25th celebration

Qoul Qarar (1969)

Remembering the film Qoul Qarar (1969)


سینما کے اثرات

پاکستان فلم میگزین کی تشکیل کے لیے فلم قول قرار (1969)، ایک اہم ترین سنگِ میل ثابت ہوئی تھی۔۔!

"قول قرار" کے لغوی معانی "عہدوپیمان" کے ہیں۔ یہ ایک رومانٹک فلم تھی جس میں پنجابی فلموں کی کلاسک جوڑی، فردوس اور اعجاز، مرکزی کرداروں میں تھے۔ سلطان راہی، ولن تھے جبکہ دیگر کاسٹ میں رخسانہ، اسدبخاری، رنگیلا، زلفی اور اے شاہ وغیرہ تھے۔

فردوس اور اعجاز کی جوڑی

فردوس اور اعجاز، پاکستانی پنجابی فلموں کی ایک کلاسک جوڑی تھی جو 37 ریلیز شدہ فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی۔ ان میں سے 32 فلموں میں ان کی رومانٹک جوڑی تھی۔ پہلی فلم لائی لگ (1964) اور آخری فلم زندگی تے طوفان (1975) تھی۔ صرف ایک مشترکہ اردو فلم بیٹی بیٹا (1968) تھی۔ 1969ء میں اس کامیاب فلمی جوڑی کی دس فلمیں ریلیز ہوئیں۔ ہیررانجھا (1970)، سب سے بڑی اور لازوال فلم تھی۔

فلم قول قرار (1969)، دو بار دیکھنے کے باوجود، اس کی کہانی یا گیت بالکل یاد نہیں اور یہ ایک گمنام فلم رہی۔

بچپن میں جب پہلی بار یہ فلم دیکھی تو اس کے صرف آخری مناظر یاد رہے جن میں ولن سلطان راہی، ہیروئن فردوس کو عروسی جوڑے میں اغواء کر کے فرار ہو جاتا ہے اور ہیرو اعجاز، اس کا پیچھا کرتا ہے۔ ریڑھوں پر لڑی گئی اس لڑائی کو فلم کے پوسٹر پر بھی ہائی لائٹ کیا گیا ہے۔ اس دوران بجلی کے کھمبوں پر چڑھنے کے مناظر ذہن پر نقش ہو کر رہ گئے تھے۔

دوسری بار، یہ فلم 1980 کی دھائی میں VCR پر دیکھی۔ موسیقی اچھی لگی لیکن رحمان ورما کی دھنوں میں کوئی گیت سپرہٹ نہیں تھا۔ اس بار، فلم کا ایک منظر ذہن پر نقش ہوگیا جب فلم کے ہیرو اعجاز اور فلم کے ہدایتکار حیدرچوہدری کو ایک صوفے پر ایک ساتھ بیٹھے ہوئے دیکھا تھا۔

اُن دنوں، فلموں پر تحقیق کا کام جاری تھا لیکن اُس وقت ریکارڈنگ کی سہولت میسر نہ ہونے کی وجہ سے یہ فلم اپنے پاس ریکارڈ نہ کرسکا اور ویڈیو سنٹر والوں نے عدم دلچسپی کی بنیاد پر اس فلم کو ضائع کردیا تھا۔

فلم بینی کی بنیاد

فلم قول قرار (1969) کا ذکر آتے ہی ذہن میں میرے آبائی شہر کھاریاں کے نامی گرامی پینٹر اور میری فلم بینی کے محسن، "استاد رشید" کی شخصیت سامنے آجاتی ہے جو ہماری دکان پر کام کرنے کے علاوہ ہر ہفتے قیصرسینما کھاریاں کے پبلسٹی بورڈز بھی لکھتے تھے۔

استاد رشید ہی کی وجہ سے مقامی سینما پر بلا ٹکٹ فلمیں دیکھنے کا سلسلہ شروع ہوا جس نے بچپن میں فلم بینی کا سفر آسان کیا اور بنیادی فلمی معلومات کے لیے ٹھوس بنیادیں فراہم کردی تھیں۔

کھاریاں کے سینما گھر

یہ یاد نہیں رہا کہ فلم قول قرار (1969) دیکھنے کی اجازت کیسے ملی کیونکہ اس وقت والدصاحب (مرحوم و مغفور)، ڈنمارک روانہ نہیں ہوئے تھے اور دادا جان (مرحوم و مغفور) بھی موجود تھے۔

جمعرات کی وہ شام آج بھی اچھی طرح سے یاد ہے کہ جب استاد رشید نے پہلے گیمن کالونی کھاریاں کینٹ کے ایک ہوٹل سے کھانا کھلوایا۔ پھر قیصرسینما کے ایک گیٹ کیپر کے حوالے کرتے ہوئے کہا:

"یہ اپنا بچہ ہے، اس کا خیال رکھنا، کام کے بعد اس کو لے جاؤں گا اور اگرفلم پہلے ختم ہوگئی تو اس کو میرے کمرے میں چھوڑ دینا۔۔"

