حروفِ تہجی
ک
کاف (Kaaf) کا تلفظ، زبان کی جڑ اور تالو کے سخت حصہ سے ادا ہوتا ہے جو "ق" کی نسبت نرم یا باریک ہوتا ہے۔
"ک" کی تاریخ
قدیم فونیشین زبان میں 11ویں حرف Kaph کے طور پر ہتھیلی یا Palm of the hand کی شکل میں تھا۔ فارسی میں "کھ" کی آواز ہے۔
قدیم مصری ہیروغلیفی تصاویر میں "ک" کو ایک "ٹوکری یا Basket" سے پڑھا گیا ہے اور اس علامت کو انگریزی کےتین حروف C,K,X کا متبادل سمجھا گیا ہے۔
"ک"، اردو/پنجابی (کاف/کیاف) کا 28واں، فارسی (کھ) کا 25واں، عربی (کاف) کا 22واں اور ہندی کا پہلا حرف कہے۔ صوتی اعتبار سے اردو کا 39ویں حرف ہے۔ انگلش میں عام طور پر K یا C سے لکھا جاتا ہے۔
"ک" کی خصوصیات
- عربی گرامر میں "ک"، ایک مذکر اور قمری حرف ہے، "ال" لکھا جائے گا تو بولا بھی جائے گا جیسے "الکتاب" یا "الکریم" وغیرہ۔
-
علمِ تجوید میں "ک" کو تین الف کے برابر کھینچ کر باریک پڑھتے ہیں۔
"ک" کا تعلق "حروفِ اخفا" یعنی قرآت کے دوران چھپائے جانے والے کل 15 حروف (ت، ث، ج، د، ذ، ز، س، ش، ص، ض، ط، ظ، ف، ق، ک) میں ہوتا ہے۔ - علمِ ہجا میں "ک" کو "ق،کھ،گ اور گھ" کی طرح "حروفِ لہویہ" یا "حروفِ حلقی" (Velar) میں شمار کیا جاتا ہے۔
- فنِ خطاطی میں "ک" کا شمار "فلکی حروف" میں ہوتا ہے جو خطِ نستعلیق میں اوپر کی تین لائنوں میں لکھا جاتا ہے۔
- حسابِ ابجد میں "ک"، 11واں حرف (کلمن) ہے جس کے 20 عدد شمار ہوتے ہیں۔
- علم الاعداد میں یہ ایک "آبی حرف" ہے جس کی تاثیر "پانی"، برج جوزا (Gemini) اور سیارہ عطارد (Mercury) ہے۔
کھ
"کھ" (کھے ، Khay) بھی ہوا کے جھٹکے سے منہ سے نکلنے والی ہائیہ یا ہکاری آوازوں (Aspirated sounds) کا ایک حرف ہے جس کو "ک" اور "ھ" کو ملا کر لکھا جاتا ہے اور "ک" کو موٹا کر کے "کھ" کے تلفظ سے پڑھا جاتا ہے۔
"کھ"، اردو/پنجابی کا 12واں مرکب اور 11واں ہائیہ حرف ہے۔ صوتی اعتبار سے اردو کا 40واں اور ہندی کا دوسرا حرف ख (کھا) ہے۔ انگریزی میں "خ" کی طرح Kh سے لکھا جاتا ہے۔ عربی میں نہیں ملتا لیکن فارسی میں "ک" کو "کھ" پڑھا جاتا ہے جبکہ انگریز بھی K (کے) کو "کھ" ہی پڑھتے ہیں۔
تازہ ترین
پاکستان کی تاریخ پر ایک منفرد ویب سائٹ
پاک میگزین ، پاکستان کی سیاسی تاریخ پر ایک منفرد ویب سائٹ ہے جس پر سال بسال اہم ترین تاریخی واقعات کے علاوہ اہم شخصیات پر تاریخی اور مستند معلومات پر مبنی مخصوص صفحات بھی ترتیب دیے گئے ہیں جہاں تحریروتصویر ، گرافک ، نقشہ جات ، ویڈیو ، اعدادوشمار اور دیگر متعلقہ مواد کی صورت میں حقائق کو محفوظ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
2017ء میں شروع ہونے والا یہ عظیم الشان سلسلہ، اپنی تکمیل تک جاری و ساری رہے گا، ان شاءاللہ
-
17-08-1988: ضیاع مردود کی ہلاکت
22-03-2008: سید یوسف رضا گیلانی
18-07-2021: کالعدم تنظیمیں