حروفِ تہجی
ڈ
ڈال (D'aal)، زبان کی نوک کو اُلٹ کر تالو سے لگانے سے ادا ہوتا ہے۔
"ڈ" کی تاریخ
"ڈ"، کا حرف عربی یا فارسی (اور غالباً فونیشین یا مصری زبانوں) میں نہیں ملتا البتہ انگریزی کی D (ڈی) کی یہ متبادل آواز ہے جو برصغیر پاک و ہند کی زبانوں میں عام استعمال ہوتی ہے۔
"ڈ"، اردو/پنجابی (ڈال) حروفِ تہجی کا 12واں اور ہندی کا 13واں حرف ड ہے۔ صوتی اعتبار سے اردو کا 20واں حرف ہے۔
سندھی زبان میں "د" کے نیچے ایک نقطہ ڈال کر "ڈ" کی آواز بنائی جاتی ہے۔ پشتو میں "د" کے نیچے ایک دائرہ ڈال کر "ڈ" کو لکھا جاتا ہے۔
"ڈ" کی خصوصیات
- علمِ ہجا میں "ڈ" کو "دالِ ہندی" بھی کہتے ہیں جو "پس خمیدہ حروف" (Retroflex) میں شامل ہوتا ہے۔
- فنِ خطاطی میں "ڈ"، ایک "فرشی حرف" ہے جو خطِ نستعلیق میں درمیانی دو لائنوں میں لکھا جاتا ہے۔
ڈھ
ڈھے (Dhay) ، "ڈال" کو موٹا کر دیتا ہے جیسے کہ "ڈول" کو "ڈھول" وغیرہ۔ یہ بھی زبان کی نوک کو اُلٹ کر تالو سے لگانے سے ادا ہوتا ہے۔ اس کو بھی "پس خمیدہ (Retroflex) حرف" کہتے ہیں۔
"ڈھ"، اردو/پنجابی (ڈھے) کا 9واں مرکب اور 8واں ہائیہ حرف ہے جو صوتی اعتبار سے اردو کا 21واں حرف ہے۔ ہندی کے 14ویں مفرد حرف द (ڈھا) کا ہم آواز ہے جو انگلش/رومن میں Dh سے لکھا جاتا ہے۔ عربی اور فارسی میں نہیں ہے۔ سندھی زبان میں "د" کے نیچے دو نقطے ڈال کر "ڈھ" کی آواز بنائی جاتی ہے۔
پنجابی زبان میں "ڈھ" کا تلفظ
"ڈھ"، پنجابی زبان میں لفظ کے آغاز میں "ٹ" اور "ڈھ" کی درمیانی آواز دیتا ہے جبکہ درمیان اور آخر میں اردو/ہندی کی آواز ہے جیسے کہ "ڈھول"، "سڈھا" یا "کڈھ" وغیرہ۔
"بھ، جھ، دھ، اور گھ" کی طرح "ڈھ" کا پنجابی تلفظ بھی نہیں لکھا جا سکتا۔ یہاں تک کہ سکھوں کی گرمکھی حروفِ تہجی میں پنجابی زبان کے ان حروف کا پہلا تلفظ تو ملتا ہے لیکن دوسرا نہیں۔
تازہ ترین
پاکستان کی تاریخ پر ایک منفرد ویب سائٹ
پاک میگزین ، پاکستان کی سیاسی تاریخ پر ایک منفرد ویب سائٹ ہے جس پر سال بسال اہم ترین تاریخی واقعات کے علاوہ اہم شخصیات پر تاریخی اور مستند معلومات پر مبنی مخصوص صفحات بھی ترتیب دیے گئے ہیں جہاں تحریروتصویر ، گرافک ، نقشہ جات ، ویڈیو ، اعدادوشمار اور دیگر متعلقہ مواد کی صورت میں حقائق کو محفوظ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
2017ء میں شروع ہونے والا یہ عظیم الشان سلسلہ، اپنی تکمیل تک جاری و ساری رہے گا، ان شاءاللہ
-
26-06-2020: آمروں کی GDP گروتھ
29-05-1988: جونیجو حکومت کی برطرفی
14-04-2022: عمران خان کا بیانیہ دفن