جمعہ کو فلم بدلتی تھی اور جمعرات کی رات کو سینما کے پبلسٹی بورڈ لکھے جاتے تھے۔ سینما ملازمین، خاص طور پر کوچوان حاکم علی، جمعرات کے دن، شہر بھر سے سینما بورڈ اکٹھے کر کے لاتے، دھوتے، چونا کرتے، سکھاتے اور تیار کرنے کے بعد استادرشید کے لکھنے کے لیے سینما سکرین سے ملحق کمرے میں رکھ دیتے تھے۔ دوسرے دن تیار شدہ بل بورڈز، پبلسٹی کے لیے شہر کے مختلف علاقوں میں لٹکا آتے تھے۔

کراچی میں فلم قول قرار کا ایک اخباری اشتہار
کراچی میں فلم قول قرار کا ایک اخباری اشتہار

پیپلز پارٹی کا انتخابی نشان، تلوار

استادرشید کے اس کمرے سے دو بڑی گہری یادیں وابستہ ہیں۔ پہلی یہ کہ جب 7 دسمبر 1970ء کو پاکستان کے پہلے عام انتخابات ہوئے تو ہمارے کھاریاں کے انتخابی حلقہ سے فضل الہٰی چوہدری، پیپلزپارٹی کے قومی اسمبلی کے امیدوار تھے جو بعد میں صدرِ پاکستان بنے۔

استادرشید نے سفید کپڑے کا ایک بڑا سا انتخابی بینر اسی کمرے میں لکھا جو ہماری دکان کے قریب سڑک پر لٹکایا گیا تھا۔ اس بینر پر جس طرح سے پیپلزپارٹی کا انتخابی نشان "تلوار" بنایا، وہ ہمیشہ کے لیے ذہن پر نقش ہوکر رہ گیا تھا۔

دوسرا واقعہ فلم سردارا (1970) کا ہے جس کے ایک فلمی بورڈ پر پہلی بار رنگ برش سے لکھنے کا موقع ملا۔ جتنی دیر میں "فردوس۔ حبیب" لکھا اتنی دیر میں استادرشید، پورا بورڈ لکھ لیتے تھے۔ اسی دن، پہلی بار کسی فلم کا بک لیٹ دیکھنے کا موقع ملا اور ایک فلم کے بل بورڈ پر اداکاروں کے نام کس ترتیب سے لکھے جاتے ہیں، استاد رشید نے رہنمائی کی تھی۔

یہ بھی استادرشید ہی تھے جنھوں نے سینما سلائیڈ لکھنے کا طریقہ سکھایا جو بڑے کام آیا۔ فلم چن سجناں (1970) کی نمائش پر انھوں نے اداکارہ رانی کی ایک تصویر بنائی۔ تصویرکشی کا وہ طریقہ کار، سکول چارٹ لکھنے کے بڑے کام آیا۔

استادرشید کی مختلف مقامات پر لکھائی بھی ذہن نشین ہوگئی تھی مثلاً قیصرسینما کی ایک دیوار پر "آئندہ پروگرام" کا باقاعدگی سے لکھا جاتا تھا، "اک سونا اک مٹی (1970) لکھا ہوا کبھی نہیں بھلا سکا۔ ایک دیوار پر فلم پائل (1970) کے اوپر لکھا ہوا "مشرقی پاکستان کی آخری اردو فلم" بھی نہیں بھلا سکا۔ اسی دیوار پر نئی لیلیٰ نیا مجنوں (1969) بھی ذہن پر نقش ہوا جبکہ فلم یاربادشاہ (1971) کو میرے سامنے مٹایا گیا کیونکہ اس وقت سازین سینما کا تانگہ گزرا جہاں اس فلم کی نمائش ہورہی تھی۔ قیصرسینما کے تانگے پر فلم نازنین (1969) اور بھین بھرا (1971) کے بورڈ بھی نہیں بھلا سکا۔

ان کے علاوہ شہر اور چھاؤنی کے مابین ایک برساتی نالہ حد ہوتا تھا، وہاں قیصرسینما کی مخصوص "بُتی" ہوتی تھی جس پر اپنی فلم لچھی (1969) لکھا ہوا کبھی نہیں بھلا سکا۔ کھاریاں کے مین بازار میں واقع "رڑی والے کھوہ" کی پیلی دیوار پر استادرشید کا لکھا ہوا مکھڑا چن ورگا (1969) بھی یاد رہا۔ یہ فلم اس سال عیدالفطر پر ریلیز ہوئی تھی۔ گلیانہ روڈ کے شروع میں ایک دیوار پر قیصرسینما کی فلموں کی "وال چاکنگ" ہوتی تھی۔ فلم چن ماہی (1956) اور درد (1969) لکھا ہوا ذہن سے نہیں مٹا سکا۔ لاری اڈے پر ایک کوٹھی ہوتی تھی، اس کی ایک دیوار کے علاوہ جی ٹی روڈ پر واقع ایک پٹرول پمپ کی دونوں اطراف بھی قیصرسینما کی وال چاکنگ ہوتی تھی اور استادرشید کو ان تمام مقامات پر باقاعدگی سے لکھنا پڑھتا تھا۔

