25th celebration

Zarqa (1969)

About films Zarqa and Ishq Na Puchhay Zaat (1969)

فلم بینی کا عروج

پاکستان فلم میگزین کی 25ویں سالگرہ کے سلسلے میں ذاتی فلمی تجربات، مشاہدات اور اہم شخصیات کی ناقابلِ فراموش یادوں پر مشتمل مضامین میں آج دو یادگار فلموں، عشق نہ پچھے ذات (1969) اور زرقا (1969) کے علاوہ ان سے منسوب اہم واقعات پر تفصیلی بات ہوگی۔

عشق نہ پچھے ذات (1969)

عشق نہ پچھے ذات (1969)

فلم عشق نہ پچھے ذات کی کہانی

جاگیردار الیاس کاشمیری کو قدرت نے اولاد کے سوا سبھی دنیاوی نعمتوں سے نوازا ہوا ہے۔ اس مقصد کے لیے اپنی شان و شوکت اور اعلیٰ ذات کو بھلا کر ننگے پاؤں ایک سوالی کے طور پر پاک پتن میں آسودہ خاک بابا فریدؒ کے مزار پر جھولی پھیلانا پڑتی ہے۔

بزرگ کی کرامت سے ایک بیٹا (اعجاز) پیدا ہوتا ہے جو ایک غریب ملاح لڑکی فردوس کے عشق میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اتفاق سے فردوس، ایک غریب شخص (ساون) سے شادی کرنے والی جاگیردار کی سالی (سیما) کی بیٹی ہے جنھیں ذات پات کے بندھن توڑ کر پسند کی شادی کرنے کے جرم میں خاندان سے نکال دیا گیا ہوتا ہے۔

محبت، فاتح عالم ہوتی ہے اور کہانی کا خلاصہ فلم کے ٹائٹل کے عین مطابق "عشق نہ پچھے ذات" ہوتا ہے۔

پنجابی فلموں کے ممتاز ہدایتکار حیدرچوہدری کی رومانٹک اور نغماتی فلم عشق نہ پچھے ذات (1969)، سینما پر دیکھی ہوئی میری تیسری فلم تھی جس کے مرکزی کردار بھی فردوس اور اعجاز تھے۔

پہلی فلم لچھی (1969) اور دوسری فلم قول قرار (1969) بھی انھی تینوں فنکاروں کی فلمیں تھیں، اس طرح سے یہ ان کی ہٹ ٹرک بھی تھی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جب بھی کسی فلمی ہیروئن یا ہیرو کا ذکر ہو تو سب سے پہلے فردوس اور اعجاز ہی ذہن میں آتے ہیں جن کی اپنے پہلے فلمی دور یعنی 1970/73ء میں سب سے زیادہ فلمیں دیکھی تھیں۔

فلم عشق نہ پچھے ذات (1969)، اپنے خوبصورت گیتوں کی وجہ سے مشہور تھی۔ حزیں قادری، گیت نگار تھے۔ وجاہت عطرے کی موسیقی میں سب سے سپرہٹ گیت میڈم نورجہاں کا گایا ہوا لازوال گیت "وگدی ندی دا پانی، اینج جا کے مڑ نئیں آندا۔۔" تھا جبکہ میڈم ہی کا گیت "پیار تینوں کرنی آں۔" اور مالا اور مسعودرانا کا دوگانا "وے جے تو مینوں پیار کرنا ایں۔۔" بڑے دلکش گیت تھے۔

پاک پتن تے آن کھلوتی

اس دور کی بیشتر پنجابی فلموں میں ایک آدھ دھمال بھی ہوتی تھی۔ ایسی ہی ایک دھمال "پاک پتن تے آن کھلوتی، بیڑی میری بنھے لا۔۔" بھی بڑی مقبول ہوئی جو میڈم نورجہاں کی آواز میں تھی۔

یہی دھمال، فلم کے آخر میں چل رہی ہوتی ہے کہ اچانک کھاریاں کے قیصرسینما کا فلم آپریٹر بلال، سینما ہال میں مجھے ڈھونڈ کر کہتا ہے: "تمہارے دادا ابو، باہر تمہارا انتظار کررہے ہیں، چلو اٹھو، ان کے ساتھ گھر جاؤ۔۔"

فلم میں اتنا محو تھا کہ بے خیالی میں اسے کہا: "انھیں کہیں کہ اندر ہی آجائیں۔۔!"

اُس نے ڈانٹتے ہوئے کہا: "تمہیں شرم نہیں آئے گی کہ تمہار ا دادا فلم دیکھے، کیا پہلے کبھی اس نے کوئی فلم دیکھی ہے، اٹھو، اس کے ساتھ گھر جاؤ، فلم بھی ختم ہونے والی ہے۔۔!"

یہ جملہ بڑا تحکمانہ تھا جو اس وقت بہت بُرا لگا۔ بڑبڑاتے ہوئے باہر نکلا: "یہ باپو جی کو بھی آج ہی رنگ میں بھنگ ڈالنا تھی۔۔!"

یہ ناقابلِ فراموش واقعہ جب بھی یاد آتا ہے، آنکھیں، آنسوؤں سے تر ہوجاتی ہیں اور اظہارِ تشکر کے لیے الفاظ نہیں ملتے۔ میرا بابا، اپنے کم سن پوتے کو گھر لانے کے لیے سینما کے باہر بیٹھا شو ٹوٹنے کا انتظارکررہا تھا حالانکہ خود اس نے زندگی بھر شاید ہی کوئی فلم دیکھی ہوگی۔

قیصرسینما کا فلم آپریٹر بلال، باپو جی کو جانتا تھا۔ وہ رات کو فلم چلاتا اور دن کو گلیانہ روڈ پر سائیکلوں کو رنگ کرنے کا کام کیا کرتا تھا۔ اس روڈ کے سبھی دکاندار ایک دوسرے کو جانتے تھے۔ اسے خاصا معیوب لگا کہ صوم و صلوٰۃ کا پابند، ایک باریش بزرگ، سینما کے باہر، جھاڑے کی ایک ٹھنڈی اور تاریک رات کو موٹے کمبل (لوئی) میں لپٹا ہوا، ایک ہاتھ میں لالٹین اور دوسرے ہاتھ میں ڈانگ پکڑے بیٹھا، اپنے سات سالہ فلم بین پوتے کو سینما سے گھر لے جانے کے لیے فلم ختم ہونے کا انتظار کررہا ہے۔

