حروفِ تہجی
د
دال (Daal) کو زبان کی نوک اور بالائی دانتوں کے پیچھے ہوا روک کر ادا کیا جاتا ہے۔
"د" کی تاریخ
دنیا کے پہلے فونیشین حروفِ تہجی میں "د" کو Daleth یعنی"دروازہ" (Door) کہتے تھے جو قدیم مصری ہیروغلیفی تصاویر میں ایک ہاتھ Hand کی صورت میں پڑھا گیا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ حروفِ ہجا کے ان پہلے چار حروف "الف، بے، جیم، دال" (ابجد) میں آج سے ساڑھے تین ہزار سال پہلے کے اس دور کی انسانی تہذیب و تمدن کی ایک جھلک نظر آتی ہے۔ "الف" سے "بیل"، "ب" سے "گھر"، "ج" سے اونٹ اور "د" سے "دروازہ" جیسی بنیادی ضروریات کی علامات سامنے آتی ہیں۔ یونانی، لاطینی اور روسی حروفِ تہجی میں کم و بیش یہی ترتیب ملتی ہے مثلاً "A,B,C,D" وغیرہ۔
"د" کا استعمال
"د"، اردو/پنجابی (دال) کا 11واں، فارسی (دے) کا 10واں اورعربی (دآل) کا 8واں کا حرف ہے۔ صوتی اعتبار سے اردو کا 18واں حرف ہے جو اتفاق سے ہندی کا بھی 18واں مفرد حرف द (دا) ہے۔ انگلش/رومن میں "د" کی آواز کو چوتھے حرف D (ڈی) سے لکھا جاتا ہے جبکہ دال کا قریب ترین تلفظ The میں ملتا ہے۔
سندھی زبان میں "د" کے دو حروف ہیں، ایک "دال" کو عام "د" کی طرح اور دوسری "دال" کو دو نقطوں کے ساتھ لکھا جاتا ہے جو شاید پنجابی زبان کے مخصوص تلفظ "ت" اور "دھ" کی درمیانی آواز کا متبادل ہے، سرائیکی میں البتہ نہیں ہے جہاں "د" سے زیادہ "ڈ" پر زور ہوتا ہے۔
"د" کی خصوصیات
- عربی گرامر میں "د"، ایک مونث اور شمسی حرف ہے جس سے پہلے "ال" لکھا تو جائے گا مگر پڑھا نہیں جائے گا جیسے کہ "الدخان" یا "الدہر" کو بالترتیب "دخان" اور "دہر" پڑھا جائے گا۔
-
علمِ تجوید میں خالی "د" کے حرف کو "دآل" لکھا جاتا ہے اور تین الف کے برابر کھینچ کر "ض" کے برعکس باریک پڑھا جاتا ہے۔
"د" کا تعلق "حروفِ اخفا" کے کل 15 حروف (ت، ث، ج، د، ذ، ز، س، ش، ص، ض، ط، ظ، ف، ق، ک) میں ہوتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ نون ساکن یاتنوین کو چھپا کر پڑھا جائے گا جب "حروفِ اخفا" میں سے کوئی ایک حرف بھی آئے گا۔
"د" کا تعلق، "حروفِ قلقلہ" کے 5 حروف (ب، ج، د، ط، ق) سے بھی ہے جو قرآت کے دوران ساکن ہوں تو انھیں سختی کے ساتھ جنبش دے کر یا ہلا کر پڑھا جاتا ہے۔ - علمِ ہجا میں "د" کو "دالِ معجمہ" اور "دالِ غیر منقوطہ" بھی کہتے ہیں۔ یہ دانتوں والا یعنی "دندانی یا اسنانی حرف" ہے جس کو "حروفِ نطعیہ" یا "حروفِ سنویہ" (Dentals) بھی کہتے ہیں۔
- فنِ خطاطی میں "د"، ایک "فرشی حرف" ہے جو خطِ نستعلیق میں درمیانی دو لائنوں میں لکھا جاتا ہے۔
- حسابِ ابجد میں "د"، چوتھا حرف (ابجد) ہے جس کا عدد 4 مقرر ہے۔
- علم الاعداد میں "د"، ایک "خاکی حرف" ہے جس کی تاثیر "مٹی"، برج ثور (Taurus) اور سیارہ مشتری (Jupiter) ہے۔
دھ
دھے (Dhay)، "د" کی آواز کو موٹا کر دیتا ہے جیسے کہ "دار" کو "دھار" وغیرہ میں۔ یہاں "دھار" کو "دہار" نہیں لکھا جا سکتا یعنی "ہ" کی بجائے دو چشمی ہے" ھ" کا استعمال لازم ہے جو ایسے "ہائیہ حروف" میں لازمی ہوتی ہے۔
"دھ" کی خصوصیات
"دھ"، اردو/پنجابی (دھ) کا 8واں مرکب اور 7واں ہائیہ حرف ہے جو صوتی اعتبار سے اردو کا 19واں حرف ہے۔ یہ ہندی ورن مالا (حروفِ تہجی) کا بھی 19واں مفرد حرف ध (دھا) ہے جو انگریزی/رومن میں Dh سے لکھا جاتا ہے۔ سندھی زبان میں "دھ" کو "دال" پر تین نقطے ڈال کر لکھا جاتا ہے۔
پنجابی زبان میں "دھ" کا تلفظ
"دھ" کے پنجابی زبان کے تلفظ کو "بھ" اور "جھ" کی طرح کسی رسم الخط میں نہیں لکھا جا سکتا۔ پنجابی زبان میں الفاظ کے شروع میں "ت" اور "دھ" کی درمیانی آواز ہے جبکہ الفاظ کے درمیان اور آخر میں اردو/ہندی کی طرح کی آواز ہوتی ہے جیسے کہ "دھوتی"، "ودھیا" یا "سدھ" وغیرہ۔
تازہ ترین
پاکستان کی تاریخ پر ایک منفرد ویب سائٹ
پاک میگزین ، پاکستان کی سیاسی تاریخ پر ایک منفرد ویب سائٹ ہے جس پر سال بسال اہم ترین تاریخی واقعات کے علاوہ اہم شخصیات پر تاریخی اور مستند معلومات پر مبنی مخصوص صفحات بھی ترتیب دیے گئے ہیں جہاں تحریروتصویر ، گرافک ، نقشہ جات ، ویڈیو ، اعدادوشمار اور دیگر متعلقہ مواد کی صورت میں حقائق کو محفوظ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
2017ء میں شروع ہونے والا یہ عظیم الشان سلسلہ، اپنی تکمیل تک جاری و ساری رہے گا، ان شاءاللہ
-
19-09-1960: سندھ طاس معاہدہ
03-11-1970: مشرقی پاکستان میں قیامت خیز طوفان
01-09-1947: سات ہزار سرکاری ملازمین کی پاکستان آمد