ایک دلچسپ وال چاکنگ موجودہ گرلز کالج کی جگہ ایک جوہڑ ہوتا تھا جس کو "بنی" کہتے تھے، وہاں ایک دیوار پر فلم ملن (1978) کی "میم" کو کوئی شیطان مٹا دیا کرتا تھا اور استادرشید کو متعدد بار اس کو درست کرنا پڑا تھا کیونکہ لاہور سے راولپنڈی کے بس مسافروں کو لکھا ہوا واضح طور پر نظر آتا تھا۔

استاد رشید کا تعارف

استاد رشید سے میرا پہلا تعارف اس وقت ہوا جب والدصاحب، ڈنمارک روانگی سے قبل، دادا جان کو کوئی آسان سا کاروبار بنا کر دینا چاہتے تھے۔ اس سلسلے میں پہلے ایک ہوٹل بنایا گیا جو نہ چل سکا۔ استادرشید جب "مظہر ہوٹل اینڈ ریسٹورنٹ" لکھ رہے تھے تو دوسرے لوگوں کی طرح میں بھی والدصاحب کے ساتھ انھیں لکھتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ اس وقت والدصاحب نے ایک وعدہ لیا جو پورا بھی کیا جب انھوں نے کہا:

"مظہر، میں چاہتا ہوں کہ ایک دن تم بھی اتنا ہی خوبصورت لکھو۔۔"

ہوٹل کے اس ناکام تجربے کی جو "سوغات" ہمیشہ یاد رہی، وہ بچے کھچے "شکرپارے" تھے جو اتنے پسند آئے کہ آج بھی "نمک پاروں" کے ساتھ فیورٹ مٹھائی ہے۔

والدصاحب نے دوسرا تجربہ عمارتی شیشہ اور فوٹوفریم کی دکان "کھاریاں گلاس ہاؤس" کا کیا جو بے حد کامیاب رہا۔ استاد رشید، والدصاحب کے ماتحت کام کرچکے تھے۔ انھیں شہر میں کوئی ٹھکانہ درکار تھا جہاں سے سائن بورڈز لکھ سکتے۔ انھیں، دادا جان کے اسسٹنٹ کے طور پر دکان پر رکھ لیا گیا جبکہ میں، دادا جان کا منشی یا سیکرٹری ہوتا تھا جو سوداسلف لانے، لکھنے پڑھنے اور حساب و کتاب کے لیے ان کے ساتھ ہوتا تھا۔ حکم ہوتا تھا کہ سکول کے بعد سیدھا دکان پر حاضری دوں جہاں شام کو چھٹی کرکے اکٹھے گھر جاتے تھے۔

سوچتا ہوں تو حیران رہ جاتا ہوں کہ صرف نو دس سال کی عمر میں ایک مکمل فریم بنا کر گاہک کو فروخت کر دیا کرتا تھا جس میں فریم کی لکڑی اورشیشے کی کٹائی وغیرہ بھی شامل ہوتی تھی۔

وہ پیسٹری۔۔!

استادرشید کا پہلا حسنِ سلوک ناقابلِ فراموش رہا۔ وہ ایک "پیسٹری" تھی جو انھوں نے افطاری کے وقت کھلائی تھی۔ نومبر/دسمبر 1969ء میں رمضان المبارک تھا اور انھی دنوں، استادرشید نے ہماری دکان پر کام شروع کیا تھا۔ جب انھیں پتہ چلا کہ میرا روزہ ہے تو بڑے پیار سے پوچھا:

"پُتری، افطاری میں کیا کھاؤ گے۔۔؟"

بچپن میں مٹھائی اور بیکری کی اشیاء دیکھ کر دل للچایا کرتا تھا۔ ہماری دکان کے سامنے ایک بیکری تھی جس کے شوکیس میں رنگ برنگی سجی پیسٹریوں کو دیکھ کر منہ میں پانی بھر آجاتا تھا۔ کم عمری میں افطاری کے وقت بھوک کی شدت بھی ہوتی تھی اور مزیدار قسم کی چیزیں کھانے کو جی مچلتا تھا، میں نے پیسٹری کا کہا تو استادرشید فوراً بیکری گئے اور میری خواہش پوری کردی تھی۔

مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ اس وقت ایک پیسٹری کی قیمت 60 پیسے جبکہ ایک اخبار 25 پیسے کا ملتا تھا۔۔!

پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ جب میری بیگم نے یہ اعتراض کیا کہ "اتنی خدمت تو کسی کی اولاد بھی نہیں کرتی ہوگی، جتنی آپ کر رہے ہیں۔" تو میں نے اس کو سختی سے منع کرتے ہوئے کہا تھا "اگر ساری عمر بھی استادجی کی خدمت کرتا رہوں تو مفت میں دیکھی ہوئی فلمیں تو دور کی بات ہے، اس ایک پیسٹری کی قیمت تک ادا نہیں کرسکتا، جو انھوں نے بڑے پیار اور خلوص سے کھلائی تھی۔"

جب فلم بینی کی راہ ہموار ہوئی

اپنی دکان پر ہی استادرشید سے مستقل تعلق قائم ہوا۔ انھی کی معرفت مقامی "قیصرسینما" پر مالک سے نوکر تک واقفیت ہوئی اور بلاٹکٹ فلم بینی کی راہ ہموار ہوئی تھی۔ استادرشید ہی کی وجہ سے سینما پر سبھی "استاد" کہہ کر بلاتے تھے۔ سینما مالک، مینجر، اور ایک گیٹ کیپر کے ساتھ چند یادگار واقعات ناقابلِ فراموش ہیں جبکہ فلم آپریٹر کے ساتھ جو واقعہ ہوا، اس کا ذکر اگلے مضمون میں ہوگا۔

جب فلمی سلائیڈ لکھی

میرے بچپن میں قیصرسینما کا مالک ایک بنگالی تھا جس کو "شیخ صاحب" کہتے تھے۔ اصل نام یاد نہیں۔ میری اس سے کوئی جان پہچان بھی نہیں تھی لیکن ایک دن حیران رہ گیا جب اسے اپنا منتظر پایا۔ اپنے دفتر میں لے جاکر کہنے لگا:

"ہمیں اگلے ہفتے کے لیے فلم بہارو پھول برساؤ (1972) مل گئی ہے۔ آج "جینٹری" بہت آئی ہوئی ہے، اس لیے انھیں باخبر رکھنے کے لیے اس فلم کی ایک سلائیڈ تو لکھ دو۔"

ایک دس سالہ بچے کے لیے اتنا ہی کافی تھا کہ سینما مالک اس کو اتنی عزت دے رہا تھا۔ سلائیڈ، لکھنے کے لیے تیار تھی اور میں نے بڑی عجلت میں اس پر "بہارو پھول برساؤ" لکھ دیا۔ شیخ صاحب نے دیکھا، مسکرائے اور ان کا یہ جملہ ہمیشہ یاد رہا:

"بیٹا، آپ لکھتے تو بہت خوبصورت ہیں لیکن ابھی بہت تجربہ چاہیے۔۔!"

یہ بات مجھے لکھتے ہی کھٹک گئی تھی جب "بہارو پھول" ایک لائن پر اور "برساؤ" دوسری لائن پر لکھا تھا۔ ناسمجھی اور ناتجربہ کاری تھی۔ اس دن شیخ صاحب نے انعام کے طور پر اپنے ساتھ "اپرکلاس" میں "جینٹری" یعنی فوجی افسران اور ان کی بیگمات وغیرہ کے ساتھ بٹھا کر فلم افسانہ زندگی کا (1972) دکھائی تھی۔

جب فلمی بورڈ لکھا

قیصرسینما کے مالک کے بعد مینجر سے بھی ایک یادگار واقعہ منسلک ہے۔ نام یاد نہیں۔ اس سے کوئی علیک سلیک بھی نہیں تھی لیکن سینما کے پورے عملہ کی طرح غائبانہ طور پر واقف تھا۔ خاص طور پر پچھلے سال جب سینما کے مالک کو فلم بہارو پھول برساؤ (1972) کی سینما سلائیڈ لکھ کر دی تو ہر کوئی بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔

1973ء کے ایک جمعہ کا دن تھا جب فلم بدلتی تھی۔ فلم بابل (1971) کے بورڈز، استادرشید کی بجائے کوئی دوسرا پینٹر لکھ رہا تھا۔ مجھے دیکھتے ہی غیر مطمئن نظر آنے والے سینما منیجر نے خوشی سے نعرہ بلند کیا اور کہا:

"استاد ، تم کہاں رہ گئے تھے ، آج تمہاری بڑی ضرورت ہے۔۔"

صرف ایک بورڈ باقی رہ گیا تھا جو لکھنے کو ملا اور اتفاق سے بہت اچھا لکھا گیا۔ جب اس پینٹر نے چھٹی جماعت کے ایک گیارہ سالہ طالب علم کا رنگ و برش سے لکھا ہوا "بابل" دیکھا تو ہکا بکا رہ گیا تھا۔ منیجر صاحب بھی بڑے خوش ہوئے اور بڑے فخر سے میرے لکھے ہوئے بورڈ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:

"پینٹر صاحب ، دیکھیں ، ایسے لکھتے ہیں۔۔!"

حقیقت یہ ہے کہ جتنا خوش خط، سکول کے زمانے میں لکھتا تھا، اتنا پھر کبھی نہیں لکھ سکا۔ ایک تو مشق یا پریکٹس نہیں رہی دوسرا ہاتھوں میں وہ نزاکت اور انگلیوں میں وہ لطافت نہیں رہی جو خوش خطی کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ کیلیگرافی پین بھی موجود ہیں لیکن ان کی سیاہی خشک ہوجاتی ہے اور ہاتھ سے لکھنے کا وقت نہیں ملتا۔ کبھی کبھار وہائٹ بورڈ پر مارکر سے لکھنے کی کوشش کرتا ہوں لیکن اس سے قلم دوات والا مزہ نہیں آتا جس کا اپنا ہی ایک کلچر ہوتا تھا جب قلم کو تراشنا، دوات کی سیاہی تیار کرنا،"ڈوھبے" لگا کر لکھنا، لکھی ہوئی تختی کو دھونا، پوچا لگانا، خشک کرنا اور لکیریں ڈال کر لکھنے کے لیے تیار کرنا، کیا زمانہ تھا۔۔!