فلم زرقا کی یاد میں

ایسا ہی ایک ناقابلِ فراموش واقعہ فلم زرقا (1969) کے ضمن میں بھی ہوا لیکن اس بار صورتحال مختلف تھی۔ ہوا یوں کہ ایک جمعرات کی رات کو یہ فلم دیکھنے گیا۔ استادرشید کے پوچھنے پر جھوٹ بولا کہ گھر بتا کر آیا ہوں۔ جب فلم ختم ہوئی تو وہ، گھر جا چکے تھے، شاید سابقہ تجربہ کی بنیاد پر انھیں یقین تھا کہ دادا جان، ایک بار پھر آکر لے جائیں گے لیکن اس بار جھوٹ کی سزا جو ملنا تھی۔

زرقا (1969)

فلم زرقا کی کہانی

زرقا (نیلو)، 1948ء میں قائم ہونے والی صیہونی ریاست اسرائیل کے خلاف فلسطینی مزاحمتی تنظیم "الفتح" کی زیرِزمین عسکری تنظیم "العاصفہ" کی ایک خودکش مجاہدہ ہے جو ایک اہم ملٹری ٹارگٹ کو تباہ کرکے شدید زخمی ہو جاتی ہے لیکن اس کو نشانِ عبرت بنانے کے لیے گولیوں کی بوچھاڑ سے پھانسی پر لٹکا دیا جاتا ہے۔

"العاصفہ" کا سربراہ شعبان لطفی (علاؤالدین) ہے جس کا ایک سرگرم کارکن اعجاز بھی اپنے جانثار ساتھیوں سمیت اس خودکش حملے میں جاں بحق ہوجاتا ہے۔

اسرائیلی میجر ڈیوڈ (طالش)، سبھی مشتبہ فدائین کو گرفتار کر لیتا ہے۔ سرغنہ علاؤالدین کو زمین میں گاڑ کر جب حقارت سے اس کا "شیماغ" (عربوں کا روایتی سر کا رومال) نوچ کر پھینکتا ہے تو اصل میں وہ منظر، عربوں کی بے بسی اور ذلت و خواری کی علامت ہوتا ہے۔ اس کے بعد اس کو اندھا کرکے وطن کی آزادی کے ترانے گانے کے لیے زندہ چھوڑ دیا جاتا ہے۔

قیصرسینما سے ہمارے گھر کا فاصلہ ڈیڑھ سے دو کلومیٹر تک ہوگا۔ اس وقت کھاریاں میں سٹریٹ لائٹیں نہیں ہوتی تھیں اور ہم اندھیروں ہی میں سفر کے عادی تھے۔ ایک سات سالہ بچہ تن تنہا اس تاریکی میں سہما ہوا گھر کی طرف جارہا تھا۔ اس وقت اتنی آبادی نہیں تھی۔ فلم کا آخری دن تھا، اس لیے زیادہ فلمی شائقین بھی نہیں تھے۔ اس وقت واقعی بہت ڈر رہا تھا کہ ایسے میں کسی نے سختی سے بازو دبوچ لیا۔ گبھرا کر دیکھا تو ہانپتے کانپتے دادا جان (مرحوم و مغفور) تھے۔ نجانے کب سے اور کہاں کہاں ڈھونڈ رہے تھے۔۔؟

گھر جا کر انھوں نے والدصاحب کے سامنے پٹخا اور انہتائی غصے سے کہا: "فلم دیکھنے گیا ہوا تھا۔۔!"

والدصاحب کو نجانے کیسے رحم آگیا۔ بولے: "آج چھوڑ دیں، آئندہ بغیر بتائے نہیں جائے گا۔"

اس کے بعد واقعی بتائے بغیر اور خاص طور پر رات کو کبھی گھر سے باہر نہیں رہا۔

فلم زرقا (1969)

زرقا (1969)
فلم زرقا (1969)
فلمساز، ہدایتکار اور مصنف ریاض شاہد کی تاریخی فلم زرقا (1969)، اپنی گوناگوں خوبیوں کی بدولت ایک بامقصد اور شاہکار فلم تھی جس میں فلسطینی جدوجہد کو اجاگر کیا گیا تھا لیکن اس فلم میں ایک مسلمان لڑکی کا وطن کی آزادی کے لیے قحبہ خانے میں ناچنا گانا بہت سے لوگوں کو ہضم نہیں ہوا تھا۔

اداکاری میں طالش، سب پر حاوی تھے۔ نیلو، اعجاز اور علاؤالدین نے اپنے اپنے کردار بخوبی نبھائے لیکن ایک درازقامت ایکسٹرا اداکار "فومی" کا مرتے وقت بھی آنکھ مارنا، اس کے یادگار کرداروں میں سے ایک تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ فومی، اداکارہ رقاصہ ایمی مینوالہ کے بھائی تھے اور پارسی مذہب سے تعلق تھا۔

فلم زرقا (1969)، ایک ایسے دور میں سامنے آئی جب مسلمانوں کے قبلہ اول پر یہودیوں کا قبضہ ہوگیا تھا۔ جون 1967ء کی چھ روزہ جنگ میں اسرائیل نے عربوں کو تاریخ کی بدترین، شرمناک اور فیصلہ کن شکست سے دوچار کیا تھا۔ پہلے ہی دن فضائی حملے میں مصر، شام، اردن اور عراق کے چار سو کے قریب جنگی طیاروں کو زمین پر ہی تباہ کردیا تھا۔ اپنے مجموعی رقبے سے بھی زیادہ علاقوں پر قبضہ کیا، مصر سے غزہ اور صحرائے سینا، شام سے گولان کی پہاڑیاں اور اردن سے مشرقی بیت المقدس سمیت دریائے اردن کا سارا مغربی علاقہ بھی ہتھیا لیا جو آج بھی اس کے پاس ہے، صرف صحرائے سینا، ایک معاہدے کے تحت مصر کو واپس ملا تھا۔

