حروفِ تہجی
ء
ہمزہ (Hamza)، ایک حلقی حرف (Aspirated) ہے جس کا مخرج گلے کا نچلا حصہ ہے جہاں سے "الف" اور "ہ" بھی ادا ہوتے ہیں۔
"ء" کی تاریخ
"ء"، اصل میں ایک علامت ہے جس سے کوئی لفظ شروع نہیں ہوتا۔ فونیشین حروفِ تہجی میں نہیں ہے۔
9ویں صدی میں جب عربی زبان کی لغت اور قواعدوضوابط وضع کیے گیے تو "ہمزہ" کو ایک علامت کے طور پر متعارف کروایا گیا جو "الف" اور "عین" کے مابین ایک "جھٹکے کی آواز" تھی۔
20ویں صدی میں متعارف کروائی گئی جدید عربی کی حروفِ تہجی میں "ء" کو 29ویں حرف کے طور پر شامل کیا گیا۔ جدید عربی زبان میں "الف" ساکن ہو یعنی اس پر کوئی حرکت نہ ہو تو "الف" کہلاتا ہے اور صرف حروفِ علت (vowel) کے طور پر پڑھا جاتا ہے جبکہ اعراب کی صورت میں "ہمزہ" پڑھا جاتا ہے۔ لکھا "الف" ہی جاتا ہے لیکن اس پر ہمزہ کا نشان لگا کر حروفِ صحیحہ (Consonant) بنا لیا جاتا ہے۔
"ء"، اردو/پنجابی (ہمزہ) کا 35واں حرف ہے لیکن عربی اور فارسی کی باقاعدہ حروفِ تہجی میں شامل نہیں ہے۔ ہندی اور انگریزی/رومن میں عام طور پر "ء" کو ایک( ’) Apostrophe کے طور پر لکھا جاتا ہے۔ صوتی اعتبار سے "ء" اردو کا 52واں حرف ہے۔
ہمزہ، الف کا قائمقام
اردو زبان میں ہمزہ (ء) کے بارے میں ہمیشہ سے یہ تنازعہ رہا ہے کہ یہ ایک حرف ہے یا علامت۔ "ڑ، ھ، ں اور ے" کی طرح اس سے بھی کوئی لفظ شروع نہیں ہوتا۔ بظاہر یہ ایک علامت ہے جو "مدہ" کی طرح حروف کو کھینچ کر پڑھنے کے کام آتی ہے جیسے کہ "آؤ"، "آئی" یا "آئے" وغیرہ۔ اس طرح اس کا استعمال، چاروں حروفِ علت یعنی "الف، واؤ، ی اور ے" کے "قائم مقام" کے طور پر کیا جاتا ہے جیسے کہ "مؤدب" کو "موادب"، "گئے" کو "گے اے" یا "قائم" کو "قایم" وغیرہ لکھا جاتا ہے۔
"ء" کی خصوصیات
- علمِ تجوید میں "ء" کو "ہمزہ" پڑھا جائے گا، "ہمزا" نہیں۔ ایک الف کے برابر کھینچ کر اور جھٹکے سے پڑھا جائے گا۔ "ہمزہ" بھی "الف، ح، خ، ع، غ اور ہ" کی طرح ایک "حلقی حرف" ہے۔ اس کو "اقصیٰ حلق" یعنی حلق کے نچلے حصہ سے ادا ہونے والا حرف کہا جاتا ہے۔ یہیں سے "الف" اور "ہ" بھی ادا ہوتے ہیں۔
- علمِ ہجا میں "ء"، ایک حلقی حرف (Aspirated) ہے جو ایک جھٹکے سے پڑھا جاتا ہے۔
- فنِ خطاطی میں "ء"، ایک "فرشی حرف" ہے جو خطِ نستعلیق میں درمیانی دو لائنوں میں لکھا جاتا ہے۔
- "ء" (ہمزہ) کو علمِ ریاضی میں "اعشاریہ" کے علاوہ حساب و کتاب میں وزن کے پرانے پیمانے "چھٹانک" کی علامت کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا تھا۔
تازہ ترین
پاکستان کی تاریخ پر ایک منفرد ویب سائٹ
پاک میگزین ، پاکستان کی سیاسی تاریخ پر ایک منفرد ویب سائٹ ہے جس پر سال بسال اہم ترین تاریخی واقعات کے علاوہ اہم شخصیات پر تاریخی اور مستند معلومات پر مبنی مخصوص صفحات بھی ترتیب دیے گئے ہیں جہاں تحریروتصویر ، گرافک ، نقشہ جات ، ویڈیو ، اعدادوشمار اور دیگر متعلقہ مواد کی صورت میں حقائق کو محفوظ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
2017ء میں شروع ہونے والا یہ عظیم الشان سلسلہ، اپنی تکمیل تک جاری و ساری رہے گا، ان شاءاللہ
-
17-04-1953: خواجہ ناظم الدین برطرف
15-08-1947: پاکستان کی پہلی کابینہ
15-08-1947: جوگندر ناتھ منڈل