25th celebration
Lachhi (1969)
An Urdu/Punjabi article on film Lachhi (1969)
فلم بینی کی ابتداء
پاکستان فلم میگزین کی بنیاد بننے والی پنجابی فلم لچھی (1969) تھی۔۔!
فلم کمپنی: شاہجہاں پروڈکشنز، فلمساز: شوکت رضا، پیشکار: چوہدری خدابخش
ہدایتکار: حیدرچوہدری، کہانی: ذکی بی اے، مرکزی خیال: اسماعیل عالم، عکاس: سرورگل
موسیقار: منظور اشرف، گیت نگار: وارث لدھیانوی، تنویرنقوی
اداکاران: فردوس، اعجاز، رخسانہ، ساون، الیاس کاشمیری، سلمیٰ ممتاز، نبیلہ، اسدبخاری، منورظریف، رنگیلا، صاعقہ، تانی، راجہ ریاض، تایابرکت
گلوکاران: ملکہ ترنم نورجہاں، مالا، نسیم بیگم، آئرن پروین، رونا لیلیٰ، احمدرشدی، مسعودرانا، منورظریف
تاریخ نمائش: پنجابی فلم "لچھی"، 22 اگست 1969ء کو لاہور سرکٹ اور 17 فروری 1970ء کو کراچی سرکٹ میں ریلیز ہوئی تھی۔
فلم لچھی (1969) کے خوبصورت فلمی پوسٹر پر اداکارہ فردوس کے پاؤں میں سفید رنگ یا چاندی کا جو زیور نظر آرہا ہے، پنجابی زبان میں اس کو "لچھی" یا "جھانجھر" اور اردو میں "پائل" یا "پازیب" کہتے ہیں۔
"لچھی" کےلغوی معانی تو "پاؤں کے زیور" کے ہیں لیکن فلم میں یہ ٹائٹل، ایک استعارے کے طور پر ایک ایسی غریب لڑکی کے نام کے لیے استعمال کیا گیا ہے جو اپنی خوبصورتی کے باوجود ہمارے معاشرےمیں ذات پات کے گہرے نظام کی وجہ سے "پاؤں کا زیور" یعنی "لچھی" ہی رہے گی اور کبھی ماتھے کا جھومر نہیں بن سکتی۔ یہی اس فلم کی کہانی کا خلاصہ ہے۔
فلم لچھی (1969) کی کہانی
فلم لچھی (1969) کا مرکزی کردار، اداکار ساون ہے جو ایک غریب مزارعہ ہے اور اپنے بیٹے کی پیدائش کی خوشی سے نہال اپنے چوہدری دوست (الیاس کاشمیری) کو مٹھائی دینے جاتا ہے لیکن اسے انتہائی مغموم پا کر پریشان ہوجاتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ چوہدرانی (سلمیٰ ممتاز) مسلسل چوتھی مرتبہ ایک مردہ بچے کو جنم دے کر بے ہوش پڑی ہے اور ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ اب کی بار صدمے سے پاگل ہوجائے گی۔
ساون، ایک انتہائی فیصلہ کر لیتا ہے اور دوستی، وفارداری اور ایثار و قربانی کی ایک اعلیٰ مثال قائم کرتے ہوئے اپنی روتی اور چیختی چلاتی بیوی (نبیلہ) کی گود اجاڑ کر اپنا نومولود بچہ، چوہدری کی جھولی میں ڈال کر چوہدرانی کو بچا لیتا ہے اور ان کے مردہ بچے کو اپنا لیتا ہے۔ چوہدرانی، انجانے میں ان دونوں میاں بیوی کو منحوس سمجھتے ہوئے بچے کے قریب بھی نہیں آنے دیتی اور وہ، دور ہی سے اپنے لختِ جگر کو دیکھ کر دل کو تسلیاں دے لیتے ہیں۔
بچہ بڑا ہو کر فلم کا ہیرو (اعجاز) بنتا ہے جو اعلیٰ تعلیم کے لیے اپنے ماموں (راجہ ریاض) اور ممانی (تانی) کے ہاں شہر میں ان کی آزاد خیال بیٹی(رخسانہ) کے ساتھ رہتا ہے۔ والدین ان کی شادی کرنا چاہتے ہیں لیکن دونوں کے مزاج مختلف ہیں اور آپس میں نہیں بنتی۔
اعجاز، اپنے گاؤں واپس آتا ہے جہاں اس کی ملاقات لچھی (فردوس) سے ہوتی ہے اور پہلی نظر ہی میں دل مل جاتے ہیں۔ فردوس، ایک غریب مزارعہ ( تایابرکت) کی بیٹی ہے لیکن باپ کے مرنے کے بعد اپنے چچا (ساون) کے پاس رہتی ہے جہاں گاؤں کا اوباش نوجوان (اسدبخاری)، اس سے زبردستی شادی کرنا چاہتا ہے۔
اعجاز کو والدین مجبور کرتے ہیں کہ وہ، رخسانہ سے شادی کرلے۔ ساون اور نبیلہ بھی یہ خبر جان کر بڑے خوش ہوتے ہیں کہ ایک مزارعے کا بیٹا، ایک اونچی ذات کی لڑکی سے شادی کرنے والا ہے۔ فردوس، یہ جان کر دکھی تو ہوتی ہے لیکن اعجاز کو مجبور کرتی ہے کہ اپنے والدین کی خواہش کا احترام کرے اور اسے بھول جائے۔
شادی کے دن نکاح کے وقت جب دولھا کے باپ کا نام پوچھا جاتا ہے تو الیاس کاشمیری، اپنے بجائے ساون کا نام بتا کر سب کو حیران کر دیتا ہے۔ ماموں (راجہ ریاض) یہ جان کر سیخ پا ہوجاتا ہے کہ ایک " کمین مزارعہ"، اس کی اعلیٰ ذات کی بیٹی سے شادی کرنے والا تھا۔ وہ، صاف انکار کر دیتا ہے لیکن ساون کو فردوس اور اعجاز کے تعلق کا علم ہوتا ہے، وہ، ان کی شادی کروا دیتا ہے اور فلم کا خوشگوار اختتام ہو جاتا ہے۔
فردوس اور اعجاز
دلچسپ بات یہ ہے کہ "پاؤں کے زیورات" کے ان چاروں ناموں یعنی لچھی (1969)، جھانجھر (1965)، پائل (1970) اور پازیب (1972) پر فلمیں بھی بن چکی ہیں اور ان پر بہت سے گیت بھی گائے گئے ہیں جن میں میڈم نورجہاں کے "چھن چھن چھن باجے، پائل باجے۔۔"، "جھانجھریا پہنا دو۔۔"، "جھانجھر دی پاواں جھنکار۔۔"، اقبال بانو کا "پائل میں گیت ہیں چھم چھم کے۔۔"، مہدی حسن کا "پائل چھنن چھنن چھنن کے۔۔"، احمدرشدی/مالا کا "تیرے پائل کی چھنکار، لوٹے دل کا قرار۔۔" اور روبینہ بدر/مسعودرانا کا "جو روٹھ گئی پائل تو کیا ہوگا۔۔" وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔
