حروفِ تہجی
و
واؤ (Vao) کا مخرج، اردو اور عربی میں مختلف ہے۔۔!
"و" کا تلفظ V یا W؟
"و" کا عربی زبان میں تلفظ، انگلش کے W کی طرح ہونٹوں کی گولائی سے ادا ہوتا ہےلیکن فارسی/اردو/ہندی میں انگلش کے حرف V کی طرح اوپری دانتوں کے نچلے ہونٹوں کے تری کے حصہ سے ٹکرانے سے ادا ہوتا ہے۔
عربی زبان کی متعدد بولیوں میں "ف" پر تین نقطے ڈال کر V کی آواز بنائی جاتی ہے۔
"و" کی تاریخ
فونیشین زبان میں "و" کو Waw کی صورت میں ایک کھونٹی یا ہک (Hook) کی طرح سے لکھا جاتا تھا جس کا اپنی ترتیب کے لحاظ سے چھٹا نمبر اور 6 ہی کا عدد مقرر تھا۔
مصری ہیروغلیفی تصاویر میں "و" کو V کی صورت میں "سانپ" (Viper) اور W کی صورت میں ایک "چوزے" (Chick) کی شکل میں پڑھا گیا ہے۔
"و"، اردو/پنجابی (واؤ/وا) کا 33واں، فارسی (وے) کا 30واں، عربی (واؤ) کا 26واں اور ہندی کا 29واںحرف व (وا) ہے۔ صوتی اعتبار سے اردو کا 50واں حرف ہے۔ انگریزی میں V,W,O کے حروف"و" کا متبادل ہیں۔
"و"، عربی، فارسی اور اردو کے حروفِ علت (long vowels) میں بھی شمار ہوتا ہے۔ بعض حلقے "وھ" کو بھی ایک الگ ہائیہ حرف مانتے ہیں اور اس کی مثال "وھیل" مچھلی کی دیتے ہیں۔
"و" کی خصوصیات
- عربی گرامر میں "و"، مذکر اور مونث بھی ہے اور ایک قمری حرف ہے، "ال" لکھا جائے گا تو پڑھا بھی جائے گا جیسے "الواحد" یا "الواسع" وغیرہ۔
- علمِ تجوید میں "و" کو تین الف کے برابر کھینچ کر اور باریک پڑھتے ہیں۔ یہ بھی "ر، ل، م، ن اور ی" کی طرح ایک "یرملون حرف" ہے یعنی جب "نون ساکن یا نون تنوین" کے بعد ایسے حروف آئیں تو وہاں ادغام ہوتا ہے۔
- علمِ ہجا میں "و" کو "ب، بھ، پ، پھ، ف اور م" کی طرح "حروفِ شفویہ" (Labial) یعنی "ہونٹوں کے حروف" کہتے ہیں۔
- فنِ خطاطی میں "و"، ایک "فرشی حرف" ہے جو خطِ نستعلیق میں درمیانی دو لائنوں میں لکھا جاتا ہے۔
- حسابِ ابجد میں "و"، چھٹا حرف (ہوز) ہے جس کے 6 عدد شمار ہوتے ہیں۔
- علم الاعداد میں "و"، ایک "بادی حرف" ہے جس کی تاثیر "ہوا" اور برج حوت (Pisces) ہے۔
تازہ ترین
پاکستان کی تاریخ پر ایک منفرد ویب سائٹ
پاک میگزین ، پاکستان کی سیاسی تاریخ پر ایک منفرد ویب سائٹ ہے جس پر سال بسال اہم ترین تاریخی واقعات کے علاوہ اہم شخصیات پر تاریخی اور مستند معلومات پر مبنی مخصوص صفحات بھی ترتیب دیے گئے ہیں جہاں تحریروتصویر ، گرافک ، نقشہ جات ، ویڈیو ، اعدادوشمار اور دیگر متعلقہ مواد کی صورت میں حقائق کو محفوظ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
2017ء میں شروع ہونے والا یہ عظیم الشان سلسلہ، اپنی تکمیل تک جاری و ساری رہے گا، ان شاءاللہ
-
24-10-1947: آزاد کشمیر حکومت کا قیام
16-08-1947: صوبہ پنجاب
29-01-1982: جنرل ضیاع پر قاتلانہ حملے