Menu of Pakistan Film Magazine
Pakistn Film Magazine in Urdu/Punjabi


A Tribute To The Legendary Playback Singer Masood Rana

Masood Rana - مسعودرانا


مسعودرانا کی 25ویں برسی

مسعودرانا
کے پاکستانی فلموں میں گیت نہ ہوتے تو
پاکستان فلم میگزین جیسی تاریخی ویب سائٹ
کبھی نہ بن پاتی۔۔!

4 اکتوبر 1995ء کو عظیم گلوکار مسعودرانا کا اچانک انتقال ہو گیا تھا۔۔!

ریڈیو پاکستان کی عالمی سروس سے اتفاقاً یہ افسوسناک خبر سنی کہ ایک میوزک پروگرام میں شرکت کے لئے لاہور سے صادق آباد جاتے ہوئے راستے میں ٹرین میں دل کا دورہ پڑنے سے ان کی روح ، جسد خاکی سے پرواز کر گئی تھی۔ عمر صرف 54 سال تھی۔

بلا شبہ ، موت برحق ہے ، ہر کسی نے اس دارفانی سے کوچ کرنا ہے لیکن اچانک موت کا صدمہ بہت ہوتا ہے۔

میرا دکھ اس لئے بھی زیادہ تھا کہ مسعودرانا ، میرے پسندیدہ ترین گلوکار تھے۔ ان کے فن اور دیگر فلمی گیتوں پرتحقیق جاری تھی اور ان سے ملنے اور ان کے بارے میں جاننے کی بڑی خواہش تھی۔ ہماری ٹیلی فون پر بات ہوچکی تھی اور چند ماہ تک ملاقات کا پروگرام بھی تھا جو ان کی اچانک موت کی وجہ سے ممکن نہ ہو سکا تھا اور بڑی سخت مایوسی ہوئی تھی۔

مسعودرانا سے پہلا تعارف

بچپن میں سنا ہوا پہلا پہلا فلمی گیت جو یاد پڑتا ہے ، وہ فلم کون کسی کا (1966) میں مسعودرانا کا گایا ہوا تھا

  • دے گا نہ کوئی سہارا ، ان بے درد فضاؤں میں ، سو جا غم کی چھاؤں میں۔۔

ہوش سنبھالا تو اپنے اردگرد کے ماحول میں ریڈیو پر جس گلوکار کو سب سے زیادہ سنا ، وہ بھی مسعودرانا ہی تھے۔

ہمارے ہاں روایتی قسم کے عشق و محبت والے گیتوں کو بے ہودگی اور بے حیائی میں شمار کیا جاتا تھا اور ان کے برعکس انسانی رشتے ناطوں اور سماجی ومعاشرتی موضوعات پر گائے گئے بامقصد گیتوں کو بہت پسند کیا جاتا تھا۔ مسعودرانا کو اپنی دلکش ، پرسوز، پراثر اور باوقار مردانہ آواز کی وجہ سے ایسے گیتوں پر ہمیشہ اجارہ داری حاصل ہوتی تھی اور یہی وجہ تھی کہ ان سے زیادہ تعریف کبھی کسی گلوکار کی نہیں سنی تھی۔

مسعودرانا کیوں پسند تھے؟

گو اپنے پچپن میں عنایت حسین بھٹی اور نوجوانی میں مہدی حسن کے رومانٹک گیت اور احمدرشدی کے مزاحیہ گیت بڑے پسند ہوتے تھے لیکن 80کے عشرہ میں جب پاکستانی فلمی گیتوں پر تحقیق کی تو مسعودرانا سے بہتر آل راؤنڈ فلمی گلوکار کسی کو نہیں پایا۔ دیگر گلوکار مخصوص اور محدود صلاحیتوں کے مالک ہوتے تھے لیکن مسعودرانا ، لامحدود صلاحیتوں کے مالک تھے اور فلم کے سب سے مکمل ، آئیڈیل اور آل راؤنڈ گلوکار تھے۔

