A Tribute To The Legendary Playback Singer Masood Rana

Masood Rana - مسعودرانا Masood Rana sang 1035 songs in 647 films

مسعودرانا کا ایک ریڈیو انٹرویو

مسعودرانا
کا ایک یادگار انٹرویو
جب انکی صرف دو فلمیں ہی ریلیز ہوئی تھیں
مسعودرانا کا ایک ریڈیو انٹرویو سماعت سے گزرا جو بڑی دلچسپی کا حامل رہا۔ دس منٹ دورانئے کا یہ انٹرویو ریڈیو پاکستان کراچی کے ایک کمرشل پروگرام میں اداکار اور میزبان ایم اے سلیم نے پیش کیا تھا۔ اندازاً یہ انٹرویو 1962ء کے آخر یا 1963ء کے شروع میں لیا گیا تھا۔ اس وقت تک مسعودرانا کی صرف دو فلمیں انقلاب اور بنجارن (1962) ہی ریلیز ہوئی تھیں لیکن کراچی کے ایک نامور سٹیج گلوکار ہونے کے بعد وہ ایک مصروف فلمی گلوکار بھی بن چکے تھے۔

اس ریڈیو انٹرویو کے شروع میں مسعودرانا کا تعارف کروایا گیا کہ وہ 1938ء میں میرپور خاص میں پیدا ہوئے اور وہیں تعلیم پائی۔ (ان کے مرقد کے کتبے پر تاریخ پیدائش 6 اگست 1941ء درج ہے)۔ 1957ء میں ریڈیو پاکستان حیدرآباد سے گانا شروع کیا اور 1960ء میں کراچی چلے گئے جہاں پس پردہ گلوکار کے طور پر ان کی پہلی فلم انقلاب تھی۔ اس انٹرویو تک ان کی جن زیر تکمیل فلموں کا ذکر کیا گیا ، ان میں شرارت ، مسٹر ایکس ، دل نے تجھے مان لیا ، جب سے دیکھا ہے تمہیں ، رشتہ (1963) ، ڈاچی (1964) ، بدنام (1966) ، بازیگر (جو بہادر کے نام سے 1967ء میں ریلیز ہوئی تھی) اور ایک غیرریلیز شدہ فلم شیشے کی دیوار شامل تھیں۔

اس کے بعد باقاعدہ گفتگو شروع ہوتی ہے اور میزبان کے استفسار پر کہ مسعودرانا کے مسکرانے کی وجہ کیا ہے۔۔؟

جواب میں وہ یہ دلچسپ واقعہ سناتے ہیں کہ لاہور میں پنجابی فلم رشتہ کی ایک قوالی کی ریکارڈنگ کے دوران گلوکار منیرحسین کے علاوہ جو ساتھی قوال تھے ، ان میں سے ایک کے منہ میں مچھر چلا گیا تھا جس سے اس کی اونچی تان نیچی تان میں بدل گئی تھی۔ اتفاق سے اسے ایسا ہی کرنا تھا۔ اس پر اسے بڑی داد ملی کہ کیا تان لگائی ہے لیکن جب مچھر اس کے منہ میں دیکھے تو سبھی بڑے محظوظ ہوئے۔ اس موقع پر محسوس ہوتا ہے کہ مسعودرانا بڑے فخر سے اپنی لاہور کی فلم میں گانے کا قصہ سنا رہے ہیں۔ اس وقت تک وہ کراچی میں رہتے تھے اور وہاں بننے والی فلموں میں گا رہے تھے۔ مرکزی فلم انڈسٹری لاہور میں تھی اور بابا چشتی اس وقت تک سب سے مقبول ترین موسیقار تھے جنہوں نے فلم بنجارن (1962) میں مسعودرانا کو سنتے ہی لاہور بلا بھیجا تھا اور اوپر تلے دو گیت گوا لئے تھے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ مسعودرانا ، بابا چشتی کا نام بڑے ادب و احترام سے لے رہے تھے۔

Masood Rana
Masud Rana
پھر میزبان ایم اے سلیم ، مسعورانا سے پوچھتے ہیں کہ ان کے خیال میں وہ ایک ٹائپ پلے بیگ سنگر ہیں۔۔!

اس پر مسعودرانا اپنے گائے ہوئے تین گیت گا کر ثابت کرتے ہیں کہ وہ ٹائپ سنگر نہیں بلکہ ایک ورسٹائل سنگر ہیں۔ پہلے وہ فلم بنجارن (1962) کا شوخ گیت "کہیں دل پہ نہ جادو کر جائے۔۔" گاتے ہیں جو میزبان کی زبانی اپنے وقت کا ایک ہٹ گیت تھا۔ پھر وہ فلم مسٹر ایکس (1963) کا سنجیدہ گیت "کس کے قدموں کی یہ آہٹ ہے بھلا۔۔" گاتے ہیں اور آخر میں فلم ڈاچی (1964) کے ایک مزاحیہ گیت "چور تے لاٹھی دو جنے تے میں تے لالہ کلے۔۔" گاتے ہیں جس پر میزبان مان جاتے ہیں کہ واقعی وہ ایک ٹائپ سنگر نہیں اور اعتراف کے طور پر ان کے ایک گیت کا یہ جملہ دھراتے ہیں کہ "یہ چھیڑ خانی ، ارے توبہ۔۔!"

