PAK Magazine | An Urdu website on the Pakistan history
Friday, 04 April 2025, Day: 94, Week: 14

PAK Magazine |  پاک میگزین پر تاریخِ پاکستان ، ایک منفرد انداز میں


حروفِ تہجی


ا

الف (Alif)، دنیا کی بیشتر زبانوں کا پہلا حرف ہے جن میں عربی اور فارسی کے علاوہ پاکستان کی سبھی بڑی زبانیں یعنی اردو، پنجابی، سندھی، پشتو، بلوچی، بروہی، بلتی، شینا، کشمیری اور ہندکو وغیرہ شامل ہیں۔سرائیکی میں البتہ "الف" کو "آ" کے بعد دوسرا مقام حاصل ہے۔

"الف" کا تلفظ

"الف" کی آواز پھیپھڑوں سے ایک ہوا کی لہر کی طرح سے نکلتی ہے جو بلا رکاوٹ انسانی دہن یا کھلے منہ سے ادا ہو جاتی ہے۔ علمِ لسانیات میں اس کو "جوفِ دہن" (Vowels) کہتے ہیں یعنی منہ کے اندرکے خالی حصہ سے ادا ہونے والا حرف۔

"الف" کی تاریخ

"الف" کا ماخذ قدیم مصری زبان کا لفظ "آدا" ہے جس کے معنی "بیل" (Ox) کے ہیں۔

پانچ ہزار سالہ قدیم، دنیا کے پہلے مصری "ہیروغلیفی" (Hieroglyphics) تصاویری رسم الخط میں "الف" کی علامت کو ایک گدھ Vulture کی صورت میں پڑھا گیا ہے۔ یہ باقاعدہ حروفِ تہجی نہیں بلکہ صرف علامات ہوتی تھیں اور عام طور پر خوبصورت نقش و نگار کی صورت میں دیواروں پر کنندہ کی جاتی تھیں۔ موجودہ چینی اور جاپانی رسم الخط، انھی علامات کی ترقی یافتہ شکل ہے۔

اب تک کی تحقیق کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ میں بحیرہ روم کے کنارے آباد ملک لبنان میں ساڑھے تین ہزار سال قبل، دنیا کے پہلے حروفِ تہجی، "فونیشین رسم الخط" کا پہلا حرف "الپ"، ایک بیل (Ox) کے سر کی علامت کے طور پر سامنے آیا۔ وقت کے ساتھ Alep آج کے رومن حروفِ تہجی میں " A" بن گیا یعنی سر اوپر اور سینگ نیچے ہو گئے۔

"الف" کی اہمیت

جب روزمرہ امور کی انجام دہی کے لیے تیل، گیس اور بجلی جیسی بنیادی ضروریات میسر نہیں ہوتی تھیں تو انسانی معاشرت کے لیے ایک بیل (Ox)، طاقت و توانائی کا منبع ہوتا تھا جس سے بنیادی انسانی ضروریا ت کی تکمیل کے لیے کھیتی بھاڑی، مال برداری اور نقل وحمل جیسے دیگر اہم ترین کام لیے جاتے تھے اور غالباً بیل کی یہی قدروقیمت پہلے حرف "الف" (Alep) کی علامت کی وجہ بنی تھی۔

یہودیوں کی مقدس زبان عبرانی کے Aleph (א) کے علاوہ یونانی، رومی/لاطینی اور روسی زبانوں میں بھی A یا "الف" ہی پہلا حرف ہے۔ یونانی زبان کے پہلے دو حروف "الفا اور بیٹا" (AB) ہی سے Alphabet کی اصطلاح ایجاد ہوئی جو آج کل دنیا میں سب سے زیادہ مستعمل طرزِ تحریر ہے۔

علمِ لسانیات میں "الفابیٹ" اس طرزِ تحریر کو کہتے ہیں کہ جس میں حروفِ علت یا مصوت (Vowels) لازمی لکھے جائیں جیسے کہ انگلش اور دیگر رومن زبانیں ہیں جبکہ عربی اور اردو وغیرہ کو "ابجد" کہا جاتا ہے کیونکہ ان کے طرزِ تحریر میں مصوتے نہیں لکھے جاتے۔

