PAK Magazine
Saturday, 03 December 2022, Week: 48

Pakistan Chronological History
Annual
Annual
Monthly
Monthly
Weekly
Weekly
Daily
Daily
Alphabetically
Alphabetically


1968
تربیلا ڈیم
تربیلا ڈیم
2020
پی آئی اے پر پابندی
پی آئی اے پر پابندی
1978
جنرل ضیاع صدر بنا
جنرل ضیاع صدر بنا
1974
حمودالرحمان کمیشن رپورٹ
حمودالرحمان کمیشن رپورٹ
1960
بنیادی جمہوریتیں
بنیادی جمہوریتیں


1947

Kashmir issue

Friday, 24 Otober 1947

Kashmir is a disputed area between Pakistan and India..

مسئلہ کشمیر

جمعتہ المبارک 24 اکتوبر 1947
مسئلہ کشمیر

24 اکتوبر 1947ء کو آزاد کشمیر حکومت کا قیام عمل میں آیا تھا جس کے صرف دو دن بعد 26 اکتوبر 1947ء کو مہاراجہ کشمیر نے ریاست کشمیر کا الحاق بھارت کے ساتھ کر دیا تھا۔۔!

3 جون 1947ء کو تقسیم ہند کے منصوبے کے مطابق مسلم اکثریت کے علاقے پاکستان اور ہندو اکثریت کے علاقے بھارت میں شامل ہونا تھے لیکن ریاستوں کے بارے میں ایسا کوئی منصوبہ نہیں تھا کہ وہ مذہب کی بنیاد پر تقسیم ہوں گی۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ ہندوستان کے گیارہ صوبے تو براہ راست برطانوی اختیار میں تھے لیکن 562 ریاستیں اندرونی طور پر خودمختار تھیں جنھیں یہ اختیار حاصل تھا کہ وہ چاہیں تو آزاد رہیں یا پاکستان اور بھارت میں سے کسی ایک میں ضم ہو جائیں۔

آزادی کشمیر کا آغاز

سردار عبدالقیوم خان

قیام پاکستان کے بعد درجن بھر ریاستیں ، پاکستان میں شامل ہوئی تھیں لیکن 70فیصد مسلم اکثریتی آبادی کی ریاست کشمیر کے ہندو مہاراجہ ہری سنگھ نے حیل و حجت سے کام لیا جس سے پاکستان کا پیمانہ صبر لبریز ہو گیا۔ اپنی جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کی خواہش تھی کہ کشمیر ان کے پاس ہو جبکہ 95فیصد کشمیری مسلمانوں کو بھی پاکستان میں شامل ہونے کی امید تھی۔

28 جولائی 1947ء کو ڈوگرا ریاست کے خلاف آزادی کی مسلح تحریک شروع ہوگئی جس میں زیادہ تر قبائلی علاقوں کے جنگجو تھے جنھیں پاک فوج کا بھرپور غیرسرکاری تعاون حاصل تھا۔ روایت ہے کہ سردارعبدالقیوم خان نے اس دن تین ڈوگرا سپاہی مار کر جنگ آزادی کا آغاز کیا تھا۔ جموں کے مغربی اضلاع میں باغی افواج کو مسلم کانفرنس کے رہنما سردار ابراہیم کی قیادت میں منظم کیا گیا جنھوں نے 22 اکتوبر 1947ء تک ریاست کے بیشتر مغربی حصوں پر قبضہ کرلیا تھا۔ 24 اکتوبر کو آزاد کشمیر کی عارضی حکومت قائم کردی گئی تھی۔

جنرل گریسی کا قائداعظمؒ کا حکم ماننے سے انکار

مجاہدین کی پے درپے کامیابیوں سے ڈوگرہ افواج سری نگر تک محدود ہوکر رہ گئی تھیں۔ خود کو بچانے کے لیے مہاراجہ ہری سنگھ نے بھارت کے ساتھ الحاق کی درخواست کی تھی۔ 26 اکتوبر 1947ء کو یہ معاہدہ ہوا اور اگلے ہی دن بھارت نے اپنی فوج ، وادی میں اتار دی تھی۔