فلم زرقا (1969) کی موسیقی

فلم زرقا (1969) کی موسیقی رشیدعطرے مرتب کررہے تھے لیکن اس دوران ان کا انتقال ہوگیا تو ان کے ہونہار بیٹے وجاہت عطرے نے باقی گیتوں کی دھنیں بنائیں جن میں خانصاحب مہدی حسن کی آواز میں یہ لافانی گیت "رقص، زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے۔۔" بھی تھا۔ اس گیت پر باقی تفصیل نیلو کے مضمون میں ہے۔

فلم زرقا (1969) کے باقی گیت نسیم بیگم، مالا اور منیرحسین نے گائے تھے جبکہ گیت نگار حبیب جالب، خواجہ پرویز، ریاض شاہد اور سلطان محمود آشفتہ تھے۔

فلم زرقا کی ڈائمنڈ جوبلی

فلم زرقا (1969) کے بارے میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ "پاکستان کی پہلی ڈائمنڈجوبلی فلم" ہے جو سو ہفتے یا مسلسل دو سال تک چلتی رہی ہے۔

حقیقت میں یہ ایک بہت بڑی غلط بیانی اور بددیانتی ہے جس پر بڑی ڈھٹائی اور بے شرمی سے اصرار کیا جاتا رہا ہے۔

فلم زرقا (1969)، کراچی میں 36 ہفتے یعنی نو ماہ اور لاہور میں 28 ہفتے یعنی 7 ماہ تک مسلسل زیرِ نمائش رہی جو بلاشبہ بہت بڑی ملک گیر کامیابی تھی۔

یقیناً یہ سوال تو بنتا ہے کہ پھر اس اخباری اشتہار میں 100 ہفتوں کا دعویٰ کیوں کیا گیا ہے۔۔؟

کیا واقعی فلم زرقا
مسلسل دو سال تک چلتی رہی تھی؟  زرقا  (1969)
کراچی میں فلم زرقا کی ڈائمنڈ جوبلی کا اشتہار

اس سوال کا تفصیلی جواب "جوبلی فلمیں" کے مضمون میں ہے لیکن مختصراً یہ کہ ہمارے ہاں جوبلی فلموں کے صرف ہفتے ہی نہیں بلکہ سینما بھی گنے جاتے تھے۔ مثلاً ایک فلم اگر کراچی یا لاہور کے دس سینماؤں میں ریلیز ہوتی تھی تو پہلے ہی ہفتے اس کے دس ہفتے شمار کر لیے جاتے تھے۔

ایسا صرف پاکستان میں ہوتا تھا، دنیا میں اور کہیں نہیں ہوتا تھا، یہاں تک کہ پڑوسی ملک بھارت میں بھی یہ ڈنڈی نہیں ماری جاتی تھی اور فلم کے صرف اصلی ہفتے ہی شمار کیے جاتے تھے۔

پاکستان فلم میگزین پرفلم زرقا (1969) کے ہفتوں کو اس طرح سے لکھا گیا ہے کہ کراچی 36/102 (ڈائمنڈجوبلی) اور لاہور 28/40 (سلورجوبلی) جس کا مطلب یہ ہے کہ اصل ہفتے/کمبائنڈ یا جعلی ہفتے یعنی تمام ہفتوں اور سینماؤں کو ملا کر بننے والے ہفتے۔

یاد رہے کہ کراچی میں کبھی کوئی فلم اصل گولڈن جوبلی تک نہیں کرسکی اور تمام بڑی بڑی جوبلیاں اصل میں اسی طرح کی "جعلی جوبلیاں" ہوتی تھیں۔

ایک تصحیح

2008ء میں پاکستانی فلموں کے 60 سال کے سلسلے میں لکھے گئے ایک مضمون میں زرقا (1969) کو اپنی تیسری فلم لکھا تھا جو غلط ثابت ہوا کیونکہ 2012ء میں جب پاکستانی فلموں کا ڈیٹابیس بنایا تو بہت سی غلطیاں سامنے آئیں جن میں میری تیسری اور چوتھی فلموں کی ترتیب بھی تھی۔

فلم زرقا، 17 اکتوبر 1969ء کو لاہور میں ریلیز ہوئی لیکن کھاریاں میں 20 مارچ 1970ء کے بعد ریلیز ہوئی تھی۔ اس تاریخ کو فلم ماں پتر (1970)، لاہور میں ریلیز ہوئی جو کھاریاں کے سازین سینما پر اسی ہفتے چلی جب قیصرسینما پر زرقا (1969) چلی تھی۔ یہ اپریل یا مئی 1970ء کا عرصہ ہوگا، گرمیاں تھیں جبکہ فلم عشق نہ پچھے ذات (1969) سردیوں میں دیکھی تھی جو دسمبر 1969ء سے فروری 1970ء کا عرصہ تھا۔

زندگی کتنی حسین ہے (1969)

ترتیب کے لحاظ سے اپنی پانچویں فلم جو یاد ہے، وہ عکاس اور ہدایتکار ریاض بخاری کی اردو فلم زندگی کتنی حسین ہے (1969) ہے۔ یہی پہلی فلم تھی جو آدھی دیکھ سکا کیونکہ استادرشید کا کام جلدی ختم ہوگیا تھا اور انھوں نے مجھے گھر چھوڑنا تھا۔

اس فلم میں مہدی حسن کا یہ رومانٹک گیت میرے پسندیدہ ترین گیتوں میں سے ایک رہا ہے: "جب کوئی پیار سے بلائے گا، تم کو ایک شخص یاد آئے گا۔۔"

