حروفِ تہجی
غ
غین ( Ghain) کا مخرج، حلق کے اوپری حصہ میں تالو سے ٹکراتے ہوئے ادا ہوتا ہے۔
"غ کی تاریخ
"غ"، دنیا کی پہلی حروفِ تہجی، فونیشین زبان کے 22 حروف میں شامل نہیں تھا، یہ بھی عربی زبان کا مخصوص حرف اور تلفظ ہے جو گلے پر زور دے کر بولا جاتا ہے۔
حروفِ تہجی کی ترتیب میں "غ"، اردو/پنجابی (غین) کا 25واں، فارسی (غین) کا 22واں اور عربی (غین) کا 19واں حرف ہے۔ صوتی اعتبار سے اردو کا 35واں حرف ہے۔ ہندی میں "گ" یا ग़ کے نیچے ڈاٹ، نقطہ یا بندی لگا کر لکھا جاتا ہے۔ انگریزی میں بھی نہیں لیکن Gh سے لکھا جاتا ہے۔
"غ کی خصوصیات
- عربی گرامر میں "غ"، ایک مذکر اور قمری حرف ہے، "ال" لکھا جائے گا تو پڑھا بھی جائے گا جیسے کہ "الغفار" یا "الغفور" وغیرہ۔
- علمِ تجوید میں "غ" کے حرف کو تین الف کے برابر کھینچ کر ہمیشہ موٹا پڑھا جاتا ہے۔ یہ "خ" کی طرح "ادنی حلق" یعنی حلق کے اوپر والے حصہ سے ادا ہوتا ہے۔ یہ "حروفِ مستعلیہ" یعنی ہمیشہ موٹا پڑھے جانے والے 7 حروف (خ، ص، ض، ط، ظ، غ، ق) میں سے ایک ہے۔
- علمِ ہجا میں "غ" کو "غین معجمہ" یا "غین منقوطہ" بھی کہتے ہیں جس کا تعلق "حروفِ حلقیہ" یا "حروفِ امتصاصی" (Aspirated) سے ہے۔
- فنِ خطاطی میں "غ"، ایک "اصلی حرف" ہے جو خطِ نستعلیق میں چاروں لائنوں میں لکھا جاتا ہے۔
- حسابِ ابجد کی رو سے "غ"، 28واں حرف (ضظغ) ہے جس کے سب سے زیادہ یعنی 1000 عدد شمار ہوتے ہیں۔
- علم الاعداد کے مطابق "غ"، کو ایک "خاکی حرف" شمار کیا گیا ہے جس کی تاثیر "مٹی"، برج سنبلہ (Virgo) اور سیارہ عطارد (Mercury) ہے۔
تازہ ترین
پاکستان کی تاریخ پر ایک منفرد ویب سائٹ
پاک میگزین ، پاکستان کی سیاسی تاریخ پر ایک منفرد ویب سائٹ ہے جس پر سال بسال اہم ترین تاریخی واقعات کے علاوہ اہم شخصیات پر تاریخی اور مستند معلومات پر مبنی مخصوص صفحات بھی ترتیب دیے گئے ہیں جہاں تحریروتصویر ، گرافک ، نقشہ جات ، ویڈیو ، اعدادوشمار اور دیگر متعلقہ مواد کی صورت میں حقائق کو محفوظ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
2017ء میں شروع ہونے والا یہ عظیم الشان سلسلہ، اپنی تکمیل تک جاری و ساری رہے گا، ان شاءاللہ
-
09-07-1948: ڈاک ٹکٹ
23-03-1978: بھٹو کی وصیت
14-12-1971: جنگ بندی کی قرارداد پر روسی ویٹو