PAK Magazine
Sunday, 03 July 2022, Week: 26

Pakistan Chronological History
Annual
Annual
Monthly
Monthly
Weekly
Weekly
Daily
Daily
Alphabetically
Alphabetically


2008

Asif Ali Zardari

Tuesday, 9 September 2008

Asif Ali Zardar was President of Pakistan from September 9, 2008 till September 8, 2013..

آصف علی زرداری ، صدر بنے

منگل 9 ستمبر 2008
آصف علی زرداری
عہدہ : صدر مملکت …… پیشہ : سیاستدان/صنعت کار …… پارٹی : پاکستان پیپلز پارٹی ……
میعاد صدارت : 9 ستمبر 2008ء تا 8 ستمبر 2013ء …… (پانچ سال)
پیدائش : 26 جولائی 1956ء …… پیدائش: کراچی …… زبان: سندھی

پاکستان کے 11ویں صدر مملکت …… آصف علی زرداری …… حادثاتی طورپر اس عہدے تک پہنچے تھے۔ وہ ، پاکستان کی تاریخ کے پہلے صدر تھے جو مروجہ شاندار جمہوری اصولوں اور روایات کے عین مطابق اپنا عرصہ اقتدار پورا کر کے اپنے حریف وزیر اعظم کے ظہرانے اور گارڈ آف آنر لینے کے بعد قصر صدارت سے باعزت اور باوقار انداز میں رخصت ہوئے تھے۔۔!

آصف علی زرداری کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ پاکستان کے عظیم ترین رہنما جناب ذوالفقار علی بھٹوؒ کے داماد ، عالم اسلام کی پہلی خاتون وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کے مجازی خدا ، پاکستان کے پہلے 'مرداول' ، ایک بڑی سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیرمین ، پاکستان کے سب سے اعلیٰ عہدےدار یعنی صدر پاکستان ، مخالفین کے لیے 'Mr. 10%' اور تازہ ترین خطاب کے مطابق 'دامادوں کی یونین کا تاحیات چیئرمین' بھی بنے۔ ان کے بارے میں مشہور ہے کہ 'ایک زرداری ، سب پر بھاری'۔۔!

بطور صدر اہم کارنامے

27 دسمبر 2007ء کو بےنظیربھٹو کے قتل کے بعد آصف علی زرداری نے پیپلزپارٹی کی قیادت سنبھالی اور 18 فروری 2008ء کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ انھیں ، حکومت ایک ایسے وقت میں ملی تھی کہ جب دہشت گردی اپنے عروج پر تھی اور سیکورٹی ادارے ، قوم کے جان و مال کا تحفظ کرنے میں بری طرح سے ناکام ہورہے تھے۔ انھوں نے سید یوسف رضا گیلانی کو وزیراعظم بنایا اور خود صدر کے عہدے کا حلف اٹھایا۔ ان کے عہد کے چند نمایاں کارنامے مندرجہ ذیل ہیں:

  • 2008ء میں ایک بدترین عالمی اقتصادی بحران آیا جس میں تیل کی قیمتیں ریکارڈ 166 ڈالر تک جا پہنچی تھیں۔ زرداری کے پانچوں برسوں میں تیل کی قیمتیں سو ڈالر سے زائد رہیں لیکن پاکستانی عوام اور ملکی معیشت کی وہ درگت نہیں بنی جو گزشتہ چند برسوں میں بن رہی ہے
  • 18ویں آئینی ترمیم سے آئین کو آمروں کی غلاظت سے پاک کیا اور صدر کے اسمبلی توڑنے کے ناجائز اختیار کو ختم کیا
  • مفاہمت کی سیاست کو فروغ دیا اور بدترین مخالفین کے ساتھ مل کر حکومت چلانے کی حکمت عملی پہنائی
  • مسلسل دوروں کے بعد 13 مئی 2013ء کو چین کے ساتھ CPAC معاہدے پر دستخط ہوئے
  • ایران کے ساتھ بھی تیل کی ترسیل اور ایک پائپ لائن کی تکمیل کا معاہدہ کیا جو امریکہ کی ناراضی کی وجہ سے نامکمل رہا

آصف علی زرداری ہی کے دور میں 2 مئی 2011ء کو امریکہ نے ایبٹ آباد میں فضائی حملہ کر کے دور حاضر کے سب سے بڑے دہشت گرد اسامہ بن لادن کو ہلاک کیا تھا۔ اس شرمناک واقعہ پر پاکستان کی دنیا بھر میں خوب بدنامی اور جگ ہنسائی ہوئی تھی۔

زرداری کے دور میں دو وزرائے اعظم بدلے اور صوبہ پنجاب میں گورنر راج بھی نافذ ہوا۔ اپنے دور اقتدار میں تمام سازشوں اور ریشہ دوانیوں کا کمال ہنر مندی سے مقابلہ کیا اور مفاہمت کی سیاست کی داغ بیل ڈالی۔آئین کو اس کی اصل شکل میں بحال کیا۔ میڈیا اور عدلیہ کے جارحانہ رویے کے باوجود صبر و استقامت سے حالات کا سامنا کیا اور سیاسی طور پر کامیاب رہے اوراپنے مخالفین کو قدم قدم پر ناک آؤٹ کرتے رہے……!