"گھنگرو" کی مختلف چھوٹی اشکال میں چھن چھن کرنے والا "پاؤں کا یہ زیور"، اردو/ہندی کے مشہور محاورے "سولہ سنگھار" میں شمار ہوتا ہے جس کے بارے میں دلچسپ تفصیل اس مضمون میں شامل ہے۔
فلم لچھی (1969) کے فنکار
پنجابی فلموں کے چوٹی کے ہدایتکار حیدرچوہدری کی بہترین فلم لچھی (1969) کی کہانی، دوستی، محبت اور ایثاروقربانی کے علاوہ ذات پات، اونچ نیچ اور حسب و نسب کے بارے میں بنائی گئی ایک سبق آموز فلم ہے جس میں اس دور کی ہلکی پھلکی اور تفریحی بلیک اینڈ وہائٹ پنجابی فلموں کی طرح، وہ سبھی "مسالے" یعنی کہانی، مکالمے، رقص، گیت، کامیڈی اور فائٹ وغیرہ ملتے ہیں جن کی تلاش میں فلم بین، سینماگھروں تک جاتے تھے۔
یہ فلم، لاہور میں ریلیز کے چھ ماہ بعد کراچی میں ریلیز ہوئی اور ایک اخباری اشتہار کے مطابق لاہور میں سپرہٹ گولڈن جوبلی فلم تھی۔
فلم لچھی (1969) کا ٹائٹل رول وقت کی مقبول ترین پنجابی فلموں کی ہیروئن، فردوس نے کیا جس کا کام محض ناچ گانے، ہیرو سے رومانس اور اپنی اداؤں سے شائقین کو محفوظ کرنا تھا۔ روایتی ہیرو اعجاز تھے جو اس سال کی اردو اور پنجابی فلموں کے کامیاب ترین فلمی ہیرو ثابت ہوئے تھے۔
فلم لچھی (1969) کا مرکزی کردار اداکار ساون نے کیا جو اس دور میں پنجابی فلموں میں اہم ترین کرداروں میں کاسٹ ہوتے تھے۔ انھوں نے اس فلم میں ایک وفادار دوست کا کردار کیا جس کے ایثاروقربانی پر اس فلم کی کہانی کا تانا بانا بنا گیا ہے۔
اس فلم کا چوتھا اہم کردار الیاس کاشمیری کا ہے جو اپنے قدبت اور بھاری بھر کم شخصیت کی وجہ سے جاگیردار یا چوہدری کے کردار کے لیے موزوں ترین فنکار تھے جبکہ سلمیٰ ممتاز نے ایک روایتی چوہدرانی کے مغرور کردار میں بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ رخسانہ، نبیلہ، تانی، راجہ ریاض اور تایابرکت بھی کہانی کے اہم کردار تھے۔ اسدبخاری کو ہیرو کے طور پر تو مقبولیت نہ ملی لیکن اس دور کی پنجابی فلموں میں ولن کے طور پر بڑے مقبول تھے۔
مزاحیہ کرداروں میں منورظریف اور رنگیلا ہوں تو تبصرہ بے معنی سا ہوجاتا ہے۔ صاعقہ، ان کے درمیان وجہ نزاع ہوتی ہے۔ ایک کامیڈی گیت کے دوران رنگیلا کا منہ کالا کرکے گدھے پر بٹھایا جاتا ہے۔ منورظریف نے اس فلم میں جو جیپ استعمال کی، وہ ذہن پر نقش ہوکر رہ گئی تھی۔
فلم لچھی (1969) کی موسیقی
ہماری فلمیں عام طور پر اچھی موسیقی اور گیتوں کی وجہ سے یاد رکھی جاتی ہیں۔ فلم لچھی (1969) کے گیت تنویرنقوی اور وارث لدھیانوی جیسے سینئر نغمہ نگاروں نے لکھے لیکن کوئی گیت سپرہٹ نہیں ہوا البتہ سکرین پر سبھی گیت اچھے لگتے ہیں۔
فلم لچھی (1969) کے گیت
- میرے روپ دا اے چمکارا۔۔ (مجرا)
(گلوکاران: نسیم بیگم، رونا لیلیٰ، اداکاران: نگو، میناچوہدری) - ماں دی اکھ توں اج وچھڑ گیا جے۔۔ (تھیم سانگ)
(گلوکار: مسعودرانا، اداکارہ: نبیلہ - پس منظر) - ہتھیں میرا چوڑا، جلیبی میرا جوڑا۔۔ (سٹیج سانگ)
(گلوکارہ: آئرن پروین، اداکارہ: رخسانہ) - چڑھ پئی جوانی،رب خیرکرے۔۔ (کورس)
(گلوکارہ: ملکہ ترنم نورجہاں مع ساتھی، اداکارہ: فردوس مع سکھیاں) - ڈردیاں ڈردیاں ہاں کی کرلی۔۔ (دوگانا)
(گلوکاران: مالا، مسعودرانا، اداکاران: فردوس، اعجاز) - بھل کے نہ سودا لیناایس دی دکان دا۔۔ (مزاحیہ دو گانا)
(گلوکاران: احمدرشدی، آئرن پروین، ؟، اداکاران:
منورظریف، صاعقہ، رنگیلا) - قصہ ڈھائی ڈھائی آنے۔۔ (مزاحیہ سولو گیت)
(گلوکار اور اداکار منورظریف) - وے تو سدھیا میں اڈدی آئی۔۔ (رومانٹک گیت)
(گلوکارہ ملکہ ترنم نورجہاں، اداکارہ: فردوس) - دکھاں وچ پے گیاں، ہاواں جوگی رہ گیاں۔۔ (المیہ گیت)
(گلوکارہ: ملکہ ترنم نورجہاں، اداکارہ فردوس)
فلم لچھی (1969) کے موسیقار "منظور اشرف" تھے جو فلم ناخدا (1967) تک دو دوستوں، "منظور" اور "اشرف" کی کامیاب جوڑی ہوا کرتی تھی لیکن پھر الگ ہوئے، "اشرف" نے "ایم اشرف" کے نام سے بہت نام کمایا لیکن "منظور" نے "منظوراشرف" کے نام سے کام جاری رکھا جس میں یہ فلم بھی شامل تھی۔ ان صاحب کے بارے میں روایت ہے کہ اداکارہ نگو کے قتل میں جیل ہوئی اور واپسی پر کوشش کی لیکن دوبارہ فلموں میں کامیابی نہیں ملی اور گوشہ گمنامی ہی میں انتقال ہوا۔
فلم لچھی (1969) کے نو میں سے چار گیت ملکہ ترنم نورجہاں کے گائے ہوئے ہیں جنھیں 1967ء سے پنجابی فلمی گائیکی پر تاحیات مکمل اجارہ داری حاصل ہوچکی تھی۔ میڈم کا فردوس پر فلمایا ہوا گیت "وے تو سدھیا، میں اڈدی آئی، تیرے پیار نے ہوش بھلائی، ماہی وے میرے ہان دیا۔۔" ہمیشہ یاد رہا۔
