلیق الزمان کو پہلا بلا مقابلہ صدر منتخب کیا تھا لیکن ڈیڑھ سال بعد ہی یعنی 13 اگست 1950ء کو چوہدری صاحب نے استعفیٰ دے دیا تھا۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ اپنے پہلے صدر کی رخصتی پر مسلم لیگی حلقوں نے "یوم نجات" منایا تھا۔۔!

مسلم لیگ کا "یوم نجات"

یہ "یوم نجات" اصل میں مسلم لیگ میں پہلا شب خون تھا جب اپنے ہی پارٹی صدر کا تختہ الٹا گیا تھا۔ پارٹی کے آئین کے تحت گورنر جنرل یا وزیراعظم کے عہدوں پر کوئی پارٹی صدر نامزد نہیں ہوسکتا تھا لیکن قائداعظمؒ کے انتقال کے بعد وزیراعظم لیاقت علی خان ، جو محلاتی سازشوں کے ماہر اور اختیارت کی ہوس میں مبتلا تھے ، انھوں نے آئین میں ترمیم کی اور پہلے صدر کا تختہ الٹ کر مسلم لیگ کے بلا مقابلہ صدر "منتخب" ہو گئے تھے۔ ان کی ہلاکت کے بعد خواجہ ناظم الدین بھی بلا مقابلہ صدر بنے لیکن پہلے کٹھ پتلی وزیراعظم محمدعلی بوگرا کو صدر مسلم لیگ بننے کے لیے مدمقابل کو ہرانا پڑا تھا۔

مسلم لیگ کی شکست و ریخت

پاکستان مسلم لیگ کے آخری متفقہ صدر سردار عبدالرب نشتر تھے جنھیں 29 جنوری 1956ء کو اس عہدہ پر منتخب کیا گیا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب مسلم لیگ کے بطن سے عوامی لیگ اور ری پبلکن پارٹی وجود میں آ چکی تھیں اور مسلم لیگ ، 1954ء کے مشرقی پاکستان کے صوبائی انتخابات میں بری طرح سے شکست کھانے کے بعد اپنا وجود کھو چکی تھی۔ 1958ء میں مارشل لاء کے نفاذ کے بعد سیاسی پارٹیاں ویسے بھی ممنوع ہوگئی تھیں۔

جب مسلم لیگ ہائی جیک ہوئی

دلچسپ بات یہ ہے کہ مسلم لیگ کو دوبارہ زندہ کرنے والے بھی جنرل ایوب خان ہی تھے جنھوں نے حکومت پر قبضہ کرتے ہی تمام سیاسی پارٹیوں اور سرگرمیوں کو معطل کر دیا تھا۔ 1965ء کے صدارتی انتخابات کے لیے جنرل ایوب خان نے مسلم لیگ کو ہائی جیک کیا تھا اور "کنونشن مسلم لیگ" کے نام سے ایک سرکاری پارٹی بنائی تھی جس کے خود سربراہ اور ان کے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹوؒ ، جنرل سیکرٹری نامزد ہوئے تھے۔

ان صدارتی انتخابات میں مخالف پارٹی محترمہ فاطمہ جناح کی قیادت میں "کونسل مسلم لیگ" تھی لیکن 1970ء کے انتخابات میں یہ دونوں مسلم لیگیں بری طرح سے ہار گئی تھیں اور ان کے مقابلے میں "مسلم لیگ ، قیوم گروپ" تیسری بڑی پارٹی بن کر ابھری تھی لیکن بھٹو صاحب کی مفاہمت کی سیاست نے ان تینوں پارٹیوں کو پیپلز پارٹی کا حلیف بنا کر ختم کر دیا تھا۔

مسلم لیگ کی حیات نو

1977ء کے انتخابات میں مسلم لیگ ، نو جماعتوں کے اتحاد کا ایک حصہ تھی اور اس کی حیثیت ایک علاقائی جماعت کی سی تھی جس کے سربراہ سندھ کے ایک روحانی پیشوا اور اسٹبلشمنٹ کے مہرے پیر صاحب پگارا تھے۔

جنرل ضیاع مردود نے پیپلز پارٹی کے خوف سے 1985ء میں غیرجماعتی بنیادوں پر انتخابات کروائے اور جو ہم خیال ممبران "منتخب" ہوئے تھے ، انھیں جبراً پاکستان مسلم لیگ کی صورت میں دوبارہ منظم کیا گیا تھا۔ اصل میں یہی موجودہ مسلم لیگ کا احیاء تھا۔ آج اصل مسلم لیگ صرف نواز لیگ ہے ، باقی سب ہیر پھیر ہے۔

