حروفِ تہجی
خ
خے (Khay) کا مخرج "غ" کی طرح حلق کے اوپر کا حصہ ہے جو منہ کے قریب ہوتا ہے۔
"خ" کی تاریخ
"خ"، عربی زبان کے چھ اضافی حروف (ث، خ، ذ، ض، ظ، غ) میں سے دوسرا حرف ہے جو دنیا کی پہلی فونیشین حروفِ تہجی کے 22 حروف میں شامل نہیں تھا۔ عبرانی زبان نے 18ویں صدی میں عربی زبان سے مستعار لیے گئے الفاظ سے اس حرف کو اپنایا تھا۔
"خ"، اردو/پنجابی (خے) کا 10واں، فارسی (خا) کا 9واں اور عربی (خا) کا 7واں حرف ہے۔ صوتی اعتبار سے اردو کا 17واں حرف ہے۔
ہندی زبان میں بھی "خ" کا حرف اور تلفظ نہیں ہے لیکن اردو دان طبقہ کے لیے "کھ" کے نیچے ایک نقطہ لگا کر ख़े (خا) بنا لیا جاتا ہے۔ انگریزی/رومن میں بھی "خ" اور "کھ" کو Kh سے لکھا جاتا ہے۔
"خ" کی خصوصیات
- عربی گرامر میں "خ"، ایک مونث اور قمری حرف ہے جس سے پہلے "ال" لکھا ہوا پڑھا بھی جائے گا جیسے کہ "الخالق" یا "الخبیر" وغیرہ۔
-
علمِ تجوید میں "خ" کے حرف کو ایک الف کے برابر کھینچ کر موٹا پڑھا جاتا ہے اور ہونٹوں کو گول نہیں کیا جاتا۔
"خ"، "غ" کی طرح "ادنی حلق" یعنی حلق کے اوپر والے حصہ سے ادا ہوتا ہے۔ یہ "حروفِ مستعلیہ" یعنی ہمیشہ موٹا پڑھے جانے والے 7 حروف (خ، ص، ض، ط، ظ، غ، ق) میں سے ایک ہے۔ - علمِ ہجا میں "خ" کو "خائے معجمہ" اور "خائے منقوطہ" بھی کہتے ہیں۔ اس کا تعلق "حروفِ حلقی" (Velar) سے ہے۔
- فنِ خطاطی میں "خ"، ایک "اصلی حرف" ہے جو خطِ نستعلیق میں چاروں لائنوں میں لکھا جاتا ہے۔
- حسابِ ابجد میں "خ"، 24واں حروف (ثخذ) ہے جس کے 600 عدد مقرر ہیں۔
- علم الاعداد میں "خ"، ایک "خاکی حرف" ہے جس کی تاثیر "مٹی"، برج جدی (Capricorn) اور سیارہ زحل (Saturn) ہے۔
تازہ ترین
پاکستان کی تاریخ پر ایک منفرد ویب سائٹ
پاک میگزین ، پاکستان کی سیاسی تاریخ پر ایک منفرد ویب سائٹ ہے جس پر سال بسال اہم ترین تاریخی واقعات کے علاوہ اہم شخصیات پر تاریخی اور مستند معلومات پر مبنی مخصوص صفحات بھی ترتیب دیے گئے ہیں جہاں تحریروتصویر ، گرافک ، نقشہ جات ، ویڈیو ، اعدادوشمار اور دیگر متعلقہ مواد کی صورت میں حقائق کو محفوظ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
2017ء میں شروع ہونے والا یہ عظیم الشان سلسلہ، اپنی تکمیل تک جاری و ساری رہے گا، ان شاءاللہ
-
22-11-1954: محمد علی بوگرا فارمولا
03-02-1997: 1997ء کے عام انتخابات
29-07-1981: چوتھی مردم شماری