قائد اعظمؒ نے کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق اور بھارتی فوجی مداخلت کو مسترد کرتے ہوئے قائم مقام آرمی چیف جنرل گریسی کو فوری فوجی کاروائی کا حکم دے دیا تھا لیکن اس نے یہ حکم ماننے کے بجائے پاک بھارت افواج کے مشترکہ سپریم کمانڈر فیلڈ مارشل جنرل Claude Auchinleck کو شکایت کردی تھی۔ وہ دوسرے ہی دن لاہور آئے تھے اور قائداعظمؒ کو اپنا یہ فیصلہ واپس لینے پر مجبور کردیا تھا۔ جنرل آوکن لیک کا موقف تھا کہ ان کی کمانڈ میں دونوں افواج کیسے لڑیں گی اور اگر ایسا ہوا بھی تو پاک فوج وسائل کی کمیابی کی وجہ سے کامیاب نہ ہوسکے گی۔ اس کے باوجود پاک فوج درپردہ کشمیر کے مجاہدین کی مدد کرتی رہی۔

قائداعظمؒ اور کشمیر

15 ستمبر 1947ء کو ریاست جوناگڑھ نے پاکستان سے الحاق کا اعلان کیا جو قائداعظمؒ نے قبول کرلیا تھا۔ انھیں یہ بھی توقع تھی کہ بھارت کے جنوب میں واقع ریاست حیدرآباد کے علاوہ شمال کی ریاست کشمیر بھی پاکستان میں شامل ہوجائیں گی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ مبینہ طور پر جولائی 1947ء میں قائداعظمؒ نے مہاراجہ کشمیر کو پاکستان میں شامل ہونے کی پرکشش دعوت دی تھی لیکن انھوں نے انکار کردیا تھا۔

یکم نومبر 1947ء کو سابق وائسرائے ہند لارڈ ماؤنٹ بیٹن (جو اس وقت بھارت کے گورنر جنرل تھے) کی لاہور میں گورنرجنرل پاکستان قائداعظمؒ کے ساتھ ایک ملاقات ہوئی تھی جس میں بتایا جاتا ہے کہ انھوں نے تجویز پیش کی تھی کہ متنازعہ ریاستوں یعنی حیدرآباد دکن ، جوناگڑھ اور کشمیر میں غیرجانبدارانہ استصواب رائے کروایا جائے کہ وہ کن دو ممالک کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں لیکن قائداعظمؒ نے اس تجویز کو مسترد کردیا تھا۔

مسئلہ کشمیر ، اقوام متحدہ میں

یکم جنوری 1948ء کو بھارت کے وزیراعظم نہرو ، مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں لے گئے تھے۔ انھیں توقع تھی کہ اقوام عالم ، بھارت اور کشمیر کے الحاق کی قانونی حیثیت کو تسلیم کرے گا اور پاکستان کو جارح قرار دے گا۔ 21 اپریل 1948ء کو کشمیر پر ایک قرارداد منظور ہوئی تھی جس میں یہ کہا گیا تھا کہ پاکستان اور بھارت اپنی اپنی فوجوں یا مسلح گروپوں کو کشمیر سے نکالیں تو وہاں استصواب رائے ہوسکتا ہے۔ یہ شرط دونوں فریقین ماننے کو کبھی تیار نہیں ہوئے۔ یہ کامیابی البتہ ضرور ہوئی تھی کہ یکم جنوری 1949ء کو کشمیر میں جنگ بندی ہو گئی تھی۔

بھارتی آئین کا آرٹیکل 370

26 جنوری 1950ء کو منظور ہونے والے بھارتی آئین میں کشمیر کی خصوصی حیثیت تھی جس کے آرٹیکل 370 میں یہ کہا گیا تھا کہ

    یہ آرٹیکل واضح کرتا ہے کہ ریاست کو ہندوستانی پارلیمنٹ کے قوانین کے اطلاق میں متفق ہونا چاہیے، سوائے ان کے جو مواصلات، دفاع اور خارجہ امور سے متعلق ہوں۔ مرکزی حکومت ریاست کے نظم و نسق کے کسی دوسرے شعبے میں مداخلت کرنے کے اپنے اختیار کا استعمال نہیں کر سکتی۔