برصغیر پاک و ہند میں "الف"

پاکستان کی سبھی زبانوں کے لیے عربی طرزِ تحریر استعمال ہوتا ہے جو اہلِ فارس نے متعارف کروایا تھا۔ تقریباً سبھی زبانوں میں "الف" ہی پہلا حرف ہے۔ البتہ پنجابی زبان کی ایک بولی، سرائیکی کو جب 1970 کی دھائی میں ایک الگ زبان کا درجہ دیا گیا تو جو حروف تہجی ترتیب دی گئی، وہ سندھی زبان سے متاثر تھی لیکن اس میں "الف" کی جگہ "الف مدہ" کو پہلا حرف قرار دیا گیا ہے جو سراسر خلافِ عقل ہے کیونکہ "الف" کو دو الف لکھیں تو "آ" بنتا ہے، جو کسی طور بھی ایک الف سے پہلے نہیں آسکتا۔

برصغیر پاک و ہند کی " سنسکرت یا برہمنی زبانوں" میں حروفِ علت/مصوت (Vowels) کے طور پر بھی "الف"، پہلا حرف ہے جو ہندی زبان میں مختلف طریقوں سے لکھا جاتا ہے مثلاً " الف اور زبر" کے ساتھ अ، " چھوٹی یے اور زیر" کے ساتھ इ، " واؤ اور پیش" کے ساتھ उ اور "اے" کے ساتھ ए لکھا جاتا ہے۔ ان حروف کو انگریزی یا رومن میں بالترتیب اے (A)، آئی (I) ، یو (U) اور ای (E) سے لکھا جاتا ہے جنھیں "اِعراب" یا short vowels بھی کہا جاتا ہے۔

"الف" کے معانی

"الف"، کو علامتی طور پر ایک خدائے واحد، وحدہ لاشریک "اللہ" جل شانہ سے تشبیع دی جاتی ہے جس کو ایک سیدھی لکیر کی صورت میں اوپر سے نیچے یا آسمان سے زمین تک پیش کیا گیاہے۔ صوتی طور پر بھی جب دونوں لب اوپر نیچے کھلتے ہیں تو "الف" کی آواز نکلتی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ عربی زبان میں حروفِ تہجی اور گنتی کا پہلا پہلا حرف "الف اور واحد" ایک ہی طرح سے لکھا جاتا ہے اسی لیے "الف" کے لغوی معانی "ایک، اکیلا، مفرد، مجرد، ننگا، دلیر، بہادر، راست اور راستبازی" بھی ہیں۔

"الف" کی دیگر خصوصیات میں سے پیغمبرِ اسلام حضرت محمدﷺ پر پہلی وحی جو نازل ہوئی، اس کا پہلا لفظ "اقراء" تھا۔ گویا قرآن شریف کا پہلا لفظ ہی پہلے حرف "الف" سے شروع ہوا۔ قرآنِ مجید کی 114 میں سے پہلی سورۃ "الحمد شریف" بھی "الف" سے شروع ہوتی ہے۔ قرآنِ حکیم کے 14 "حروفِ مقطعات" میں پہلا لفظ "ا ل م" ہی ملتا ہے۔

"الف" کی تعریف

"الف"، اردو زبان کے چار حروفِ علت/مصوتہ (Vowels) میں سے پہلا ہے جس پر اعراب اور علامات لگانے سے حرف کے صوتی اثرات میں تبدیلی ہو جاتی ہے۔ دیگر تین حروف "و"، "ی" اور "ے" ہیں۔ یہ "بڑی یے"، عربی اور فارسی میں نہیں ہے۔ انگلش حروف میں a,e,i,o,u باقاعدہ جبکہ y نیم حروفِ علت یا Vowels ہیں۔

انگلش/رومن میں حروفِ صحیحہ یا مصمتہ (Consonant) کے علاوہ صرف حروفِ علت یا مصوتہ (Vowels) ہوتے ہیں جن سے الفاظ بنتے ہیں لیکن عربی طرزِ تحریر میں ان دونوں کے علاوہ "اِعراب" (زیر، زبر، پیش وغیرہ) اور "علامات" (مد، شد،جزم وغیرہ) بھی ہوتی ہیں جو لکھی نہیں جاتیں لیکن پڑھی جاتی ہیں اور الفاظ کے تلفظ کو جامع اور عربی زبان کی فصاحت و بلاغت کو بے مثل بنا دیتے ہیں۔