اس دور میں، میڈم نورجہاں کے مقابلے میں پنجابی فلموں میں دیگر سبھی بڑی گلوکاراؤں کی حیثیت ثانوی ہوتی تھی حالانکہ اردو فلموں میں گلوکارہ مالا کو اجارہ داری حاصل ہوتی تھی جبکہ رونا لیلیٰ، دوسرے نمبر پر آتی تھی۔ نسیم بیگم، اپنے عروج کا دور گزار چکی تھی اور ایک معاون گلوکارہ بن کر رہ گئی تھی۔ آئرن پروین، قریباً ہر فلم کی ضرورت ہوتی تھی، خاص طور پر کامیڈی گیتوں کا لازمی حصہ ہوتی تھی۔ فلم لچھی (1969) میں بھی اس کا احمدرشدی کے ساتھ ایک کامیڈی گیت تھا جو صاعقہ، منورظریف اور رنگیلا پر فلمایا گیا تھا۔
احمدرشدی، اردو فلموں کے تو چوٹی کے گلوکار تھے لیکن پنجابی فلموں میں صرف کامیڈی گیتوں تک محدود رہے جہاں مسعودرانا کو مکمل اجارہ داری حاصل ہوتی تھی۔ اس فلم میں بھی مسعودرانا کا ایک تھیم سانگ اور مالا کے ساتھ ایک دوگانا بھی تھا جو فلم کی مرکزی جوڑی، فردوس اور اعجاز پر فلمایا گیا تھا۔ ان کے علاوہ ایک مزاحیہ گیت منورظریف نے گایا جو انھی پر فلمایا بھی گیا تھا۔
فلم لچھی کی تاریخ
پاکستان میں "لچھی" نام کی فلم، صرف ایک بار 1969ء میں بنی لیکن بھارت میں دو بار، 1949ء اور 1977ء میں بنائی گئی تھیں۔
سولہ سنگھار
"لچھی/جھانجھر/پائل/پازیب"، "پاؤں کا زیور" ہے جو اردو/ہندی کے ایک مشہور محاورے "سولہ سنگھار" (اصل میں "بارہ ابھرن سولہ سنگھار") کا حصہ ہے۔
زمانہ قدیم میں ہندو رانیوں، راج کماریوں اور امیرزادیوں کے بعد بطورِ خاص شادی و بیاہ کے موقع پر دلھن کے بناؤ سنگھار کا یہ ایک طریقہ تھا جس میں صنفِ نازک کو مکمل بننے سنورنے یا "میک اپ" کے لیے جسم کے 12 حصوں پر 16 اقسام کے سنگھار کے 16 ہی مراحل طے کرنا پڑتے تھے۔
جسم کے بارہ حصے "سر، پیشانی، آنکھ، کان، ناک، ہونٹ، گلا، بازو، کلائی، ہاتھ، انگلیاں اور پاؤں" ہیں جبکہ ان پر کیے گئے سنگھار مندرجہ ذیل ترتیب سے ہوتے تھے:
1۔ اُبٹن: نرم و ملائم جلد کے لیے ہلدی وغیرہ کا اُبٹن یا لیپ
2۔ غسل: تازہ پانی میں دودھ، روغن بادام اور عطر وغیرہ سے غسل
3۔ مالش: چہرے، گردن، شانوں اور بازوؤں پر صندل کے باریک سفوف اور خوشبودار تیل کی مالش
4۔ زلفیں: سر کے بالوں کو خوشبودار تیل اور جڑی بوٹیوں سے گوندھنا، چوٹی، جُوڑا، گجرا، لَٹ اور مختلف ہیئر سٹائل بنانا
5۔ سیندور: ہندو سہاگن عورت کی مانگ میں سیندور کی دھار
6۔ بندیا: ہندو عورتوں کی پیشانی پر صندل یا زعفران کی بِندیا
7۔ کاجل: آنکھوں میں سرمہ یا نظرِبد سے بچنے کے لیے کاجل اور کالے تل وغیرہ کا لگانا
8۔ سرخی: ہونٹوں کو مختلف جڑی بوٹیوں وغیرہ سے لال کرنا
9۔ پان: منہ اور دانتوں کی خوشبو اور صفائی کے لیے سکڑا، پان یا الائچی وغیرہ کا استعمال
10۔ مہندی: ہاتھوں پیروں پہ خوش رنگ مہندی یا حنا کا لگانا
11۔ لباس: قیمتی ریشمی یا عروسی لال لباس، کمر بند، جوتے وغیرہ
12۔ ہار: پھولوں اور موتیوں کے ہار، منگل سوتر، گجرے وغیرہ
13۔ چوڑیاں: کلائیوں میں کانچ کی چوڑیاں یا سونے کے کنگن وغیرہ
14۔ زیور: سر ، کان، ناک اور گلے کے زیورات (ٹیکا، جھمکا، نتھ وغیرہ)
15۔ انگوٹھی: بازو، ہاتھ اور انگلیوں کے زیورات (بازوبند، انگوٹھی، آرسی وغیرہ)
16۔ پازیب: پاؤں کے زیورات (پائل/ پازیب/ جھانجھر یا لچھی وغیرہ)
1949ء میں پاکستان کی پہلی سپرہٹ نغماتی پنجابی فلم "پھیرے" ریلیز ہوئی اور اسی سال فلم "لچھی" بھی ریلیز ہوئی جو اصل میں آزادی کے بعد بھارت کی بھی پہلی ریلیز شدہ پنجابی فلم تھی۔
گو تقسیم کے بعد ایک سپرہٹ نغماتی پنجابی فلم چمن (1948) ریلیز ہوچکی تھی لیکن وہ، تقسیم سے پہلے لاہور میں "بھائیاجی" کے نام سے بن رہی تھی جس کی ہیروئن مینا شوری تھی۔ اس فلم کی تکمیل بمبئی میں ہوئی، اس لیے خالص بھارتی پنجابی فلم نہیں تھی۔ یہ فلم اپنے دو سپرہٹ گیتوں "چن کتھاں گزاری آئی رات وے۔۔" اور "ساری رات تیرا تکنی آں راہ۔۔" کی وجہ سے مشہور تھی۔
بھارتی پنجابی فلم لچھی (1949) کی ہیروئن منورما تھی جو تقسیم سے قبل لاہور میں بننے والی فلموں میں راگنی کے بعد دوسری مقبول ترین ہیروئن ہوتی تھی لیکن آزادی کے بعد بھارتی ہندی/اردو فلموں میں ویمپ کے طور پر زیادہ مشہور ہوئی۔
بھارتی پنجابی فلم لچھی (1949)، اس لحاظ سے بھی ایک یادگار فلم تھی کہ اس میں محمدرفیع اور لتامنگیشکر نے اپنے پہلے پہلے سپرہٹ پنجابی گیت گائے جو بالترتیب "جگ والا میلہ یارو، تھوڑی دیر دا، ہسدیاں رات لنگی، پتہ نئیں سویر دا۔۔" اور "نالے لمی تے نالے کالی، ہائے وے چناں، رات جدائیاں والی۔۔" تھے لیکن اس فلم کا سب سے یادگار گیت شمشاد بیگم کا گایا ہوا تھا: "میری لگدی کسے نہ ویکھی تے ٹٹدی نوں جگ جان دا۔۔" جو "ملک راج بھکری" نامی گمنام شاعر کا لکھا ہوا تھا۔
روایت ہے کہ عظیم شاعر فیض احمد فیض سے پوچھا گیا کہ آپ سیالکوٹ کے ہیں لیکن کبھی پنجابی شاعری نہیں کی تو انھوں نے اس گیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ "میں اس سے بہتر شاعری تو نہیں کر سکتا۔۔!"