مسٹر %10

"مرد آہن" کہلانے والے آصف علی زرداری کو پاکستان میں کرپشن کی علامت بنانے کی بھرپور کوشش کی گئی ہے اور "مسٹر ٹین پرسنٹ" مشہور کیا گیا ہے حالانکہ بدعنوانیوں کا کوئی ایک بھی کیس ثابت نہیں کیا سکا۔ ان بدنام زمانہ سیاسی مقدمات میں تقریباً گیارہ برس تک جیل میں رہے۔ 10 اکتوبر 1990ء کو پہلی بار گرفتار ہوئے اور 2سال 3 ماہ اور 6 دن کی قید کے بعد 6 فروری 1993ء کو رہا ہوئے۔ 4 نومبر 1996ء کو دوسری بار گرفتار ہوئے اور 8 سال اور 18 دن تک جیل میں رہ کر 22 نومبر 2004ء کو رہا ہوئے۔

نواز شریف کے دور حکومت میں سیف الرحمان کیس بڑے مشہور ہوئے تھے جن میں بےنظیربھٹو اور آصف علی زرداری کو بڑا تنگ کیا گیا تھا۔ پاکستان کے ایک ممتاز صحافی حامدمیر کے مطابق سیف الرحمان کو آصف علی زرداری سے معافی مانگتے ہوئے انھوں نے خود دیکھا تھا۔ زرداری صاحب پر کچھ مشہورزمانہ الزامات اس طرح سے تھے:

  • آصف زرداری کو 27 نومبر 1996ء کو میر مرتضیٰ بھٹو کے قتل کیس میں گرفتار کیا گیا تھا
  • سٹیل مل کے سابق چیئرمین سجاد حسین اور سندھ ہائی کورٹ کے ایک جج جسٹس نظام احمد کے قتل اور منشیات کی سمگلنگ میں ملوث ہونے کے الزامات
  • سوئس کمپنی ایس جی ایس کوٹیکنا، دوبئی کی اے آر وائی گولڈ کمپنی سے سونے کی درآمد
  • ہیلی کاپٹروں کی خریداری ، پولش ٹریکٹروں کی خریداری اور فرانسیسی میراج طیاروں کی ڈیل میں کمیشن
  • برطانیہ میں سرے محل ، راک وڈ سٹیٹ خریدنے ، سوئس بینکوں کے ذریعے منی لانڈرنگ اور سپین میں آئیل فار فوڈ سکینڈلز
  • حیدرآباد، نواب شاہ اور کراچی میں کئی ہزار ایکڑ قیمتی زرعی اور کمرشل اراضی خریدی
  • چھ شوگر ملوں میں حصص
  • برطانیہ میں 9 ، امریکا میں 9 ، بلجئیم اور فرانس میں دو دو اور دوبئی میں کئی پروجیکٹس میں مختلف ناموں سے سرمایہ کاری کی
  • اپنی پراسرار دولت کو چھپانے کے لیے سمندر پار کوئی 24 فرنٹ کمپنیاں تشکیل دیں
  • نیب کے مطابق آصف علی زرداری نے بینظیربھٹو کی حکومت کے زمانے میں ڈیڑھ بلین ڈالر کے ناجائز اثاثے بنائے

آصف زرداری کی ذاتی زندگی

آصف علی زرداری ، 26 جولائی 1955ء کو کراچی میں ایک جاگیردار اور صنعتکار ، حاکم علی زرداری کے ہاں پیدا ہوئے۔ اس طرح وہ پاکستان کے پہلے صدر تھے جو قیام پاکستان کے بعد پیدا ہوئے تھے۔ 29 جولائی 1987ء سے قبل ایک گمنام شخص تھے لیکن اس دن پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ بےنظیربھٹو سے منگنی نے انھیں ملک گیر شہرت دی۔ 18 دسمبر 1987ء کو دونوں کی شادی اتنی دھوم دھام سے ہوئی کہ کراچی میں دو لاکھ سے زائد باراتی تھے جو ہر خاص و عام میں سے تھے۔ ان کا بیٹا بلاول زردار بھٹو ، ان کا جانشین ہے۔