جب ماموں کو فلم دکھائی

سینما مالک اور مینجر کے بعد تیسرا یادگار واقعہ گیٹ کیپر اور سینما کے کوچوان حاکم علی سے منسوب ہے جو ہر جمعرات کی شام کو اپنے تانگے پر کھاریاں کے نسبتاً غیرآباد ریلوے سٹیشن سے لاہور کی ٹرین پر آنے والی نئی فلم کے پرنٹس بھی لے کر آتا تھا۔

1973ء میں چھٹی جماعت کا طالبعلم تھا اور صرف گیارہ سال کی عمر میں ایک گھاگھ فلم بین بن چکا تھا۔ ماموں جان (مرحوم و مغفور) کی خواہش پر ایک ہفتے کی شام کو فلم ضدی (1973) دیکھنے قیصرسینما پہنچے جہاں ماموں سے پیشگی کہہ دیا تھا کہ صرف اپنی ٹکٹ خریدیں۔

مجھے دیکھتے ہی گیٹ کیپر حاکم علی نے حیرت سے پوچھا: "استاد،تم تو اتوار کو آتے ہو۔۔؟"

میں نے اسے بتایا: "چچا، یہ میرے ماموں ہیں، انھیں فلم دکھانے لایا ہوں۔۔"

ماموں، حیران و پریشان کہ یااللہ، یہ کیا ماجرا ہے؟ ہاتھوں میں پلا ہوا کل کا یہ چھوکرا، اتنی کمرعمری میں اتنا گمراہ اور آوارہ ہوگیا ہے کہ سینما پر اس کو استاد کہتے ہیں اور مفت میں فلمیں بھی دیکھتا ہے۔۔!

فلم کے دوران یا گھر کے راستے میں انھوں نے کوئی بات نہیں کی لیکن اتوار کی صبح ناشتے پر امی سے پہلا سوال یہی کیا: "یہ کچھ پڑھتا وڑھتا بھی ہے کہ صرف فلمیں ہی دیکھتا ہے۔۔؟"

امی نے انھیں بتایا کہ پڑھتا تو رہتا ہے لیکن ماموں کو یقین نہیں آیا۔ حکم ہوا: "جاؤ ، ذرا اپنا بستہ تو لے کر آؤ۔۔"

ایک نظر انھیں دیکھا ، مسکرایا اور اپنی کتابیں لا کر ماموں کے پاس رکھ دیں۔ حکم ہوا: "اپنا سبق نکالو۔۔"

میں نے انھیں کہا کہ "جہاں سے چاہیں ، پوچھ لیں ، میں نے ساری کتابیں پڑھی ہوئی ہیں۔۔"

انھوں نے اردو کی کتاب اٹھائی اور جہاں سے پوچھتے، فرفر سنا دیتا۔ بھلا جو شخص چار مختلف اخبارات اور ایک فلمی ہفت روزہ باقاعدگی سے پڑھتا تھا ، ریڈیو سنتا اور ٹی وی اور فلمیں دیکھتا تھا اور سکول پڑھنے کم اور پڑھانے زیادہ جاتا تھا ، اس کے لیے چھٹی جماعت کی کتابیں کیا اہمیت رکھتی تھیں۔۔؟

اس یادگار واقعہ کے بعد ماموں نے پھر کبھی میرا تعلیمی حساب نہیں مانگا بلکہ ایک بار میں ان کے ہاں مہمان تھا تو اپنے بچوں کو میری مثال دیتے ہوئے کہہ رہے تھے: "یہ فلمیں بھی دیکھتا تھا اور لکھنے پڑھنے میں بھی بڑا لائق تھا۔۔!"

گویا ان کے خیال میں یہ دونوں کام ایک ساتھ نہیں ہو سکتے تھے۔۔!

جب پہلا انعام جیتا

یادوں کی کڑیاں ملتے ملتے گورنمنٹ پرائمری سکول کھاریاں تک جا پہنچتی ہیں جہاں 1971ء میں چوتھی جماعت میں تقاریر کے ایک مقابلے میں پہلا انعام جیتا تھا، اور اس کی وجہ بھی استادرشید ہی تھے۔۔!