جنوری 1951ء میں دولت مشترکہ کے سالانہ اجلاس میں بھی کشمیر کے مسئلہ پر برطانیہ نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ کشمیر میں پاک بھارت مشترکہ فوج کی نگرانی میں استصوائے رائے کروایا جائے۔ پاکستان نے اس تجویز کو مان لیا تھا لیکن بھارت نے رد کردیا تھا۔

نہرو کا یوٹرن

24 جولائی 1952 کو بھارتی وزیر اعظم نہرو اور کشمیر کے وزیراعلیٰ شیخ محمدعبداللہ کے درمیان ایک ملاقات میں اس آئینی شق کا اطلاق ہوا تھا لیکن 1953ء میں شیخ صاحب کا ضمیر جاگا اور انھوں نے بھارتی حکومت سے بغاوت کردی جس پر انھیں وزارت اعلیٰ کے عہدے سے برطرف کر کے جیل میں ڈال دیا گیا۔ اسی سال جولائی میں بھارتی وزیراعظم جواہر لال نہرو نے پینترا بدلا اور کشمیر میں ریفرنڈم کروانے پر رضامندی ظاہر کردی۔ پاکستان کی یہ خوشی مختصر رہی کیونکہ 1954ء میں جب امریکہ نے ایک طویل المدتی معاہدے کے تحت پاکستان کو بھاری فوجی اور اقتصادی امداد دینا شروع کی تو نہرو نے یوٹرن لے لیا اور کشمیر میں ریفرنڈم کروانے سے صاف مکر گیا تھا۔

پاک بھارت کشمیر مذاکرات

1962/63 میں پاکستان اور بھارت کے مابین کشمیر پر مذاکرات کے چھ راؤنڈ ہوئے تھے جن کی قیادت بھارت سے وزیرخارجہ سورن سنگھ اور پاکستان سے وزیرخارجہ ذوالفقار علی بھٹوؒ کررہے تھے۔ 1965ء میں پاکستان نے بزور کشمیر آزاد کروانے کی ناکام کوشش کی۔ 1971ء کی جنگ میں پاکستان کی شکست سے مایوس ہو کر کشمیری لیڈر شیخ عبداللہ نے 1975ء میں بھارت سے الحاق کرلیا تھا۔ 1980ء کی دھائی سے مقبوضہ کشمیر میں بڑے پیمانے پر جنگجو کاروائیاں ہوئیں لیکن بھارت نے ان پر قابو پالیا۔ 1984ء میں بھارت نے سیاچین گلیشئر پر بھی قبضہ کرلیا تھا۔ 1999ء میں کارگل کی جنگ بھی کشمیر کا حل نہ بن سکی۔ 2020ء میں بھارت نے آرٹیکل 370 ختم کرکے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا اور ریاست کو بھارتی یونین میں ضم کرلیا تھا ، تب سے اب تک سکون ہے اور بظاہر مسئلہ کشمیر ختم ہوچکا ہے۔

کشمیر کی تاریخ

افغان حکمران نادر شاہ درانی نے 1752ء میں کشمیر کو فتح کیا۔ 1819ء میں پنجاب کے مہاراجہ رنجیت سنگھ نے کشمیر پر قبضہ کیا۔ جموں کے ڈوگرا خاندان کے راجہ گلاب سنگھ نے 1840ء میں کشمیر پر قبضہ کیا۔ 1946ء میں انگریزوں نے کشمیر کو فتح کیا لیکن گلاب سنگھ کے ہاتھوں بیچ دیا تھا جس کا ڈوگرا خاندان 1947ء تک کشمیر کا حاکم رہا۔

ریاست کشمیر ، ایک مسلم اکثریتی علاقہ ہے جہاں 1941 کی مردم شماری کے مطابق ریاست کشمیر کی آبادی میں 77 فیصد مسلمان، 20 فیصد ہندو اور 3 فیصد دیگر (سکھ اور بدہست) تھی۔ مسلمان صرف وادی کشمیر میں 95 فیصد ہیں جبکہ جموں اور لداخ میں بالترتیب ہندوؤں اور بدھ مت کے پیروکاروں کی اکثریت ہے۔ پاکستان کے کشمیر اور گلگت و بلتستان میں البتہ مسلمان سو فیصدی ہیں۔ اسوقت ریاست کشمیر کا بھارت کے پاس 55 فیصد ، پاکستان کے پاس 30 فیصد اور چین کے پاس 15 فیصد علاقہ ہے۔