یہی پہلی فلم تھی جس میں اردو فلموں کی لی جنڈ جوڑی، زیبا اور محمدعلی کو مرکزی کرداروں میں دیکھا تھا۔ ان کی دوسری فلم افسانہ زندگی کا (1972) تھی جو سینما مالک کے ساتھ بیٹھ کر دیکھی جس کو اس دن ایک سینما سلائید لکھ کر دی تھی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اپنی فلم بینی کے پہلے چار برسوں میں زیبا اور اس عظیم جوڑی کی صرف تین فلمیں ہی دیکھ سکا جن میں ٹی وی پر دیکھی ہوئی پہلی فلم جو یادداشت میں محفوظ ہے، وہ مجھے جینے دو (1968) تھی۔ پنجاب سرکٹ میں اردو فلمیں چند بڑے شہروں تک محدود ہوتی تھیں اور چھوٹے شہروں اور قصبوں میں زیادہ تر پنجابی فلموں کا راج ہوتا تھا۔ اس دور میں محمدعلی کی چوتھی اور آخری فلم جو دیکھی، وہ سرحد کی گود میں (1973) تھی جس کی ہیروئن فردوس تھی۔

اس کے بعد فلمیں دیکھنے کی ترتیب یاد نہیں لیکن 1970ء سے 1973ء تک کے دور کی دیکھی ہوئی قریباً ایک ایک فلم اچھی طرح سے یاد ہے جس پر 2019ء میں اپنی فلم بینی کی 50ویں سالگرہ پر منفرد اعدادوشمار جمع کیے تھے۔

داداجان کی یاد میں

جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے کہ جب فلم عشق نہ پچھے ذات (1969) دیکھی تو داداجان (مرحوم و مغفور)، سینما سے گھر لے کر آئے تھے لیکن جب فلم زرقا (1969) دیکھی تو ڈھونڈ کر لائے تھے کیونکہ گھر بتائے بغیر فلم دیکھنے چلا گیا تھا۔

ان واقعات کو بنیاد بناتے ہوئے والدصاحب (مرحوم و مغفور) نے متعدد بار یہ طعنہ دیا تھا کہ "تجھے تو بچپن ہی سے تیرا دادا، فلمیں دکھایا کرتا تھا۔۔!"

کیا واقعی ایسا تھا۔۔؟

آج اسی موضوع پر بات ہوگی کیونکہ داداجان مرحوم سے بڑی گہری یادیں وابستہ ہیں لیکن یہاں صرف فلمی یادوں یا اس ویب سائٹ سے متعلق اہم واقعات ہی کو تازہ کیا جائے گا۔

فلم بینی کی آزادی

داداجان مرحوم و مغفور نے بظاہر کبھی فلم بینی سے منع نہیں کیا تھا لیکن عام اجازت بھی نہیں ہوتی تھی۔ اگر ایسا ہوتا تو شاید دیکھی ہوئی فلموں کی تعداد دگنی ہوتی۔

بچپن ہی سے اشاروں کی زبان یا باڈی لینگویج سمجھتا تھا اور یہ محسوس کرتا تھا کہ جب فلم دیکھنےجانا ہوتا تھا تو عین اس وقت پر داداجان، کسی نہ کس کام پر لگا دیتے تھے۔

کم عمری ہی سے گھر کے علاوہ دکان کے لیے شہر سے سودا سلف لانے کی ذمہ داری بھی ہوتی تھی جبکہ بڑا سودا لاہور سے لاتے جہاں ایک دکان پر پہلی بار روزنامہ جنگ کراچی دیکھا جو وہاں ہوائی جہاز پر آتا تھا اور اس کی قیمت لاہور کے دیگر اخبارات کی نسبت پانچ پیسے زیادہ ہوتی تھی۔ اس وقت تک لاہور سے "جنگ" شائع نہیں ہوتا تھا۔ اس دن، ذہن پر نقش ہوگیا تھا کہ دکاندار، اخبار میں چھپنے والے فلمی اشتہارات سے خاصے محظوظ ہو رہے تھے۔

جمعتہ المبارک کو ہماری دکان بند ہوتی تھی لیکن اتوار کو کھلی رہتی تھی۔ اس دن فلم کا میٹنی شو ہوتا تھا جس کے لیے داداجان سے آنکھ مچولی کھیلنا پڑتی تھی۔ ہماری دکان، ایک ایسے موڑ پر ہوتی تھی جہاں سے سڑک کے دونوں اطراف سے دور دور سے آنے والے لوگ دو قدآدم آئینوں کی مدد سے دیکھے جا سکتے تھے۔ ایسے میں داداجان کو ڈاج دے کر نکلنا بڑا مشکل ہوتا تھا۔ لیکن فلم بینی کے شوق (یا جنون) میں عام راستے کی بجائے ایک لمبا راستہ اختیار کرتا اور قبرستان اور کھیتوں میں سے ہوکر اس برساتی نالے کے قریب جا نکلتا تھا جو کھاریاں کینٹ کو شہر سے الگ کرتا تھا اور جہاں قریب ہی قیصرسینما ہوتا تھا۔

فلم بینی معیوب کیوں؟

ہمارے معاشرے میں فلم بینی کو انتہائی معیوب سمجھا جاتا رہا ہے۔ فلموں کی تشہیر ناچ گانوں سے کی جاتی تھی جس کو "شریفوں کا کام" نہیں سمجھا جاتا تھا۔ عام فلم بین بھی فلم کو عیاشی سمجھتے تھے اور ناچتی گاتی اداکاراؤں کے رسیا ہوتے تھے۔ دوسرے نمبر پر لڑائی مارکٹائی پسند کی جاتی تھی۔ تیسرے نمبر پر کامیڈی اور آخر میں فلم کی کہانی اور اداکاری وغیرہ ہوتی تھی۔ بیشتر جنونی لوگ، اپنی اپنی پسند کے فنکاروں کی کشش میں فلمیں دیکھتے تھے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ فلم بینی کے شوق کے باوجود زندگی بھر ناچ گانے یا لڑائی مارکٹائی سے دلچسپی رہی نہ اداکاروں کا جنون رہا، صرف گیت سننے کا شوق ہوتا تھا اور دلکش آوازیں بڑی کمزوری ہوتی تھیں اور ان کا مزہ فلم کی بجائے صرف ریڈیو پر آتا تھا۔

فلم بینی کا شوق کیوں؟

آج جب چھ دھائیاں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو اس سوال کا جواب آسانی سے مل جاتا ہے کہ اتنی کم عمری میں فلم بینی کا شوق کیوں پیدا ہوا۔۔؟

