Pakistn Film Magazine in Urdu/Punjabi


Film Music director

Master Ghulam Haider

He changed the music style of Indo-Pak movies..
Master Ghulam Haider - Film Music director - He changed the music style of Indo-Pak movies..
Facts on Master Ghulam Haider
Real name Ghulam Haidar
First film Swarg Ki Seerhi (Hindi/Urdu - 1934)
First film Shahida (Urdu - 1949)
Active career1932-53
Life 1908 - 09-11-1953
Born at Hyderabad, Sindh
Language Punjabi
Profession Music
Relations Umrao Zia Begum (wife)

Master Ghulam Haidar introduced Punjabi folk music in his compositions which changed the whole style of film music in the sub-continent. He was also the man behind the great successes of three legendary playback singers, Melody Queen Madam Noorjahan from film Gul Bakavli in 1939, Shamshad Begum from film Khazanchi in 1941 and Lata Mangeshkar from film Majboor (1948).

Master sahib joined a recording company in Lahore in 1932, where he worked with other big music directors like Ustad Jhanday Khan, Pandat Amarnath and G.A. Chishti. He got chance in his first film Sawarg ki Seerhi in 1935 and got breakthrough from film Gul Bakavli (1939). His composed song..

  • Shala Jawania Maney, Akha Na Morin Pi Lay..

which was not only his first super hit song but also the first super hit song by Baby Noorjahan as well. He continued his success with other big Punjabi movies like Yamla Jatt (1940) and Chodhary (1941). He became fame in the whole sub-continent after the super hit music in Hindi/Urdu film Khazanchi in 1941. He made Baby Noorjahan to a super star actress and singer from his super hit musical film Khandan in 1942. He composed music for many other films before partition.

Master Ghulam Haidar was music director in seven Pakistani films. Gulnar (1953) was the most famous of them and the most super hit song from this film was by Madam Noorjahan..

  • Lo Chal Diye Woh Ham Ko Tasalli Diye Baghair..

Master Ghulam Haidar was born in Hyderabad, Sindh in 1906 and died on November 9, 1953 in Lahore. He was married to singer Umrao Zia Begum.


ماسٹرغلام حیدر ، ایک عہد ساز موسیقار تھے جنہوں نے برصغیر کی فلمی موسیقی کا انداز بدل کر رکھ دیا تھا۔ انھوں نے مروجہ بھاری بھر کم کلاسیکل موسیقی سے بوجھل فلمی گیتوں کو ہلکی پھلکی عوامی موسیقی کا پنجابی ٹچ دیا تھا۔ برصغیر کے فلم بینوں نے پہلی بار فلمی گیتوں میں ڈھول ، مٹکا ، دف اور دیگر دیسی آلات وغیرہ کا استعمال سنا تھا جنھیں بے حد پذیرائی ملی تھی اور اگلی کئی دھائیوں تک وہ فلمی موسیقی کا سٹینڈرڈ سٹائل رہا تھا۔ اپنی مقبولیت کی وجہ سے چالیس کی دھائی میں سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے فنکار تھے۔ ​میڈم نورجہاں کا پہلا سپرہٹ گیت "شالا جوانیاں مانیں۔۔" پنجابی فلم گل بکاؤلی (1937) میں ماسٹرصاحب ہی نے کمپوز کیا تھا۔ اگلی دونوں پنجابی فلمیں ، یملاجٹ (1940) اور چوہدری (1941) بھی سپرہٹ ہوئیں۔ ماسٹرغلام حیدر کی ملک گیر پہچان فلم خزانچی (1941) سے ہوئی تھی۔ لاہور میں بنائی گئی اس فلم کا ٹائٹل رول ، ایم اسماعیل نے کیاتھا۔ کشمیر سے کنیا کماری اور کراچی سے کلکتہ تک اس فلم نے دھوم مچا دی تھی اور یہ لاہور کی پہلی بلاک باسٹر ہندی/اردو فلم ثابت ہوئی تھی۔ ماسٹر صاحب کی اس فلم سے گلوکار شمشاد بیگم بھی چوٹی کی گلوکارہ بن گئی تھی جبکہ بھارت کی عظیم گلوکارہ لتا منگیشکر کو بھی ماسٹرغلام حیدر کی فلم مجبور (1948) سے شہرت ملی تھی۔ تقسیم کے بعد پاکستان چلے آئے جہاں 1953ء میں اپنے انتقال تک انھوں نے سات فلموں کی موسیقی ترتیب دی تھی جن میں سے شاہدہ (1949) پہلی فلم تھی۔ میڈم نورجہاں کے ساتھ ان کی واحد فلم گلنار (1953) تھی جس میں یہ امر سنگیت شامل ہے "لو چل دیے وہ ہم کو تسلی دیے بغیر۔۔" اتفاق سے اس فلم کی ریلیز کے چند دن بعد ان کا انتقال ہوگیا تھا۔







Pukar
Pukar
(1939)
Sikandar
Sikandar
(1941)
Zeenat
Zeenat
(1945)
Sarfarosh
Sarfarosh
(1930)
Maha Maya
Maha Maya
(1936)

Dost
Dost
(1944)
Musafir
Musafir
(1940)



پاکستان کی 75 سالہ فلمی تاریخ

پاکستان فلم میگزین ، سال رواں یعنی 2023ء میں پاکستانی فلموں کے 75ویں سال میں مختلف فلمی موضوعات پر اردو/پنجابی میں تفصیلی مضامین پیش کر رہا ہے جن میں مکمل فلمی تاریخ کو آن لائن محفوظ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

قبل ازیں ، 2005ء میں پاکستانی فلموں کا عروج و زوال کے عنوان سے ایک معلوماتی مضمون لکھا گیا تھا۔ 2008ء میں پاکستانی فلموں کے ساٹھ سال کے عنوان سے مختلف فنکاروں اور فلموں پر مختصر مگر جامع مضامین سپردقلم کیے گئے تھے۔ ان کے علاوہ پاکستانی فلموں کے منفرد ڈیٹابیس سے اعدادوشمار پر مشتمل بہت سے صفحات ترتیب دیے گئے تھے جن میں خاص طور پر پاکستانی فلموں کی سات دھائیوں کے اعدادوشمار پر مشتمل ایک تفصیلی سلسلہ بھی موجود ہے۔


237 فنکاروں پر معلوماتی مضامین



PAK Magazine is an individual effort to compile and preserve the Pakistan's political, film and media history.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes, and therefor, I am not responsible for the content of any external site.