کشمیر کا ایک دلکش منظر





Kashmir issue (video)

Credit: travelfilmarchive

مہاراجہ ہری سنگھ پر ایک دستاویزی فلم

Credit: British Movietone

وزیر اعظم لیاقت علی خان نے لندن میں میڈیا سے کشمیر موضوع پر بات کی اور دولت مشترکہ کے سربراہان کا شکریہ ادا کیا جو اس مسئلہ کے حل میں سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہے تھے۔ انہوں نے علاقائی امن کو مسئلہ کشمیر کے حل سے نتھی کیا تھا۔

1972
کراچی کا ایٹمی بجلی گھر
کراچی کا ایٹمی بجلی گھر
1971
راشد منہاس شہید
راشد منہاس شہید
1954
قومی ترانہ
قومی ترانہ
1947
تقسیم ہند کا منصوبہ
تقسیم ہند کا منصوبہ
1948
کراچی میں ہندوکش فسادات
کراچی میں ہندوکش فسادات

تاریخ پاکستان

پاک میگزین ، پاکستانی تاریخ پر اردو میں ایک منفرد ویب سائٹ ہے جس پر اہم تاریخی واقعات کو بتاریخ سالانہ ، ماہانہ ، ہفتہ وارانہ ، روزانہ اور حروفانہ ترتیب سے چند کلکس کے نیچے پیش کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں اہم ترین واقعات اور شخصیات پر تاریخی اور مستند معلومات پر مخصوص صفحات ترتیب دیے گئے ہیں جہاں تصویر و تحریر ، ویڈیو اور دیگر متعلقہ مواد کی صورت میں محفوظ کیا گیا ہے۔ یہ سلسلہ ایک انفرادی کاوش اور فارغ اوقات کا بہترین مشغلہ ہے جو اپنی تکمیل تک جاری و ساری رہے گا ، ان شاء اللہ۔۔!



تاریخ پاکستان ، اہم موضوعات
تحریک پاکستان
تحریک پاکستان
جغرافیائی تاریخ
جغرافیائی تاریخ
سقوط ڈھاکہ
سقوط ڈھاکہ
شہ سرخیاں
شہ سرخیاں
سیاسی ڈائری
سیاسی ڈائری
قائد اعظمؒ
قائد اعظمؒ
ذوالفقار علی بھٹوؒ
ذوالفقار علی بھٹوؒ
بے نظیر بھٹو
بے نظیر بھٹو
نواز شریف
نواز شریف
عمران خان
عمران خان
سکندرمرزا
سکندرمرزا
جنرل ایوب
جنرل ایوب
جنرل یحییٰ
جنرل یحییٰ
جنرل ضیاع
جنرل ضیاع
جنرل مشرف
جنرل مشرف
صدر
صدر
وزیر اعظم
وزیر اعظم
آرمی چیف
آرمی چیف
چیف جسٹس
چیف جسٹس
انتخابات
انتخابات
امریکی امداد
امریکی امداد
مغلیہ سلطنت
مغلیہ سلطنت
ڈنمارک
ڈنمارک
اٹلی کا سفر
اٹلی کا سفر
حج بیت اللہ
حج بیت اللہ
سیف الملوک
سیف الملوک
شعر و شاعری
شعر و شاعری
ہیلتھ میگزین
ہیلتھ میگزین
فلم میگزین
فلم میگزین
میڈیا لنکس
میڈیا لنکس

پاکستان کے بارے میں اہم معلومات

Pakistan

چند اہم بیرونی لنکس


پاکستان کی فلمی تاریخ

پاکستانی فلموں ، فنکاروں اور فلمی گیتوں پر ایک منفرد اور معلوماتی سلسلہ

الطاف حسین
الطاف حسین
صہبااختر
صہبااختر
ایم اشرف
ایم اشرف
رحمان ورما
رحمان ورما
دلجیت مرزا
دلجیت مرزا


PAK Magazine is an individual effort to compile and preserve the Pakistan's political, film and media history.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes, and therefor, I am not responsible for the content of any external site.