والدصاحب مرحوم نے پہلی فلم دکھائی اور کبھی بھی فلمیں دیکھنے سے منع نہیں کیا تھا۔ داداجان، کی موجودگی میں چار برسوں میں سو کے قریب فلمیں دیکھیں۔ ہماری دکان پر کام کرنے والے مقامی سینما کے پینٹر، استادرشید کی وجہ سے مفت میں فلمیں دیکھنے کا موقع ملا جو شاید فلم بینی کی سب سے بڑی وجہ ثابت ہوئی تھی۔

اس دور میں فلمیں سب سے بڑی تفریح ہوتی تھیں۔ اخبارات و جرائد میں فلمی خبروں اور اشتہارات کو بڑے اہتمام کے ساتھ شائع کیا جاتا تھا۔ خصوصی فلم ایڈیشن شائع ہوتے تھے۔ بے تحاشا خالص فلمی رسالے شائع ہوتے تھے۔ ریڈیو پر سب سے زیادہ فلمی گیت پسند کیے جاتے تھے جن کی بڑی لمبی چوڑی فرمائشیں ہوتی تھیں۔ ٹی وی پر بھی فلموں، فلمی گیتوں اور فلمی فنکاروں کو بڑی اہمیت دی جاتی تھی۔

چونکہ میڈیا کا شوق بھی تھا تو "باخبر یا اپ ڈیٹ" رہنے کے لیے بھی فلم بینی ضروری تھی۔ البتہ میری عمر کے بچوں کے لیے یہ شوق منفرد تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر لکھنے پڑھنے کا عادی نہ ہوتا اور قدرتی طور پر ذہین و فطین نہ ہوتا تو فلم بینی کی اجازت شاید بالکل نہ ملتی۔ میرے تایاجان (مرحوم و مغفور)، میری دانائی کی باتوں سے اتنے متاثر تھے کہ "دانی" کہہ کر پکارتے تھے۔ ظاہر ہے کہ والدین کے لیے باعثِ فخر ہوتا ہے کہ کوئی ان کی اولاد کی تعریف کرے، ایسے میں کئی چھوٹے موٹے عیب چھپ جاتے ہیں جن میں میرا فلم بینی کا عیب بھی شامل تھا۔

نمازِ جمعہ کہاں پڑھی؟

اچھی طرح سے یاد ہے کہ ایک بار باپوجی نے پوچھا: "آج جمعہ کی نماز کہاں پڑھی ہے۔۔؟"

میں نے جھوٹ بول دیا تھا کہ "گیمن کالونی کی مسجد میں۔۔!"

انھیں اندازہ ہوگیا تھا کہ میں نے جمعہ کی نماز نہیں پڑھی اور سینما پر گیا تھا، طنزیہ کہنے لگے: "تمہیں قریب کہیں کوئی مسجد نہیں ملی۔۔!"

پڑھائی کی مشق

داداجان کے ساتھ ایک یادگار سفر لاہور کا تھا جب ہم ایک شادی کے سلسلے میں گئے تھے۔ اس دوران، راوی روڈ پر لٹکا ہوا فلم بہاریں پھر بھی آئیں گی (1969) کا بورڈ مع پوسٹر کبھی نہیں بھولا۔

بس میں سوار ہر دکان کا بورڈ پڑھنا لازم ہوتا تھا۔ باپوجی بڑے خوش ہوتے اور اگر خاموش ہو جاتا تو خود پوچھتے کہ کیا لکھا ہے۔

لاشعوری طور پر وہ ایک ایسی مشق تھی جس نے لکھنے پڑھنے میں بڑی آسانی پیدا کی۔ اصل میں ہم الفاظ کو ہجے کر کے نہیں پڑھتے بلکہ ذہن میں ان الفاظ کا عکس بنا لیتے ہیں اور جتنا زیادہ لکھے ہوئے الفاظ کو دیکھتے (یا پڑھتے) ہیں، اتنا ہی آسانی اور جلدی سے ان کو پہچان بھی لیتے ہیں۔ مثلاً ہندی (دیوناگری) آسانی اور روانی کے ساتھ لکھ لیتا ہوں لیکن چونکہ پڑھنے کا عادی نہیں، اس لیے ہجے کر کے پڑھنا پڑتا ہے جبکہ اردو یا انگلش وغیرہ کے ساتھ ایسا نہیں ہے۔

دادا جان مرحوم کے ساتھ لالہ موسیٰ کے ریلوے روڈ پر واقع معروف لوک گلوکار عالم لوہار (عارف لوہار کے والد) کے گھر باراتی بننے والا منظر بھی ذہن پر نقش ہے۔

جب نیوزریڈر بنا

1970ء کے انتخابات کے دوران میڈیا کا شوق اپنے عروج پر جا پہنچا جس کی وجہ بھی داداجان ہی تھے جو روزانہ کا اخبار صرف میرے لیے خریدتے تھے۔ حکم ہوتا تھا کہ سکول سے سیدھا دکان پر پہنچوں جہاں چائے اور بسکٹ کی تواضع کے بعد دن کا اخبار سامنے رکھ دیتے۔ اردگرد کے دکاندار بھی آجاتے اور ایک نیوز ریڈر کے انداز میں اخبار سے خبریں پڑھ کر سنایا کرتا تھا۔

کبھی نہیں بھولتا کہ جب کوئی مشکل لفظ آتا اور اس کے ہجے کرنے لگتا تو باپوجی فوراً بتا دیتے تھے۔ حیرت سے پوچھتا: "باپوجی، آپ کو کیسے پتہ ہے، آپ تو پڑھے لکھے نہیں ہیں۔۔!"

اس سوال پر داداجان کی معنی خیز مسکراہٹ کبھی نہیں بھلا سکا۔۔!