ایک بھارتی پنجابی فلم دو لچھیاں (1960) بھی ایک بہت بڑی نغماتی فلم ثابت ہوئی جس کے گیت امر سنگیت میں شامل ہیں۔ ان میں شمشاد بیگم کے گائے ہوئے سدا بہار گیت: "ہائے نی میرا بالم، ہے بڑا ظالم، مینوں کدی کدی کردا اے پیار، کدی ماردا اے چھمکاں دی مار۔۔" اور "بھاویں بول تے بھاویں نہ بول، وے چناں وس اکھیاں دے کول۔۔" کے علاوہ محمدرفیع کے ساتھ دوگانے: "تیری کنک دی راکھی منڈیا، ہن میں نیؤں بہندی۔۔"، "ساری عمراں دے پے گئے وچھوڑے۔۔" اور "اک پنڈ دو لچھیاں، نکی لچھی نے پواڑا پایا۔۔" قابلِ ذکر ہیں۔ ورما ملک کے گیت اور ہنس راج بہل کی موسیقی تھی۔
بھارتی فلم لچھی (1949) کا پوسٹر
بھارتی پنجابی فلم لچھی (1949) کا پوسٹر دیکھ کر یقیناً بہت سے لوگ حیران ہوں گے کہ اس پر انگلش کے علاوہ اردو یا "شاہ مکھی" (سٹینڈرڈ پنجابی) میں کتنا خوبصورت "لچھی" لکھا ہوا ہے لیکن "دیوناگری" (ہندی) یا "گرمکھی" (سکھوں کی پنجابی) میں کچھ بھی نہیں ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے۔۔؟
تاریخ کا ایک طالبِ علم ہونے کے ناطے ایسے واقعات سے بڑی گہری دلچسپی رہی ہے جس کا نتیجہ پاکستانی زبانوں پر بنائی گئی ویب سائٹ ہے۔
1980 کی دھائی میں جب پہلی بار VCR پر بھارتی پنجابی فلمیں دیکھنے کا موقع ملا تو بڑی سخت حیرت ہوتی تھی کہ ان انڈین پنجابی فلموں میں اردو یا شاہ مکھی لکھی ہوئی نظر آتی ہے اور ایسے لگتا تھا کہ جیسے ہم کوئی بھارتی پنجابی نہیں، پاکستانی پنجابی فلم دیکھ رہے ہیں۔
"سٹینڈرڈ پنجابی"
آج کے سوشل میڈیا پر بہت سے نادان لوگ، سکھوں کی گرمکھی کو "سٹینڈرڈ پنجابی" سمجھتے ہیں جو ان کی جہالت اور لاعلمی کی نشانی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یکم نومبر 1966ء تک گرمکھی، صرف سکھوں کی مقدس کتابوں تک محدود ہوتی تھی۔ اس تاریخ کو بھارتی پنجاب کو تین حصوں میں تقسیم کرکے سکھوں کو صوبہ پنجاب دیا گیا تو پہلی بار گرمکھی کو صوبے کی سرکاری زبان قرار دیا گیا۔ اس سے قبل کی فلموں یا ان کے پوسٹروں پر شاذونادر، گرمکھی تحریر ملے گی۔ یہاں تک کہ پنجابی فلموں میں سکھ کردار بھی کم ہی نظر آتے تھے۔
انگریزوں نے 1849ء میں پنجاب فتح کیا تو اردو کو پنجاب کی سرکاری زبان قرار دیا جو گزشتہ ساڑھے آٹھ سو سال سے رائج فارسی زبان کی جانشین تھی۔ یہ سلسلہ آزادی کے بعد بھی پاکستانی اور بھارتی پنجاب میں جاری رہا۔
1966ء میں ایک طویل سیاسی جدوجہد کے بعد سکھوں نے اپنا الگ صوبہ تو حاصل کرلیا لیکن اس سے پنجابی زبان کو بڑا نقصان ہوا کیونکہ بھارتی پنجاب میں سکھوں سے زیادہ پنجابی بولنے والے ہندو تھے لیکن اس مخاصمت کے بعد اور سکھوں کی پنجابی پہچان کی وجہ سے ہندوؤں نے خود کو پنجابی کہنا چھوڑ دیا حالانکہ آج بھی ہماچل پردیش کی 70فیصد، مقبوضہ کشمیر کی 40فیصد اور پنجاب کی 38 فیصد آبادی کے علاوہ دہلی، ہریانہ اور راجستھان میں تقسیم ہندوؤں کی بڑی تعداد پنجابی زبان کی مختلف بولیاں بولتی ہے لیکن خود کو پنجابی نہیں کہتی۔
اسی تاریخی ہندو سکھ کشمکش کے پس منظر میں 1969ء میں "ڈوگری" کو سیاسی بنیادوں پر ایک الگ زبان قرار دیا گیا حالانکہ یہ بھی پنجابی زبان کی ایک پہاڑی بولی ہے جو مقبوضہ کشمیر کے جنوب اور سیالکوٹ کے مشرق میں واقع جموں کے علاقہ میں بولی جاتی ہے۔
فلم بینی کی ابتداء
صرف سات سال کی عمر میں فلم بینی کی ابتداء سینما پر دیکھی ہوئی پہلی فلم لچھی (1969) سے ہوئی تھی۔
جب بھی یہ فلم یاد آتی ہے تو والدِ محترم (مرحوم و مغفور) یاد آ جاتے ہیں جو اگر یہ فلم نہ دکھاتے تو شایدفلم بینی کا شوق پیدا ہوتا نہ پاکستان فلم میگزین جیسی تاریخ ساز ویب سائٹ بن پاتی۔
یہ فلم جن حالات میں دیکھی، وہ، آج بھی ذہن پر ایسے نقش ہیں کہ جیسے ابھی کل ہی کی بات ہو۔
شام کا وقت تھا، دادا جان مرحوم و مغفور نے حکم دیا کہ "شام کا کھانا کھانا ہے، جاؤ، باپ کو بھلا کر لاؤ، فلاں جگہ، دوستوں کے ساتھ بیٹھا تاش کھیل رہا ہوگا۔۔"
مقررہ جگہ پہنچا تو والدصاحب، اپنے دوستوں کے ساتھ تاش کی "بازی" میں مشغول تھے۔ مجھے حکم ہوا کہ "ٹھہرو، چلتے ہیں۔۔!"