پاکستانی فلمی تاریخ کے سنہرے دور میں کہا جاتا تھا کہ برصغیر کی فلمی گائیکی میں دو ہی گلوکار ہیں ، ہندوستان میں محمدرفیع اور پاکستان میں مسعودرانا ، اور یہ بات سو فیصدی درست تھی۔

مسعودرانا کے عظیم الشان ریکارڈز

مسعودرانا
مسعودرانا
پاکستانی فلمی تاریخ کے واحد گلوکار تھے
جنھوں نے چھ سو زائد فلموں
کے لیے نغمہ سرائی کی تھی

مسعودرانا ، پاکستانی فلمی تاریخ کے واحد گلوکار تھے جنھوں نے چھ سو سے زائد فلموں کے لیے نغمہ سرائی کی تھی۔

انھیں یہ منفرد اعزاز بھی حاصل تھا کہ اپنی پہلی فلم انقلاب (1962) سے لے کر اپنے انتقال تک کی آخری فلم سناٹا (1995) تک کے 34 برسوں میں کبھی کوئی ایک سال بھی ایسا نہیں گزرا تھا کہ جب ان کی بطور گلوکار کوئی فلم ریلیز نہ ہوئی ہو۔

وہ اکلوتے گلوکار تھے جنھیں اردو اور پنجابی فلموں میں یکساں کامیابی حاصل ہوئی تھی اور ان کی بے مثل آل راؤنڈ کارکردگی کی وجہ سے انھیں 'پاکستانی رفیع' بھی کہا جاتا تھا لیکن اس کے باوجود ان کا شمار بھی انھی فنکاروں میں ہوتا تھا کہ جنھیں ہمارے قومی میڈیا میں شرمناک حد تک نظرانداز کیا گیا تھا۔ یہی تعصب اور تنگ نظری تھی جس نے مجھے ، مسعودراناکے بارے میں خاص طور پر اور دیگر فلموں اور فلمی گیتوں پر عام طور پر تحقیق کرنے کی ترغیب دی تھی اور نتیجہ اس عظیم الشان ویب سائٹ کی صورت میں سامنے آیا تھا۔

مسعودرانا کی یادیں

گزشتہ نصف صدی کے گنے چنے لمحات یاد ہیں جب مسعودراناکے بارے میں کچھ پڑھا ، سنا یا دیکھا تھا۔

1973ء میں ان کی پہلی تصویر ایک فلمی رسالہ ویکلی مصور لاہور کے کسی شمارے میں دیکھی تھی جس میں وہ ، اداکار شاہد کے ساتھ بیٹھے چائے پی رہے تھے اور جو چادر انھوں نے اوڑھ رکھی تھی ، ویسی ہی چادر ، گلوکارہ افشاں نے بھی اوڑھ رکھی تھی جو ساتھ کی تصویر میں تھی۔ تصویر کا جو کیپشن تھا ، اس کی عبارت مجھے آج بھی یاد ہے

"مسعودرانا ، افشاں کا چادر بدل بھائی ، ریکارڈنگ نہ بھی ہو تو سٹوڈیو آنا جانا لگا رہتا ہے۔ اس تصویر میں شاہد کے ساتھ ایک فلم کے سیٹ پر چائے پی رہے ہیں۔۔"

مجھے یاد ہے کہ مسعودرانا کی تصویر دیکھ کر بڑی مایوسی ہوئی تھی کہ ایسی سیاہ رنگت ، موٹا ناک اور چنی آنکھیں۔۔؟ آواز سے تو وہ کسی افسانوی شہزادے سے کم نہیں لگتے تھے اور پھر شاہد جیسے خوبرو ہیرو کے ساتھ بیٹھ کر تو فرق زیادہ ہی محسوس ہو رہا تھا۔ یہ اور بات ہے کہ وہ دو فلموں میں ہیرو بھی آئے تھے۔

دوسری بار بھی میں نے رانا صاحب کی تصویر مصور ہی میں دیکھی تھی جب انھیں فلم دل لگی (1974) کے گیتوں پر مصور ایوارڈ ملا تھا۔