انھوں نے کسی گمنام شاعر کی ایک نظم کو خوش خط لکھ کر ایک فریم کی شکل دے کر دکان میں لٹکایا ہوا تھا جو میں نے زبانی یاد کر لی تھی۔ اب ساری نظم تو یاد نہیں رہی لیکن چند مصرعے یاد ہیں:

  • آنا چاہتے ہو تو محتاج کی مدد کو آؤ
    جانا چاہتے ہو تو مقدس مقامات کی زیارت کو جاؤ
    لینا چاہتے ہو تو والدین کی دعائیں لو
    دینا چاہتے ہو تو راہِ خدا میں دو

پرائمری سکول کے زمانے میں اس اکلوتے مقابلے میں شرکت کی اور یہ نظم پڑھ کر پہلا انعام حاصل کیا۔ قائدِاعظمؒ کے بارے میں ایک کتاب، کاپی، پنسل، ربر اور شاپنر، سبز رنگ کے کاغذ میں سنہری دھاگے میں لپٹے ہوئے تھے۔

ماسٹرصاحبان کے علاوہ مقابلے کے منتظمین جماعتِ اسلامی والوں نے دل کھول کر میرے انداز اور اردو تلفظ کی تعریف کی تھی۔ حقیقت میں صرف نو سال کی عمر میں یہ خوبی درسی کتابوں کی بجائے ریڈیو سننے کی وجہ سے تھی جسے بڑے غور سے سنا کرتا تھا۔ یہاں تک کہ آج بھی کہیں لمبی ڈرائیو پر جانا ہو تو میوزک سننے کی بجائے ریڈیو پر خبریں یا گفتگو سننے کو ترجیح دیتا ہوں۔

اس یادگار واقعہ پر ایک صاحب یاد آتے ہیں جو ایک نامی گرامی صحافی تھے اور ریڈیو پر اردو خبریں پڑھا کرتے تھے۔ 1980 کی دھائی میں یہاں ڈنمارک میں کچھ عرصہ تک میڈیا کی دنیا میں سرگرم رہا۔ ان صاحب کا ایک اشتہار لکھنا تھا۔ انھوں نے امتحان لیا کہ ان کی تحریر کو پڑھ بھی سکتا ہوں کہ نہیں۔ پہلی سطر سنتے ہی روک کر پوچھا: "کیا آپ، اہلِ زبان ہیں۔۔؟"

مجھے اس متعصبانہ جملے سے سخت نفرت اور کراہت ہوتی ہے لیکن مسکرا کر طنزیہ انداز میں جواب دیا جس پر سخت شرمندہ ہوئے: "اہلِ زبان تو نہیں لیکن منہ میں زبان ضرور رکھتا ہوں۔۔!"

رشید پینٹر

میرے بچپن میں کھاریاں کے سب سے مشہور پینٹر، استادرشید تھے جو جوانی میں بورڈوں کے نیچے اپنا نام "شیدا" لکھتے تھے۔ ان کی شکل و صورت فلمی ہدایتکار الطاف حسین سے بہت ملتی تھی، صرف ہلکی مونچھوں کا فرق تھا۔ مقامی سینما پر کام کرنے کی وجہ سے ان کی عزت اور اہمیت بھی زیادہ تھی کیونکہ بہت سے لوگوں کو لالچ ہوتا تھا کہ سینما پر کام کرتے ہیں، شاید ان کی معرفت مفت میں فلم دیکھنے کو مل جائے جو اس وقت ایک عام آدمی کی سب سے بڑی تفریح ہوتی تھی۔

کھاریاں کے پینٹرز

استادرشید کا ذکر ہو رہا ہے تو مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اپنے بچپن کے ان پینٹرحضرات کا ذکرِخیر بھی ہوجائے جن کے فن کا قدردان رہا ہوں۔

استادرشید، "کچے رنگ" کے بہترین پینٹر تھے لیکن "پکے رنگ" میں متاثر نہیں کرتے تھے۔ کچا رنگ، عام طور پر نیلا اور سرخ رنگ ہوتا تھا جو چونے کی دیوار پر لکھا جاتا تھا۔ اس میں انھیں کمال مہارت حاصل تھی۔ 1957ء سے قیصرسینما پر ہر ہفتے بورڈ لکھنے کے عادی تھے اور اس مشق نے انھیں اس فن کا استاد بنا دیا تھا۔

ویسے کچے رنگ سے لکھنا بڑا مشکل ہوتا ہے کیونکہ اس میں غلطی کی گنجائش نہیں ہوتی جبکہ پکے رنگ کے سائن بورڈ پر چاک یا کچے رنگ سے پہلے لکھ لیا جاتا ہے اور پھر اس پر پکا رنگ پھیر دیا جاتا تھا، جو قدرے آسان ہوجاتا ہے۔

استادرشید، اپنی چچی انگلی پر سارا بوجھ ڈال کر انگوٹھے اور شہادت انگلی میں لمبے بالوں والا گول برش (جس کو "پرگزا" کہتے تھے) پکڑ کی بڑی آسانی سے لکھتے تھے۔ متعدد بار لکڑی کے ایک پیمانے یا فٹے پر پورا ہاتھ رکھ کر لکھتے اور اسقدر مہارت سے کام کرتے کہ مجال تھی کہ ہاتھ کانپ جائے یا برش ادھر سے ادھر ہو جائے۔ ان کے کام میں بڑی نفاست ہوتی تھی اور سائن بورڈ پر کسی قسم کی کوئی خراش یا داغ وغیرہ نظر نہیں آتا تھا۔

استاد شاگرد

کوئی پینٹر یا خوشنویس کتنا ہی اچھا یا خوبصورت کیوں نہ لکھتا ہو، اگر اس کی لکھائی میں توازن یا بیلنس نہیں تو ساری محنت غارت ہوجاتی ہے۔ایسا ہی ایک واقعہ ہوا جب ایک بار استادرشید کی ایک غلطی درست کی تھی۔۔!