والدصاحب مرحوم، "سیپ" (یا سویپ) کے بہترین کھلاڑی تھے۔ یہاں ڈنمارک میں بھی جب اپنے دوستوں کے ساتھ تاش کھیلتے تو چند ایک بار مجھے بھی اپنے ساتھ ملا لیتے لیکن کبھی دلچسپی پیدا نہ ہو سکی حالانکہ ہوش سنبھالتے ہی ہمارے گھر میں تاش کے باون پتوں کے متعدد پیکٹ ہوتے تھے جن سے نہ صرف کھیلتا رہتا بلکہ انگریزی زبان کا پہلا سبق بھی انھی سے سیکھا تھا۔
آج بھی اچھی طرح سے یاد ہے کہ A یا یکے کا پتہ دیکھ کر سوچتا رہتا تھا کہ یہ 4 سے تو ملتا ہے لیکن چار ہے نہیں۔ والدصاحب نے یہ الجھن دور کی تھی۔ K سے کنگ (بادشاہ)، Q سے کوئین (ملکہ) اور J سے جیک (غلام) وغیرہ بھی بچپن ہی میں ذہن پر نقش ہوگئے تھے۔
جب پہلی فلم دیکھی
والدصاحب کی تاش کی "بازی" ختم ہوئی تو دوستوں کے ساتھ گھر کی طرف آنے کی بجائے الٹی طرف چل دیے۔ ایک دوست کا یہ جملہ آج بھی یاد ہے: "اتنے چھوٹے بچے کو فلم دکھاؤ گے۔۔؟" والدصاحب کا جواب تھا: "کل کو جو دیکھے گا تو ابھی سے دیکھ لے تو کیا فرق پڑتا ہے۔۔!"
یہ میری فلم بینی کی ابتداء تھی۔ کیا سہانا اور خوابناک ماحول ہوتا تھا جب لوگ جوق در جوق، سڑک پر خراماں خراماں ٹولیوں کی صورت میں قیصرسینما گیمن کالونی کھاریاں کینٹ کی طرف گامزن ہوتے تھے۔ شہر اور چھاؤنی کو الگ کرنے والے برساتی نالے کے پُل پر قیصرسینما کی "پُلی یا بُتی" آج بھی یاد ہے جس پر "لچھی" لکھا ہوا تھا۔
سینما سے واپسی پر کھاریاں شہر کے واحد جدید ہوٹل، "پیلس" کی دومنزلہ سفید عمارت میں چائے پی۔ جس کمرے میں بیٹھے، وہ ہماری فلموں میں نظر آنے والے کلب کا سا ماحول تھا۔ کھلے ڈھلے کمروں میں بڑی نفاست سے بچھے ہوئے کرسیاں میز تھے۔ دیواروں اور چھت پر نقش و نگار تھے اور صرف ایک ڈانسر کی کمی تھی۔
اس دور میں ایک عام آدمی کے لیے فلم بینی، سب سے بڑی تفریح ہوتی تھی۔ اس کے بعد فارغ اوقات میں تاش کا کھیل ہوتا تھا۔ ہوٹلوں پر چائے پانی کے علاوہ پان اور سگریٹ وغیرہ دیگر لوازمات ہوتے تھے۔
والدصاحب، ایک روشن خیال اور یارباش قسم کے شخص تھے۔ بڑے فخر سے بتایا کرتے کہ انھیں اپنے بڑوں سے بیس فیصد زیادہ تنخواہ ملتی ہے جو صرف خود پر خرچ کرنا اپنا حق سمجھتے تھے۔
انھوں نے 1955ء میں میٹرک پاس کی اور پہلی جاب ہی کھاریاں کینٹ کی تعمیر کے دوران ایک امریکی کمپنی میں "فورمین" کی ملی۔ انتہائی ذہین و فطین تھے۔ انگلش فرفر بولتے اور حساب و کتاب میں اپنی مثال آپ تھے جب کہ اعلیٰ تیکنیکی ذہن بھی رکھتے تھے۔ ٹھاٹھ باٹھ کا یہ عالم تھا کہ دیہاتی ماحول میں پلنے کے باوجود کبھی شلوارقمیض میں نہیں دیکھا، ہمیشہ پینٹ شرٹ میں ہوتے اور "باؤجی" کہلاتے تھے۔
فلم لچھی (1969)، پاکستان میں والدصاحب کے ساتھ دیکھی ہوئی میری اکلوتی فلم تھی لیکن جون 1970ء میں ان کی ڈنمارک روانگی تک مزید تین فلمیں، قول قرار، عشق نہ پچھے ذات اور زرقا (1969) دیکھیں جن سے چند ناقابلِ فراموش واقعات منسلک ہیں۔ ان کا ذکر اگلے مضامین میں ہوگا۔
والدصاحب کے ساتھ مشترکہ شوق
دسمبر 1973ء میں پہلی بار ڈنمارک آیا تو والدصاحب کے ساتھ ہی کوپن ہیگن کے ساگا سینما میں پہلی فلم آؤ پیار کریں (1972) دیکھی۔ اس کے علاوہ منورظریف کے انتقال کے چند دن بعد ریلیز ہونے والی فلم پیارکا موسم (1975) کبھی نہیں بھلا سکا جب والدصاحب کی آنکھوں میں بھی آنسو تھے۔
پتن (1955)، شہید (1962)، نائیلہ (1965) اور باؤجی (1968) جیسی شاہکار پرانی فلمیں بھی یاد ہیں جنھوں نے مجھے بھی والدصاحب کے دور کی فلموں کا دیوانہ بنا دیا تھا۔ گویا 1950/60 کی دھائیوں کی فلموں سے دلچسپی وراثت میں ملی ہے جس کا امین، پاکستان فلم میگزین ہے۔
پرانی فلموں کے علاوہ والدصاحب سے ایک اور مشترکہ شوق گلوکار مسعودرانا کے گیت تھے جن کا ایک گراموفون ریکارڈ سننے کے لیے اپنے جس دوست کے پاس جاتے، اس نے ایک بار یہ شکایت کردی کہ ہر بار اسی گیت (تیرے بنا یوں گھڑیاں بیتیں) کی فرمائش کرتے ہیں جس سے ماحول اداس ہوجاتا ہے، اس لیے آئندہ یہ گیت نہیں بجائے گا۔ والدصاحب نے اسے اپنی توہین سمجھا اور پھر اس کے پاس جانا ہی چھوڑ دیا تھا۔