مسعودرانا کا واحد مختصر ریڈیو انٹرویو "رنگ ہی رنگ ، مسٹر جیدی کے سنگ" نامی ریڈیو کمرشل میں سنا تھا۔

ٹی وی پر بھی ان کا ایک پروگرام دیکھا تھا جس میں وہ اپنے مشہور زمانہ گیتوں کو مختلف مقامات پر جا کر گاتے ہیں۔

1985ء میں روزنامہ جنگ میں ان کا ایک انٹرویو شائع ہوا تھا جو زیادہ تر ان کے دورہ امریکہ کے بارے میں تھا۔

مسعودرانا کے بارے میں پہلا تفصیلی مضمون ان کے انتقال کے بعد ویکلی نگار میں پڑھا تھا۔

جب مسعودرانا کو خط لکھا

مسعودرانا
مسعودرانا کو جو منفرد خراج تحسین پیش کیا جارہا ہے
وہ شاید ہی کبھی کسی فنکار کو پیش کیا گیا ہوگا۔۔!

مسعودرانا کے بارے میں جاننے کا تجسس اور جستجو ہی تھی کہ 25 جون 1993ء کو انھیں ، اپنی زندگی کا واحد "فین لیٹر یا عقیدت نامہ" لکھا تھا جس کا عکس اس مضمون کے آخر میں ہے۔

میرے پاس ان کا پرائیویٹ ایڈریس نہیں تھا لیکن ایورنیو سٹوڈیو ، ملتان روڈ لاہور کے پتہ پر خط بھیج دیا تھا جس میں ان کے لئے اپنے دلی جذبات کا اظہار کیا تھا۔

دو ماہ بعد جواب ملا اور مسعودرانا نے دیگر باتوں کے علاوہ اپنا ذاتی پتہ اور ٹیلی فون نمبر بھی دیا تھا۔ یہ جان کر بڑا افسوس ہوا تھا کہ اتنا بڑا گلوکار اپنے گھر کا چولھا جلانے کے لئے ایک روزگار ایجنسی چلا رہا ہے۔ ان دنوں ایکشن سے بھر پور فلمیں بنتی تھیں جن میں مردانہ گیتوں کی گنجائش کم ہی ہوتی تھی۔ اگرچہ مسعودرانا کو اداکار شان کی رومانٹک فلموں میں بڑی تعداد میں گیت گانے کا موقع مل رہا تھا لیکن عروج کا جو دور 60 اور 70 کی دھائیوں میں دیکھ چکے تھے ، وہ ماضی کا قصہ بن چکا تھا۔

میرے دوسرے خط کا کوئی جواب نہیں ملا تھا جس میں ان کے فلمی کیرئر کے بارے میں ڈھیر سارے سوالات پوچھے تھے۔

مسعودرانا کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت

17 دسمبر 1993ء کو میں نے پہلی اور آخری بار مسعودرانا سے ٹیلی فون پر بات کی تھی لیکن اس کا کوئی مثبت تاثر نہیں ملا تھا۔

میں انھیں ایک خالص پنجابی فنکار سمجھتا تھا لیکن انھوں نے میرے ساتھ ہندوستانیوں کی عوامی زبان میں بات کی جس سے سخت کوفت اور اجنبیت محسوس ہورہی تھی۔

مجھے ان کے فنی کیرئر کے بارے میں جاننے کا شوق تھا لیکن انھیں اپنے بچوں کو یورپ سیٹ کروانے اور ڈنمارک میں اپنا میوزک شو کروانے میں زیادہ دلچسپی تھی۔

اس کے لئے انھوں نے اس مختصر گفتگو میں اپنے گروپ کی تفصیلات بھی نوٹ کروا دی تھیں کہ جن کے مطابق ان کے ساتھ گلوکارہ مہناز اور گلوکار منیر حسین کے علاوہ تین سازندے تھے اور کل معاوضہ اس وقت کا ایک لاکھ روپیہ مانگ رہے تھے۔ اگر میڈم نورجہاں کو ساتھ لاتے تو پھر کسی عالیشان ہوٹل میں ایک سوئٹ بھی لینا پڑتا اور اکیلے ایک لاکھ روپیہ معاوضہ ان کا بھی ہوتا۔