سیاسی شعور کی ابتداء

اسی دور میں میرے سیاسی اور تاریخی شعور کی ابتداء ہوئی تھی۔ ہماری دکان پر مختلف الخیال لوگ آتے جن کی اپنی اپنی رائے ہوتی تھی۔ بچپن ہی سے ان سیاسی بحث و مباحثوں سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ گو میڈیا سے بڑا متاثر تھا لیکن جب عملی طور پر ان کے جواب ملتے تو غوروفکر کا ساماں پیدا ہو جاتا تھا جس نے میرے سیاسی شعور میں وسعت اور گہرائی پیدا کردی تھی۔

داداجان مرحوم، بڑے ملنسار اور یارباش قسم کے شخص تھے جن کا ہر کوئی گرویدہ ہوجاتا تھا۔ رہی سہی کسر ان کا ہردم تازہ دم حقہ اور چائے پوری کردیتی تھی جو قریب ہی "چاچا نہرو" کے ہوٹل سے آتی تھی جو خود ایک "سیاسی کارتوس" تھا۔ اسی ہوٹل پر شام کو گرم دودھ کا پیالہ پیتے ہوئے دیواروں پر چسپاں فلمی پوسٹر اور کیلنڈرز ذہن نشین ہوگئے تھے۔

داداجان مرحوم، جب بسترِ علالت پر تھے تو اس وقت بھی ہمارے گھر ہر وقت رونق لگی رہتی تھی۔ داداجان کا بستر، ڈیوڑھی میں دروازے کے پاس ہوتا جو دن بھر کھلا رہتا۔ ہر آنے جانے والا ان کو سلام کرتا اور تھوڑی دیر سستا کر اور حقہ پانی پی کر چلا جاتا۔ ان کا ڈاکٹر بھی روزانہ آتا لیکن فیس نہیں لیتا تھا کیونکہ وہ کہتا تھا کہ "میں، اپنے مریض کے پاس نہیں آتا بلکہ اپنے دوست اور بھائی کی تیمارداری کرنے آتا ہوں۔۔" اللہ تعالیٰ، اس ڈاکٹر کی مغفرت کرے اور اس کو جزائے خیر دے (آمین)۔

1971ء کی پاک بھارت جنگ

1971ء کی پاک بھارت جنگ کے واقعات بھی ذہن پر نقش ہیں۔ پاکستانی میڈیا میں سرکاری خبریں ہوتی تھیں جو قابلِ اعتماد نہیں ہوتی تھیں۔ اس وقت پہلی بار BBC کا نام سنا جس کی خبروں کو زیادہ اہمیت دی جاتی تھی۔

میرے ایک خالو (مرحوم و مغفور) تھے۔ ان پڑھ اور خالص دیہاتی، ریڈیو سنتے تھے لیکن ریڈیو پاکستان نہیں، صرف بی بی سی کا سیربین، جس کی انھیں شاید سمجھ بھی نہیں آتی ہوگی لیکن جب ان کے ہاں مہمان ہوتا تو پوری تفصیل سے خبروں کا پس منظر پوچھا کرتے تھے۔

اچھی طرح سے یاد ہے کہ جب سقوط ڈھاکہ ہوا اور پاکستانی فوج نے ہتھیار ڈالے تو پوری قوم میں غم و غصہ اور مایوسی کی انتہا تھی۔ ہماری دکان پر جماعت اسلامی کا ایک بینر چسپاں تھا جس پر "Crush India" لکھا ہوا تھا اور اس پر ایک ہندو کے سر پر فوجی بوٹ ہوتا تھا۔

اسی جنگ کے دوران عنایت حسین بھٹی کا گایا ہوا جنگی ترانہ "دھر رگڑا۔۔" بڑا مشہور ہوا تھا لیکن جب پاکستان کو شرمناک شکست ہوئی تو باپو جی کی دو باتیں ہمیشہ یاد رہیں، پہلی بات: "رگڑا تو ہمیں ہی پڑ گیا ہے۔۔!" اور دوسری بات: "مرگئے تو شہید، بچ گئے تو غازی۔۔ اور اگر ہتھیار ڈال دیے تو نیازی۔۔!"

ایک روپیہ 80 پیسے کا بجٹ

1967ء میں "کچی جماعت" سے سکول شروع کیا تو باپوجی سے روزانہ تین پیسے جیب خرچ ملتا تھا جو اتنا ہوتا تھا کہ کم از کم کچھ "پھلیاں" یا "دال سویاں" وغیرہ مل جاتی تھیں۔ دوسری جماعت میں "ایک آنہ" ملتا تھا جو اس وقت چھ پیسے کا ہوتا تھا، ایک پانچ پیسے کا سکہ اور ایک پیسے کا سکہ۔ تیسری جماعت میں "ڈیڑھ آنہ" ملتا تھا جو ایک دس پیسے کا سکہ ہوتا تھا۔ اسی سال میڈیا کا جنون سرچڑھ کر بولا تو دادا جان سے روزانہ کی "چونی" یعنی 25 پیسے ملنے لگے تھے۔

یاد نہیں پڑتا کہ اس کے بعد کبھی سکول کے دور میں کوئی کھانے پینے والی چیز خریدی ہو۔ روزانہ کی "چونی" جمع کرلیتا جو ایک ہفتے بعد ڈیڑھ روپیہ بن جاتا تھا جس سے تین اخبارات (مشرق، امروز اور مساوات) اور ایک فلمی رسالہ (مصور، تصور وغیرہ) خریدنا ہوتا تھا، روزنامہ جنگ، ہماری دکان پر مستقل طور پر آتا تھا۔ ایک رسالہ 75 پیسے کا ملتا تھا لیکن انھی دنوں اخبارات کی قیمت 25 پیسے سے 30 پیسے ہوگئی تھی اور جمعہ کا فلم ایڈیشن 35 پیسے کا ہوتا تھا جس نے پاکستان کے بجٹ کی طرح میرا ہفتہ وار بجٹ بھی خسارے کا کردیا تھا۔

اسی تناظر میں ایک دن داداجان مرحوم سے یہ دلچسپ سوال پوچھا: "باپوجی، آپ مجھے روزانہ کی چونی جیب خرچ کے لیے دیتے ہیں کہ سکول جانے کے لیے۔۔؟"

انھوں نے ایک گہری نظر سے دیکھا، چند لمحے توقف کیا اور جواب دیا: "جیب خرچ کے لیے۔۔!"