الف کی اقسام

"الف" کی دو اقسام ہیں، اکیلا یا مفرد الف، "الف مقصورہ" کہلاتا ہے جس کا حسابِ ابجد میں ایک ہندسہ مقرر ہے۔ عربی، رسم الخط میں الف، تین "حروفِ علت" (Vowels) میں شامل ہے لیکن "حروفِ صحیح" (Consonant) بھی ہے۔ عربی زبان میں "الف" کو بغیر حرکت کے پڑھا جاتا ہے جبکہ اعراب یا حرکات کے ساتھ ہو تو "ہمزہ" پڑھا جاتا ہے لیکن لکھا "الف" ہی جاتا ہے جس پر ایک چھوٹا سا ہمزہ (ء) نشان لگا دیتے ہیں۔

"الف" کی دوسری قسم "الف ممدوہ" ہے جس کو "الف مدہ" بھی کہتے ہیں جو دو الف کے برابر ہوتی ہے جبکہ قرآن حکیم میں چار سے چھ الف کے برابر بھی ہوتی ہے۔ ان کے علاوہ "کھڑی زبر" بھی ایک الف کے برابر ہوتی ہے جس کے نیچے کا حرف نہیں پڑھا جاتا جو عام طور پر چھوٹی یے یا واؤ ہوتی ہے جیسے کہ موسیٰ اور زکوٰۃ وغیرہ۔

"الف" (Alif) کے علاوہ عربی میں "Alf" لفظ کے معانی "ایک ہزار" کے ہیں جیسا کہ "الف لیلہ" یعنی "ہزار راتیں۔ اس "الف" کو بغیر لام کے نیچے زیر سے پڑھا جاتا ہے یعنی Alf Leilah۔ اسی طرح عربی میں "اِلف" (Ilf) کے معانی "یاری دوستی" کے ہیں جس سے "اُلفت" بھی نکلا ہے۔

"الف" کی خصوصیات

  • عربی گرامر کے مطابق "الف" ایک مذکر اور قمری حرف ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی لفظ کے آغاز میں "ال" (The) لکھا جائے گا تو پڑھا بھی جائے گا جیسے کہ "الاوّل" یا "الآخر" وغیرہ۔
  • فنِ خطاطی میں "الف" ایک "فلکی حرف" ہے جو خطِ نستعلیق میں اوپر کی تین لائنوں میں لکھا جاتا ہے۔
  • حسابِ ابجد میں "الف"، پہلا حرف (ابجد) ہے جس کا ایک عدد مقرر ہے۔
  • علم الاعداد میں "الف"، ایک "آتشی حرف" ہے جس کی تاثیر "آگ"، برج حمل (Aries) اور سیارہ مریخ (Mars) ہے۔

آ

"الف مدہ" (Alif Madda) کو "الف ممدوہ" بھی کہا جاتا ہے جو دو الف کی آواز کے برابر ہوتا ہے جبکہ قرآنِ حکیم کی قرأت میں چار سے چھ الف کے برابر چلا جاتا ہے۔

"آ"، اردو/پنجابی زبانوں کے 16 مرکب حروف میں سے پہلا مرکب حرف ہے جو صوتی اعتبار سے دوسرا حرف ہے۔ پاکستان کی سبھی زبانوں میں پایا جاتا ہے لیکن اردو اور پنجابی کی روایتی حروفِ تہجی کے 37 حروف میں دیگر مرکب حروف کی طرح سے نہیں لکھا جاتا البتہ متعدد پاکستانی زبانوں/بولیوں کی حروفِ تہجی میں باقاعدہ ایک حرف کے طور پر لکھا جاتا ہے جن میں سرائیکی، بلوچی، بلتی اور ہندکو وغیرہ شامل ہیں۔