میرا زندگی بھر ایسے کاموں سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا ، یہاں تک کہ لائیو شو تک دیکھنا پسند نہیں کرتا۔

مسعودرانا سے براہ راست رابطہ کا واحدمقصد ان کے فن کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کرنا تھا لیکن انھیں غم دوراں کی فکر زیادہ تھی۔

اپنی اس اکلوتی ٹیلی فون گفتگو کا افسوس اس لئے نہیں ہوا تھا کہ اس سے قبل مہدی حسن اور مجیب عالم سے مل چکا تھا اور انھیں بھی بیشتر پاکستانیوں کی طرح شدید قسم کے مالی عدم استحکام اور احساس محرومی کا شکار پایا تھا۔

میں خود اسی دیس کا باسی تھا جہاں ہر دور میں عام آدمی ہی نہیں ، متوسط طبقہ کے نامور لوگوں کے لئے بھی سفید پوشی کا بھرم رکھنا خاصا مشکل رہا ہے ، اس لئے زمینی حقائق ، بنیادی انسانی ضروریات اور روزمرہ مشکلات سے بے خبر نہیں تھا۔

مسعودرانا کے گھر اظہار تعزیت

مسعودرانا
مسعودرانا
اپنی ساری زندگی میں لاہور میں
اپنا مکان تک نہیں بنا سکے تھے

اس واقعہ کے بعد میں نے مسعودرانا سے کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں کیا تھا۔ اس دوران 4 اکتوبر 1995ء کو ان کا انتقال ہو گیا تھا۔

چھ ماہ بعد مارچ 1996ء میں ، عرصہ چودہ سال بعد اپنے وطن جانے کا موقع ملا تھا۔ واپسی پر آخری دنوں میں لاہور کے اقبال ٹاؤن میں مسعودرانا کے گھر گیا تھا جہاں ان کے بیٹے اور بیگم سے ملاقات ہوئی تھی۔ مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کی تھی۔

ان کی بیگم نے مجھے تحفہ کے طور پر وہ یادگار تصویر دی تھی جس میں مسعودرانا ، ملکہ ترنم نورجہاں اور لتا منگیشکر کے ساتھ کھڑے ہیں۔

ان کی وہ ڈائری بھی یاد ہے کہ جس میں انھوں نے بڑے طریقے اور سلیقے سے اپنے گائے ہوئے گیت لکھے ہوئے تھے۔ مثلاً فلم بے ایمان (1973) کے گیت "اللہ کے نام پہ جھولی بھر دے۔۔" کے صفحہ پر انھوں نے بڑی ترتیب سے لکھا تھا کہ کون سے بول وہ گائیں گے اور کون کون سے بول احمدرشدی اور روشن گائیں گے۔

ایک صفحہ پر رانا صاحب کا نام بڑا خوشخط لکھا ہوا تھا جو پتہ چلا کہ گلوکار شوکت علی نے لکھا تھا جن کا ان کے ہاں اکثر آنا جانا ہوتا تھا۔

اپنے اس یادگار دورہ پاکستان کی تقریباً اٹھارہ گھنٹے کی ویڈیو ریکارڈنگ کی تھی جس میں سے کچھ ان کے گھر کی بھی تھی۔

مسعودرانا ، 6 اگست 1941ء کو میرپور خاص ، سندھ میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے آباؤ اجداد ، جالندھر کے ایک متمول پنجابی زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے لیکن وہ اپنی ساری زندگی ، لاہور میں اپنا ذاتی مکان تک نہیں بنا سکے تھے اور کرائے کی ایک کوٹھی میں رہتے تھے۔