2002ء کے انتخابات میں ایک اور فوجی آمر جنرل پرویز مشرف نے پیپلز پارٹی اور نون لیگ کا زور توڑنے کے لیے مسلم لیگ کی "قاف لیگ" کو کامیاب کروا کر حکومت میں شامل کیا لیکن اس کے جاتے ہی اس غبارے میں سے بھی ہوا نکل گئی تھی۔

قیام پاکستان کے بعد اس پارٹی کے کئی ایک حصے ہوئے جن میں عوامی لیگ ، جناح مسلم لیگ ، کنونشن مسلم لیگ ، کونسل مسلم لیگ ، قیوم لیگ ، نون لیگ ، قاف لیگ ، ضیاع لیگ ، فنکشنل لیگ ، جونیجو لیگ ، پگارا لیگ، عوامی مسلم لیگ ، آل پاکستان مسلم لیگ وغیرہ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔







1971
اُدھر تم  ، اِدھر ہم
اُدھر تم ، اِدھر ہم
1971
شیخ مجیب الرحمن کا بنگلہ دیش کے قیام کا اعلان
شیخ مجیب الرحمن کا بنگلہ دیش کے قیام کا اعلان
1973
1973ء کا مستقل آئین
1973ء کا مستقل آئین
1974
جنگی قیدیوں کی واپسی
جنگی قیدیوں کی واپسی
1955
ون یونٹ کا قیام
ون یونٹ کا قیام

تاریخ پاکستان

پاک میگزین ، پاکستانی تاریخ پر اردو میں ایک منفرد ویب سائٹ ہے جس پر اہم تاریخی واقعات کو بتاریخ سالانہ ، ماہانہ ، ہفتہ وارانہ ، روزانہ اور حروفانہ ترتیب سے چند کلکس کے نیچے پیش کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں اہم ترین واقعات اور شخصیات پر تاریخی اور مستند معلومات پر مخصوص صفحات ترتیب دیے گئے ہیں جہاں تصویر و تحریر ، ویڈیو اور دیگر متعلقہ مواد کی صورت میں محفوظ کیا گیا ہے۔ یہ سلسلہ ایک انفرادی کاوش اور فارغ اوقات کا بہترین مشغلہ ہے جو اپنی تکمیل تک جاری و ساری رہے گا ، ان شاء اللہ۔۔!



تاریخ پاکستان ، اہم موضوعات
تحریک پاکستان
تحریک پاکستان
جغرافیائی تاریخ
جغرافیائی تاریخ
سقوط ڈھاکہ
سقوط ڈھاکہ
شہ سرخیاں
شہ سرخیاں
سیاسی ڈائری
سیاسی ڈائری
قائد اعظمؒ
قائد اعظمؒ
ذوالفقار علی بھٹوؒ
ذوالفقار علی بھٹوؒ
بے نظیر بھٹو
بے نظیر بھٹو
نواز شریف
نواز شریف
عمران خان
عمران خان
سکندرمرزا
سکندرمرزا
جنرل ایوب
جنرل ایوب
جنرل یحییٰ
جنرل یحییٰ
جنرل ضیاع
جنرل ضیاع
جنرل مشرف
جنرل مشرف
صدر
صدر
وزیر اعظم
وزیر اعظم
آرمی چیف
آرمی چیف
چیف جسٹس
چیف جسٹس
انتخابات
انتخابات
امریکی امداد
امریکی امداد
مغلیہ سلطنت
مغلیہ سلطنت
ڈنمارک
ڈنمارک
اٹلی کا سفر
اٹلی کا سفر
حج بیت اللہ
حج بیت اللہ
سیف الملوک
سیف الملوک
شعر و شاعری
شعر و شاعری
ہیلتھ میگزین
ہیلتھ میگزین
فلم میگزین
فلم میگزین
میڈیا لنکس
میڈیا لنکس

پاکستان کے بارے میں اہم معلومات

Pakistan

چند اہم بیرونی لنکس


پاکستان کی فلمی تاریخ

پاکستانی فلموں ، فنکاروں اور فلمی گیتوں پر ایک منفرد اور معلوماتی سلسلہ

ریاض شاہد
ریاض شاہد
مشتاق علی
مشتاق علی
رنگیلا
رنگیلا
خلیل احمد
خلیل احمد
ملکہ ترنم نور جہاں
ملکہ ترنم نور جہاں


PAK Magazine is an individual effort to compile and preserve the Pakistan's political, film and media history.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes, and therefor, I am not responsible for the content of any external site.