ہوا یوں کہ پاکستان میں اپنے دوسرے دور یعنی 1977/82ء میں گاہے بگاہے استادرشید کی دکان پر جانا ایک معمول ہوتا تھا جہاں ہمیشہ چائے سے تواضع کرتے اور اِدھر اُدھر کی باتیں ہوتیں۔ پہلے دور یعنی 1969/73ء میں انھیں "چاچاجی" جبکہ دوسرے دور میں "استادجی" کہا کرتا تھا۔

ایک دن "چوہدری ٹینٹ سروس" کا سائن بورڈ لکھ رہے تھے۔ چاک سے بورڈ پر کچا لکھا ہوا تھا جس کو پنجابی میں "پوُرنے" کہتے ہیں۔ میں نے دیکھتے ہی کہا: "استاد جی، یہ "چوہدری" کی "چو" کچھ زیادہ بڑی اور "ی" کچھ زیادہ چھوٹی نہیں ہے۔۔؟"

استادرشید نے دیکھا اور اپنی غلطی کا برملا اعتراف کرتے ہوئے چاک پکڑا کر اس کو درست کرنے کا کہا۔ میں نے پورا لفظ "چوہدری" اپنی سوچ کے مطابق درست کردیا۔

قربان جاؤں، اس عظیم انسان پر، کہ اس نے اپنی استادی کا رعب جھاڑنے یا گستاخی سمجھنے کی بجائے اپنے ہی شاگرد کے "پورنوں" پر رنگ پھیر دیا جس کو خود اس نے کبھی چاک پکڑنا سکھایا تھا۔۔!

وہ بورڈ، ڈنگہ روڈ پر آویزاں تھا جہاں سے گزرتے ہوئے میری طرح لکھائی کو سمجھنے والے لوگ صاف محسوس کرتے تھے کہ "چوہدری" اور "ٹینٹ سروس" کے "ہاتھ" یا "فونٹ" میں نمایاں فرق ہے اور یہ قدرتی بات ہے۔ خطِ نستعلق لکھنے والے ہر شخص کا اپنا اپنا ہاتھ یا سٹائل ہوتا ہے جو صاف پہچانا جاتا ہے اور شاذونادر ایسا ہوتا ہے کہ دو لکھنے والوں کی لکھائی میں کوئی فرق نہ ہو۔

اس مضمون میں سنگم سینما کھاریاں کی تصویر دیکھ کر وہ بس یاد آگئی ہے جس کی لکھائی کی تھی۔ استادرشید کے رنگ و برش تھے اور لکھنا بھی انھوں نے خود ہی تھا لیکن کسی مصروفیت کی وجہ سے مجھ سے لکھوایا اور انعام (یا محنت) کے طور پر چالیس روپے دیے جو اس وقت ایک معقول رقم تھی۔

چند ایک بار استادرشید کو سکول چارٹس بھی لکھ کر دیے کیونکہ قلم دوات سے ان سے زیادہ بہتر لکھتا تھا۔ ایک "پینٹر" اور "خوشنویس" میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ رنگ برش سے لکھنا اور قلم سے لکھنا الگ الگ فن ہیں۔ یہ دونوں فن، شوق تو رہے ہیں، پیشہ کبھی نہیں بن سکے۔

یہ بھی کیسی عجیب بات ہے کہ زندگی بھر کسی خوشنویس کی صحبت میں نہیں بیٹھا لیکن لاہور کے اخبارات کے خوشنویس حضرات کا مداح رہا ہوں جن کی لکھی ہوئی اخباری شہ سرخیوں پر خالی قلم پھیر کی فنِ خطاطی کی باریکیوں کو سمجھنے کی کوشش کیا کرتا تھا۔

گو رنگ برش سے لکھنے کا شوق کبھی نہیں رہا لیکن یہ کام بخوبی جانتا ہوں۔ کیا بھی ہے لیکن کبھی باقاعدگی سے مشق یا پریکٹس نہیں رہی، اسی لیے پروفیشنل نہیں ہوں۔ میرا لکھا ہوا ایک یادگار سائن بورڈ، آج بھی میرے سسرال کی چھت پر محفوظ ہے جو اپنے سسر صاحب (مرحوم و مغفور) کے جنرل سٹور کا لکھا تھا جب وہ، ائرفورس سے ریٹائر ہو کر آئے تھے۔

استادرشید کا عروج و زوال

استادرشید کو اپنے بچپن میں بڑے ٹھاٹھ باٹھ میں دیکھا تھا۔ وہ کہاں کے رہنے والے تھے، یہ کبھی علم نہ ہوسکا۔ زیادہ تر قیصر اور سنگم سینماؤں پر ہوتے تھے۔ کھاریاں میں ایک گھر کے ایک کمرے میں کرایہ پر اکیلے ہی رہتے تھے جس کی صفائی اور ستھرائی دیکھ کر حیران رہ گیا تھا۔ ان کے کمرے میں فلم رب راکھا (1971) کا لٹکا ہو کیلنڈر کبھی نہیں بھولا۔