مسعودرانا کو ایک پرخلوص خراج تحسین

مسعودرانا کی آخری آرام گاہ
مسعودرانا
کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ
انھوں نے اپنی پہلی فلم سے اپنے انتقال تک
مسلسل 34 برسوں تک
فلموں کے لیے گلوکاری کی تھی

مسعودرانا سے میری دلچسپی صرف ان کے فن تک محدود تھی ، ان کی ذات یا خاندان سےکوئی تعلق نہیں تھا اور نہ اس کا کوئی جواز بنتا تھا۔

میرے خلوص کی انتہا تھی جب 2004ء میں حج بیت اللہ کی سعادت نصیب ہوئی تو حرمین شریفین میں ایک ماہ کے قیام کے دوران اپنے خاندان کے تمام مرحومین کی روحوں کے ایصال ثواب کے لئے ایک ایک عمرہ کیا تھا۔ دو ہستیاں ایسی تھیں کہ جن کا میرے خاندان سے کوئی تعلق نہیں تھا لیکن انھیں بھی بطور خاص عمروں کا ثواب پہنچایا تھا۔ ان میں پہلی عظیم المرتبت ہستی قائد عوام جناب ذوالفقار علی بھٹو شہیدؒ کی تھی جبکہ دوسری شخصیت اپنے آئیڈیل گلوکار جناب مسعودرانا صاحب کی تھی۔ یقیناً ، اس سے بڑا خراج تحسین تو ہو ہی نہیں سکتا تھا۔۔!

فلمی گیتوں پر تحقیق

یہ مسعودرانا ہی تھے کہ جن کی وجہ سے مجھے پاکستانی فلمی گیتوں پر تحقیق کا شوق پیدا ہوا تھا۔ یہ 80 کے عشرہ کی بات ہے جب ہماری فلموں میں مردانہ گیتوں کی تعداد انتہائی کم ہو چکی تھی اور زنانہ گیتوں سے میری دلچسپی بڑی محدود ہوتی تھی۔

اس دور میں وی سی آر پر فلموں کی فراوانی ہوتی تھی۔ میرے پاس فلمیں اور گیت ریکارڈ کرنے کی سہولت موجود تھی اور بہت زیادہ مواد اکٹھا کر لیا تھا۔

ابتداء میں اپنی ڈائریوں پر مردانہ فلمی گیتوں کی فہرستیں مرتب کیا کرتا تھا۔ 1985ء میں پہلی بار کمپیوٹر پر مسعودرانا کے گیتوں کی رومن اردو میں ایک ڈیجیٹل لسٹ بنائی تھی۔ جون 1999ء میں اپنی ویب سائٹ بنائی تو لنکس کے ساتھ جو واحد فائل اٹیچ کی تھی ، وہ مسعودرانا کے فلمی گیتوں کی ایکسیل فائل تھی۔

3 مئی 2000ء کو پاکستان فلم میگزین کا آغاز کیا تو جو پہلی فلمی معلومات تھیں ، وہ بھی مسعودرانا کے گائے ہوئے گیتوں کے بارے میں تھیں۔ 2012ء میں ڈیٹا بیس پر ویب سائٹ بنانا شروع کی تو دیگر صفحات کی طرح تمام گیتوں کی فہرستوں کو اپ ڈیٹ کرنا اور مصدقہ ریکارڈز مرتب کرنا بہت آسان ہو گیا تھا۔

2020ء میں مسعودرانا کی پچیسویں برسی پر ایک منفرد خراج تحسین پیش کرنے کے لئے ان کے گیتوں کا اولین اردو ڈیٹا بیس بنانے میں بھی کامیابی ہوئی جس سے مختلف النوع اعدادوشمار اور فہرستیں بنانا ممکن ہوا۔

مسعودرانا ہی کی وجہ سے دیگر فنکاروں کے بارے میں بھی اردو میں معلوماتی مضامین کا ایک طویل سلسلہ جاری ہے جو ان شاء اللہ ، مکمل کرنے کی پوری کوشش کی جائی گی۔

مسعودرانا کو جو بے مثل خراج تحسین پیش کیا جارہا ہے ، شاید ہی کبھی کسی فنکار کو پیش کیا گیا ہو گا۔ وہ بجا طور پر اس اعزاز کے مستحق تھے اور یقیناً بڑے خوش قسمت فنکار تھے کہ جنھیں مجھ جیسا قدردان ملا۔۔!