"۔۔تو پھر اتوار کو کیوں نہیں دیتے۔۔؟" بڑا سادہ اور معصومانہ سا سوال تھا۔ داداجان مسکرائے اور جیب میں ہاتھ ڈالتے ہوئے پوچھا: "کتنے پیسے چاہیئں۔۔؟"

میری سادگی دیکھئے کہ صاف بتا دیا کہ "میرا ہر ہفتے کا بجٹ ایک روپیہ 80 پیسے ہوتا ہے لیکن آپ صرف ڈیڑھ روپیہ دیتے ہیں۔۔"

داداجان نے فوراً دو روپے نکال کر دیے اور کہا کہ "ہر ہفتے اخبارات کے لیے دو روپے الگ لے لیا کرو اور روزانہ کی چونی بھی جیب خرچ کے طور پر ملتی رہے گی، کچھ کھایا پیا بھی کرو۔۔"

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسا ہی ایک جملہ والدصاحب نے ایک بار ڈنمارک میں اپنے ڈینش ساتھیوں کے ساتھ پکنک مناتے ہوئے کہا تھا کہ "جب بھی کوئی پیسہ مانگتے ہو تو اخبار خریدنے یا فلم دیکھنے کے لیے، کیا تمہیں کھانے پینے کا کوئی شوق نہیں ہے۔۔؟"

حاضری دماغی

اتوار کا دن تھا، فلم پردیس (1972) کا بارہ بجے کا میٹنی شو دیکھ کر گھر آیا تو داداجان (مرحوم و مغفور) کے پاس ائرفورس کی وردی میں ملبوس ان کے بھتیجے بیٹھے ہوئے تھے جن کے متعلق علم ہوچکا تھا کہ وہ میرے ہونے والے سسر ہیں، اس لیے کچھ زیادہ ہی احتیاط سے علیک سلیک کی لیکن اس دن باپوجی کسی اور ہی موڈ میں نظر آئے۔ انھوں نے اچانک یہ سوال داغ دیا: "جناب، کہاں سے تشریف لا رہے ہیں۔۔؟"

ایک نظر انھیں دیکھا اور سوچا کہ یہ آج باپوجی کو کیا ہوگیا ہے۔ کس غلط وقت پر کیسا غلط سوال پوچھ رہے ہیں اور وہ بھی ایک خاص اور باریش مذہبی مہمان کے سامنے جو میرے ہونے والے سسر بھی ہیں۔

اس وقت تک یہ احساس پختہ ہوچکا تھا کہ ہمارے مسلم معاشرے میں فلم بینی کو معیوب سمجھا جاتا ہے اور ایک دس سالہ بچے کے لیے تو تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا کہ وہ اس قدر گمراہ اور آوارہ ہوسکتا ہے کہ باقاعدگی سے فلمیں دیکھے۔ بڑی دھیمی آواز میں یہ جھوٹ بولا: "باہر کھیل رہا تھا۔۔!"

"کھیل رہا تھا۔۔ صاف کیوں نہیں کہتے کہ فلم دیکھ کر آرہا ہوں۔۔!" داداجان نے بغیر کسی رو رعایت کے بیچ چوراہے بھانڈا پھوڑ دیا۔ انھیں بخوبی علم ہوتا تھا کہ قریباً ہر اتوار کو اپنے سکول میں ہاکی میچ دیکھنے کے بہانے فلم دیکھنے جاتا ہوں۔

اب صفائی کے لیے کچھ بھی باقی نہیں بچا تھا، سچ بولنا تھا لیکن شرمندگی سے بھی بچنا تھا جس کے لیے حاضردماغی کی خداداد صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے موقع محل کے عین مطابق ایک ہی سانس میں یہ جملہ کہہ دیا جس کو سن کر میرے دونوں بزرگوں کا ہنسی کے مارے برا حال ہوگیا تھا: "باپوجی، یقین کریں، فلم میں خانہ کعبہ دکھاتے ہیں، مدینہ شریف دکھاتے ہیں، حج دکھاتے ہیں اور نعتیں بھی پڑھتے ہیں۔۔!"

۔۔اور یہ جھوٹ بھی نہیں تھا، اتفاق سے فلم پردیس (1972) میں یہ سب کچھ تھا۔

وہ آنکھیں۔۔!

داداجان (مرحوم و مغفور)، ناخواندہ تھے لیکن لاشعوری طور پر انھوں نے میری تعلیم و تربیت میں بڑا اہم کردار ادا کیا تھا۔ چھوٹے چھوٹے واقعات سے بہت کچھ سیکھا جو زندگی کا حاصل اور رہنما بنا۔

ایک بار ایسے ہوا کہ قیصرسینما کھاریاں کا تانگہ ہماری دکان کے سامنے آن رکا۔ اس کے سائیڈ بورڈ پر فلم بھین بھرا (1971) لکھا ہوا تھا۔ داداجان نے حسبِ معمول پوچھا کہ اس پر کیا لکھا ہوا ہے۔ میں نے جان بوجھ کر اس طرح سے پڑھا کہ جیسے کوئی اردو بولنے والا پڑھے گا۔ داداجان نے سن کر کہا: "صاف کیوں نہیں کہتے کہ (پنجابی تلفظ میں) لکھا ہوا ہے۔۔!"

مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ میں نے سختی سے کہا تھا کہ "ہم غلط بولتے ہیں، جس طرح سے لکھا جاتا ہے، ہمیں ویسے ہی بولنا چاہیے۔۔!"

داداجان مرحوم نے جن آنکھوں سے دیکھا، وہ کبھی نہیں بھلا سکا۔ حقیقت یہ ہے کہ جب بھی کسی موضوع پر تحریرو تحقیق کا کوئی کام کرتا ہوں تو باپوجی کی "وہ آنکھیں" ہمیشہ رہنمائی کرتی ہیں۔۔!

مسعودرانا سے عقیدت

پاکستانی فلموں کے عظیم گلوکار مسعودرانا (مرحوم و مغفور) سے عقیدت بھی وراثت میں ملی ہے۔ وہ ہماری تین نسلوں کے گلوکار تھے یعنی داداجان، والدصاحب اور میرے اپنے۔۔!