اپنی نوجوانی کے دور کے اداکاروں میں سب سے زیادہ مسرت نذیر اور سدھیر کا ذکر کیا کرتے تھے۔ گلوکاروں میں زبیدہ خانم اور عنایت حسین بھٹی کو یاد کرتے لیکن میری طرح، مسعودرانا کی آواز سے زیادہ متاثر تھے مثلاً فلم وارنٹ (1975) کا گیت "نی چپ کر کے گڈی دے وچ بہہ جا۔۔" کا ویڈیو دیکھ کر بولے: "ایک بوڑھے پر اتنی خبردار قسم کی آواز۔۔؟"
زبیدہ خانم بمقابلہ نورجہاں
والدصاحب کے پاس ایک آئیڈیو کیسٹ ہوتی تھی جس پر زبیدہ خانم کے پنجابی فلمی گیت ریکارڈ تھے جن کو نہ صرف وہ خود بلکہ ان کی ڈینش بیگم بھی بڑے شوق سے سنتی تھی۔ میں نے بھی پہلی آئیڈیو کیسٹ وہی سنی تھی۔
ایک بار ایک محفل میں والدصاحب کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ "ہمارے وقتوں میں تو صرف زبیدہ خانم ہی ہوتی تھی۔۔"
اس پر میں نے لقمہ دیا تھا کہ "نورجہاں بھی تو تھی۔۔!"
والدصاحب کے چہرے پر ناگواری کے تاثرات تھے جنھیں کبھی نہیں بھلا سکا۔ ان کی بات درست تھی کیونکہ 1950 کی دھائی میں نورجہاں، صرف انھی فلموں کے لیے گاتی تھی جن میں اداکاری کرتی تھی جبکہ زبیدہ خانم، پلے بیک سنگر کے طور پر اردو/پنجابی فلموں پر چھائی ہوئی تھی۔
اس وقت کم عمر تھا اور تمام تر علم میڈیا کا مرہونِ منت تھا۔ اپنا تجربہ اور مشاہدہ نہیں تھا۔ بدقسمتی سے ہمارے میڈیا میں بیشتر لوگ سنی سنائی باتوں پر یقین کرتے ہیں اور مکھی پر مکھی مارتے ہیں جس سے بے سروپا باتیں غلط العام ہوجاتی ہیں اور حقائق سامنے نہیں آتے۔
نادانی اور نادانستگی میں کی گئی اس "گستاخی" نے مجھے فلمی معلومات پر تحقیق کرنے کی ترغیب دی جس کا نتیجہ پاکستان فلم میگزین کی صورت میں سامنے ہے جس پر صرف اور صرف حقائق کو محفوظ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
جب "مغلِ اعظم" کو ٹھکرایا
والدصاحب مرحوم کو ہر ہفتے سینما سے ایک فلم پوسٹر وصول ہوتا تھا جو عام طور پر بھارتی فلموں کا ہوتا تھا لیکن ڈنمارک میں اپنے تین سالہ قیام کے دوران، انھیں کبھی کوئی بھارتی فلم دیکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ اس کی وجہ شاید وہ یادگار واقعہ ہے جس کی وجہ میں بنا۔
یقیناً انھوں نے پہلے بھارتی فلمیں دیکھی تھیں کیونکہ جب جنوری 1973ء میں پاکستان آمد کے دوران سازین سینما کھاریاں میں پنجابی فلم آن (1973) دیکھی تو والدصاحب کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ بھارتی فلم آن (1952) سے اس فلم کی کہانی زیادہ بہتر تھی جو جنگی قیدیوں کے بارے میں ایک اشارتی فلم تھی لیکن ہمارے فلم بینوں کے معیار پر پورا نہیں اتری تھی۔
میری یادداشت میں صرف ایک بار ایسا ہوا کہ والدصاحب، اپنے دوستوں کے ساتھ کلاسک بھارتی فلم مغلِ اعظم (1960) دیکھنے کی تیاری کررہے تھے۔ مجھے بھی تیار ہونے کا کہا لیکن میں نے صاف انکار کردیا۔ وجہ پوچھی گئی تو میں نے بڑے پُراعتماد انداز میں کہا:
"آپ کیسے توقع کرسکتے ہیں کہ میں کوئی انڈین فلم دیکھوں گا۔۔؟!"
والدصاحب کے ایک دوست نے حیرت سے وجہ پوچھی تو میرا جواب تھا:
"انڈین فلم دیکھنے کے لیے جو ٹکٹ خریدیں گے، اس کا ٹیکس حکومت ہند کے خزانے میں جائے گا، جس سے ہمارے خلاف استعمال ہونے والا اسلحہ و بارود خریدا جائے گا، کیا، دشمن کو فائدہ پہنچانا، اپنے ملک سے غداری نہیں ہے۔۔؟"
1971ء کی پاک بھارت جنگ سے متاثر، حالاتِ حاضرہ سے باخبر، بھارت سے شدید نفرت اور زندگی بھر سینما پر کوئی بھارتی فلم نہ دیکھنے والے ایک بارہ تیرہ سالہ جنونی پاکستانی بچے کی زبانی یہ استدلال سن کر والدصاحب اور ان کے دوست لاجواب ہوگئے اور انڈین فلم دیکھنے کا اردہ ترک کر کے تاش کی بازی لگانے بیٹھ گئے تھے۔
جب فلم دیکھنے کی مشروط اجازت ملی
ڈنمارک میں 1973/76ء کے پہلے تین سالہ قیام کے دوران والدصاحب کی دیگر ذمہ داریوں اور مصروفیات کی وجہ سے فلموں سے دلچسپی محدود ہوگئی تھی لیکن میں باقاعدگی سے قریباً ہر اتوار کو فلم دیکھتا تھا۔ البتہ پاکستان کے برعکس، اب فلم دیکھنے اور بس کے کرائے کے لیے ٹکٹ کی محتاجی بھی ہوتی تھی۔
یاد نہیں پڑتا کہ والدصاحب نے کبھی فلم بینی سے منع کیا ہو البتہ ایک بار فلم دیکھنے کی مشروط اجازت ملی جب انھوں نے کہا:
"ایک شرط پر فلم دیکھنے جا سکتے ہو کہ Lilian کو بھی ساتھ لے کر جاؤ۔۔!"
