حروفِ تہجی
س
سین (Seen) کو زبان کی نوک اور اوپر کے دانتوں کے اندرونی کنارے سے ادا کیا جاتا ہے۔
"س" کی تاریخ
قدیم فونیشین طرزِ تحریر میں "س"، 15ویں حرف Samekh کے طور پر ڈھکن Prop کی علامت ہوتا تھا جبکہ قدیم مصری ہیروغلیفی تصاویر میں یہ کپڑے cloth کی علامت تھی۔
"س"، اردو/پنجابی (سین) کا 18واں، فارسی (سے) کا 15واں، عربی (سین) کا 11واں، اور ہندی کا 32واں حرف स (سا) ہے۔ صوتی اعتبار سے اردو کا 29واں حرف ہے جس کا ہم آواز انگلش میں 19واں حرف S ہے۔
"س" کی خصوصیات
- عربی گرامر میں "س"، ایک مذکر اور شمسی حرف ہے، "ال" لکھا جائے گا لیکن لام پڑھا نہیں جائے گا، جیسے کہ "السلام" کو "اسّلام" (As-Salaam) کے طور پر پڑھا جائے گا۔
-
علمِ تجوید میں "س" کو تین الف کے برابر کھینچ کر "ص" کی نسبت باریک اور ناک سے بچا کر صرف منہ سے پڑھا جاتا ہے۔
"س" کو "ز اور ص" کی طرح "حروفِ صفیریہ" میں شمار کیا جاتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ان حروف کی ادائیگی کے وقت منہ سے سیٹی کی آواز نکلنی چاہیے۔
"س" کا تعلق بھی "حروفِ اخفا" یعنی قرآت کے دوران چھپائے جانے والے کل 15 حروف (ت، ث، ج، د، ذ، ز، س، ش، ص، ض، ط، ظ، ف، ق، ک) میں ہوتا ہے۔
تلاوتِ قرآنِ پاک کے دوران آیات کے درمیان "س" کی علامت آجائے تو وہاں سانس روک کر ہلکا سا وقفہ کرنا ہوتا ہے۔ - علمِ ہجا میں "س" کو "حروفِ صفیریہ" اور "حروفِ سنویہ امتصاصی" (Dental aspirated) کہتے ہیں۔
- فنِ خطاطی میں "س" کا شمار "اصلی حروف" میں ہوتا ہے جو خطِ نستعلیق میں چاروں لائنوں میں لکھا جاتا ہے۔
- حسابِ ابجد میں "س"، 15واں حرف (سعفص) ہے جس کے 60 عدد مقرر ہیں۔
- علم الاعداد میں "س"، ایک "آبی حرف" ہے جس کی تاثیر پانی، برج دلو (Aquarius) اور سیارہ زحل (Saturn) ہے۔
تازہ ترین
پاکستان کی تاریخ پر ایک منفرد ویب سائٹ
پاک میگزین ، پاکستان کی سیاسی تاریخ پر ایک منفرد ویب سائٹ ہے جس پر سال بسال اہم ترین تاریخی واقعات کے علاوہ اہم شخصیات پر تاریخی اور مستند معلومات پر مبنی مخصوص صفحات بھی ترتیب دیے گئے ہیں جہاں تحریروتصویر ، گرافک ، نقشہ جات ، ویڈیو ، اعدادوشمار اور دیگر متعلقہ مواد کی صورت میں حقائق کو محفوظ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
2017ء میں شروع ہونے والا یہ عظیم الشان سلسلہ، اپنی تکمیل تک جاری و ساری رہے گا، ان شاءاللہ
-
21-03-1971: مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن
07-01-2002: جسٹس بشیر جہانگیر
10-01-1966: معاہدہ تاشقند