Bhai
Bhai
(1944)
Noukar
Noukar
(1943)



پاکستان فلم میگزین ۔۔۔ سنہری فلمی یادوں کا امین

پاکستان فلم میگزین ، پاکستانی فلموں ، فنکاروں ، گیتوں اور اہم فلمی معلومات پر مبنی انٹرنیٹ پر اپنی نوعیت کی اولین ، منفرد اور تاریخ ساز ویب سائٹ ہے جو 3 مئی 2000ء سے مسلسل اپ ڈیٹ ہورہی ہے۔ یہ ایک انفرادی کاوش ہے جو فارغ اوقات کا بہترین مشغلہ اور پاکستان کی فلمی تاریخ کو مرتب کرنے کا ایک انوکھا مشن بھی ہے۔

A website of Masood Rana

یہ بے مثل ویب سائٹ کبھی نہ بن پاتی اگر پاکستانی فلموں میں میرے آل ٹائم فیورٹ پلے بیک سنگر جناب مسعودرانا صاحب کے گیت نہ ہوتے۔ انھی کے گیتوں کی تلاش میں یہ عظیم الشان ویب سائٹ وجود میں آئی۔ 2020ء سے اس عظیم فنکار کی 25ویں برسی پر ایک ایسا شاندار خراج تحسین پیش کیا جارہا ہے کہ جو آج تک کبھی کسی دوسرے فنکار کو پیش نہیں کیا جا سکا۔ مسعودرانا کے ایک ہزار سے زائد فلمی گیتوں کے اردو/پنجابی ڈیٹابیس کے علاوہ ان کے ساتھی فنکاروں پر بھی بڑے تفصیلی معلوماتی مضامین لکھے جارہے ہیں۔ یہ سلسلہ اپنی تکمیل تک جاری رہے گا ، ان شاء اللہ۔۔!

