PAK Magazine | An Urdu website on the Pakistan history
Thursday, 13 June 2024, Day: 165, Week: 24

PAK Magazine |  پاک میگزین پر تاریخِ پاکستان ، ایک منفرد انداز میں


پاک میگزین پر تاریخِ پاکستان

Annual
Monthly
Weekly
Daily
Alphabetically

بدھ 21 مارچ 1979

احمد رضا قصوری کا مطالبہ

احمد رضا قصوری کا مطالبہ
بھٹو کے قاتل ، مرنے سے پہلے
بھٹو کی بےگناہی کا ثبوت
لے کر مررہے ہیں اور
یہی قدرت اور تاریخ کا انصاف ہے!

بھٹو کی جان بخشی کے لیے احمدرضا قصوری کی تین شرائط۔۔!

21 مارچ 1979ء کے پاکستانی اخبارات میں بھٹو کے قاتل، احمدرضا قصوری کا ایک بیان شائع ہوا جس میں اس نے کہا کہ اگر بھٹو کو پھانسی نہ دی گئی تو میں اور میری ماں، ایوانِ صدر کے سامنے مظاہرہ کریں گے۔ اس نے بھٹو کی جان بخشی کے لیے مندرجہ ذیل تین شرائط پیش کیں:
  • فرانس، پاکستان کو ایٹمی پلانٹ دے
  • برطانیہ، آئرلینڈ کو آزاد کرے
  • برطانیہ، تیس لاکھ پاکستانیوں کو قبول کرے

ان تین مطالبات کے علاوہ موصوف نے یہ بیان بھی دیا کہ بھٹو، ایک شیطان صفت انسان ہے، اگر اس کو چھوڑا گیا تو رہائی کے بعد مجیب کا کردار کرتے ہوئے "سندھو دیش" کا نعرہ بلند کرے گا۔

فرانس کا ایٹمی پلانٹ

یاد رہے کہ بھٹو کے زوال کے بعد فرانس نے یکطرفہ طور پر پاکستان کے ساتھ ایٹمی ری پراسیسنگ پلانٹ کا معاہدہ منسوخ کر دیا تھا جس کے تحت چار ہزار میگا واٹ بجلی پیدا ہونا تھی جو اس وقت منگلا اور تربیلا ڈیموں کی مجموعی پیداوار سے بھی دگنی تھی۔ یہ معاہدہ، جہاں امریکہ کی ناراضی اور بھٹو کے زوال کا باعث بنا، وہاں امریکی دباؤ پر فرانس نے یہ معاہدہ منسوخ کردیا تھا حالانکہ دو سال کے طویل مذاکرات کے بعد 18 مارچ 1976ء کو اس پر دستخط کرتے ہوئے تمام بین الاقوامی اصول و ضوابط کا خیال رکھا گیا تھا۔ بے نظیر بھٹو کے دور میں فرانس نے معاہدے کی خلاف ورزی پر ہرجانہ ادا کیا تھا۔

احمدرضا قصوری ، ایک ذہنی مریض

احمدرضا قصوری، شروع ہی سے ایک ذہنی مریض اور ایک متلون مزاج شخص رہا ہے۔ 1970ء کے انتخابات میں بھٹو کی بے مثل مقبولیت کی وجہ سے جیتا۔ 1971ء میں جب پاکستان کا آئینی بحران عروج پر تھا اور بھٹو نے ڈھاکہ میں ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس کا یہ کہہ کر بائیکاٹ کردیا تھا کہ ہمیں، آئین سازی میں مفاہمت کے لیے مزید وقت دیا جائے تو قصوری، اپنی پارٹی کی پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ڈھاکہ چلا گیا تھا کیونکہ اس وقت وہ مجیب الرحمان کو حق بجانب سمجھتا تھا جس کے بارے میں اس بیان میں اعتراف کررہا ہے کہ مجیب، پاکستان دشمن اور علیحدگی پسند تھا۔

ڈھاکہ سے واپسی پر اسے پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پیپلز پارٹی سے نکال دیا گیا تھا لیکن اس نے اپنی الگ پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین بھٹو کو ہی پیپلز پارٹی سے نکال دیا تھا۔۔!

بھٹو اور سندھو دیش

اس بیان میں وہ بھٹو پر یہ الزام بھی عائد کر رہا ہے کہ رہائی کے بعد وہ، سندھو دیش کا نعرہ بلند کرے گا۔ قصوری کی دیگر بکواس کی طرح یہ بھی ایک ہوائی فائر تھا۔ اس کا منہ توڑ جواب تو بھٹو کے داماد، آصف علی زرداری نے دیا تھا جب بھٹو کے عدالتی قتل اور بےنظیر بھٹو اور اس کے بھائیوں کے سرکاری قتل کے بعد بھی اس نے "پاکستان کھپے" کا نعرہ لگا کر مخالفین کی بولتی بند کر دی تھی۔

تاریخ کا انصاف

پاکستان کی تاریخ میں احمدرضا قصوری کو "ایک ذہنی مریض جو بھٹو کا قاتل تھا!" سے زیادہ اہمیت نہیں دی جاسکتی۔ اس کا باپ قتل ہوا، انتہائی قابلِ افسوس اور قابل مذمت فعل ہے۔ کسی کی جان لینا بہت بڑا جرم ہے لیکن یہ جرم، بھٹو نے نہیں کیا تھا جس پر تاریخ نے اپنا فیصلہ ثبت کر دیا ہے۔ اس کو جھٹلانے والا صرف وہی شخص ہو سکتا ہے جو بھٹو سے انتہائی بغض رکھتا ہو اور مسلسل گمراہی کا شکار ہو۔

