حروفِ تہجی
ت
تے (Tay) کا مخرج، زبان کی نوک کے اوپر کے اگلے دونوں دانتوں کی جڑ سے ٹکرانے سے ادا ہوتا ہے۔
"ت" کی تاریخ
قدیم مصری ہیروغلیفی تصاویر میں روٹی یا بریڈ Loaf کو T کی شکل میں پڑھا گیا ہے جبکہ دنیا کے پہلے فونیشین طرزِ تحریر میں "ت"، 22واں اور آخری حرف ہوتا تھا۔ اس کو Taw (تا) کہتے تھے جو دو لکڑیوں کے کراس Mark کی شکل تھی۔ اسی سے رومن/انگلش T بنی جو "ت" اور "ٹ" کے متبادل کے طور پر لکھی جاتی ہے۔
قدیم عربی حروفِ تہجی میں فونیشین اور عبرانی کی طرح "ت"، 22واں اور آخری حرف ہوتا تھا جس کے حسابِ ابجد میں 400 عدد مقرر تھے لیکن بعد میں عربی حروف کو صوتی بنیادوں پر "شمسی ترتیب" پر مرتب کیا گیا اور "ت" تیسرا حرف بن گیا لیکن عدد وہی رہا۔
"ت"، اردو/پنجابی (تے) اور فارسی (تَھ) کا چوتھا اور عربی (تا) کا تیسرا حرف ہے۔ صوتی اعتبار سے اردو کا 7واں حرف ہے جو ہندی زبان کے 16ویں حرف त (تا) کا متبادل ہے۔ فارسی میں "ت" کو "تھ" کے تلفظ سے پڑھا جاتا ہے۔
"ت" کی خصوصیات
- عربی گرامر میں "ت"، ایک مونث اور شمسی حرف ہے جس سے پہلے "ال" کا لام نہیں پڑھا جائے گا جیسے کہ "التّواب" یا "التکاثر" کو بالترتیب "تواب" اور "تکاثر" پڑھا جائے گا۔
- علمِ تجوید میں "ت" کو ایک الف کے برابر کھینچ کر اور "ط" کے برعکس باریک پڑھا جاتا ہے۔
- علمِ ہجا میں "ت" کا شمار دانتوں والے حروف (ت، تھ، د، دھ، ط) میں ہوتا ہے جنھیں "حروفِ سنویہ" یا "حروفِ نطعیہ" (Dental) بھی کہتے ہیں۔
- فنِ خطاطی میں "ت"، ایک "فرشی حرف" ہے جو خطِ نستعلیق میں درمیانی دو لائنوں میں لکھا جاتا ہے۔
- حسابِ ابجد میں "ت"، 22واں حرف (قرشت) ہے جس کے 400 عدد مقرر ہیں۔
- علم الاعداد میں "ت"، ایک "بادی حرف" ہے جس کی تاثیر "پانی"، برج میزان (Libra) اور سیارہ زہرہ (Venus) ہے۔
تھ
تھے (Thay) ، اردو/پنجابی کا چوتھا مرکب اور تیسرا ہائیہ حرف ہے جو صوتی اعتبار سے اردو کا 8واں حرف ہے۔
"تھ"، ہندی حروفِ تہجی میں थ (تھا) کی صورت میں 17واں مفرد حرف ہے۔ اس کا شمار بھی "حروفِ سنویہ" یا "حروفِ نطعیہ" (Dental) میں ہوتا ہے۔
فارسی میں "ت" کو "تھ" کے تلفظ سے ادا کیا جاتا ہے جبکہ عربی زبان کے "ث" کو انگریزی/رومن میں "تھ" Th کے ساتھ لکھا جاتا ہے جو لفظ think میں بولا جاتا ہے۔
سندھی زبان میں "تھ" کو "ت" پر چار نقطے ڈال کر لکھا جاتا ہے لیکن سرائیکی میں "تھ" ہی لکھا جاتا ہے۔
ۃ
ۃ (Gol Tay) یا "تا مربوطہ"، عربی زبان کا ایک مخصوص حرف ہے جو اردو/پنجابی میں بھی مستعمل ہے۔
"گول ۃ"، قرآنِ مجید میں "زکوٰۃ" یا "صلوٰۃ" وغیرہ کی صورت میں آیا ہے۔ تجوید کے اصولوں کے مطابق، "ۃ" کو ملا کر پڑھنا ہو تو پوری "ت" کی آواز سے پڑھا جاتا ہے لیکن وقفہ لینا ہو تو "ۃ" کو صرف "ہ" کی آواز سے پڑھا جاتا ہے۔
"گول ۃ"، عربی زبان میں عام طور پر مؤنث اسماء کی علامت ہے۔ اس سے کوئی لفظ شروع نہیں ہوتا اور ہمیشہ کسی لفظ کے آخر ہی میں آتا ہے۔
"ۃ"، اردو/پنجابی کی باقاعدہ حروفِ تہجی میں شامل نہیں ہے لیکن قرآنِ کریم اور عربی کے مستعار الفاظ میں استعمال ہوتی ہے۔ ماہرین لسانیات نے کوشش کی ہے کہ "زکوٰۃ" کو "زکات" لکھا جائے لیکن کامیابی نہیں ہوئی۔ ویسے بھی قرآنِ حکیم کے الفاظ کو من و عن لکھنا چاہیے اور ان میں کسی قسم کی ترمیم و اضافہ نہیں کرنا چاہیے۔
تازہ ترین
پاکستان کی تاریخ پر ایک منفرد ویب سائٹ
پاک میگزین ، پاکستان کی سیاسی تاریخ پر ایک منفرد ویب سائٹ ہے جس پر سال بسال اہم ترین تاریخی واقعات کے علاوہ اہم شخصیات پر تاریخی اور مستند معلومات پر مبنی مخصوص صفحات بھی ترتیب دیے گئے ہیں جہاں تحریروتصویر ، گرافک ، نقشہ جات ، ویڈیو ، اعدادوشمار اور دیگر متعلقہ مواد کی صورت میں حقائق کو محفوظ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
2017ء میں شروع ہونے والا یہ عظیم الشان سلسلہ، اپنی تکمیل تک جاری و ساری رہے گا، ان شاءاللہ