زیبا
زیبا
اقبال حسن
اقبال حسن
ریاض احمد
ریاض احمد
نسیمہ خان
نسیمہ خان
شاہد
شاہد
ماسٹر عاشق حسین
ماسٹر عاشق حسین
ایم صادق
ایم صادق
ایم اشرف
ایم اشرف
آسیہ
آسیہ
عمرشریف
عمرشریف
موج لکھنوی
موج لکھنوی
محمد علی
محمد علی
الطاف حسین
الطاف حسین
آئرن پروین
آئرن پروین
اعظم چشتی
اعظم چشتی
ایس سلیمان
ایس سلیمان
ظہیر کاشمیری
ظہیر کاشمیری
منظورجھلا
منظورجھلا
طفیل ہوشیارپوری
طفیل ہوشیارپوری
راجہ حفیظ
راجہ حفیظ
حبیب جالب
حبیب جالب
سرور بارہ بنکوی
سرور بارہ بنکوی
ریاض احمد راجو
ریاض احمد راجو
سلیم رضا
سلیم رضا
قوی
قوی
نسیم بیگم
نسیم بیگم
حیدر
حیدر
طارق عزیز
طارق عزیز
فیاض ہاشمی
فیاض ہاشمی
البیلا
البیلا
مظفروارثی
مظفروارثی
کیفی
کیفی
منیر حسین
منیر حسین
ساون
ساون
علاؤالدین
علاؤالدین
تانی
تانی
سعیدگیلانی
سعیدگیلانی
عالیہ
عالیہ
اے شاہ
اے شاہ
صبیحہ خانم
صبیحہ خانم
شیریں
شیریں
طفیل فاروقی
طفیل فاروقی
وحیدمراد
وحیدمراد
عزیز میرٹھی
عزیز میرٹھی
رونا لیلیٰ
رونا لیلیٰ
منورظریف
منورظریف
منیر نیازی
منیر نیازی
ایس اے بخاری
ایس اے بخاری
اخترحسین اکھیاں
اخترحسین اکھیاں
مشتاق علی
مشتاق علی
احتشام ، مستفیض
احتشام ، مستفیض
کے خورشید
کے خورشید
منوررشید
منوررشید
ابو شاہ
ابو شاہ
نذیرعلی
نذیرعلی
آئٹم گرلز
آئٹم گرلز
سلونی
سلونی
درپن
درپن
ساقی
ساقی
سیما
سیما
احمد راہی
احمد راہی
رشید عطرے
رشید عطرے
لال محمد اقبال
لال محمد اقبال
شیون رضوی
شیون رضوی
مالا
مالا
روزینہ
روزینہ
اکمل
اکمل
محمد رفیع
محمد رفیع
ندیم
ندیم
وارث لدھیانوی
وارث لدھیانوی
طلعت صدیقی
طلعت صدیقی
خواجہ پرویز
خواجہ پرویز
امجدبوبی
امجدبوبی
رحمان ورما
رحمان ورما
شبنم
شبنم
آغا جی اے گل
آغا جی اے گل
ماسٹر مراد
ماسٹر مراد
ایم اے رشید
ایم اے رشید
ایم سلیم
ایم سلیم
لیلیٰ
لیلیٰ
طالش
طالش
آصف جاوید
آصف جاوید
وزیر افضل
وزیر افضل
رنگیلا
رنگیلا
احمد رشدی
احمد رشدی
مسرور انور
مسرور انور
ماسٹر عبد اللہ
ماسٹر عبد اللہ
سید کمال
سید کمال
ریاض الرحمان ساغر
ریاض الرحمان ساغر
خواجہ سرفراز
خواجہ سرفراز
افتخارخان
افتخارخان
کلیم عثمانی
کلیم عثمانی
اقبال کاشمیری
اقبال کاشمیری
روبن گھوش
روبن گھوش
ایس ایم یوسف
ایس ایم یوسف
سنگیتا
سنگیتا
حسنہ
حسنہ
اختریوسف
اختریوسف
جی اے چشتی
جی اے چشتی
ایم ایس ڈار
ایم ایس ڈار
سیف چغتائی
سیف چغتائی
خان عطا الرحمان
خان عطا الرحمان
اقبال شہزاد
اقبال شہزاد
قدیرغوری
قدیرغوری
شریف نیر
شریف نیر
آصف جاہ
آصف جاہ
مسعود رانا
مسعود رانا
سلطان محمود آشفتہ
سلطان محمود آشفتہ
شباب کیرانوی
شباب کیرانوی
ناشاد
ناشاد
سنتوش کمار
سنتوش کمار
ایم اسماعیل
ایم اسماعیل
رانی
رانی
سیف الدین سیف
سیف الدین سیف
تسلیم فاضلی
تسلیم فاضلی
خلیل احمد
خلیل احمد
حسن لطیف
حسن لطیف
اعظم بیگ
اعظم بیگ
طافو
طافو
اسماعیل متوالا
اسماعیل متوالا
تصورخانم
تصورخانم
رضا میر
رضا میر
ظہیرریحان