استادرشید، شام کے وقت کسی حجام کی دکان پر گرم حمام میں نہاتے، شیووغیرہ کرواتے، خوشبو لگاتے، موتیے کے پھولوں کے ہار بکتے تھے، خرید کر بازو میں پہنتے اور ململ کے کرتے میں ملبوس قیصرسینما اور گلیانہ روڈ پر گھومتے نظر آتے۔ منہ میں پان اور ہاتھ میں سگریٹ ہوتا اور اردگرد کے لوگ ہاتھ ملانے کی کوشش کرتے کیونکہ بہت سے لوگوں کو لالچ ہوتا تھا کہ سینما پر کام کرتے ہیں، شاید ان سے واقفیت کی وجہ سے مفت میں فلم دیکھنے کو مل جائے۔ جب کسی دکان یا دیوار پر لکھتے تو انھیں دیکھنے کے لیے جم غفیر جمع ہو جاتا تھا۔

1982ء میں جب مستقل طور پر پاکستان چھوڑا تو اس وقت استادرشید کی اپنی دکان تھی۔ تین سینماؤں، سنگم اور قیصر کھاریاں اور صنم (میٹرو) لالہ موسیٰ کے بورڈ بھی لکھتے تھے اور بظاہر مالی طور پر اچھی حالت میں تھے۔ 1996ء کے دورہ پاکستان میں ملاقات نہ ہوسکی البتہ 2002ء میں آخری دورے میں ان سے ملا تو ان کی زبوں حالی سے سخت اذیت پہنچی تھی۔

استادرشید، لاری اڈے پر واقع ایک ہوٹل میں بیراگیری کررہے تھے۔ مالی ، ذہنی اور جسمانی طور پر انتہائی خستہ حالت میں نظرآئے۔ لکھائی کا کام کم ہوگیا تھا اور سینماؤں پر بھی بڑا استحصال ہونے لگا تھا۔ کام زیادہ اور معاوضہ نہ ہونے کے برابر ہوتا تھا۔ گزراوقات کے لیے بیراگیری کرنا پڑتی تھی۔

اپنی اوقات کے مطابق خدمت کی کوشش کی لیکن حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا اور ان کے کسی ایک بھی احسان کا رتی بھر بدلہ نہ چکا سکا۔ وہ میری خوشنویسی، فلم بینی اور پاکستان فلم میگزین کے محسن تھے۔ اپنے سسرال کی معرفت ان سے رابطہ رہتا جہاں کبھی کبھار ٹیلیفون پر بات ہوجاتی تھی۔ یہ سلسلہ کئی سال تک چلتا رہا لیکن پھر انھوں نے وہاں آنا چھوڑ دیا، شاید دنیا ہی چھوڑ دی ہوگی۔۔؟ خدا جانے۔۔!

جانا تو سبھی نے ہے، اس دارِفانی سے اگر کوچ کر چکے ہیں تو صدقِ دل سے اللہ تعالیٰ کے حضور، ان کی مغفرت کے لیے دعاگو ہوں۔ (آمین، ثم آمین)




Boxer
Boxer
(1992)
Inteqam
Inteqam
(1972)
Chambeli
Chambeli
(2013)
Shikva
Shikva
(1963)

Najma
Najma
(1943)
Bhai
Bhai
(1944)
Dasi
Dasi
(1944)

Shakuntla
Shakuntla
(1943)
Farz
Farz
(1947)
Duhai
Duhai
(1943)
Faryad
Faryad
(1942)



Pakistan Film Magazine

Pakistan Film Magazine is the first and largest website of its kind, containing unique information, articles, facts and figures on Pakistani and pre-Partition films, artists and film songs.
It is continuously updated website since May 3, 2000.




PAK Magazine
is an individual effort to compile and preserve the Pakistan history online.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes and therefor,
I am not responsible for the content of any external site.

Old site mazhar.dk

پاک میگزین" کا آغاز 1999ء میں ہوا جس کا بنیادی مقصد پاکستان کے بارے میں اہم معلومات اور تاریخی حقائق کو آن لائن محفوظ کرنا ہے۔

یہ تاریخ ساز ویب سائٹ، ایک انفرادی کاوش ہے جو 2002ء سے mazhar.dk کی صورت میں مختلف موضوعات پر معلومات کا ایک گلدستہ ثابت ہوئی تھی۔

اس دوران، 2011ء میں میڈیا کے لیے akhbarat.com اور 2016ء میں فلم کے لیے pakfilms.net کی الگ الگ ویب سائٹس بھی بنائی گئیں
لیکن 23 مارچ 2017ء کو انھیں موجودہ اور مستقل ڈومین pakmag.net میں ضم کیا گیا جس نے "پاک میگزین" کی شکل اختیار کر لی تھی۔



PAK Magazine
Pakistan Film Magazine
Pakistan Media
Namaz timetable for Copenhagen, Denmark
Back to the top of the page