میں سٹپٹا گیا لیکن والدصاحب کی حکم عدولی ممکن نہ تھی۔ انھوں نے جس گوری سے شادی کررکھی تھی، اس کے پہلے خاوند سے یہ لڑکی Lilian، میری ہم عمر تھی۔ ہم ایک ہی چھت تلے رہتے تھے۔ وہ میرے نفس اور ایمان کے لیے بہت بڑا امتحان ہوتی تھی جو ایک الگ موضوع ہے۔ یہاں بات صرف فلم تک محدود رکھتے ہیں۔
1970 کی دھائی میں روزانہ شام چھ بجے، ہفتے کو دوپہر دو بجے اور اتوار کا پورا دن، ڈنمارک بند ہوجاتا تھا اور ہر طرف خاموشی چھا جاتی تھی۔ لوکل بس بھی ہر گھنٹے بعد آتی تھی۔ ایسے میں گھر سے ساگا سینما تک قریباً ایک گھنٹہ لگتا تھا۔ پورا راستہ اسی فکر میں غلطاں رہا کہ Lilian کو میرے ساتھ دیکھ کر لوگ مذاق اڑائیں گے اور یہ خبر پاکستان بھی پہنچ جائے گی جہاں خوب بدنامی اور جگ ہنسائی ہوگی۔

ساگا سینما کوپن ہیگن ڈنمارک
ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن کے مرکزی ریلوے سٹیشن سے چند منٹ کے فاصلے پر مین روڈ پر ساگا سینما ہوتا تھا جو اب ایک بڑا ہوٹل بن چکا ہے۔ جب وہاں پہنچے تو بے خیالی میں یہ تک محسوس نہ کرسکا کہ Lilian نے اپنا بایاں بازو میرے دائیں بازو میں ڈالا ہوا ہے اور ہم ایک جوڑی کی طرح سے چل رہے ہیں۔
جیسے ہی ویٹنگ روم میں داخل ہوئے، وہی انکل راجہ دوستوں کے جھرمٹ میں نظرآئے جنھوں نے کچھ عرصہ پہلے مجھے، ایک مہمان ڈینش لڑکی کے سامنے شرماتے ہوئے دیکھا تو یہ جملہ کہا تھا: "پُتر، شیر بن شیر۔۔!"
اب کی بار انھوں نے ہمیں دیکھتے ہی نعرہ بلند کیا: "اے ہوئی ناں گل، شیراں دے پُتر، شیر ای ہوندے نیں۔۔!"
ایک اور آواز آئی: "باپ نے ماں کو اور بیٹے نے بیٹی کو پھنسایا ہوا ہے، کیا کہنے۔۔!"
مجھے، سخت شرمندگی محسوس ہورہی تھی لیکن Lilian بڑی خوش تھی حالانکہ ہدایتکار اقبال کاشمیری کی پنجابی فلم ریشماں جوان ہوگئی (1975) نے بڑا بور کیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد داداجان مرحوم و مغفور کا جو خط آیا، اس میں خاصی ڈانٹ ڈپٹ ہوئی تھی۔
1970 کی دھائی میں ڈنمارک میں زیادہ تر میرے آبائی شہر کھاریاں ہی کے لوگ ہوتے تھے۔ پاکستان رابطے کے لیے خط و کتابت واحد ذریعہ ہوتا تھا۔ والدصاحب کی گوری سے شادی کی اطلاع بھی ہمیں انھی لوگوں سے ملی تھی جس پر میں نے جو احتجاجی اور جذباتی خط لکھا، والدصاحب سمیت ان کے دوست یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھے کہ تیسری جماعت کا ایک نو سالہ بچہ ایسا پُراثر خط لکھ سکتا ہے۔
شاید یہی وجہ تھی کہ جب ڈنمارک آیا تو والدصاحب کے دوستوں سے بڑا پیار اور عزت ملی۔ ان میں سے بیشتر تو اس دارِفانی سے کوچ کرچکے ہیں، اللہ تعالیٰ، ان کی مغفرت فرمائے (آمین) لیکن جو باحیات ہیں، وہ ماشاءاللہ، سبھی باریش اور صوم و صلٰوۃ کے پابند ہیں اور جب کبھی ملتے ہیں تو بڑے پیار و محبت سے ملتے ہیں جس پر ایک بار میرے بیٹے نے پوچھا:
"ابو، یہ داڑھیوں والے مذہبی لوگ، بڑے متعصب ہوتے ہیں اور کلین شیو لوگوں کو پسند نہیں کرتے لیکن آپ کو بڑے احترام سے ملتے ہیں، اس کی کیا وجہ ہے۔۔؟"
فوری جواب یہی تھا: "وہ جانتے ہیں کہ میں بچپن ہی سے بڑا کلین ہوں۔۔!" (اللہ معاف کرے، "من آنم کہ من دانم" والی بات ہے۔۔!)