ظہیرریحان
ایم اکرم
ایم اکرم
ماسٹر رفیق علی
ماسٹر رفیق علی
حمایت علی شاعر
حمایت علی شاعر
ساحل فارانی
ساحل فارانی
مصلح الدین
مصلح الدین
اسلم ڈار
اسلم ڈار
خلیفہ نذیر
خلیفہ نذیر
اسد بخاری
اسد بخاری
لقمان
لقمان
دیبا
دیبا
عنایت حسین بھٹی
عنایت حسین بھٹی
اسلم ایرانی
اسلم ایرانی
غزالہ
غزالہ
فیروز نظامی
فیروز نظامی
ناہید
ناہید
کمال احمد
کمال احمد
سلیم اقبال
سلیم اقبال
اکبرعلی اکو
اکبرعلی اکو
رخسانہ
رخسانہ
سہیل رعنا
سہیل رعنا
شمیم آرا
شمیم آرا
الحامد
الحامد
نبیلہ
نبیلہ
مسرت نذیر
مسرت نذیر
مشیر کاظمی
مشیر کاظمی
وجاہت عطرے
وجاہت عطرے
ایم جے رانا
ایم جے رانا
بھائیا اے حمید
بھائیا اے حمید
نسیمہ شاہین
نسیمہ شاہین
فردوس
فردوس
حبیب
حبیب
وحیدڈار
وحیدڈار
نذیر بیگم
نذیر بیگم
خلیل قیصر
خلیل قیصر
نورمحمدچارلی
نورمحمدچارلی
بخشی وزیر
بخشی وزیر
مسعودپرویز
مسعودپرویز
حزیں قادری
حزیں قادری
سدھیر
سدھیر
ارشدکاظمی
ارشدکاظمی
نرالا
نرالا
رشیداختر
رشیداختر
نذیر
نذیر
یوسف خان
یوسف خان
زینت
زینت
غلام حسین شبیر
غلام حسین شبیر
صفدرحسین
صفدرحسین
مظہر شاہ
مظہر شاہ
افضل خان
افضل خان
امین ملک
امین ملک
تنویر نقوی
تنویر نقوی
نگہت سیما
نگہت سیما
دلجیت مرزا
دلجیت مرزا
مہدی حسن
مہدی حسن
نذیرجعفری
نذیرجعفری
اے حمید
اے حمید
انورکمال پاشا
انورکمال پاشا
سلیم کاشر
سلیم کاشر
پرویز ملک
پرویز ملک
کریم شہاب الدین
کریم شہاب الدین
علی اعجاز
علی اعجاز
نثار بزمی
نثار بزمی
ماسٹر عنایت حسین
ماسٹر عنایت حسین
آغا حسینی
آغا حسینی
حمیدچوہدری
حمیدچوہدری
دیبو بھٹا چاریہ
دیبو بھٹا چاریہ
جعفر بخاری
جعفر بخاری
اعجاز
اعجاز
ننھا
ننھا
نذر
نذر
علی حسین
علی حسین
ملکہ ترنم نور جہاں
ملکہ ترنم نور جہاں
شبانہ
شبانہ
روبینہ بدر
روبینہ بدر
الیاس کاشمیری
الیاس کاشمیری
شوکت علی
شوکت علی
خواجہ خورشید انور
خواجہ خورشید انور
ریاض شاہد
ریاض شاہد
لہری
لہری
رضیہ
رضیہ
نیلو
نیلو
اطہر شاہ خان
اطہر شاہ خان
حامدعلی بیلا
حامدعلی بیلا
شوکت حسین رضوی
شوکت حسین رضوی
امداد حسین
امداد حسین
قتیل شفائی
قتیل شفائی
حیدر چوہدری
حیدر چوہدری
فضل حسین
فضل حسین
نغمہ
نغمہ
زلفی
زلفی
حسن طارق
حسن طارق
سائیں اختر
سائیں اختر
ناصرہ
ناصرہ
حسن عسکری
حسن عسکری
سلطان راہی
سلطان راہی
رفیق رضوی
رفیق رضوی
ظہورناظم
ظہورناظم
ماسٹر تصدق حسین
ماسٹر تصدق حسین
حنیف
حنیف
غلام نبی ، عبداللطیف
غلام نبی ، عبداللطیف
یاسمین
یاسمین
جمیل اختر
جمیل اختر
بابا عالم سیاہ پوش
بابا عالم سیاہ پوش
سلمیٰ ممتاز
سلمیٰ ممتاز
صہبااختر
صہبااختر
نذرالاسلام
نذرالاسلام
کمار
کمار



PAK Magazine is an individual effort to compile and preserve the Pakistan's political, film and media history.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes, and therefor, I am not responsible for the content of any external site.