اگلا سوال یہ پوچھا جاتا ہے کہ اس وقت تک انہوں نے کس کس میوزک ڈائریکٹر کی دھنیں گائی ہیں۔۔؟

جواب میں مسعودرانا ان موسیقاروں کا نام لیتے ہیں: دیبو بھٹا چاریہ ، جی اے چشتی ، سیف چغتائی ، فتح علی خان ، حسن لطیف ، جی ایچ قادری ، این جے راٹھور ، سہیل رعنا اور لال محمد اقبال۔ اس کے بعد ان سے پوچھا گیا کہ کس موسیقار کے دھن گانے میں آسانی ہوتی ہے تو انہوں نے برجستہ بابا چشتی کا نام لیا اور مندرجہ بالا مزاحیہ گیت کے بارے میں بتایا کہ صرف تین گھنٹے میں اسے یاد کیا اور پانچ گھنٹوں کے اندر ریکارڈ بھی ہو گیا تھا۔ اس وقت تک انہوں نے بابا چشتی کی صرف دو دھنیں (فلم رشتہ اور ڈاچی میں) گائی تھیں اور "ٹانگے والا خیر منگدا۔۔" جیسا لازوال گیت نہیں گایا تھا۔ متذکرہ موسیقاروں کی فہرست دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ میرے فلمی ریکارڈز میں ابھی مسعودرانا کے بہت سے گیت نہیں ہیں۔ ان میں سے فتح علی خان اور جی ایچ قادری کے ساتھ تو ان کا کبھی کوئی گیت نہیں سنا۔ یقیناً ایسی بہت سی فلمیں ہیں جو کبھی ریلیز نہیں ہوئیں۔ پاکستان فلم ڈیٹابیس میں غیرریلیز شدہ فلموں کا اندراج ہے لیکن یہ وہ فلمیں ہیں کہ جن کی کاسٹ کریڈٹ یا گیتوں کے بارے میں کچھ معلومات دستیاب ہیں۔

میزبان ایم اے سلیم کا اگلا سوال بڑا دلچسپ تھا کہ اگر ڈوئیٹ گاتے ہوئے آپ کا پارٹنر کمزور ہو تو کچھ دقت تو ہوتی ہوگی۔۔؟

مسعودرانا ، اس سوال کے جواب میں ایک منجھے ہوئے فنکار کے روپ میں بڑے اعتماد سے یہ جواب دیتے ہیں کہ "۔۔اول تو پارٹنر کمزور لاتے ہی نہیں ہیں ہم۔۔!" دھیان رہے کہ اس وقت تک مسعودرانا کی صرف دو فلمیں انقلاب اور بنجارن (1962) ہی ریلیز ہوئی تھیں اور اگلی فلم رشتہ تھی جو مارچ 1963ء میں جا کر ریلیز ہونا تھی لیکن اس انٹرویو سے ایسا لگتا ہے کہ جیسے وہ بڑے تجربہ کار گلوکار تھے اور نجانے کب سے گا رہے تھے۔

اس کے بعد کسی گیت کے مقبول ہونے اور ریکارڈنگ کوالٹی پر بات ہوتی ہے اور آخر میں مسعودرانا کی پسند کا گیت سنا جاتا ہے۔ وہ ریکارڈ بجنے سے پہلے گیت کا مکھڑا خود گا کر سناتے ہیں "ساتھی نہ کوئی منزل ، دیا ہے نہ کوئی محفل۔۔" یہ گیت ان کے روحانی استاد محمدرفیع صاحب کا گایا ہوا تھا جنہیں کراچی سٹیج پر گا کر وہ "پاکستانی رفیع" کہلانے لگے تھے۔

یہ انٹرویو یوٹیوب پر محترم خورشیدعبداللہ کے چینل پر اپ لوڈ ہے جسے وہ جناب لطف اللہ خان کے آوازخزانہ سے پیش کرتے ہیں۔ اس چینل پر بڑا زبردست مواد موجود ہے جو اہل ذوق کے لئے کسی قیمتی خزانے سے کم نہیں ہے۔ ایسا ہی ایک ویڈیو ایف ایم پنجاب رنگ کے یوٹیوب چینل پر ہے جس میں مسعودرانا کی پچیسویں برسی انہیں یاد کیا گیا تھا۔ معروف گلوکار انوررفیع اور آصف جاوید کے علاوہ مسعودرانا کے ایک بھائی اور دوست بھی اس پروگرام میں شامل ہیں۔


Pakistan Film Magazine

The first and largest website on Pakistani films, music and artists.



پاکستان فلم میگزین ۔۔۔ سنہری فلمی یادوں کا امین

پاکستان فلم میگزین ، پاکستانی فلموں ، فلمی گیتوں اور فلمی فنکاروں پر اولین ، منفرد اور ایک بے مثل معلوماتی اور تفریحی ویب سائٹ ہے جو 3 مئی 2000ء سے مسلسل اپ ڈیٹ ہورہی ہے۔ یہ ایک انفرادی کاوش ہے جو فارغ اوقات کا ایک بہترین مشغلہ بھی ہے۔ یہ تاریخ ساز ویب سائٹ کبھی نہ بن پاتی ، اگر پاکستانی فلموں میں میرے آئیڈیل گلوکار جناب مسعودرانا صاحب کے گیت نہ ہوتے۔ اس عظیم گلوکار کو ایک منفرد خراج تحسین پیش کرنے کے لئے اس کے گائے ہوئے ایک ہزار سے زائد گیتوں کا پہلا اردو ڈیٹابیس بنایا گیا ہے جس میں ریکارڈ محفوظ رکھنے کے علاوہ دیگر ساتھی فنکاروں پر تفصیلی مضامین بھی شائع کئے جارہے ہیں۔