"آ" کو عربی حروفِ تہجی میں بھی نہیں لکھا جاتا لیکن فارسی میں پہلے حرف "الف" کے ساتھ لکھا جاتا ہے۔ ہندی زبان میں حروفِ علت (Vowel) کے طور پر دوسرے نمبر پر आ (آ) آتا ہے جبکہ انگریزی/رومن میں دو اے (Aa) کے برابر ہے۔


تازہ ترین


پاکستان کی تاریخ پر ایک منفرد ویب سائٹ

پاک میگزین ، پاکستان کی سیاسی تاریخ پر ایک منفرد ویب سائٹ ہے جس پر سال بسال اہم ترین تاریخی واقعات کے علاوہ اہم شخصیات پر تاریخی اور مستند معلومات پر مبنی مخصوص صفحات بھی ترتیب دیے گئے ہیں جہاں تحریروتصویر ، گرافک ، نقشہ جات ، ویڈیو ، اعدادوشمار اور دیگر متعلقہ مواد کی صورت میں حقائق کو محفوظ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

2017ء میں شروع ہونے والا یہ عظیم الشان سلسلہ، اپنی تکمیل تک جاری و ساری رہے گا، ان شاءاللہ



پاکستان کے اہم تاریخی موضوعات



تاریخِ پاکستان کی اہم ترین شخصیات



تاریخِ پاکستان کے اہم ترین سنگِ میل



پاکستان کی اہم معلومات

Pakistan

چند مفید بیرونی لنکس



پاکستان فلم میگزین

پاک میگزین" کے سب ڈومین کے طور پر "پاکستان فلم میگزین"، پاکستانی فلمی تاریخ، فلموں، فنکاروں اور فلمی گیتوں پر انٹرنیٹ کی تاریخ کی پہلی اور سب سے بڑی ویب سائٹ ہے جو 3 مئی 2000ء سے مسلسل اپ ڈیٹ ہورہی ہے۔


پاکستانی فلموں کے 75 سال …… فلمی ٹائم لائن …… اداکاروں کی ٹائم لائن …… گیتوں کی ٹائم لائن …… پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد …… پاکستان کی پہلی پنجابی فلم پھیرے …… پاکستان کی فلمی زبانیں …… تاریخی فلمیں …… لوک فلمیں …… عید کی فلمیں …… جوبلی فلمیں …… پاکستان کے فلم سٹوڈیوز …… سینما گھر …… فلمی ایوارڈز …… بھٹو اور پاکستانی فلمیں …… لاہور کی فلمی تاریخ …… پنجابی فلموں کی تاریخ …… برصغیر کی پہلی پنجابی فلم …… فنکاروں کی تقسیم ……

پاک میگزین کی پرانی ویب سائٹس

"پاک میگزین" پر گزشتہ پچیس برسوں میں مختلف موضوعات پر مستقل اہمیت کی حامل متعدد معلوماتی ویب سائٹس بنائی گئیں جو موبائل سکرین پر پڑھنا مشکل ہے لیکن انھیں موبائل ورژن پر منتقل کرنا بھی آسان نہیں، اس لیے انھیں ڈیسک ٹاپ ورژن کی صورت ہی میں محفوظ کیا گیا ہے۔

پاک میگزین کا تعارف

"پاک میگزین" کا آغاز 1999ء میں ہوا جس کا بنیادی مقصد پاکستان کے بارے میں اہم معلومات اور تاریخی حقائق کو آن لائن محفوظ کرنا ہے۔

Old site mazhar.dk

یہ تاریخ ساز ویب سائٹ، ایک انفرادی کاوش ہے جو 2002ء سے mazhar.dk کی صورت میں مختلف موضوعات پر معلومات کا ایک گلدستہ ثابت ہوئی تھی۔

اس دوران، 2011ء میں میڈیا کے لیے akhbarat.com اور 2016ء میں فلم کے لیے pakfilms.net کی الگ الگ ویب سائٹس بھی بنائی گئیں لیکن 23 مارچ 2017ء کو انھیں موجودہ اور مستقل ڈومین pakmag.net میں ضم کیا گیا جس نے "پاک میگزین" کی شکل اختیار کر لی تھی۔




PAK Magazine is an individual effort to compile and preserve the Pakistan history online.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes and therefor, I am not responsible for the content of any external site.