احمدرضا قصوری، وہ جھوٹا اور مکار شخص ہے جو 1974ء میں وقت کے وزیرِاعظم کے خلاف لاہور کے ایک تھانے میں مقدمہ قتل کی FIR لکھواتا ہے لیکن 1976ء میں اپنے باپ کے مبینہ قاتل کی سیاسی پارٹی میں ٹکٹ کے لالچ میں دوبارہ شامل ہو جاتا ہے۔ جب 1977ء کے انتخابات میں اس کو ٹکٹ نہیں ملتا تو بھٹو کے زوال کے بعد ایک بین الاقوامی سازش کا شکار ہو کر ایک بے بنیاد مقدمہ قتل پر پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے لیڈر کو بے گناہ پھانسی پر چڑھوا دیتا ہے۔

موت برحق ہے، ہر کسی نے مرنا ہے لیکن بھٹو، مر کر بھی زندہ ہے۔ اس کے بیشتر قاتل، جہنم واصل ہوچکے ہیں، باقی جو زمین کا بوجھ بن کر زندہ ہیں، وہ مرنے سے پہلے بھٹو کی حقانیت اور بےگناہی کا ثبوت لے کر مر رہے ہیں، اور یہی قدرت اور تاریخ کا انصاف ہے۔۔!!!

21 مارچ 1979ء کی سیاسی ڈائری کا ایک ورق





Demand by Ahmad Raza Qasoori

Wednesday, 21 March 1979

Three demands on Bhutto by Ahmad Raza Qasoori..




پاکستان کی تاریخ پر ایک منفرد ویب سائٹ

پاک میگزین ، پاکستان کی سیاسی تاریخ پر ایک منفرد ویب سائٹ ہے جس پر سال بسال اہم ترین تاریخی واقعات کے علاوہ اہم شخصیات پر تاریخی اور مستند معلومات پر مبنی مخصوص صفحات بھی ترتیب دیے گئے ہیں جہاں تحریروتصویر ، گرافک ، نقشہ جات ، ویڈیو ، اعدادوشمار اور دیگر متعلقہ مواد کی صورت میں حقائق کو محفوظ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

2017ء میں شروع ہونے والا یہ عظیم الشان سلسلہ، اپنی تکمیل تک جاری و ساری رہے گا، ان شاءاللہ



پاکستان کے اہم تاریخی موضوعات



تاریخِ پاکستان کی اہم ترین شخصیات



تاریخِ پاکستان کے اہم ترین سنگِ میل



پاکستان کی اہم معلومات

Pakistan

چند مفید بیرونی لنکس



پاکستان فلم میگزین

پاک میگزین" کے سب ڈومین کے طور پر "پاکستان فلم میگزین"، پاکستانی فلمی تاریخ، فلموں، فنکاروں اور فلمی گیتوں پر انٹرنیٹ کی تاریخ کی پہلی اور سب سے بڑی ویب سائٹ ہے جو 3 مئی 2000ء سے مسلسل اپ ڈیٹ ہورہی ہے۔


پاکستانی فلموں کے 75 سال …… فلمی ٹائم لائن …… اداکاروں کی ٹائم لائن …… گیتوں کی ٹائم لائن …… پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد …… پاکستان کی پہلی پنجابی فلم پھیرے …… پاکستان کی فلمی زبانیں …… تاریخی فلمیں …… لوک فلمیں …… عید کی فلمیں …… جوبلی فلمیں …… پاکستان کے فلم سٹوڈیوز …… سینما گھر …… فلمی ایوارڈز …… بھٹو اور پاکستانی فلمیں …… لاہور کی فلمی تاریخ …… پنجابی فلموں کی تاریخ …… برصغیر کی پہلی پنجابی فلم …… فنکاروں کی تقسیم ……

پاک میگزین کی پرانی ویب سائٹس

"پاک میگزین" پر گزشتہ پچیس برسوں میں مختلف موضوعات پر مستقل اہمیت کی حامل متعدد معلوماتی ویب سائٹس بنائی گئیں جو موبائل سکرین پر پڑھنا مشکل ہے لیکن انھیں موبائل ورژن پر منتقل کرنا بھی آسان نہیں، اس لیے انھیں ڈیسک ٹاپ ورژن کی صورت ہی میں محفوظ کیا گیا ہے۔

پاک میگزین کا تعارف

"پاک میگزین" کا آغاز 1999ء میں ہوا جس کا بنیادی مقصد پاکستان کے بارے میں اہم معلومات اور تاریخی حقائق کو آن لائن محفوظ کرنا ہے۔

Old site mazhar.dk

یہ تاریخ ساز ویب سائٹ، ایک انفرادی کاوش ہے جو 2002ء سے mazhar.dk کی صورت میں مختلف موضوعات پر معلومات کا ایک گلدستہ ثابت ہوئی تھی۔

اس دوران، 2011ء میں میڈیا کے لیے akhbarat.com اور 2016ء میں فلم کے لیے pakfilms.net کی الگ الگ ویب سائٹس بھی بنائی گئیں لیکن 23 مارچ 2017ء کو انھیں موجودہ اور مستقل ڈومین pakmag.net میں ضم کیا گیا جس نے "پاک میگزین" کی شکل اختیار کر لی تھی۔

سالِ رواں یعنی 2024ء کا سال، "پاک میگزین" کی مسلسل آن لائن اشاعت کا 25واں سلور جوبلی سال ہے۔




PAK Magazine is an individual effort to compile and preserve the Pakistan history online.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes and therefor, I am not responsible for the content of any external site.