حروفِ تہجی
گ
گاف (گ، Gaaf) کو بھی "کاف" کی طرح حلق کے قریب سے زبان کی جڑ اور تالو کے سخت حصہ سے ادا کیا جاتا ہے۔
"گ" کی تاریخ
قدیم مصری ہیروغلیفی تصاویر میں "گ" کو ایک چبوترے Stand کی صورت میں دکھایا گیا ہے لیکن فونیشین اور عبرانی زبانوں میں گاف کی آواز نہیں تھی۔ اس کی جگہ جیم کو ایک اونٹ یا جمل Camel کی شکل میں لکھا جاتا تھا۔ یونانی زبان میں اس حرف کو "گاما" کی صورت میں شامل کیا گیا لیکن لاطین/رومن زبان میں جیم کی آواز نہیں تھی جو G کی بجائے C سے بدل گئی تھی۔
"گ"، اردو/پنجابی (گاف) کا 29واں، فارسی (گے) کا 26واں اور ہندی کا تیسرا حرف ग (گا) ہے۔ "گ"، انگریزی کے 7ویں حرف G کی آواز دیتا ہے جب عام طور پر اس کو a,o,u کے حروفِ علت (vowels) سے لکھا جاتا ہے۔
عربی میں "گ"؟
قرآن کریم کی روایتی عربی زبان کے علاوہ جدید معیاری عربی میں بھی "گ" کا حرف نہیں ملتا مگر مصری عربی میں "ج" کو اور لیبیا کی عربی میں "ق" کو "گ" پڑھا جاتا ہے۔ ان کے علاوہ "مغربی عربی" یعنی شمال مغربی افریقہ کے ممالک میں الجزائر کی عربی میں "ق" پر اور مراکش اور تیونس کی عربی میں "ک" پر تین نقطے ڈال کر "گ" کی آواز بنائی جاتی ہے۔
"گ" کی خصوصیات
- علمِ ہجا کے مطابق "گ" کو "کافِ عجمی" یا "کافِ فارسی" بھی کہتے ہیں۔ جو "ک،کھ اور گھ" کی طرح "حروفِ لہویہ" یا "حروفِ حلقی" (Velar) میں شامل ہے۔
- فنِ خطاطی میں "گ" کا شمار "فلکی حروف" میں ہوتا ہے جو خطِ نستعلیق میں اوپر کی تین لائنوں میں لکھا جاتا ہے۔
گھ
گھے (Khay) بھی ہوا کے جھٹکے سے منہ سے نکلنے والی ہائیہ یا ہکاری آوازوں (Aspirated sounds) کا ایک حرف ہے جس کو "گ" اور "ھ" کو ملا کر لکھا جاتا ہے اور "گ" کو موٹا کر کے "گھ" کے تلفظ سے پڑھا جاتا ہے۔
"گھ"، اردو/پنجابی کا 14واں مرکب اور 12واں ہائیہ حرف ہے۔ صوتی اعتبار سے اردو کا 42واں اور ہندی کا چوتھا حرف घ (گھا) ہے۔ انگریزی میں "غ" کی طرح Gh سے لکھا جاتا ہے۔ عربی اور فارسی میں نہیں ملتا۔
"گھ" کا پنجابی تلفظ
پنجابی زبان میں "بھ"، "جھ"، "دھ" اور "ڈھ" کی طرح "گھ" کا تلفظ بھی دو طرح سے ہوتا ہے۔ "گھ" کی شروع میں "ک" اور "گھ" کی درمیانی آواز ہے جیسے کہ "گھوڑا یا گھار (گھر)" وغیرہ میں اور درمیان یا آخر میں اردو/ہندی کی طرح سے ہوتا ہے جیسے کہ "کگھرا یا کنگھا" وغیرہ میں۔
تازہ ترین
پاکستان کی تاریخ پر ایک منفرد ویب سائٹ
پاک میگزین ، پاکستان کی سیاسی تاریخ پر ایک منفرد ویب سائٹ ہے جس پر سال بسال اہم ترین تاریخی واقعات کے علاوہ اہم شخصیات پر تاریخی اور مستند معلومات پر مبنی مخصوص صفحات بھی ترتیب دیے گئے ہیں جہاں تحریروتصویر ، گرافک ، نقشہ جات ، ویڈیو ، اعدادوشمار اور دیگر متعلقہ مواد کی صورت میں حقائق کو محفوظ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
2017ء میں شروع ہونے والا یہ عظیم الشان سلسلہ، اپنی تکمیل تک جاری و ساری رہے گا، ان شاءاللہ
-
30-10-1975: نیپ (نیشنل عوامی پارٹی) پر پابندی
30-05-1977: آمر جنرل ضیا کا ایک انٹرویو
29-06-1954: جسٹس محمد منیر