فلم بینی کی حسین یادیں
ہر فلم بین کی مختلف فلموں سے خاص یادیں وابستہ ہوتی ہیں۔ جب یہ پتہ چلتا ہے کہ فلاں فلم، فلاں سال یا مہینے میں ریلیز ہوئی تھی تو یادوں کی کڑیاں خودبخود ملنا شروع ہوجاتی ہیں اور ذہن میں ایک ٹائم مشین چلنے لگتی ہے جو اس دور میں لے جاتی ہے اور بھولی بسری یادیں تازہ ہونے لگتی ہیں۔
پاکستان فلم میگزین پر فلموں کی فہرستوں کو سالانہ ترتیب سے دینے کا خیال پہلی بار اس وقت آیا جب 1980 کی دھائی میں والدصاحب کے ساتھ VCR پر فلم پاٹے خان (1955) دیکھی۔ جس انہماک سے انھوں نے یہ فلم دیکھی، وہ ذہن پر نقش ہوگیا تھا۔
فلم دیکھنے کے بعد انھوں نے بتایا کہ یہ ان کی زندگی کی پہلی فلم تھی جو انھوں نے میٹرک پاس کرنے کے بعد اپنے دوستوں کے ساتھ جہلم جا کر دیکھی کیونکہ اس وقت تک کھاریاں میں کوئی سینما نہیں تھا۔
فلم پاٹے خان (1955)، ایک یادگار فلم تھی جو میری کولیکشن کا لازمی حصہ بنی۔ اس فلم میں وقت کی دو بڑی گلوکارائیں، ملکہ ترنم نورجہاں اور زبیدہ خانم، اداکاری کرتی ہوئی نظر آئیں۔ مسرت نذیر کا اپنی اس تیسری فلم میں ویمپ کا رول تھا۔ اسلم پرویز کی بطورِ اداکار دوسری اور بطورِ ہیرو پہلی فلم تھی جو دیکھتے ہی دیکھتے سدھیر اور سنتوش جیسے دیوقامت فلمی ہیروز کے مقابل کھڑے ہوگئے تھے۔ ممتاز فلمی رائٹر حزیں قادری کی بطورِ مصنف پہلی فلم میں پہلی بار ایک کامیڈین ظریف نے ٹائٹل رول کیا جبکہ ہدایتکار ایم اے رشید کی یہ پہلی کاوش تھی۔
حاجی بابا کی فلم بینی
ایسا ہی ایک ناقابلِ فراموش واقعہ والدصاحب کے چچاجان اور میری بیگم کے دادا ابو (مرحوم و مغفور) سے منسلک ہے جنھیں مذہبی رحجانات کی وجہ سے نوجوانی کی عمر سے ہی "حاجی بابا" کہا جاتا تھا۔
2002ء میں وفات پانے سے قبل، متعدد بار ڈنمارک تشریف لائے جہاں ان کے چھوٹے صاحبزادے مقیم ہیں لیکن زیادہ تر میرے مہمان رہے کیونکہ ہمارے درمیان بڑی زبردست قسم کی ذہنی ہم آہنگی پائی جاتی تھی۔
تاریخ اور جغرافیہ سے گہری دلچسپی کی وجہ سے ہمارا جو بحث و مباحثہ ہوتا، وہ کسی اور سے نہیں کر پاتے تھے۔ سیاسی اور سماجی سوچ میں بھی ہم خیال تھے اور خاندان کی تاریخ اور شجرہ نسب وغیرہ کا جو ریکارڈ ان کے پاس تھا، وہ مجھے سونپ گئے تھے۔ اپنے بزرگوں، ماموں جان، والدصاحب اور دادا جان (مرحومین) کے بعد چوتھی شخصیت تھے جن سے سب سے زیادہ قربت رہی۔
زندگی کا بیشتر حصہ انھوں نے انگریز فوج میں گزارا، دوسری جنگِ عظیم میں ہانگ کانگ میں جاپان کے قیدی رہے، سارا ہندوستان گھوما اور اتنے دلکش انداز میں قصے کہانیاں سنایا کرتے کہ میں انھیں اپنے خاندان کا "اشفاق احمد" کہا کرتا تھا۔
ایک دن، یہاں ڈنمارک میں مقیم ہمارا پورا خاندان میرے گھر جمع تھا جس کی فلم بھی بنا رہا تھا۔ نیا نیا ویڈیو کیمرہ خریدا تھا جس کی ایک ریکارڈنگ تلاش کرنے کے لیے مختلف ویڈیو کیسٹیں کھنگال رہا تھا کہ اچانک ٹی وی سکرین پر میڈم نورجہاں نمودار ہوئی اور گیت تھا:
"آواز دے کہاں ہے، دنیا میری جوان ہے۔۔"
میں نے احتراماً فوری طور پر سٹاپ کا بٹن دبا دیا کیونکہ بزرگوں کے سامنے فلم دیکھنا معیوب سمجھا جاتا تھا لیکن دادا جان دیکھ چکے تھے اور فوراً بولے: "یہ نورجہاں تھی۔۔؟" سب بڑے حیران ہوئے کہ "باپوجی، آپ نے نورجہاں کو پہچان لیا۔۔؟" حکم ہوا کہ کیسٹ لگاؤں، لگا دی۔ گیت کے بعد ڈائیلاگ شروع ہوئے تو پوچھا: "پوری فلم ہے۔۔؟" جو تھی، حکم ہوا کہ پوری فلم چلاؤں۔ ہم حیرت سے باپوجی کو دیکھنے لگے کہ آپ فلم دیکھیں گے؟ جب دوبارہ بڑی سنجیدگی سے حکم ہوا تو میں نے فلم لگا دی۔
باپوجی نے پوری فلم انمول گھڑی (1946) اسی انہماک کے ساتھ دیکھی جیسی کہ والدصاحب نے پاٹے خان (1955) دیکھی تھی۔ وہ، فلم دیکھ رہے تھے اور ہم سب حیرت سے انھیں دیکھ رہے تھے۔ فلم دیکھنے کے بعد ان کی تسلی ہوئی اور تشکر بھری نظروں سے میری طرف دیکھ کر کہنے لگے:
"مظہر یار، کیا کیا یاد کروا دیا ہے۔۔!"
اس کے بعد فلم سے متعلقہ دیگر واقعات اور شخصیات کے علاوہ انھوں نے مزے لے لے کر بتایا کہ یہ فلم، تقسیم سے قبل کوئٹہ کے ایک سینما میں دیکھی جو انھیں ہمیشہ یاد رہی۔
لطف کی بات یہ تھی کہ پورے خاندان کے لیے اسی دن پہلی بار، "حاجی بابا" بلکہ "الحاج بابا" کی فلم بینی کا راز فاش ہوا تھا۔۔!
Pakistan Film Magazine
Pakistan Film Magazine is the first and largest website of its kind, containing unique information, articles, facts and figures on Pakistani and pre-Partition films, artists and film songs.
It is continuously updated website since May 3, 2000.
is an individual effort to compile and preserve the Pakistan history online.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes and therefor,
I am not responsible for the content of any external site.
پاک میگزین" کا آغاز 1999ء میں ہوا جس کا بنیادی مقصد پاکستان کے بارے میں اہم معلومات اور تاریخی حقائق کو آن لائن محفوظ کرنا ہے۔
یہ تاریخ ساز ویب سائٹ، ایک انفرادی کاوش ہے جو 2002ء سے mazhar.dk کی صورت میں مختلف موضوعات پر معلومات کا ایک گلدستہ ثابت ہوئی تھی۔
اس دوران، 2011ء میں میڈیا کے لیے akhbarat.com اور 2016ء میں فلم کے لیے pakfilms.net کی الگ الگ ویب سائٹس بھی بنائی گئیں
لیکن 23 مارچ 2017ء کو انھیں موجودہ اور مستقل ڈومین pakmag.net میں ضم کیا گیا جس نے "پاک میگزین" کی شکل اختیار کر لی تھی۔






























Anees
Asif Mehdi
Muzaffar Warsi
Bibbo
Emi Menuwala
ChunChun
Deeba
Akmal
Masood Butt
Hasnain
Badal
Farid Ahmad
Khursheed Ullah
Ilyas Rasheedi
Munni Baji