آصف علی زرداری پہلی بار 1990ء کے انتخابات میں قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے تھے۔ 18 اپریل 1993ء کو نگران وزیراعظم بلخ شیرمزاری کی کابینہ میں پہلی بار وزیر بنے۔ 12 مارچ 1997ء کو سینٹ کے ممبر بنے تھے۔

آصف زرداری بطور اداکار

آصف علی زرداری کے والد حاکم علی زرداری ، کراچی کے دو سینماؤں بمبینو اور سکالا کے مالک بھی تھے۔ اسی تناظر میں آصف علی زرداری نے چائلڈ سٹار کے طور پر کراچی میں بننے والی ایک فلم منزل دور نہیں (1968) میں چائلڈ سٹار کے طور پر کام کیا تھا۔ اتفاق سے اسی سال ان کے والد حاکم علی زرداری نے فلمساز کے طور پر اکلوتی فلم دھوپ اور سائے (1968) بنائی تھی جس کے ہدایتکار معروف دانشور اشفاق احمد تھے۔ یہ دونوں سپرفلاپ فلمیں تھیں۔












World history
Latest News on PAK Magazine
Pakistan Media

PAK Magazine presents latest news from newspapers, TV, social media, political parties, official's and many renowned journalists from Pakistan and around the world.


تاریخ پاکستان

پاک میگزین ، پاکستانی تاریخ پر اردو میں ایک منفرد ویب سائٹ ہے جس پر اہم تاریخی واقعات کو بتاریخ سالانہ ، ماہانہ ، ہفتہ وارانہ ، روزانہ اور حروفانہ ترتیب سے چند کلکس کے نیچے پیش کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں اہم ترین واقعات اور شخصیات پر تاریخی اور مستند معلومات پر مخصوص صفحات ترتیب دیے گئے ہیں جہاں تصویر و تحریر ، ویڈیو اور دیگر متعلقہ مواد کی صورت میں محفوظ کیا گیا ہے۔ یہ سلسلہ ایک انفرادی کاوش اور فارغ اوقات کا بہترین مشغلہ ہے جو اپنی تکمیل تک جاری و ساری رہے گا ، ان شاء اللہ۔۔!



1971
اُدھر تم  ، اِدھر ہم
اُدھر تم ، اِدھر ہم
2022
پاکستان کے وزرائے اعظم
پاکستان کے وزرائے اعظم
2022
کرپشن انڈیکس 2021
کرپشن انڈیکس 2021
1965
آپریشن جبرالٹر
آپریشن جبرالٹر
1971
شیخ مجیب الرحمان
شیخ مجیب الرحمان


تاریخ پاکستان ، اہم موضوعات

تحریک پاکستان
تحریک پاکستان
جغرافیائی تاریخ
جغرافیائی تاریخ
سقوط ڈھاکہ
سقوط ڈھاکہ
شہ سرخیاں
شہ سرخیاں
سیاسی ڈائری
سیاسی ڈائری
قائد اعظمؒ
قائد اعظمؒ
ذوالفقار علی بھٹوؒ
ذوالفقار علی بھٹوؒ
بے نظیر بھٹو
بے نظیر بھٹو
نواز شریف
نواز شریف
عمران خان
عمران خان
سکندرمرزا
سکندرمرزا
جنرل ایوب
جنرل ایوب
جنرل یحییٰ
جنرل یحییٰ
جنرل ضیاع
جنرل ضیاع
جنرل مشرف
جنرل مشرف
صدر
صدر
وزیر اعظم
وزیر اعظم
آرمی چیف
آرمی چیف
چیف جسٹس
چیف جسٹس
انتخابات
انتخابات
امریکی امداد
امریکی امداد
مغلیہ سلطنت
مغلیہ سلطنت
ڈنمارک
ڈنمارک
اٹلی کا سفر
اٹلی کا سفر
حج بیت اللہ
حج بیت اللہ
سیف الملوک
سیف الملوک
شعر و شاعری
شعر و شاعری
ہیلتھ میگزین
ہیلتھ میگزین
فلم میگزین
فلم میگزین
میڈیا لنکس
میڈیا لنکس

پاکستان کے بارے میں اہم معلومات

Pakistan

چند اہم بیرونی لنکس


Pakistan Exchange Rates

Pakistan Rupee Exchange Rate



PAK Magazine is an individual effort to compile and preserve the Pakistan's political, film and media history.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes, and therefor, I am not responsible for the content of any external site.