ریڈیو سننے کا شوق تو ننہال ہی میں پیدا ہوگیا تھا لیکن اس کو عروج داداجان کی صحبت میں ملا۔ وہ، ریڈیو پاکستان کی خبریں تو نہیں سنتے تھے لیکن شام کو "نظام دین دا پروگرام" (جمہور دی آواز) بڑی باقاعدگی سے سنتے تھے۔

وہ خوابناک منظر کبھی نہیں بھلا سکا جب روزانہ شام کی چائے ہمارے گھر ہوتی تھی۔ اردگرد سے ہمارے عزیزواقارب گرمیوں میں صحن یا چھت پر اور سردیوں میں کمروں میں بچھی ہوئی چارپائیوں پر بیٹھے ہوئے چائے اور حقہ نوشی کرتے ہوئے اپنی باتوں کے علاوہ درمیان میں رکھا ہوا ریڈیو سنا کرتے تھے۔ اس دوران، ہم بچے بستروں پر پڑے پڑے سو جاتے تھے۔

ہفتے میں دو بار اس پروگرام میں فرمائشی فلمی گیت سننے کو ملتے تھے۔ رومانٹگ گیتوں کو بے ہودگی اور بے حیائی میں شمار کیا جاتا تھا اور اس وقت ریڈیو کی آواز کم کر کے اپنی باتیں شروع کردیتے تھے لیکن جس گلوکار کو بڑے ذوق و شوق سے سنا جاتا تھا وہ مسعودرانا تھے جن کے بامقصد گیت مثلاً "جہیڑے توڑدے نیں دل برباد ہون گے۔۔"، "سوچ کے یار بناویں بندیا۔۔"، "ٹانگے والا خیرمنگدا۔۔" اور "میرا سوہنا دیس کساناں دا۔۔" وغیرہ جب گونجتے تھے تو سبھی دم بخود ہوکر سنتے اور بعد میں "جیوندا رو، گان والیا۔۔" کے علاوہ مسعودرانا کی آواز کی تعریف و توصیف ذہن نشین ہوگئی تھی۔

ان کے علاوہ ان دنوں ریڈیو پر خاندانی منصوبہ بندی کا یہ گیت بھی گونجتا تھا: "جے ہوگئے بہتے بال تے کتھوں کھاواں گے۔۔" باپوجی، موڈ میں آکر ہم بچوں کی طرف اشارہ کرکے اس گیت کو گنگناتے تھے۔ جب فلمی گیتوں پر تحقیق کی اور یہ گیت ملا تو حیرت ہوئی، اس کو بھی مسعودرانا ہی نے گایا تھا اور کیا خوب گایا تھا۔

یہ سلسلہ یہیں نہیں رکا بلکہ جب جون 1970ء میں والدصاحب مرحوم، ڈنمارک روانہ ہوئے تو ان کی جدائی میں داداجان مرحوم بڑا تڑپتے تھے۔ اس وقت آج کی طرح کا سوشل میڈیا تو نہیں تھا، اس لیے لمبی جدائیاں اور فاصلے ہوتے تھے۔ صرف ایک خط ہوتا تھا جو دو ہفتے بعد ملتا تھا جس سے خیرخیریت کا علم ہوتا تھا۔ اس دور میں ریڈیو پر جب یہ تین گیت گونجتے تھے تو داداجان، بعض اوقات دھاڑیں مارمار کر روتے تھے :

دسمبر 1973ء میں جب پہلی بار ڈنمارک آیا تو والدصاحب کو بھی مسعودرانا کے گیت "تیرے بنا یوں گھڑیاں بیتیں۔۔" پر روتے ہوئے پایا۔ اس دور میں داداجان کے نام جو بھی خط لکھتا اس کے آخر میں مسعودرانا کے اس گیت کا یہ بول ضرور لکھتا تھا: "میرے دل کی ہے آواز کہ بچھڑا یار ملے گا۔۔"

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک بار یہ پورا گیت والدصاحب کو گا کر سنایا تھا اور انھوں نے ایک جگہ تصحیح بھی کی تھی جب "صحرا صحرا" کو "تہرا تہرا" گا رہا تھا جبکہ مسعودرانا ہی کے ایک رومانٹک گیت "تمہی ہو محبوب میرے۔۔" کو گاتے ہوئے داداجان سے ڈانٹ پڑی تھی کہ "یہ کیا بے ہودگی ہے۔۔!"



Mera Mahi
Mera Mahi
(1941)
Jhumkay
Jhumkay
(1946)
Sahara
Sahara
(1944)



Pakistan Film Magazine

Pakistan Film Magazine is the first and largest website of its kind, containing unique information, articles, facts and figures on Pakistani and pre-Partition films, artists and film songs.
It is continuously updated website since May 3, 2000.




PAK Magazine
is an individual effort to compile and preserve the Pakistan history online.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes and therefor,
I am not responsible for the content of any external site.

Old site mazhar.dk

پاک میگزین" کا آغاز 1999ء میں ہوا جس کا بنیادی مقصد پاکستان کے بارے میں اہم معلومات اور تاریخی حقائق کو آن لائن محفوظ کرنا ہے۔

یہ تاریخ ساز ویب سائٹ، ایک انفرادی کاوش ہے جو 2002ء سے mazhar.dk کی صورت میں مختلف موضوعات پر معلومات کا ایک گلدستہ ثابت ہوئی تھی۔

اس دوران، 2011ء میں میڈیا کے لیے akhbarat.com اور 2016ء میں فلم کے لیے pakfilms.net کی الگ الگ ویب سائٹس بھی بنائی گئیں
لیکن 23 مارچ 2017ء کو انھیں موجودہ اور مستقل ڈومین pakmag.net میں ضم کیا گیا جس نے "پاک میگزین" کی شکل اختیار کر لی تھی۔



PAK Magazine
Pakistan Film Magazine
Pakistan Media
Namaz timetable for Copenhagen, Denmark
Back to the top of the page