حروفِ تہجی
ر
رے (Ray) کو زبان کے کنارے اور اوپر کے دانتوں کی جڑ سے ٹکرانے سے ادا کیا جاتا ہے۔
"ر" کی تاریخ
"ر" کو دنیا کے پہلے فونیشین طرزِ تحریر میں 20ویں حرف Resh کے طور پر انسانی سر یعنی Head کی علامت کے طور پر لکھا جاتا تھا۔ قدیم مصری ہیروغلیفی تصاویر میں "منہ یا mouth" کو اس کا متبادل سمجھا گیا ہے۔
"ر"، اردو/پنجابی (رے) کا 14واں، فارسی (رے) کا 12واں اور عربی (را) کا 10واں حرف ہے۔ صوتی اعتبار سے اردو کا 23واں حرف ہے جو ہندی کا 27واں حرف र (را) ہے اور نیم حروفِ علت میں شامل کیا جاتا ہے۔ انگلش زبان کے 18ویں حرف R (آر) کا متبادل ہے۔
"ر" کی خصوصیات
- عربی گرامر میں "ر"، ایک مونث اور شمسی حرف ہے، آغاز میں "ال" لکھا ہوگا تو لام پڑھا نہیں جائے گا اور اگلا حرف مشدد ہوجائے گا جیسے کہ "الرحمٰن" کو "اررحمٰن" (Ar-Rahman) پڑھا جائےگا ۔
-
علمِ تجوید میں "ر" کو ایک الف کے برابر کھینچ کر موٹا پڑھا جاتا ہے اور ادائیگی کے وقت لبوں کو گول نہیں ہونا چاہیے۔ تلاوتِ قرآنِ پاک میں جب "ر" پر زبر یا پیش ہو تو موٹا اور پُر کر کے پڑھا جاتا ہے جبکہ زیر کی صورت میں باریک پڑھا جاتا ہے۔
"ر" کا تعلق "حروفِ یرملون " (ر، ل، م، و اور ی) سے ہے یعنی جب "نون ساکن یا نون تنوین" کے بعد ایسے حروف آئیں تو وہاں ادغام ہوتا ہے۔ - علمِ ہجا میں "ر" کو "رائے مہملہ" اور "رائے غیر منقوطہ" بھی کہلاتا ہے۔ یہ زبان کی گول کروٹ والے حروف "ل" اور "ن" کی طرح "حروفِ طرفیہ" (Retroflex) یا "حروفِ حنکی" (Palatal) میں شمار ہوتی ہے۔
- فنِ خطاطی میں "ر" ایک "فرشی حرف" ہے جو خطِ نستعلیق میں دو درمیانی لائنوں میں لکھا جاتا ہے۔
- حسابِ ابجد میں "ر"، 20واں حرف (قرشت) ہے جس کے 200 عدد مقرر ہیں۔
- علم الاعداد کے مطابق "ر"، ایک "خاکی حرف" ہے جس کی تاثیر "ہوا"، برج عقرب (Scorpio) اور سیارہ زہرہ (Venus) ہے۔
رھ
رھے (Rhay) ، کو "ر" کی آواز کو موٹا کرنے کے لیے لکھا جاتا ہے جیسے کہ عام طور پر "گیارھویں"یا "بارھویں" وغیرہ لکھنے کے لیے "رھ" کا استعمال ہوتا ہے لیکن مثلاً"رہا" کو "رھا" نہیں لکھا جا سکتا۔ ویسے "ر" اور "رھ" کی آوازوں میں کوئی خاص فرق سنائی نہیں دیتا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ "رھ"، اردو/پنجابی کا 10واں مرکب اور 9واں ہائیہ حرف ہے جو صوتی اعتبار سے اردو کا 24واں حرف ہے لیکن ہندی زبان میں نہیں پایا جاتا۔ اس طرح سے یہ اردو/پنجابی کا اپنا خالص حرف ہے جس کو انگلش/رومن میں Rh سے لکھا جائے گا۔
تازہ ترین
پاکستان کی تاریخ پر ایک منفرد ویب سائٹ
پاک میگزین ، پاکستان کی سیاسی تاریخ پر ایک منفرد ویب سائٹ ہے جس پر سال بسال اہم ترین تاریخی واقعات کے علاوہ اہم شخصیات پر تاریخی اور مستند معلومات پر مبنی مخصوص صفحات بھی ترتیب دیے گئے ہیں جہاں تحریروتصویر ، گرافک ، نقشہ جات ، ویڈیو ، اعدادوشمار اور دیگر متعلقہ مواد کی صورت میں حقائق کو محفوظ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
2017ء میں شروع ہونے والا یہ عظیم الشان سلسلہ، اپنی تکمیل تک جاری و ساری رہے گا، ان شاءاللہ
-
03-05-1950: لیاقت علی خان کا دورہ امریکہ
08-09-1985: آٹھویں آئینی ترمیم: صدر کے آمرانہ اختیارات
23-11-1967: منگلا ڈیم