Film Actress
Real name | Parveen |
First film | Jallan (Urdu - 1955) |
Life | - |
Born at | |
Language | |
Profession | Acting, designing |
Relations |
مجرا گیتوں میں پہلا بڑا اور مشہور نام اداکارہ رخشی کا تھا جس نے چالیس سے زائد فلموں میں آئٹم نمبرز کیے تھے۔ فلم ڈائریکٹر (1951) سے فلمی کیرئر کا آغاز کرنے والی یہ پرکشش اداکارہ ، پچاس کے عشرہ کی مقبول ترین ڈانسر تھی۔ فلم دلابھٹی (1956) میں رخشی پر فلمایا ہوا گلوکارہ منورسلطانہ کا یہ گیت بڑا مشہور ہوا تھا "پیار کر لے ، آجا پیار کر لے ، پیسے نئیں جے کول تے ادھار کر لے۔۔" فلم نوراں (1957) میں اقبال بانو کا یہ گیت "چھیتی بوہڑی وے طبیبا ، نئیں تے میں مر گیا آ۔۔" بھی رخشی پر فلمایا گیا تھا۔ فلم سلمیٰ (1960) میں زبیدہ خانم اور منیرحسین کے اس شوخ گیت پر رخشی کا رقص قابل دید تھا "مت چھونا رے ، میرا بدن دہکتی آگ ، مجھے مت چھونا رے۔۔" مسعودرانا نے جہاں فلمی گائیکی پر گہرے اثرات مرتب کیے تھے وہاں بیشتر آئٹم گرلز کے لیے گیت بھی گائے تھے لیکن رخشی کے ساتھ واحد مشترکہ فلم بہادر (1967) تھی اور کوئی مشترکہ گیت نہیں ملتا۔ رخشی کا تعلق کرسچن برادری سے تھا۔
پاکستان فلم میگزین ، سال رواں یعنی 2023ء میں پاکستانی فلموں کے 75ویں سال میں مختلف فلمی موضوعات پر اردو/پنجابی میں تفصیلی مضامین پیش کر رہا ہے جن میں مکمل فلمی تاریخ کو آن لائن محفوظ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
قبل ازیں ، 2005ء میں پاکستانی فلموں کا عروج و زوال کے عنوان سے ایک معلوماتی مضمون لکھا گیا تھا۔ 2008ء میں پاکستانی فلموں کے ساٹھ سال کے عنوان سے مختلف فنکاروں اور فلموں پر مختصر مگر جامع مضامین سپردقلم کیے گئے تھے۔ ان کے علاوہ پاکستانی فلموں کے منفرد ڈیٹابیس سے اعدادوشمار پر مشتمل بہت سے صفحات ترتیب دیے گئے تھے جن میں خاص طور پر پاکستانی فلموں کی سات دھائیوں کے اعدادوشمار پر مشتمل ایک تفصیلی سلسلہ بھی موجود ہے۔